Shemale Hunter -22- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 22

ریا بیٹھ جاتی ہے اور زبینہ بائیک اسٹارٹ کر کے ریا کے گھر کی طرف لے جاتی ہے۔۔ زبینہ بائیک چلاتے ہوئے ایک ہاتھ پیچھے لے جا کر ریا کی تھائی پر رکھ دیتی ہے… اور دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگتی ہے… ریا، جسے پہلے ہی بائیک پر مزہ آ رہا تھا… وہ اب زبینہ کے ٹچ سے اور انجوائے کرنے لگتی ہے۔۔  تھوڑی دیر میں گھر کے پاس پہنچ جاتے ہیں… ریا اپنے محلے میں آ کر تھوڑا الرٹ ہو کر بیٹھ جاتی ہے۔ 

ریا: بس بس، یہاں روک دو۔ 

زبینہ بائیک روک دیتی ہے۔ 

ریا: تھینک یو سو مچ آج کے دن کے لیے… یہ میری زندگی کا ون آف دی بیسٹ ڈے تھا۔ 

زبینہ: ارے، ابھی تو شروعات ہے… آگے آگے دیکھتی جا۔۔ اس سے بھی اچھے دن آئیں گے (ونک)۔ 

ریا شرما جاتی ہے۔ 

ریا: میں بھی یہی امید کر رہی ہوں۔۔ چلو، میں چلتی ہوں… رات کو بات کرتے ہیں۔۔ بائے۔ 

زبینہ پھر ایک بار ریا کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔۔ ریا ایک دم گھبرا جاتی ہے۔ 

زبینہ: گڈ بائی کس تو دے کر جا۔ 

ریا: یہاں… کوئی دیکھ لے گا۔۔ تو بہت مسلہ  ہو جائے گا۔ 

زبینہ: اسی لیئے  کہہ رہی ہوں  جلدی دے… ابھی کوئی نہیں ہے۔ 

ریا کو بہت ڈر لگ رہا تھا… مگر  اسے پتا تھا کہ زبینہ اس طرح مانے گی نہیں… وہ جلدی سے  ایک لپ کس کر دیتی ہے۔ 

ریا: اب تو ٹھیک ہے… پلیز ہاتھ چھوڑو… کوئی آ جائے گا۔ 

زبینہ ہاتھ چھوڑ دیتی ہے

زبینہ: فالتو میں ڈرتی رہتی ہے۔۔ایک سیکنڈ کا کام تھا۔ 

ریا کو یہ سن کر تھوڑا عجیب لگا… اسے ایسا فیل ہوا جیسے زبینہ تھوڑا برا مان گئی ہے… اور اس ٹائم وہ اُسے بالکل ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ اسی لیئے ریا بغیر زیادہ کچھ سوچے دوبارہاُسے  لپ کس کر دیتی ہے… یہ کس کچھ سیکنڈز کی ہوتی ہے۔ 

ریا: اب تو خوش ہو ناں بابا

زبینہ: ہاں، اب ٹھیک ہے۔ 

زبینہ نے یہ جان بوجھ کر کیا تھا… وہ ریا کے دل  سے دھیرے دھیرے پبلک کا ڈر نکالنا چاہتی تھی… کیونکہ آگے بہت کچھ سوچ رکھا تھا اس نے جو ریا سے کرانا تھا… اس کے لیے لوگوں کا ڈر اُس کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔ 

ریا: اوکے، اب میں چلتی ہوں… رات کو بات کرتی ہوں۔۔بائے بائے۔ 

زبینہ: بائے سیکسی۔ 

ریا اپنے گھر کی طرف چل دیتی ہے اور زبینہ بائیک لے کر نکل جاتی ہے۔ 

ریا خوشی خوشی اپنے گھر میں جاتی ہے… اندر سارے گھر والے بیٹھے تھے… ریا انہیں دیکھ کر اپنی  خوشی کو کنٹرول کرلیتی ہے… وہ سب ریا کو دیکھ کر پاس آ کر بیٹھنے کو کہتے ہیں۔ 

