The Supernatural Love–11– مافوق الفطرت عشق قسط نمبر

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری پراسرریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری
پراسراریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق
خوش نصیبی اور بد نصیبی کا تعین بے حد مشکل کام ہے بعض اوقات انسان زندگی بھر کسی شے کی آرزو کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کی وہ آرزو کر رہا ہے وہ اس کے لئے ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگروہ چیز اسے حاصل ہو جائے تو اس کی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔
بمشکل تمام اگروه اس خوشی کو برداشت کرلے اور اس کے بعد اُسے اندازہ ہو کہ جو شے اس کے لئے حاصل زندگی تھی۔ در حقیقت وہ زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ہے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ میری اس آپ بیتی سے لگا سکتے ہیں۔

مافوق الفطرت عشق قسط نمبر -11

آآآآہہہہہہہ  ، آرام سے نااا ، ااااففففف ۔۔۔

اینی کی سسکی سے میں چونکا اور چھاتیوں سے منہ اٹھا کر ہونٹوں تک لایا ، میرے پیاسے ہونٹ  اینی کے ہونٹوں پر جمے اور میں نے اینی کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے تیز جھٹکا مارا ، لن پھسلتا پھر سے اندر گھسا اور اینی کی ہیجانی سسکی میرے ہونٹوں میں دبتی گئی۔

ہااااااے گاڈ مرر گئی ۔۔۔ اینی نے تڑپ کر ہونٹ چھڑائے

آآآآآہہہہہہہہ ہااااائے مممیررررا اااندر ۔۔۔ درد سے مچلتی اینی نے میرے شانوں کو کھرچ ہی ڈالا تھا، اس کے لمبے ناخن میرے کندھوں کو چھیل کر رکھ گئے تھے ، اس نشیلی کھرچن سے میرا گھوڑا بے قابو ہوا ۔

میں لمحہ بھر رکا ، اور چھاتیوں کو دبوچ کر پورے زور کا دھکا مارا ، لن پھر سے جڑ تک اندر گھسا اور اینی کا جسم یوں اچھلا جیسے اس کی جان نکل گئی ہو۔ میں بھی آج پورا وحشی ہوچکا تھا اور جان بوجھ کر بغیر چکنائی کے لن گھسا کر اسے درد کا احساس کروانا چاہتا تھا۔ اور  اس لئےاب فل گہرائی میں زور کا جھٹکا  مار  رہا تھا۔

سسسسس ہااااائے ، ہاااااائے مممیرری پھدییییی نکالو پلیزززز سسکندرررررررر، سسسس  ہااائے ۔

اینی کی درد بھری  سسکیاں میری وحشت کو بڑھاوا دے رہی تھیں ، تو اس کی تنگ پھدی کی متواتر بڑھتی پھسلن اینی کے ہیجانی جذبات کا راز کھول رہی تھی۔ اوپر سے شاور سے برستا پانی میرے جسم کی آگ کو بھڑکاتے ہوئے ٹھنڈا بھی کرتا جارہا تھا۔ جس سے مزے کا ایک الگ جہاں  آباد ہوگیا تھا۔ یہ دھوپ چھاؤں جیسا نظارہ تھا ۔

 وہ چیخ اور سسک رہی تھی جیسے اس کی زبردستی لی جا رہی ہو ، لیکن اس کی مزاحمت ہٹانے والی نہیں بلکہ کھینچنے والی تھی ،  وہ مجھے اپنے اوپر کھینچتی اپنے درد کی دوا اسی لن سے لینے کی خواہش مندتھی جس نے اسے درد دیا تھا ۔

اس کی بےترتیب ہوتی سانسیں اور سکڑتی پھیلتی پھدی گویا رس اگلنے کو تیار ہو چکی تھی ، چند لمحوں بعد ہی میرے لمبے دھکے پر پھدی نے میرے لن کو جکڑتے ہوئے پہلی پچکاری چھوڑی ، اور پھر تو جیسے پھدی کا بند ہی ٹوٹ گیا۔  ایسے لگ رہا تھا جیسے کئی سال سے رکی ہوئی جوانی کی ساری گرمی آج ہی پھدی کے راستے باہر نکل جائے گی ۔ اینی کی پھدی کا لن کو بھینچ بھینچ کر اپنا رس نکالنا انتہائی منفرد تھا ،  اینی تو جیسے آسمانوں کی بلندیوں میں اڑ رہی تھی ، اس کا بدن جھٹکے لیتا مستی سے تڑپ رہا تھا ، اور اس کی پھدی سے چھوٹتی میٹھی نشیلی دھاریں اسے پاگل کرتی عجیب سی مدہوشی میں دھکیل رہی تھی، یہ کیسا مزہ تھا؟؟ یہ کیسا نشہ تھا جو بڑھتے بڑھتے اس کے حواسوں پر چھاتا اسے مزید دہکاتا جا رہا تھا ۔

ااااافففففف ۔۔ آآآہہہہہہہہ ۔۔ سسسس آآآآہہہہہہہ۔۔۔ اس نے مستی سے مجھے خود پر کھینچا اور اس کے پھڑکتے ہونٹ میرے پورے چہرے کو چومنے ، چوسنے ، چاٹنے لگے ۔

آہہہہہ اففف بہت اچھا لگا۔۔۔ اس نے سرگوشی میں سراہا اور بےدم فرش  پر بچھتی گئی ۔ پھدی سے چھوٹتیں پچکاریاں تھم چکی تھیں، اور اس کا جسم جیسے نشے  میں ٹن ہوگیا تھا ۔

