Passion of lust -42- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 42

ثمینہ نے مجھے گھورا اور پھر ایک ادا سے  بولی۔، 

ثمینہ: اچھا لاتی ہوں۔

وہ اندر کی طرف گئی اور میں اس کی مٹکتی ہوئی گانڈ دیکھنے لگا۔ ثمینہ کے ساتھ باتوں میں میرا لنڈ ٹائٹ ہو گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ ثمینہ کو ایک بار لنڈ کی جھلک دکھائی جائے۔ اور پھر میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔ ۔۔اور جب ثمینہ تولیہ لے کر آئی تو آواز دی۔ ۔

ثمینہ: بھیا، لو تولیہ اور اچھی طرح سے  پانی صاف کر لینا، کہیں ٹراؤزر گیلا ہو گیا تو رات بھر سوکھے گا نہیں۔

اس کی بات سے مجھے مزید مستی چڑھی۔ میں نے تولیہ پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور جیسے ہی تولیہ پر ہاتھ پڑا تو پھر دروازے پر زور دیتا ہوا پھسل کر نیچے گر گیا۔ میں ہپس کے بل نیچے گرا تھا اور تولیہ ایک دم کھینچنے سے ثمینہ دروازے کے تقریباً اندر آ گئی تھی۔ جیسے ہی میرے ہپس فرش پر لگے، میں نے ہاتھ کھینچتے ہوئے دروازہ کافی کھول دیا۔ اب میں پورا ننگا ثمینہ کے سامنے تھا۔ ثمینہ میرے گرنے پر بوکھلاتی ہوئی بولی، ۔

ثمینہ: کیا ہوا بھائی؟۔۔ 

اور پھر میری ٹانگوں کے درمیان کھڑے لنڈ  پر نظر پڑتے ہی اس کی زبان رک گئی۔ میرا لنڈ پورے جوبن پر تھا۔ ثمینہ یک ٹک لنڈ کو گھورے جا رہی تھی۔ شاید اس نے زندگی میں پہلی بار ننگا لنڈ دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس کے ڈورے پھیلنے لگے۔

 میں “اوئی” کی آواز کے ساتھ ہپس پر ہاتھ پھیر رہا تھا، جیسے مجھے کافی چوٹ آئی ہو۔ میں ایسا اس لیے کر رہا تھا کہ ثمینہ  جی بھر کر لنڈ دیکھ لے۔ جیسے مرد کو عورت کے جسم کے حصے، خصوصاً ممے، دیکھنے میں دلچسپی ہوتی ہے، ویسے ہی لڑکیوں کو اکڑا ہوا لنڈ بہت اٹریکٹ کرتا ہے اور وہ اکثر ایسا منظر دیکھنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔ 

میری اوئی کی آواز سُن کر ثمینہ ہوش میں آتے ہوئے واش روم میں اندر آئی اور پھر مجھے بازو سے پکڑتے ہوئے بولی، ۔

ثمینہ: زیادہ چوٹ تو نہیں آئی؟  ۔۔

میں: نہیں، بس ہلکی سی، تم جاؤ، میں ٹھیک ہوں۔۔

وہ بار بار چور نظروں سے لنڈ کی طرف دیکھ رہی تھی اور میں دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہو رہا تھا۔ میں نے پھر اسے جانے کو کہا۔ ثمینہ نے ایک بھرپور نظر لنڈ پر ڈالی اور پھر باہر چلی گئی۔

میں نے کپڑے پہنے اور کمرے میں آگیا۔ شام ہو گئی تھی اور اتنی بار فارغ ہونے کے بعد اب مجھے نیند بھی فیل ہو رہی تھی۔ میں بیڈ پر لیٹا اور سو گیا۔ 

گہری نیند میں مجھے لگا کوئی مجھے آوازیں دے رہا ہے۔ تو  میری آنکھ کھل گئی۔ یہ ثمینہ تھی جو مجھے جگا رہی تھی۔

ثمینہ: بھیا، 10 بج گئے ہیں، اٹھو، کھانا کھا لو پھر سو جانا۔

میں نے اٹھ کر منہ دھویا اور پھر ہال میں چلا گیا۔ امی اور آپی میرا انتظار کر رہی تھیں۔ ہم نے کھانا کھایا اور پھر ٹی وی دیکھنے لگے۔ میں صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد میں کمرے میں گیا اور پھر سے سو گیا۔

خواب میں ایک لڑکی آئی۔ میں اس سے مستی کرنے لگا۔ ہمارے جسم گرم ہونے لگے اور پھر میں نے اسے ننگا کر دیا اور اپنے کپڑے بھی اتار دیے۔ وہ لڑکی میرا پورا ساتھ دے رہی تھی۔ میں نے اسے ننگا کر کے اس کے اوپر چڑھ گیا۔ میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر کندھوں پر رکھیں، لنڈ کو چوت پر سیٹ کیا اور پھر جیسے ہی لنڈ چوت میں ڈالنے کے لیے جھٹکا مارا، میری آنکھ کھل گئی۔ کچھ دیر مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کیا ہو رہا ہے۔ میرا لنڈ پوری زور سے اکڑا ہوا تھا۔ اتنا مزے کا منظر اور وہ بھی خواب میں۔ میرا سارا جسم پسینے میں شرابور تھا۔

