The Supernatural Love–12– مافوق الفطرت عشق قسط نمبر

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری پراسرریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری
پراسراریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق
خوش نصیبی اور بد نصیبی کا تعین بے حد مشکل کام ہے بعض اوقات انسان زندگی بھر کسی شے کی آرزو کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کی وہ آرزو کر رہا ہے وہ اس کے لئے ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگروہ چیز اسے حاصل ہو جائے تو اس کی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔
بمشکل تمام اگروه اس خوشی کو برداشت کرلے اور اس کے بعد اُسے اندازہ ہو کہ جو شے اس کے لئے حاصل زندگی تھی۔ در حقیقت وہ زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ہے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ میری اس آپ بیتی سے لگا سکتے ہیں۔

مافوق الفطرت عشق قسط نمبر -12

چنانچہ سفر کی تیاریاں ہونے لگیں سارے معاملات میں نے اینی پر چھوڑ دیئے تھے،  اس نے خود ہی انتخاب کیا اور پھر تمام  انتظامات مکمل کرنے کے بعد مجھے اطلاع دیدی ۔

 ڈارلنگ ہم آج سے تیسرے دن روانہ ہو رہے ہیں۔

 بہت خوب ۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

 اینی : میں نے تمہا رے لیئے جو نئے  لباس سلوائے تھے ، وہ کل مل جائیں گے۔ اس کے علاوہ جو ضروریات ہوسکتی ہیں سفر میں،  میں نے ان کا بھی انتظام کر دیا ہے۔

بہت خوب ، زبردست ۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

تم نے یہ نہیں پوچھا ڈارلنگ کہ ہم کہاں چل رہے ہیں ؟۔۔۔اینی نے تعجب سے پوچھا۔

پو چھنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کیا ؟ میں نے سوال  کیا۔

اوہ ۔۔اوہ ۔۔اتنا اعتماد  ہے میرے  اوپر؟۔۔۔اینی لرزتی ہوئی آواز میں بولی۔

ہاں اس سے بھی کہیں زیادہ۔ میں نہیں چاہتا کہ مجھے اس سفرکے بارے میں تفصیلات بتاؤ،  مجھے تمہاری قربت درکار ہے جہاں تم ہو،  وہ جگہ میرے لئے دلکش ہے ۔ میں نے جواب دیا اور اینی بے اختیار ہو گئی اس نے مجھے اپنے ساتھ  لپٹا لیا اور میرے وجود پر بوسوں کی بارش کر دی۔میں اس کی محبت سے سرشار تھا۔

تیسرے دن جب ہم  بندرگاہ پر پہنچے،  تب بھی  میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا ۔ خوبصورت جہازہ ہمارا منتظر تھا ضروری جانچ  پڑتال سے فارغ ہونے کے بعد ہم جہاز پر پہنچ گئے۔ اینی نے سمندری سفر کا انتخاب کر کے بے پناہ خوش ذوقی کا ثبوت دیا تھا۔ نئی نئی زندگی کی ابتدا  کرنے والے نوجوان جوڑوں کے لئے سمندری سفر بے حد حسین ہوتا ہے۔ کھلا ماحول، کھلا آسمان ، نیچے بھرا ہوا سمندر اور ان دونوں کے درمیان محبت  کرنے  والے دھڑ کتے دل ، تو ماحول بےحد حسین ہو جاتا ہے۔ یہ حسین  ماحول ہماری زندگی بن گیا ۔ جہاز نے ساحل چھوڑ دیا اور سمندر پر ہلکے ہلکے ہلکورے  لینے لگا۔

بہت ہی خوبصورت سفر تھا ، اور اس سفر میں اینی کی معیت اور  ہی حسن پیدا کر چکی تھی۔ لیکن زندگی حادثات سے عبارت ہے،  اور حادثے ہی زندگی کو رواں دواں رکھتے ہیں۔  اگر زندگی اس سمندری سفر کی مانند ہو جائے جو سکون سے جاری رہے،  تو پھر اس میں کچھ نہ رہے۔ سفر کی تیسری رات تھی۔ آسمان سر شام ہی سے ابر آلود تھا ، اور ایک دو بار ہلکی  ہلکی پھوار پڑچکی تھی، لیکن اس پھوار نے سفر کو اور حسین بنا دیا تھا،  بے شمار لوگ عرشے پر ٹہلنے  کے لئے آگئے تھے ۔ رات گئے تک بارش کی یہ آنکھ مچولی جاری رہی۔ چاروں طرف مسرتیں ہی مسرتیں بکھر گئیں۔ ان مسترتوں کا ایک خوفناک انجام ہوگا،  یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔

تقریباً ساڑھے بارہ بجے میں اور اینی اپنے کیبن میں واپس آگئے تھے۔  اینی بہت ہی خوش تھی،  ہم نے بارش کا اثر دور کرنے کے لئے ایک ایک پیالی کافی پی اور اسکے بعد کیبن کا دروازہ بند کر کے اینی میرے بستر میں آگئی۔ ہمارے بدن ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے، ہم دونوں ایک دوسرے کو پیار کرنے لگے۔  ایک دوسرے کے جسموں کو سہلاتے ہوئے   سردی کے اثرات کو فراموش کرنے لگے۔  میں نے اینی کی شرٹ کو اوپر کرتے ہوئے  اُس کے مموں کو چوسنے لگا اور اینی بھی سسکتے ہوئے میرے لن کے ساتھ کھیلنے لگی ، ہم اسی  طرح ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے ایک دوسرے کو تیار کرنے میں لگے ہوئے تھے ٹائم کو کچھ پتہ نہیں تھا رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا کہ ایک دم دھمکے  سے کیبن  کو شدید جھٹکے  لگنے لگے۔ دوسرے تیرے جھٹکے پر ہی ہم دونوں سنبھل سے گئے، اینی نے  خوفزدہ   نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔

یہ کیا ہورہا ہے سکندر  ؟

پتہ ۔۔پتہ نہیں ۔۔۔ میں نے جواب دیا۔

ہم دونوں نے بڑی جلدبازی  میں اپنے لباس درست کئے۔ باہر شور کی آوازیں بلند ہونے لگی تھیں۔

آوه شاید طوفان آیا ہے ۔۔اینی  ہراساں لہجے میں بولی۔

 شاید ۔۔۔میں نے کہا۔۔۔  آؤ با ہر دیکھیں ۔

 اور ہم دونوں باہر نکل آئے جہاز کو اتنے شدید جھٹکے لگ رہے تھے کہ قدم جمانا مشکل ہو رہا تھا۔ دفعتاً چاروں طرف تاریکی پھیل گئی ۔ اینی چیخ  کر مجھ سے لپٹی ۔

 سکندر شاید جہاز طوفان میں گھر چکا ہے ۔۔۔  اس نے گھٹے گھٹے  لہجے میں کہا۔ اور میں نے اُسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔

 جہاز کے مسافر آب حو اس باختہ ہوگئے تھے،  اور آوارہ  بلاؤں کی طرح اِدھر اُدھر بھا گتے پھر رہے تھے۔  چاروں طرف گہری تاریکی پھیلی ہوئی تھی ۔ ان طوفانی لمحات میں جہاز کا برقی نظام بھی ناکارہ ہو کر رہ گیا تھا۔ میں اسی فکر میں آگے بڑھا ، کیبنوں کے مسافر یوہی اِد ھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔  کئی مسافر ہم سے ٹکرائے اور ہم گرتے گرتے بچے ۔ہولناک  تاریکی کی وجہ سے مزید  خوف کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ جہاز کے عملے کی طرف سے ممکن تھا کہ کوئی اعلان سننے کو ملتا لیکن بجلی کا نظام فیل ہو جانے کی وجہ سے کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی،  سوائے خوفناک چیخوں کے۔

میں نے چند ساعت کے لئے سوچا کہ اس وقت کیبنوں میں رہنا موت کا انتظار کرنے کے مترادف تھا چنانچہ بہتر یہ ہے کہ اپنے طور پر کچھ  جدو جہد کی جائے۔  میں نے اندازے سے عرشے کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اینی کو میں مضبوطی سے سنبھالے ہوا تھا ، اینی کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔ بس وہ مجھ سے چمٹی ہوئی میرے ساتھ گھسٹ رہی تھی۔ بمشکل تمام ہم عرشے  تک پہنچے،  اسی وقت بہت زور سے بجلی چمکی اور بادلوں کی خوفناک گرج سنائی دی ۔ بدن کانپ کر رہ گیا تھا لیکن قرب و جوار کا ماحول واضح ہو گیا تھا، اس  خوفناک ماحول کود یکھ کر  میرے اوسان اور کبھی خطا ہو گئے،  اور میرا بدن بے جان ہونے لگا۔  چاروں طرف  انسان انسانوں سے برسر پیکار تھے ہرشخص بے مقصد ایک دوسرے کی جانب دوڑ رہا تھا۔ جسم کچلے ہوئے پڑے تھے اور خوفناک تباہی پھیل چکی تھی۔  

سامنے سمندر کا جھاگ اڑاتا ہوا پانی جہاز پر چاروں طرف سے حملہ آور ہو رہا تھا۔ اونچی اونچی  موجیں ان پر ہی تھیں اور جہاز تنکے کی طرح ان موجوں پر ڈول رہا تھا۔ آنے والے وقت کا خوفناک احساس میرے حواس پر چھانے لگا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اب زندگی محال ہے چنانچہ آخری کوشش کے طور پر میں بے اختیار اس طرف دوڑ پڑا جہاں لائف بوٹس موجود تھیں۔ بے شمار لوگوں نے میری ہی طرح سوچاتھا اور لائف بوٹس کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے برسرپیکار تھے خوف میں ڈوبی ہوئی دل سوز چیخوں نے ہواؤں  اور چنگاڑتے سمندرکے  شور سے مل کر میدان حشر کا سا سماں پیدا کر دیا تھا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page