Passion of lust -37- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 37

ثوبی: “توبہ! کتنی ترسی ہوئی ہے یہ۔۔۔!”

عائزہ: “تو نے تو پھدی مروالی ہے! اب اکیلے بیٹھ کر مزے لے!”

اور خود میرے لَن کی مٹھ مارنے لگی اور پھر زبان باہر نکال کے ٹوپی پہ پھیرنے لگی، افف! کیا مزہ تھا! پھر اس نے منہ کھولا اور ٹوپی کو منہ میں لے کر زور زور سے چوسنے لگی۔۔۔ کبھی پورا لَن منہ میں ڈالتی کبھی ہونٹوں میں دباتی، مانو پہلی بار لَن دیکھا ہو! میرا مزے سے برا حال تھا، عائزہ کی چوسائی بہت مزہ دے رہی تھی، مزے سے مجھے سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا! میں نے اس کا سر پکڑ لیا ، عائزہ نے گلے میں چین پہنی ہوئی تھی جو اس کے بھرے مموں کے درمیان بہت خوبصورت لگ رہی تھی،یہ  منظر دیکھ کر ثوبی بھی ہاٹ ہو گئی، اس نے مجھے پیچھے سے پکڑ لیا، ثوبی اپنے ممے میری کمر پر رگڑنے لگی۔۔۔ ہم سب مزے میں ڈوبے ہوئے تھے، اچانک ثوبی کے موبائل کی رِنگ بجی مگر ثوبی نے کال اٹینڈ نہیں کی، بیل دوبارہ بجنے لگی، ثوبی نے سیل اٹھایا اور بڑبڑاتی ہوئے کال اٹینڈ کرنے لگی، دوسری طرف سے جیسے ہی اس نے بات سنی اس کا رنگ پھیکا پڑنے لگا، اس نے کال کٹ کی اور بولی۔

ثوبی: “عالیہ کی کال تھی ! میرے بھائی  آئے ہوئے ہیں، اُنہوں نے  ہمارا پوچھا  تو وارڈن نے بتادیا کہ چھٹی لے کر باہر گئ ہوئی ہے!”

اس کی بات سن کے عائزہ کی مستی بھی ہرن ہو گئی۔

عائزہ: “اب کیا کریں گے! تیری پھدی کے چکر میں میں بھی پھنسی اب۔۔۔!”

اور جلدی جلدی کپڑے پہننے لگیں، ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی کپڑے پہن لیے۔

ثوبی: “عامر! تم ہمیں رکشہ میں بٹھا دو ہم  کہیں گے، بازار گئے تھے ،  اب پھر  کسی دن ملیں گے!”

پھر ہم ہوٹل سے باہر آئے میں نے رکشہ پکڑا اور اُن  دونوں کو بھیج دیا، پھر کافی دیر سٹی میں اکیلے گھومتا رہا، کوئی 3 گھنٹے بعد ثوبی کی کال آئی۔

ثوبی: “ہم گھر پہنچ گئے ہیں، بھائی کو کوئی شک نہیں ہوا، اس نے پوچھا تو ہم نے کہا کہ کچھ نوٹس تھے جو بازار سے ایک بُک سینٹر سے ملنے تھے سو تھوڑا لیٹ ہو گئے!”

میں: “او کے ڈارلنگ۔۔۔!”

ثوبی: “او کے! اب بعد میں بات ہو گی!”

اور پھر کال کٹ کر دی۔

پھر میں بھی گھر چلا گیا۔جب میں بس اڈا پہ اترا تو گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور پھر کچھ ہی دیر میں تیز بارش شروع ہو گئی، کافی گرمی تھی، میں نے ایک دکان سے شاپر لیا اور بُکس اس میں ڈال لیں اور بارش کا مزہ لیتے ہوئے گھر جانے لگا، جب میں گھر کا دروازہ کھولا تو انتہائی ہاٹ سین میرے سامنے تھا، میرے قدم ادھر ہی رک گئے۔

آپی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے آ رہی تھی، اس کے سارے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے کالا لان کا سوٹ پہنا تھا جو کہ بہت پتلا تھا۔ سوٹ کے نیچے اس کا جلد کے رنگ کا برا صاف نظر آ رہا تھا، جس میں اس کی چھاتیاں ہر سیڑھی کے قدم پر اچھلتی ہوئی باہر آنے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن برا انہیں روک رہا تھا۔ 

اس سے بھی زیادہ دلچسپ منظر آپی کے پیچھے تھا، وہ تھی سمینہ، میری پیاری بہن۔ اس نے پیلے رنگ کی قمیض پہنی تھی اور نیچے نیٹ والا برا تھا، جو اس کی چھاتیوں کو اور زیادہ نمایاں کر رہا تھا۔ اس کی چھاتیاں صاف نظر آ رہی تھیں، اور بارش کی وجہ سے کپڑوں کے پار ان کے اطراف کا حصہ بھی واضح تھا۔ جیسے ہی سمینہ سیڑھیوں سے نیچے اترتی، اس کی چھاتیاں ہلتی تھیں۔ اس نے ہاتھوں میں لکڑیاں پکڑی ہوئی تھیں، جو وہ چھت سے اتار رہی تھی۔ اس نے دوپٹہ بھی نہیں لیا تھا۔ میں ایک ٹک اس کی چھاتیوں کو گھور رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی، اور مجھے دیکھ کر وہ اور زیادہ اپنی چھاتیوں کو ہلانے لگی۔ میرا لنڈ سخت ہونے لگا۔ 