میں نے موبائل فون  اُٹھا کر ٹائم دیکھا، رات کے 2 بج رہے تھے۔ موبائل  پر 7 کالز آئی ہوئی تھیں۔ چیک کیا تو 2 ثوبی کی اور 5 کالز عالیہ کی تھیں۔ عالیہ کو چودے ہوئے کافی دن ہو گئے تھے، اب گرمی چڑھی ہو گی سالی کو۔ خیر، اس وقت میرا برا حال تھا۔ میرے ذہن میں خواب والی لڑکی کا جسم آیا، وہ بالکل ثمینہ جیسا تھا۔ میری نظروں میں بار بار ثمینہ کا ننگا جسم آنے لگا اور پھر خواب والی لڑکی کی دھندلی دھندلی شکل نظر آنے لگی۔ شاید وہ ثمینہ ہی تھی۔ میرا جسم آگ میں جل رہا تھا۔ میں نے لنڈ ٹراؤزر سے باہر نکالا اور

ہاتھ میں پکڑ لیا لنڈ تپ رہا تھا۔ خواب میں پکڑا ہوا شکار ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

 چدائی کی شدید خواہش جسم میں پیدا ہونے لگی مگر اس وقت کس کو چودوں؟ آپی اور ثمینہ ایک ہی کمرے میں سوئی ہوئی تھیں۔ ادھر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ پھر اب کیا کیا جائے؟ میں نے لنڈ تکیے پر رکھا اور تکیہ فولڈ کر کے لنڈ اس میں پھنسا دیا اور پھر آگے پیچھے کرنے لگا۔ مگر لنڈ کو اس میں بالکل بھی مزہ نہیں آرہا تھا۔ مجھے مٹھ مارنے سے نفرت تھی، مگر جذبات عروج پر تھے۔ میں اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ شہوت ویسے ہی چڑھی ہوئی تھی۔ 

ثمینہ کی ممے بار بار ذہن میں آنے لگیں۔ اس کا بارش میں بھیگا ہوا جسم، آہ! میں بے چین ہو گیا۔ میرا جسم جلنے لگا۔ سیکس کی خواہش لاکھ کوششوں کے باوجود دب نہیں رہی تھی۔ گھر میں دو جوان گرم جسم موجود تھے، ثمینہ اور آپی۔۔۔ آپی کے بارے میں میں نے کبھی سوچا نہیں تھا اور ثمینہ کے ساتھ ابھی کوشش جاری تھی۔ کھل کر سیکس تو اس کے ساتھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہوس کا جنون سر چڑھ رہا تھا۔ ثمینہ کے کمرے میں جانا عقلمندی نہیں تھی، مگر پھر ہوس عقل پر غالب آ گئی اور میرے قدم باہر کی طرف بڑھنے لگے۔ 

میں دبے پاؤں ثمینہ کے کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا۔ دروازہ تھوڑا سا کھلا تھا۔ میں نے اندر جھانکا۔ اندر گپ اندھیرا تھا۔ میں نے دروازے کے پٹ پر ہاتھ رکھا اور اسے پورا کھول دیا۔ اندر کا منظر واضح ہو گیا۔ اندر دو لوگ سوئے ہوئے تھے، ایک چارپائی پر اور دوسرا بیڈ پر۔ ثمینہ گرمیوں میں اکثر چارپائی پر سوتی تھی۔ میں بیٹھ گیا اور رینگتے ہوئے چارپائی کے قریب پہنچ گیا۔ اب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئی تھیں۔ چارپائی پر جو بھی سویا ہوا تھا، اس نے منہ پر چادر لی ہوئی تھی۔ وہ بالکل سیدھی چھت کی طرف منہ کیے سوئی ہوئی تھی۔ چادر پتلی سی تھی، اس کے نیچے جسم کے نشیب و فراز صاف دکھائی دے رہے تھے۔ میں چارپائی کی سائیڈ پر گھٹنوں کے بل کھڑا تھا۔ چادر کے نیچے رانوں کی شکل صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے اوپر پیٹ اور پھر بڑے سے ممے جو چادر کے نیچے سے بھی نظر آ رہے تھے۔ دونوں بازو جسم کے سائیڈز پر تھے۔ مموں کو دیکھ کر منہ میں پانی آ گیا۔ جس پوز میں وہ لیٹی ہوئی تھی، دل کر رہا تھا اوپر لیٹ جاؤں، مگر سامنے دوسرے بیڈ پر جو لیٹی ہو گی، اسے آنکھ کھلنے کی صورت میں پتہ چل جاتا ۔  میں ابھی سوچ میں تھا کہ یہ کون ہو سکتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page