کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری
پراسراریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق
خوش نصیبی اور بد نصیبی کا تعین بے حد مشکل کام ہے بعض اوقات انسان زندگی بھر کسی شے کی آرزو کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کی وہ آرزو کر رہا ہے وہ اس کے لئے ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگروہ چیز اسے حاصل ہو جائے تو اس کی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔
بمشکل تمام اگروه اس خوشی کو برداشت کرلے اور اس کے بعد اُسے اندازہ ہو کہ جو شے اس کے لئے حاصل زندگی تھی۔ در حقیقت وہ زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ہے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ میری اس آپ بیتی سے لگا سکتے ہیں۔
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
مافوق الفطرت عشق قسط نمبر -10
اینی سسک کر مجھ سے فرمائش کر رہی تھی ، اس کی فرمائش پر مجھے حیرانی ہوئی، یہ طلب بھری سسکتی فرمائش بہت عجیب تھی ، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، شاید میری مٹھی میں پکڑنے سے آج اُس کی خواہش بھی بھڑک اُٹھی تھی۔
پلیز سس سکندر۔۔۔ اینی کے ہاتھ سرکتے ہوئے میرے لن تک پہنچے، اور وہ بے تابی سے لن کو سہلاتے ہوئے کھینچنے لگی ۔
اس سے آگے ٹائم ضائع کرناظلم تھا، پھدی خود لن مانگ رہی تھی ، میں ہلکا سا اوپر ہوا اور نیچے کو دیکھا ۔
ااااااففففف ، اپنے کھڑےہوئے لن کودیکھ کر میں بھی حیران رہ گیا آج پہلے سے کچھ زیادہ ہی ٹوپا پھولا ہواتھا جیسے ہتھوڑا، اور اینی کی پھدی اس ہتھوڑے سے ٹھوکی جانے والی تھی۔
میں نے اینی کے چہرے کو دیکھا ، وہ سسکتی ، سر پٹختی ، پوری طرح نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ میں نے ٹوپے کو پھدی کے اوپری حصے پر ہلکا سا پھیرا۔
ااااااففففف ، موٹے ٹوپے سے پھدی کے ہونٹ کھلے ، پھولا ہوا دانہ نظر آیا۔
اگلے ہی لمحے میں پھولے دانے پر ٹوپے کو جما کر ہلکا سا گھماتا اوپر ہوا ، اور اینی کو دیکھتے ہوئے ہلکا سا جھٹکا مارا ، ٹوپہ دانے کو مسلتا اندر کو پھسلا۔
سسسسس آااااہہہہہہ ۔
اینی سسکی اور مجھے یوں لگا جیسے میرا لن کسی بھٹی میں گھس گیا ہے ، اینی نے اپنی رانیں کستے ہوئے پھدی کو ٹائٹ کرتے لن کو روک لیا تھا۔
سسسسسس آااااااہہہہہہ ، آاااہستہ پلیزززز ،مممیرا۔۔
اینی نے سسکتے ہوئے بولنا چاہا ، جب میں نے اوپر سے نیچے جھٹکا مارا۔۔۔
آآآہہہہہہہہ سسسسسس ہاااااائے ۔۔۔
اینی کی چیخ گونجی اور میرا لن آدھا اندر گھسا ۔۔۔
ہاااائے، آآہہہہہہہہ ہاااائے ۔۔۔
اینی کو لگا ، اس کی پھدی میں جیسے خنجرگھس گیا تھا ، اس کے نوکیلے ناخن میرے بازوؤں میں چھبے اور اس نے مچل کر میرے نیچے سے نکلنا چاہا ، لیکن اب کہاں ؟؟
واشروم کی بند دیواروں میں اینی کی درد بھری چیخ میرے تن بدن میں جوش بھرتی گئی ، وحشی جوش ، جو مجھے مزید اکسا رہی تھیں۔
میں لمحہ بھر کو رکا اور نیچے دیکھا ، ااااااففففف ، میرا لن اینی کی پھدی میں بری طرح پھنس چکا تھا ، لن کے دباؤ سے کھلی ہوئی پنکھڑیاں اور کھلے ہونٹ وہ اوپر نیچے سے ہونٹ کھول چکی تھی اوپر سے شاور کا گرتا پانی پھدی کی چکنائی کو بہا کر لے جارہاتھا اور لن کو بھی پھدی کے چکنے پانی سے صاف کرتا ہوا صرف گیلا کررہاتھا، میں چھاتیوں کو دبوچتے ہوئے پورے زور کا جھٹکا مارا ، یہ جھٹکا تیز تھوڑا زیادہ تھا، سارے جذبوں، وحشتوں اور نشے سے لبریز جھٹکا ۔ میرا لن آدھے سے زیادہ اندر گھسا ، اور اینی کی بلند چیخ واشروم میں پھیلتی گئی ۔
آہہہہہہہہ ہاااااائے ، ہاااااائے میں مرررر گئییییی ۔۔۔