سمینہ: بھیا، جلدی آؤ نا، ہماری مدد کرو چھت سے لکڑیاں اتارنے میں۔ وہ مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ 

میں نے کتابیں  برانڈے میں رکھی اور باہر آ گیا۔ کچن کے ساتھ ہی ایک کمرہ بنا ہوا تھا جو بغیر دروازے کا تھا۔ وہ لکڑیاں وہاں رکھ رہی تھیں۔ سمینہ جیسے ہی لکڑیاں پھینکنے کے لیے جھکی، اس کی گانڈ ایک پرکشش پوز میں آ گئی۔ اس کی چوڑی گانڈ بھیگے کپڑوں میں آگ برسا رہی تھی۔ وہ اپی سے بولی، 

سمینہ: اپی، آپ لکڑیاں ایڈجسٹ کرو، میں اور عامر بھیا اتار اتار کر لاتے ہیں۔ 

آپی وہیں گانڈ پھیلا کر بیٹھ گئی اور لکڑیاں جوڑنے لگی۔ ہم دونوں چھت پر آ گئے۔ سمینہ بولی، 

سمینہ: بھیا، آپ پہلے میرے بازوؤں پر لکڑیاں رکھو، پھر خود لے کر آنا۔ میں نے سر ہلا دیا۔ 

میں نے لکڑی اٹھائی اور سمینہ کی طرف بڑھا۔ سمینہ نے دونوں بازو آگے کیے، اور میں نے لمبا کر کے لکڑی اس کے بازوؤں پر رکھ دی۔ اوف، یہ کیا! سمینہ کے دونوں ہاتھوں میں لکڑی تھی، اوپر اس کا پیٹ اور چھاتیاں۔۔ اس کی چھاتیاں سخت ہو کر صاف نظر آ رہی تھیں۔ میرا برا حال ہو رہا تھا۔ جب میں دوسری لکڑی رکھنے کے لیے سمینہ کے پاس گیا، تو اس کے کھلے گریبان سے اس کی چھاتیوں کی کلیویج برا کے بارڈر تک نظر آنے لگی۔ سمینہ کی چھاتیاں برا میں پوری نہیں آ رہی تھیں، ان کا کافی حصہ برا سے باہر تھا۔ بارش کے قطرے اس کی چھاتیوں پر گرتے اور پھر کچھ پانی ان کے درمیان غائب ہو جاتا۔ میں بے شرم ہو کر اس کی چھاتیوں کو دیکھنے لگا۔ میں اس کے قریب ہو گیا تھا، اور نیچے سے میرا لنڈ اس کی چوت کے آس پاس ٹکرانے لگا۔ سمینہ بھی پورے مزے لے رہی تھی۔ اس نے اپنی چھاتی کو اور اوپر اٹھایا اور چھاتیوں کو ہلاتے ہوئے بولی، 

سمینہ: بھیا، کیا دیکھ رہے ہو، لکڑی رکھو نا۔ 

میں نشے سے باہر نکلا اور لکڑی رکھ دی۔ جب میں نے اگلی لکڑی اس کے بازو پر رکھی، تو اسے رکھتے ہوئے میں نے لکڑی اس کی چھاتیوں پر دبا دی۔ دبانے سے چھاتیاں گریبان سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگیں اور پھر اس کے جسم سے رگڑتے ہوئے اس کے بازو پر لکڑی رکھ دی۔ اس بار بھی میرا لنڈ اس کے جسم کے کئی حصوں سے چھو کر مزے لے رہا تھا۔ میں مزے کی انتہا پر تھا۔ سمینہ لکڑیاں لے کر نیچے چلی گئی، اور میں بھی لکڑیاں اٹھا کر اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ مجھے بہت مزا آ رہا تھا۔ سمینہ کا جسم کھلی دعوت دے رہا تھا۔ نیچے جا کر وہ لکڑی رکھنے کے لیے جھکی تو میں نے آگے ہو کر اپنے لنڈ کو ہلکا سا اس کی گانڈ سے چھوا دیا۔ آپی کو یہ سب نظر نہیں آ رہا تھا کیونکہ اس کا منہ دوسری طرف تھا۔ پھر میں سمینہ کے ساتھ اسی طرح چھونے کے مزے لیتا رہا۔ 

اب آخری لکڑی رہ گئی تھی۔ سمینہ بولی، 

سمینہ: بھائی، یہ آپ لے جاؤ، رکو، میں آپ کے بازوؤں پر رکھتی ہوں۔ 

میں کھڑا ہو گیا۔ سمینہ نیچے جھکی اور لکڑی اٹھاتے ہوئے اپنی گانڈ میرے لنڈ کے ساتھ زور سے لگائی۔ لنڈ گانڈ کی دراڑ میں دب گیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page