جیسے ہی اینی مستی سے مدہوش زمین  پر لیٹی ، کچھ لمحے میں وہیں رکا رہا ، اور پھر آہستگی سے لن باہر کھینچتا پیچھے ہٹا ۔ میرے لن پر پھدی کا پانی چمک رہا تھا ، اپنے مستی سے لہراتے لن کی جھلک دیکھ کر میں مستی میں جھوم اٹھا ، لن گویا مستی سے اکڑ اکڑ کر پھٹنے والا ہوگیا تھا ۔ ایسی وحشت بھری مستی میں آج پہلی بار محسوس کر رہا تھا ،  چند منٹوں بعد ہی  میں نے اُس کو کسی بچی کی طرح گود  میں اُٹھا یا اور شاور بند کرتا ہوا واشروم سے باہر نکا ل کر اُس کو بیڈ پر لیٹاتے ہوئے میں نے پھر سے اپنا لن اُس کی پھدی میں گھسا دیا اور اُس کو چومنے چاٹنے لگا، جس سے کچھ ہی دیر میں ہم دونوں پھر سے شروع ہوچکے تھے ۔

  اینی کے رسیلے بدن کے انگ انگ کو میں نے چوس چوس کر ڈارک براون  کر دیا تھا ۔

جیسے جیسے میں آگے بڑھتا جا رہاتھا ، اینی تو گویا  رفتار پکڑتی جا رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ اسے پوری دنیا میں صرف میرے لن کی ہی چاہت ہو ، اس کے بےتاب ہاتھ لن کو سہلا سہلا کر مزید اکسا رہے تھے جبکہ اینی کی دہکتی  پھدی میرے لن کی اکڑ توڑنے پر تلی تھی، یہ پھدی کی گرمی اور لن کے جوش کا ٹکراؤ تھا ، ایسا ٹکراؤ جس نے اینی کو جل تھل کر دیا۔

میرے  جلتے وجود میں شعلوں کے  بگولے اڑتے پورے جسم سے ہوتے مجھے وہ مزہ دے رہے تھے جو میں نے آج تک محسوس نہیں کیا تھا ، مسلسل اینی کا پانی چھوڑنا عجیب  سا  مزہ  دے رہاتھا  جو بہت بڑھ چکا تھا ، اتنا کہ میں  بے رحم بن چکا تھا ۔

اینی کی مستی میں ڈوبی ہیجانی چیخیں مجھے ہر لمحے اکساتی جا رہی تھیں۔  چند لمحوں بعد ہی میرے اندر سے پھوٹتا لاوا اینی کی پھدی میں پہلی پچکاری کرتا شاید اسے چوتھی بار سیراب کر چکا تھا ۔ اور ہم دونوں ایسے مدہوش پڑگئے تھے جیسے ہمارے جسموں میں جان ہی نہ رہی ہو۔بے سُدھ ، نشے میں چور کس وقت میں اُس کے اوپر سے لڑھک رک اُس کے ساتھ لیٹا کچھ خبر ہی نہیں ۔

پتہ نہیں کتنی دیر ہم دونوں نشے میں ڈوبے پڑے رہے ، اینی کو مجھ سے پہلے ہوش آیا اور وہ میری طرف کروٹ بدل کر میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے  ہلکے ہلکے مجھے چومنے لگی۔ اور پھر اس کے بعد کب صبح ہوئی کچھ خبر نہیں ۔

اگلا پورا دن ہم نے اپنے ہوٹل میں ہی آرام کیااور دنیا جہاں کی باتیں کرتے رہے ۔ تو اچانک اینی نے ایک تجویز پیش کی۔

 سکندر کیوں نہ ہم اس ملک سے کہیں باہر چلیں ۔

کہاں ؟۔۔۔ میں نے پوچھا۔

 اینی: دنیا بہت وسیع ہے،  کہیں بھی نکل چلیں گے۔ دولت انسان کے لئے آتنا بڑا سہارا ہے کہ ہ دنیا کے ہر خطہ میں اعلی مقام حاصل کر سکتا ہے۔

 میں: ٹھیک ہے اینی مجھے تمہاری تجویز سے اتفاق ہے۔ میرے بارے میں تم کافی حد تک جان چکی ہو میں عجیب و غریب حالات کا شکار رہا ہوں چنانچہ زندگی کو خوبصورت بنانے کے لئے جو بات تمہارے ذہن میں آسکتی ہے، تم مجھے اس پر آمادہ ہی سمجھا کرو،  مجھے تم سے کہیں اختلاف نہیں ہے۔

اینی: اوہ ڈارلنگ تم ۔ تم بلاشبہ ایک ایسے انسان ہو جس پر جتنا بھروسہ کیا جائے کم ہے،  عورت اپنی زندگی میں اگر کوئی خواہش کرتی ہے، تو وہ یہی ہوتی ہے کہ اس کا ساتھی خوبصورت ہو اور دولت مند ہو اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس پر اعتبار کرتا ہو، اس سے محبت کرتا ہو۔  میں وہ خوش نصیب عورت ہوں جسے زندگی کی تمام نعمتیں حاصل ہیں تمہارا تو انا جم لاکھوں مردوں سے بہتر ہے،  اور تمہاری محبت۔

 اینی بے خود ہو گئی اس نے مجھے سینے سے لپٹا یا اور سچی بات ہے کہ میں اس محبت کے سامنے باقی تمام باتیں بھول جاتا تھا ۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page