یہ چیخ بالکل ویسی چیخ تھی ، جسے سن کر میرا دل دکھ سے بھر جانا چاہیئے تھا، لیکن آج یہی چیخ مجھے مزید بھڑکا رہی تھی ، میرا ہاتھ اینی کے گانڈ کے نیچے جمے ، اور میں نے اگلا جھٹکا مارا ، یہ جھٹکا لن اور پھدی کو بیٹ پر بال لگنے والا جھٹکاتھا ، لن جڑ تک اندر گھسا اور اینی کے منہ سے نکلنے والی دردناک چیخیں بتا رہی تھیں کہ اس کی پھدی کے اندر لن جاچکا ہے ۔
اینی کی تیز چیخ اور اس کا تڑپتا وجود بتا رہا تھا کہ میرا لن اس کی پھدی کو ایک بار پھر سے اپنے حساب سے کھول چکا ہے ، اینی کی پھدی کا اس طرح سے کھلنا بنتا بھی تھا ، کیونکہ جب اتنا موٹا لن ایک ہی جھٹکے میں پھدی میں گھسے گا تو پھدی کا پھدہ تو بنے گا ہی ۔۔۔
آآہہہہہہ ہاااائے میں مررر گئییی ، ااااااففففف اسسسے بااااہر نکالو پلیززز ، آآآآہہہہہہ ہاااااائے ۔ پھاڑ ڈالا۔
اینی کی سسکی آمیز چیخ سن کر میں نے وحشت آمیز خوشی سے اینی کی طرف دیکھا ، مجھے کمینگی بھری خوشی محسوس ہو رہی تھی ، اینی کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں کی لکیر ، اس کے ادھ کھلے ہونٹ ، معصوم بھولے چہرے پر درد کی لہریں ، اور مچلتا بدن جو پانی سے نکلی مچھلی کی طرح بھڑکتا الٹا میری وحشت کو بھڑکا رہا تھا ۔
اور اینی ؟؟؟
اسے تو یہ جھٹکا یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی پھدی میں کسی نے گرم سریا گھونپ دیا ہو ، ایسا سریاجس کی لمبائی اسے کلیجے تک محسوس ہو رہی تھی ، اور موٹائی گویا بدن چیر رہی تھی ۔۔۔
اااافففففف ، درد کی شدت کے باوجود اس کے ذہن پر سیکس کا خمار چھایا ہوا تھا ۔
فی الوقت تو اسے بس درد ہی درد محسوس ہو رہا تھا ، لیکن اس درد میں بھی وہ مطمئن تھی ،
میں نے مستی بھری نظروں سے اینی کی طرف دیکھا ، اینی کی نظروں میں وحشت اور شہوت دونوں تھی ، میری نظریں اینی کی رانوں سے ہوتی ہوئیں پنکھڑی سے گلاب بنی پھدی تک پھسلیں۔
اااافففففف ، اینی کی پھدی بری طرح کھل چکی تھی ، میرا لن پھدی میں پھنسا پنکھڑیوں کو پورا کھول چکا تھا ، اینی کی پھدی کی تنگی اور گرمی جیسے میرے لن کو نچوڑ رہی تھی ، اس قدر تنگی اور گرمی کہ اگر میں دھیان نہ بھٹکاتا تو شاید پہلے ہی جھٹکے میں پانی چھوڑ دیتا ، لیکن میں عام نہیں تھا۔ میں نے آہستگی سے لن کو باہر کھینچا۔۔
سسسسس آاااااہہہہہہ ، ہاااائے ۔۔۔
لن کی واپسی رگڑ سے اینی پھر سے سسکی ۔۔
افففف کک کمرے میں لے جاؤ ناااا۔۔۔سسسس آآہہہہہہ ، اب آارام سے ناااا ، ہاااااائے بہت درد ہوتا ہے، سسسس ہاااائے۔۔۔
اینی سسکتے سسکتے بولی۔۔۔
میں نے لن آہستہ آہستہ کھینچتا آدھے تک باہر لایا اور پھر سے لن کی طرف دیکھا ۔۔ لن کے نظارے نے مجھے بے ساختہ جھرجھری لینے پر مجبور کر دیا، کیونکہ اس کی کمر پرشباب پھدی سے پانی کا رساؤ قدرے زیادہ تھا ، یا شاید جھٹکا زرا سخت لگا تھا ؟ جو بھی تھا ۔ لیکن لن پر ہلکا سا لال پانی تھا جو شاور کے پانی نے سکنڈوں میں دھو کر صاف کردیا۔
میں نے اس کے ادھ کھلے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیری تو اینی نے میری زبان کو چوستے ہوئے آآآہہہہہہہہ بھری ۔۔۔
وہ میری زبان چوستی ، گہری سانسیں بھرتے ہوئی خود کو سنبھال رہی تھی جب میں نے آگے کو جھک کر اس کی دونوں چھاتیوں کو اکٹھے جوڑا اور منہ میں دونوں نپلز کو اکٹھے پکڑ کر چوسنا شروع ہو گیا ۔
سسسسس آااااہہہہہہ ۔۔۔ ااااااففففف ،
دونوں نپلز کی ایک ساتھ سکنگ اسے درد بھلا کر انجانا سا مزہ دینے لگی۔ چند لمحے تو وہ پھدی کا درد بھول ہی گئی ، کسنگ کے فوری بعد میں اس کی تنی چھاتیوں کو دبوچ کر ، نپلز کو چوستے ہوئے کن انکھیوں سے اینی کی بدلتی سسکیوں اور آہوں پر غور کیا۔ وہ اب درد بھلا کر بھوکے بچے کی طرح اپنے ہونٹوں اور زبان کو چوستی مستی میں نپلز چسواتی، مدہوشی میں گم ہو چکی تھی ،
اگلی قسط بہت جلد
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے