The Supernatural Love–08– مافوق الفطرت عشق قسط نمبر

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری پراسرریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری
پراسراریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق
خوش نصیبی اور بد نصیبی کا تعین بے حد مشکل کام ہے بعض اوقات انسان زندگی بھر کسی شے کی آرزو کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کی وہ آرزو کر رہا ہے وہ اس کے لئے ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگروہ چیز اسے حاصل ہو جائے تو اس کی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔
بمشکل تمام اگروه اس خوشی کو برداشت کرلے اور اس کے بعد اُسے اندازہ ہو کہ جو شے اس کے لئے حاصل زندگی تھی۔ در حقیقت وہ زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ہے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ میری اس آپ بیتی سے لگا سکتے ہیں۔

مافوق الفطرت عشق قسط نمبر -08

اففف ، زبردست ۔۔۔ میں نے بےساختگی سے اپنے ہونٹ سکیڑتے ہوئے اینی کےجسم  کی تعریف کی،  میرے والہانہ سرگوشی سے اینی کے چہرے پر گلاب کھل اٹھے ۔

ننگا پانی بہتا اس کے جسم کے سارے حدوحال دکھتے ہوئے  میرے اندر تباہی مچ  رہی تھی،سانولے  جسم  کی چمک ، جس پر دو سانولے انار جن پر گہرے رنگ  کے کھڑے نپلز، پتلی کمر ، چوتڑوں کا پھیلاؤ ، اور گدرائی ہوئی  رانیں،  اس کے سارے خطوط نمایاں نظرآرہے تھے۔

اینی کا بھولا بھالا حسین چہرہ ، جو دیکھنے والے کو پاگل کر دیتا تھا ، ایسا معصوم چہرہ اور آفت بدن بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اس کے معصوم چہرے پر دہکتے گول ہلکے موٹے ہونٹ میری شہوت کو بھڑکا رہے تھے ۔

ااااااففففف یہ رس بھرے ہونٹ؟؟؟ چوس چوس کر سارا رس ہی چوس جاؤں ۔۔۔ میں نے سوچا ، بنا چکھے ہی یہ ہونٹ مجھے پاگل بنا  رہے تھے ،  میں مست نظروں سے اینی کو دیکھتاہوا ، دروازے پر کھڑا  رہا۔

مجھے ایسے ہی کھڑے دیکھ کر اینی نے مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھا ، اور لہکتے ہوئےدوبارہ شاور کے نیچھے پانی کی پھوار میں لہرا سی گئی ، اینی کی لچکتی کمر ،  اس کے ہاتھوں کا رقص کے انداز میں لہرانا  ، یہ سب دیکھنے کا مجھے ہوش ہی کہاں تھا ؟؟؟ میری نظریں تو اس کی گول مٹول گانڈ اور چوتڑوں کے رقص پر جمی ہوئیں تھیں ۔

اینی شاور کے نیچے ایسے لہرا رہی تھی ، جیسے وہ جان بوجھ کر مجھے اکسا رہی ہو۔ اس کی رانوں کا آپسی ٹکراؤ اور اس ٹکراؤ کے نتیجے میں چوتڑوں کا تھرتھرانا۔۔میرے لن کو انگڑائی لینے پر مجبور کر رہی تھی۔ میری نظر اچھلتے مموں اور چوتڑوں پر ہی گھوم رہی تھی ۔

اینی کا بدن شاور کے نیچے لہروں کی طرح ہلکورے لے رہا تھا ، چھاتیوں کی تھرتھراہٹ میرے کانوں کی لوئیں گرم کر رہی تھیں ۔ 

میں نے کب اپنی مدہوشی میں اینی کی طرف بڑھا  مجھے ہوش ہی نہیں  رہی تھی۔ افففف  جیسے ہی میں بے خودی میں اینی کے قریب پہنچا ، میں نے آہ بھرتے ہوئے اس کی شولڈر پر کس  کی ۔

اگلے ہی لمحے اینی نے مزید میرے قریب سرکتے ہوئے بلکل میرے قریب ہو گئی،  اس کا یہ لمس اور بہکتاانداز  میرے رونگٹے کھڑے کر گیا۔

میں نے اگلے ہی لمحے اینی کو گھما کراپنے ہونٹ کھول کراُس کے ہونٹوں پر رکھی اور اپنی زبان اُس کے منہ میں داخل کر کے اُس کی  زبان کو اپنی زبان سے ملاتے ہوئے  باہر نکالااور اُس کی زبان کوچوسا مارا،

ااااااففففف اینیہہہہہ ، بہت ہی زبردست۔ میری مدہوش  سرگوشی  پر اینی نے میری طرف دیکھا۔

دوبارہ جیسے ہی میں اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھانے لگا تو اینی نے اپنا نچلا ہونٹ باہر نکالتے ہوئے ہلکا سا سکیڑا ۔۔۔

ااااااففففف ، اس کے ہلکے موٹے ہونٹ کا دل کش انداز  مجھے پاگل کررہا تھا۔ میں نے مستی سے اسے غور  سے دیکھا اور اپنے انگوٹھے سےاس کے ہونٹ کو ہلکا سا  دبایا۔

ااااااففففف، اس کی ہونٹوں کا تھرتھرانا، میرے تن بدن  میں آگ لگا  گئی ، میں نے بڑی تیزی سے انگوٹھے کو ہونٹ پر رگڑا ۔۔۔

