Shemale Hunter -01- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 01

کرداروں کا پس منظر

ریا ۔۔عمر: 27 سال 

ریا بہت خوبصورت ہے، بالکل کسی ماڈل کی طرح نظرآتی  ہے۔ اس کی حال ہی میں ایک امیر خاندان میں شادی ہوئی ہے۔ اس کا شوہر ایوناش، جو اس وقت اپنے حالیہ پروجیکٹ کی وجہ سے 6 ماہ کے لیے امریکہ گیا ہوا ہے۔ 

اس کے خاندان میں اُس کی ایک نند رچا اور اس کا شوہر وکاس ہے، ان کا ایک بیٹا ہے جس کا نام آراو ہے۔ اور خاندان میں سب سے بڑی ریا کی ساس سشما ہیں۔ 

زبینہ ۔۔عمر: 40 سال 

زبینہ ایک شیمیل ہے، تقریباً 6 فٹ لمبی۔ پیشے سے پہلے وہ کلب میں باؤنسر تھی اور اب پارٹ ٹائم بچوں کے سیلف ڈیفنس انسٹیٹیوٹ میں کوچ ہے۔ اپنے پیشے کی وجہ سے وہ جسمانی طور پر فٹ اور کافی مضبوط ہے۔ 

سشما: ریا بیٹا 

ریا: جی ماں جی

سشما: بیٹا، وہ آراو کی کوچنگ کا وقت ختم ہونے والا ہے، اسے جا کر لے آؤ۔ رچا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ 

ریا: جی ضرور۔۔ لیکن مجھے کوچنگ انسٹیٹیوٹ کا ایڈریس نہیں پتا۔ 

سشما: اس کی فکر مت کرو۔۔ باہر ڈرائیور ہے، وہ تمہیں لے جائے گا۔ 

ریا: جی ٹھیک ہے۔۔ میں کپڑے بدل کر آتی ہوں۔ 

ریا اوپر چلی گئی  اور گلابی رنگ کا سوٹ پہن کر ، ہلکا سا میک اپ کر کے باہر چلی گئی اور کار میں بیٹھ کر وہ آراو کو لینے نکل گئی۔ ریا کو نئی جگہوں کو ایکسپلور کرنا کافی پسند تھا، لیکن اپنے شوہر کے جانے کے بعد وہ زیادہ باہر نہیں نکل پائی تھی، اس لیے اسے اس طرح باہر نکل کر کافی اچھا لگ رہا تھا۔ 

تھوڑی دیر میں کار ایک عمارت کے آگے رکی، جہاں آراو کا کوچنگ انسٹیٹیوٹ تھا۔ ریا کار سے اتر کر اندر چلی گئی اور  ریسیپشن سے جا کر  آراو کی کلاس کے بارے میں پوچھا،  اور اس کی کلاس کی طرف چلی گئی۔ ۔ کلاس کا دروازہ کھول کر ریا اندر گئی  اور تبھی پہلی بار زبینہ کی نظر ریا پر پڑی ۔ 

زبینہ نے جب ریا کو پہلی بار دیکھا تو بس دیکھتی ہی رہ گئی۔ اس نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے اتنی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اپسرا آسمان سے اتر آئی ہو۔ ان سب خیالات میں کھو کر وہ بھول ہی گئی کہ وہ کلاس میں کھڑی ہے۔۔ بس ایک ٹک ریا کو دیکھے جا رہی تھی۔ 

ریا: گڈ ایوننگ میم 

زبینہ ریا کی آواز سن کر اپنے خیالات سے باہر آئی۔ 

زبینہ: گڈ ایوننگ! آپ کون؟ پہلے تو کبھی نہیں دیکھا آپ کو یہاں۔ 

ریا: جی، میں آراو کو لینے آئی ہوں۔ 

زبینہ: آراو کو تو ہمیشہ اس کی ماں لینے آتی تھی۔ 

ریا: ہاں، وہ ان کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی، اس لیے میں آج لینے آئی ہوں اور میں آراو کی چاچی ہوں۔ 

زبینہ: اوہ اچھا۔ کلاس ختم ہو گئی ہے، آپ لے جا سکتی ہیں۔ 

ریا: تھینک یو۔ 

ریا آراو کو لے کر کلاس سے نکل گئی  لیکن زبینہ ابھی بھی ریا سے ہوئی اس گفتگو اور اس کی خوبصورتی میں کھوئی ہوئی تھی۔ 

رات کو گھر کے سارے کام کرنے کے بعد ریا اپنے کمرے میں آئی اور اپنے شوہر سے فون پر باتیں کرنے لگی۔ یہ اُس کی ڈیلی کی روٹین تھی۔ 

دوسری طرف زبینہ ابھی بھی ریا کے خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔ ریا کی خوبصورتی نے زبینہ کے دل میں ہلچل سی مچا دی تھی۔ دل کے ساتھ ساتھ ریا کے خیالات سے اس کے لنڈ میں بھی ہلچل ہونے لگی تھی ۔ اس کے دل  میں بس یہی چل رہا تھا کہ کسی  بھی طرح کرکے وہ ریا کے قریب جائے، اور اسے اپنے جال میں پھنسائے اور اسے اپنے نیچے لے آئے۔ 

یہ سب کچھ سوچتے سوچتے وہ اپنا لنڈ نکال کر مٹھ مارنے  لگتی ہے۔ اب زبینہ پلان کرنے لگی کہ کیسے وہ ریا سے دوستی بڑھائے۔

اگلے دن کلاس میں زبینہ اپنے پلان کے مطابق آراو سے باتیں کرنے لگی۔ باتوں باتوں میں وہ اس سے اس کے گھر کے بارے میں، فیملی ممبرز کے بارے میں ساری معلومات نکلوا لیتی ہے۔ 

اسے پتا چلتا ہے کہ ریا کی شادی 4 ماہ پہلے ہی ہوئی ہے اور شادی کے 2 ماہ بعد ہی اس کا شوہر امریکہ چلا گیا تھا۔اور اب  ریا زیادہ تر گھر میں ہی رہتی ہے، لیکن  اسے گھومنے کا کافی شوق ہے۔ اور اسے موویز دیکھنا بھی پسند ہے۔ 

یہ سب باتیں سن کر زبینہ کے دل میں ایک امید جاگی۔۔ وہ سمجھ گئی کہ ریا اب اکیلی ہے، پتی دور ہے،لنڈ کا مزہ چک چکی ہے ، اور اب اُسے  لنڈ  بھی نہیں مل پاتا ہوگا، اندر سے پیاسی ہوگی۔۔ اسے پھنسانا ممکن ہو سکتا ہے۔ 

اس کے دماغ میں یہ سب چل ہی رہا تھا کہ سامنے سے ریا کمرے میں داخل ہوئی۔ 

وہ کل سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسے دیکھنے کے بعد زبینہ  نے دل ہی دل میں پکا ارادہ کرلیا کہ اسے اپنے نیچے ضرور لے کر آنا ہے۔

ریا: گڈ ایوننگ میم 

زبینہ: گڈ ایوننگ! آپ کیسی ہیں؟ 

ریا: میں ٹھیک ہوں، اور آپ؟ 

زبینہ: میں بھی ٹھیک ٹھاک ۔ ویسے آپ کا نام کیا ہے؟ 

ریا: میرا نام ریا ہے۔ 

زبینہ: واہ! جتنی خوبصورت آپ ہیں، اتنا ہی خوبصورت آپ کا نام۔ 

ریا یہ سن کر تھوڑا شاک اور تھوڑا ان کمفرٹیبل ہوئی۔ اسے یہ توقع نہیں تھی ، لیکن پھر بھی اندر ہی اندر اسے تھوڑا اچھا لگا کہ کافی وقت بعد کسی نے اس کی خوبصورتی کی تعریف کی، چاہے وہ ایک عورت نے ہی کردی۔ 

ریا:  (تھوڑا مسکرا کر) تھینک یو

زبینہ: آراو کی ماں اب کیسی ہیں؟ 

ریا: پہلے سے بہتر ہیں، لیکن ابھی انہیں آرام کی ضرورت ہے ۔ 

زبینہ: چلیے اچھی بات ہے۔۔ انہیں آرام کرنے دو۔ اس بہانے آپ کے دیدار ہو جاتے ہیں۔

یہ ریا کے لیے ایک اور شاک تھا۔ یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کیسے ری ایکٹ کرے۔ ریا بس تھوڑا گھبرا کر ویسے ہی  ہنس دیتی ہے۔ 

ریا: میں نکلتی ہوں آراو کو لے کر۔ 

زبینہ: جی ضرور۔ 

ریا آراو کو لے کر کلاس سے باہر نکل جاتی ہے۔ 

زبینہ کلاس میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اس کے پلان کا پہلا قدم تھا ریا کے دماغ میں اپنے بارے میں سوچ  ڈالنا۔ ریا کے ایکسپریشنز سے وہ سمجھ گئی تھی کہ کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ریا زبینہ کے بارے میں ضرور سوچے گی۔ 

زبینہ کا پلان تھوڑا کام بھی کر رہا تھا کیونکہ ریا واپس جاتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی زبینہ کے ساتھ ہوئی گفتگو کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ گھر پہنچنے کے بعد ریا گھر کے کاموں میں لگ گئی اور زبینہ کو بھول گئی۔ 

رات کو ریا گھر کے کام نپٹا کر کمرے میں آئی ۔ پھر وہ فریش ہو کر اپنا نائٹ سوٹ پہن کر روز کی طرح سکن کیئر کرنے آئینے کے آگے بیٹھ گئی۔ 

خود کو آئینے میں دیکھنے کے بعد اچانک اُسے زبینہ کی باتیں اسے یاد آنے لگی ۔ اور وہ اپنی خوبصورتی کو نہارنے لگی ۔ 

روز وہ اسی طرح آئینے کے سامنے بیٹھتی تھی، لیکن آج اسے خود کو دیکھ کر تھوڑا اچھا لگ رہا تھا۔ شاید کافی وقت بعد کسی نے تعریف کی ،اور اس کی وجہ بھی تھی۔ ریا کے اندر بھی جذبات تھے۔ اسے عجیب بھی لگ رہا تھا  کسی عورت کا اس طرح اُس کی تعریف کرنا اور دوسری طرف تھوڑی خوشی بھی ہو رہی تھی کہ کوئی تو تعریف کر رہا ہے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page