اب سب باتیں کر رہے تھے اور ریا بھی ان کے پاس بیٹھی تھی… لیکن اسے ان کے ساتھ باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا… اسے بس کمرے میں جانا تھا اور پھر سے زبینہ سے باتیں کرنی تھیں… مگر وہ اس طرح سب کو چھوڑ کر  جا بھی نہیں سکتی تھی۔ 

تھوڑی دیر بعد باتیں اور ڈنر کر کے سب  اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں… ریا بھی جلدی سے کمرے میں جاتی ہے اور فون نکال کر زبینہ کو میسج کر دیتی ہے۔ 

ریا: پہنچ گئی آپ؟ 

زبینہ کا بھی فوراً جواب آ جاتا ہے۔ 

زبینہ: ہاں، کب سے پہنچی ہوئی ہو۔۔تیرے میسج کا انتظار کر رہی تھی۔۔ تو اب تک کہاں تھی؟ 

ریا: جی، وہ سب گھر والے نیچے تھے… تو انہوں نے پاس بٹھا لیا تھا۔ 

زبینہ: تو بول دیتی انہیں میں جا رہی ہوں… ضروری کام ہے مجھے۔ 

ریا: اس طرح کیسے بول سکتی ہوں… عجیب لگتا نا۔ صبح سے ویسے ہی باہر تھی۔ 

زبینہ: اچھا، ٹھیک ہے۔ کیا کر رہی ہے ابھی؟ 

ریا: بس ابھی کمرے میں آئی… آتے ہی آپ کو میسج کیا۔ ابھی بس چینج کروں گی۔ 

زبینہ: اچھا… کیا پہنے گی؟ 

ریا: نائٹ سوٹ پہنوں گی۔ 

زبینہ: اچھا… چل، پھر پہن کر تصویر بھیج۔ 

ریا شرما جاتی ہے

ریا: ٹھیک ہے… 2 منٹ دو۔ 

ریا چینج کرنے لگ جاتی ہے… وہ نائٹ سوٹ پہن کر تصویر کلک کر کے بھیجتی ہے۔ 

زبینہ: اُفففففففففف ۔۔بہت زبردست ۔۔لیکن کیا تو وہ چھوٹے چھوٹے والے نائٹ سوٹ نہیں پہنتی؟ 

ریا: چھوٹے چھوٹے کیسے؟۔۔  شارٹس؟ 

زبینہ: ہاں، وہی۔ 

ریا: ویسے تو ہیں میرے پاس… مگر  اس طرح گھر میں اچھا نہیں لگتا۔ 

زبینہ: ابھی تو کوئی نہیں ہے نا کمرے میں۔۔ مجھے تو دکھا دے پہن کر۔ 

ریا: آپ بھی نا… دل  نہیں بھرا مجھے دیکھ کر ابھی تھوڑی دیر پہلے تک تو ہم تقریباً سارا دن ساتھ ساتھ ہی تھے؟ 

زبینہ: ابھی کہاں سے دل  بھر جائے گا… ابھی تو شروع ہوا ہے (ونک ایموجی)۔ 

ریا: ہاہاہاہاہاہاہا… ٹھیک ہے۔ ۔اب مجھے ڈھونڈنی ہی پڑے گی… 2 منٹ صبر کرو۔ 

ریا اپنی شارٹس ڈھونڈنے لگ جاتی ہے… تھوڑی دیر میں اسے مل جاتی ہے… پھر وہ اسے پہن کر تصویر کلک کر کے بھیج دیتی ہے۔ 

زبینہ: ہاں، یہ زبردست  ہے… اس میں تو بہت ہاٹ لگ رہی ہے۔۔ تیری ٹانگیں اتنی سیکسی لگ رہی ہیں۔۔کہ بس دل کرتا ہے۔۔۔۔ (کس والی ایموجی)۔ 

