Strenghtman -10- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 10

پچھلی دس نسلوں سے وجے جی کا خاندان ہی مندر کی سیکیورٹی کا ذمہ دار تھا۔ ان کی ہر نسل نے مندر میں کچھ تبدیلیاں کر کے اس میں بدلاؤ کیا تھا۔ مندر کا خرچہ سب ان کا خاندان ہی اٹھاتا تھا۔ ماتا کے آشیرواد سے ان کے پاس دھن دولت کی کمی نہیں تھی۔ ان کا خاندان ہماچل کا سب سے امیر خاندان تھا۔ 

ماتا کے مندر میں لگنے والے میلے کا خرچہ بھی وجے جی ہی اٹھاتے تھے۔ انہوں نے ہر سہولت وہاں مندر میں آنے والوں کے لیے بنوا کر رکھی تھی۔ کھانے پینے سے لے کر رہنے تک کے لیے بھی وہاں بڑی عمارت بنائی گئی تھی، تاکہ وہاں آنے والوں کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہاں دس دن تک کھانا بنانے کے لیے بڑا باورچی خانہ لگایا جاتا تھا، جس میں دن رات ہزاروں لوگوں کے لیے کھانا بنایا جاتا تھا۔ ان  سب کاموں میں  وجے جی کا ساتھ ان کے بیٹوں نے بھی دیا اور ساتھ میں پورا گاؤں بھی مدد کرتا تھا۔ ان دس دنوں تک پورا گاؤں ہی مندر کی خدمت میں لگا رہتا تھا۔ 

کامنی اپنی یادوں میں گم تھی۔ اسے میلے کا وہ دن اور گاؤں کااپنا گھر یاد آ رہا تھا جہاں وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ خوش رہتی تھی اور آج وہ ایک جنگل میں سنسان بنے مکان میں سب سے دور اکیلی بیٹھی تھی ۔ ان کے خاندان نے تو انہیں مرا  ہوا سمجھ لیا تھا۔ اپنی زندگی میں یہ کیسے دن آ گئے، یہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ایسی کیا غلطی ہو گئی جو بھگوان نے انہیں یہ سزا دی؟ اپنی ساری زندگی میں انہوں نے کبھی کسی کا دل دکھانے والا کوئی کام نہیں کیا تھا، نہ کسی کا نقصان کیا تھا۔ بس وہ تو اپنے پتی دھرم کا پالن کر رہی تھی، جو بھی اُس کے  پتی نے کہا، انہوں نے وہ کیا، آج تک بغیر بولے۔ وجے جی جیسا انسان ان کا پتی بنا تھا، جو کسی قسمت والوں کو ہی ملتا تھا۔ ان میں برائی ڈھونڈنے پر بھی کوئی نہیں ملتی تھی۔ اپنے کسی بھی درد، کسی  بھی تکلیف کو وہ بغیر کسی کو دکھائے اپنے اندر سمیٹ لیتے تھے، لیکن اگر کسی دوسرے کو کوئی بھی پریشانی ہو تو وہ ان کی ہر ممکن مدد کرتے تھے۔چاہے  پیسے سے  ہو یا اخلاقی ہو یا جسمانی ہو وہ  مددکرنے میں پیچھے نہیں ہٹتے تھے، کوئی ان کے پاس مدد مانگنے آیا اور انہوں نے مدد نہ کی ہو ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ کتنے ہی لوگوں کی مدد وہ بغیر بولے کیا کرتے تھے۔ انہی عادتوں کی وجہ سے ہر کوئی ان کا مرید ہو جاتا تھا۔ اپنے گاؤں کو تو وہ ایک خاندان ہی کی طرح سے مانتے تھے اور ہمیشہ گاؤں والوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔ ان کے لیے کوئی بھی آدمی برا سوچ ہی نہیں پاتا تھا۔ ہر کوئی ان کے لیے اپنی جان تک دینے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا، اس قدر لوگ انہیں چاہتے تھے۔ 

جگت، سلطان تو ان کے دونوں بازو ہی تھے۔ وجے جی کے لیے اپنے کسی  بھائی سے کم نہیں تھے۔ اور جنگل میں رہنے والے روہی کےقدیم  قبائل والے تو ان کے محافظ  ہی تھے۔ لمبے، تگڑے اور کسی شیر سے ہاتھوں سے لڑنے والے وہ لوگ برسوں سے مندر کے ساتھ وجے جی کے خاندان کی خفیہ حفاظت کرتے تھے۔ کسی سایے کی طرح وہ ہر خاندان والے کی حفاظت کرتے تھے، کسی کی نظر میں آئے بغیر اپنا کام کرتے تھے۔ وجے جی نے اپنی موت کے دکھاوے کے بعد اپنے خاندان کی سیکیورٹی اور بڑھا دی تھی۔ وہ اب پردے کے پیچھے رہ کر اپنے خاندان کے دشمنوں کو ڈھونڈ رہے تھے، اور اس کا بھرپور ساتھ کامنی دے رہی تھی۔ 

