Smuggler –248–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 248

 کچھ عرصہ حیدر آباد  میں گزارنے کے بعد ہم تینوں مختلف شہروں میں ہوتی ہوئی جے پور پہنچ گئیں۔ اور پھر دو سال پہلے ہم جے پور سے یہاں جودھ پور منتقل ہوگئیں۔ یوں تو جےپور میں بھی  بڑے بڑے دل والے موجود ہیں مگر جودھ پور کی بات ہی کچھ اور ہے۔ راج کمار پشور سنگھ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ یہ بنگلہ اس نے تحفے میں دیا تھا۔

ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا پچھلے سال انتقال  ہو گیا ۔ دوسری کو ایک ٹھا کر نے  پسند کیا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ میرے پاس لڑکیاں آتی جاتی رہتی ہیں اور میرا کام چلتا رہتا ہے۔

“آج اتفاق سے میں اپنے کسی ملنے والے کو سی آف کہنے کے لئے ریلوے سٹیشن گئی تھی کہ تم لوگ میری نظروں میں آگئے۔ تم دونوں کےچہروں سے مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ میں نے اس وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ آخر تک تم لوگوں کا پیچھا کروں گی۔ میرا فیصلہ درست ثابت ہوا۔راکھی کو دیکھ کر میرے دل میں جو خواہش اٹھی تھی۔ وہ پوری ہوگئی ۔ گیتا خاموش ہوگئی۔ اس  کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ تھی ۔

میں گہری نظروں سے گیتا کی طرف دیکھ رہا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اپنے بارے میں اس نے کوئی بھی بات غلط نہیں کہی تھی اور میں جانتا تھا کہ اس نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اس پر پورا اترے گی اور کسی کو ہمارے بارے میں نہیں بتائے گی۔ لیکن میں نے کچھ اور سوچ رکھا تھا۔

اس رات کھانا کھانے کے بعد گیتا نے لاؤنج میں رکھے ہوئے ٹی وی پر فلم لگا دی۔ فلم کی کہانی بھی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی تھی جس کا تعلق ایک شریف گھرانے سے تھا مگر سماج کے ٹھیکیداروں نے اسے طوائف بننے پر مجبور کر دیا تھا۔

دیوی کونیند آ رہی تھی۔ وہ بار بار جمائیاں لے رہی تھی۔ لیکن فلم دلچسپ تھی اس لئے بیٹھی دیکھتی رہی ۔تقریبا  ایک بجے کے قریب فلم ختم ہوئی تو میں اور دیوی اپنے کمرے میں آگئے۔ میں نے دروازہ اندر سے بند کرکے لاک لگا دیا تھا۔ مجھے توقع تھی کہ گیتا کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گی۔ جس سے اسے بھی نقصان اٹھانا پڑے۔ وہ میرے بارے میں سب کچھ جان چکی تھی ۔ وہ عقل مند عورت تھی اس سے کسی ایسے کام کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی جس پر اسے بعد میں پچھتانا پڑے۔

“بڑی خطرناک عورت ہے ۔ ” میں نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا۔

“یہ ہمارے بارے میں سب کچھ جان چکی ہے ایسا نہ ہو کہ رات ہی کو ہمیں گھیر لیا جائے ۔ دیوی نے کہا۔

“وہ ایسا نہیں کرے گی۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ” اس کی نظریں تم پر ہیں اور اس نے تمہارے لئے پہلا گا ہک بھی تلاش کر لیا ہے۔

کیا بکتے ہو؟“ دیوی نے مجھے گھورا۔

“یہ سچ ہے۔ راجکمار پشور سنگھ تمہیں حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہو رہا ہے”۔ میں نے  کہا اور پھر اسے ساری باتیں تفصیل سے بتانے لگا۔

“کمینی،،،،حرامزادی” ۔۔۔۔دیوی نے دانت کچکچائے۔  میرا سودا کر رہی ہے میں اس کا گلا گھونٹ  دونگی۔