ریا یہ پڑھ کر شرما جاتی ہے۔ 

ریا: آپ کو تو میں ہروقت ہی سیکسی لگتی ہوں۔ 

زبینہ: اب سیکسی ہے تو بولوں گی ہی۔ 

ریا: ٹھیک ہے جیسا آپ  کا دل چاہے کہو (کس والی ایموجی) 

زبینہ: ہائیے، کس کی یاد دلا دی… تیرے ہونٹ اتنے نرم اور رسیلے تھے… دل  ہی نہیں کر رہا تھا چھوڑنے کو

ریا شرما جاتی ہے… اسے بھی زبینہ کے ساتھ کی ہوئی کس یاد آنے لگتی ہے۔ 

ریا: آپ بہت اچھی کس کرتی ہو… اتنی اچھی  کس میں نے کبھی نہیں کی۔ 

زبینہ: ہاہاہاہاہاہاہا… ابھی تو بہت کچھ ہوگا جو تونے نہیں کیا ہوگا (ونک)۔ 

ریا سمجھ تو جاتی ہے… پر پھر بھی ناٹک کرتی ہے… وہ بھی اب تھوڑی کھل کر  باتیں کرنا چاہتی تھی۔ 

ریا: جیسے کیا… سمجھی نہیں میں؟ 

زبینہ: ہاہاہاہاہاہا… چالاک بن رہی ہے۔۔کوئی بات نہیں… جلدہی سب سمجھا دوں گی تجھے۔ 

ریا: آپ بھی نا

زبینہ: اچھا، تیرے پاس وہ سیکسی والی نائٹی نہیں ہے؟۔۔ وہ ٹرانسپیرنٹ ٹائپ؟ 

ریا: ہاں، وہ بھی ہے… میں نے ہنی مون کے لیے لی تھی۔ 

زبینہ: اچھا… وہ بھی دکھا دے پہن کر۔ 

ریا کو آئیڈیا تھا  کہ زبینہ کچھ اسی طرح بولے گی، اس لیے وہ پہلے ہی تیار تھی۔ 

ریا: ٹھیک ہے… آپ رکو۔ 

یہ میسج ٹائپ کر کے جیسے ہی فون رکھتی ہے، ایوناش کی کال آنے لگتی ہے… ریا بھول ہی چکی تھی کہ ایوناش کی کال بھی آئے گی اس ٹائم… وہ بالکل ابھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی ایوناش سے… مگر  ضروری بھی تھا۔ 

وہ سوچتی ہے کہ جلدی سے بات کر کے نپٹا دوں گی، پھر دوبارہ زبینہ سے بات کرنے لگ جاؤں گی۔ 

ریا: سوری زبینہ جی… وہ ایوناش کی کال آ رہی ہے۔۔  آپ  بس 10 منٹ دو… میں جلدی بات کر کے میسج کرتی ہوں۔ 

زبینہ: اوہو… یہ پھر سے آ گیا کباب میں ہڈی۔۔ جلدی نپٹا اسے۔ 

ریا: جی، بس کرتی ہوں۔ 

ریا ایوناش کی کال اٹھا لیتی ہے۔ 

ایوناش: ہیلو ڈارلنگ، کیسی ہو؟ 

ریا: ٹھیک ہوں… تم بتاؤ۔ 

ایوناش: آئی ایم  ریلی سوری… میں تمہیں ٹائم نہیں دے پاتا ہوں… مجھے اس دن ریئلائز ہوا کہ میں تمہارے بارے میں نہیں سوچتا… خود کا سوچتا ہوں… میں  سیلفش ہوں … سوری بےبی۔ 

ریا کو ایوناش کی باتیں تھوڑی فیل ہو رہی تھیں… لگتا ہے جب ریا نے غصے میں بات کی تھی پچھلی  بار، اس کے بعد سے ایوناش کو بھی تھوڑا احساس ہوا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page