کامنی کو وجے جی نے بتایا تھا کہ ان کے دشمنوں  کو یہ بات پتا ہے کہ مندر کے راز کے بارے میں صرف میرے اورکامنی کے علاوہ ان کے بیٹوں کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اور جس دن پونم کا نام رکھنے  کا پروگرام تھا، اس دن ان کے بیٹوں یا  خاندان میں سے کسی کو اغوا کر کے وہ وجے جی سے وہ راز اگلوانا چاہتے تھے۔ لیکن ان سب آدمیوں کو روہی کے سردار سوما نے پکڑ کر تڑپا کر مار دیا تھا۔ ان آدمیوں کے لیڈر نے ہی اپنے آدمیوں کو اتنی بری طرح ٹکڑوں میں کٹتے دیکھ کر ڈر سے سب بتا دیا تھا۔ لیکن  اس  کو جس نے یہ کام  کرنے  کے لیئے پیسے دیئے تھے وہ اُس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اس کے مطابق اسے کام دینے والے کی شکل اس نے نہیں دیکھی تھی، لیکن وہ آدمی بہت لمبا، تگڑا اور کسی راکشس کی طرح تھا۔ اس نے تو پہلے وجے جی کا نام سن کر کام کرنے سے منع کیا تھا، لیکن اس آدمی اور اس کے ساتھ اس کے دو بیٹوں نے اس کے دو سب سے تگڑے آدمیوں کو ایک ایک ہاتھ سے بس گردن توڑ کر مار دیا تھا، جیسے  وہ کوئی آدمی نہ ہو بلکہ کھیلنے والے گُڈے ہوں۔ اور اسے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ پکڑا جائے گا اس کام کو کرنے سے پہلے۔ اسے تو وجے جی کو یہ پیغام دینا تھا کہ اگر انہوں نے مندر کا راز نہیں بتایا تو وہ وجے جی کے پورے خاندان کو مار دے گا۔ 

ایک مہینے کی مہلت اس آدمی نے وجے جی کو دی تھی راز بتانے کے لیے۔ وجے جی تو اس کی باتیں سُن کر فکر میں پڑ گئے تھے کہ مندر کے راز کے بارے میں یہ بات باہر کیسے گئی؟ ان کی بیوی اور جگت کے علاوہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں تھی، سلطان کو بھی یہ بات معلوم نہیں تھی۔ تو اتنے سالوں بعد یہ کون پیدا ہو گیا راز کے بارے میں جاننے والا؟ اور اگر اسے اس راز کے بارے میں پتا تھا تو اب تک وہ چپ کیوں رہا؟ اتنے دنوں تک ان کے خاندان پر حملے ہوتے رہے، کیا وہ یہی تو نہیں کر رہا تھا؟ اب تک وجے جی کو لگتا تھا کہ ان کے خاندان پر ہونے والے حملے کوئی پیسے یا دولت کے لیے کر رہا تھا، لیکن یہ بات پتا چلنے سے وہ اب پریشان ہو گئے تھے۔ انہیں خود اس بات کا پتا نہیں تھا کہ مندر میں کہاں پر معجزاتی چیز چھپاکر رکھی گئی ہے۔ اگر انہیں پتا بھی ہوتا تو اپنے خاندان کو بھی وہ قربان کر دیتے اسے بچانے کے لیے۔ لیکن نہ تو انہیں اس چیز کا پتا تھا، نہ ہی اپنے اس دشمن کا۔ اگر ان کا دشمن ان کے خاندان کو اغوا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو بے وجہ وہ مارے جاتے۔ 

دس دنوں تک انہوں نے بہت تلاش کی اپنے دشمن کو ڈھونڈنے کی، لیکن وہ انہیں نہیں ملا۔ پھر کافی سوچنے کے بعد انہوں نے اپنی موت کا دکھاوا کر کے اپنے دشمنوں کو چکمہ دینا ہی بہتر سمجھا۔ ان کے مرنے سے ان کا راز بھی ان کے ساتھ ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے دشمن کو بھی آسانی سے ڈھونڈ لیں گے۔ کامنی کو سب سمجھا کر وہ دشمن کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان کا دشمن بھی ان کی موت کی خبر سے اب سوچ میں پڑ گیا ہوگا کہ اب وہ کیا کرے۔ ان کے خاندان کے آس پاس جو انجان لوگ دکھائی دیتے تھے، وہ بھی وجے جی کی موت کے بعد نظرآنا بند ہو گئے تھے۔ تین مہینوں تک وجے جی جنگل میں بنے اس گھر میں رہ کر ہر چھوٹی سے چھوٹی بات پر نظر رکھ رہے تھے۔ جب انہیں اس بات کا یقین  ہو گیا کہ اب آس پاس کوئی بھی غیر نظر نہیں آرہا ہے  تو اس لیئے وہ  آج  جگت سے ملنے گئے تھے اور آگے کیا کرنا ہے، اس کے بارے میں بتانے گئے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page