سسسسس آاااااہہہہہہ، آارام سے۔۔۔ اینی کی سسکتی آواز گونجی اور میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی گرفت میں سمیٹتے ہوئے ہلکا سا چوسا ۔

ااااااففففف ، اینی کے ہونٹوں کا  نشہ ، میری رگوں میں پھیلتا گیا ، اور میں پیاسے بچے کی طرح نچلے ہونٹ کو چوستا اینی پر جھکتا گیا ، ادھر اینی میرے اس طوفانی حملے سے شاور کے نیچے واشروم  کی دیوار سے ٹیک لگاکر نڈھال ہو چکی تھی۔

سسسسس آااااااہہہہہہ ، میں نے نچلے ہونٹ کو چوستے ہوئے کھینچ کر چھوڑا ، اور اینی نے سسکاری لی۔

سسس سکندررررررررر، ااااااففففف، آآآآآہہہہہہہہ۔۔ اینی کی گرم سانسیں میرے چہرے سے ٹکرائیں ، اور میں نے اینی کے بھڑکتے چہرے کی طرف دیکھا ۔

واشروم کی دیوار  پر سر ٹکائے ، چہرہ اوپر کو اٹھائے ، اور چہرے پر شاور سے  بہتا پانی  اینی کے دہکتے رخسار ، اور لرزتی بند ہوتی پلکیں بتا رہی تھیں کہ اینی میری کسنگ  سے ہی مست ہو چکی ہے ۔

مممزززہ آاایا ؟؟؟ میں نے بہکتی آواز میں پوچھا ۔

ہاااااں۔۔۔ ، بب، بہت عجیب   سا مممزززہ ۔۔۔ اینی نے ٹوٹتی آواز میں جواب دیا ۔

میں نے اپنی انگلیوں سے اینی کے دونوں ہونٹوں کو  اپنے ہونٹوں میں دبا کر زبان سے زبان لڑاتے ہوئے زوردار لمباکس کیا۔ یہ پورے جذنے سے کیا گیا کس تھا ،  اس چوسے کے ساتھ اینی کا پورا بدن اٹھتا آیا ،

سسسسس آااااااہہہہہہ مممی ۔۔۔ اینی نے بمشکل اپنے ہونٹ چھڑاتے ہوئے سر جھٹکا۔

ااااااففففف میری جان نکلی جارہی ہے۔۔۔ اینی پھولتی سانسوں سے بہکتے ہوئے بولی ۔

میری کسنگ نے اسے وہ مزہ دیا تھا کہ اینی پاگل ہو گئی تھی ، اینی نے گردن سے بال ہٹا کر اپنی کمر میری طرف گھماتے ہوئے اپنی کمرے میرے سینے سے چپکا کر مجھے ٹیک لگا دی ، میرا تو سانس جیسے رُک ہی گیا ۔سانولا  بدن ، اور تھرتھراتی  گانڈ ، مجھے پاگل بنا گئی تھی۔

نکالیں ناااااا ۔۔۔ اینی کی آواز گونجی ، اور میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی شرٹ نکالی ،  اور اینی کو تھوڑا آگے پش کرتے ہوئے اگلے ہی لمحے جھٹکے سے اپنی شرٹ اتاردی ،لیکن اس دوران اینی کی سانولی  کمر کو دیکھ کر میری آنکھیں جگمگا  اٹھی۔ چاکلیٹ  جیسی ملائم کمر۔

  ااااااففففف  ، یہ نظارہ دیکھتے ہی میں نے جھرجھری لیتے ہوئے اینی کی کمر کو ہلکا سا چھوا ، میری انگلیاں ملائم جلد پر پھسلیں ، تو اینی نے ہلکی سی سسکی بھرتے ہوئے سر گھما کر میری طرف دیکھا ۔

میں نے بہکتی نظروں سے اس کے چمکتے کندھوں کو دیکھا ، اور ہلکا سا جھک کر دونوں کندھوں کے درمیان گردن کی بیک پر کس  کیا۔

سسسسسسکندرررررر ۔۔۔ گرم بہکتے بوسے کی لمس سے اینی کی  سسکاری گونجی ،

میرج نظریں اینی کی چھاتیوں سے پھسلتی پیٹ تک آئی ، اور اینی نے بانہوں کی قینچی میں اپنا جوبن سمیٹا ۔

ااااااففففف ، اس کی یہ ادا مجھے اور زیادہ گرم کر رہی تھی ، اینی کی کمر مجھے پاگل ہی کر گئی  تھی، میرے بہکتے ہاتھ پھر سےاس کے شانوں پر جمے ۔

میرے ہاتھوں کے لمس نے ا ینی کی دھڑکنیں بہکا دی ، اینی پوری  جان تھرتھرا گئی ، اینی کے بدن میں دوڑتی لہریں اینی کے دماغ تک چھا رہی تھیں ،  اینی مستی سے بڑبڑائی ۔۔۔

اینی ادھر تو گھومو ۔۔۔ میں نے اس کے کان کے قریب جھکتے ہوئے سرگوشی میں کہا ۔

اینی آہستگی سے گھومتی میری طرف مڑی اور میرے بدن میں جیسے سورج اتر آیا ، میری نظریں اینی کے چمکتے سینے سے ہوتے مموں  تک گھوم گئی ، اس کی تنی ہوئی چھاتیاں دیکھ کر میرا بدن سنسنا اٹھا تھا ۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page