ہم ایک ڈیڑھ گھنٹے تک باتیں کرتے رہے کہاں تو یہ کہ دیوی  کو بڑی شدت سے نیند آرہی تھی اور کہاں یہ کہ اس کی نیند غائب ہوگئی۔ بات وہی تھی کہ گیتا ہمارے بارے میں سب کچھ جان چکی تھی اور ہم خود چو ہے دان میں پھنس گئے تھے۔  بات صرف اس بنگلے تک ہوتی تو کوئی مسئلہ نہ ہوتا مگر سارا شہر بلاک کر دیا گیا  تھا۔ ہمیں دو تین دن کا وقت  چاہئے تھا لیکن موجودہ صورت حال نے دیوی کو زیادہ پریشان کر دیا تھا۔

میں سونے کی کوشش  کر رہا تھا۔ بستر بستر پر لیٹنے سے پہلے میں نے ٹیوب لائٹ بجھا کر ہرے رنگ کا لائٹ بلب جلا دیا تھا۔ مد هم سبز روشنی بڑی بھلی لگ رہی تھی میری آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔میں سونا چاہتا تھا مگر دیوی کسی اور موڈ میں تھی۔ اس نے لن کو پکڑ کر اس سے  چھیڑ چھاڑ شروع کرتے ہوئے مجھے چومنے لگی اور پھر میرے لئے بھی  اپنے آپ پر قابو رکھنامشکل ہوگیا۔ اور میں  نے اسے پلٹا کر لٹایا اور اس کے اوپر آکر بےاختیار  اس  کا ساتھ دینے  لگا۔

امممموااہ ووممپووچ  وممممااہ  ااام ‘ 

دیوی کو کس کے اپنی بانہوں میں لیکر وہ لگاتار میرے ہونٹ چوم، چوس رہی تھی۔۔۔ میری کمر کو اپنی ٹانگوں میں باندھے وہ جل بن مچھلی کی طرح مچلتی ہوئی برابر کس کر رہی تھی وہ بھی پورے جوش کے ساتھ۔ کس کرتے ہوئے میرے جسم سے کپڑے نوچتے ہوئے  دیوی نے میری  شرٹ اُتار پھینکی اور میں نے بھی اس کے جسم کو چھپائے ہوئے  مختصر لباس کو پوری طرح کھول دیا۔۔۔ دیوی کا سنگ مرمر سا تراشا ہوا بےداغ  جسم بےپردہ ہوچکا تھا اور اس کا سفید سنگ مرمر جیسا جسم دودھ میں  روح آفزاء  ملے جیسے گلابی رنگت  اختیار کر چکا تھا۔

کسی خربوزے جیسے پستان جوکہ میرے ہاتھ میں ایک پستان فل نہیں آرہا تھا۔۔۔ ایک دم سے تن چکے تھے اور نپل نوکیلے ہو کر اکڑ گئے تھے جنہیں میں نے فوراً ہاتھوں کی گرفت میں لیکر نچوڑنا شروع کر دیا۔ ہم دونوں ہی ہوش میں نہیں تھے جیسے۔۔۔ اور یہ سب  گیتا کی باتوں  کا اثر تھا شاید۔۔۔ اسی لیے ہم دونوں ہی آج کچھ آپے سے باہر ہو رہے تھے اِس طرح پیار کرتے ہوئے جو عموماً پیار بھری  مستی کے بعد ہوتا تھا۔

اُممم سسسس لَو می سسس اُممم لَو می  مانے ، ، ،  ، ، اممم ، ، ، ، کھا جاؤ مجھے امممم ، ، ، ، آئی لو یو سو مچ ، ، ، ، ، اممم۔۔۔

دیوی مدہوشی میں بڑ بڑا رہی تھی اور مچلتے ہوئے اس نے خود ہی مجھے پلٹ دیا اور میرے اوپر آ گئی۔۔۔ میرے ہونٹوں پر دانتوں سے کٹ کر اس نے میرے ہونٹ ایک بار کو زخمی ہی کر دیئے مگر اِس سمے یہ بھی درد سے زیادہ مزہ دے رہا تھا۔ پھر میری گردن پر کِس کرتے ہوئے وہ میری چھاتی تک آئی اور میری چھاتی پر چھوٹے چھوٹے نپل کو اپنے دانتوں میں  لیکر کبھی دباتی تو کبھی چومنے لگتی۔ آج دیوی کا الگ ہی انداز نظر آ رہا تھا جو پہلے نہیں دیکھا تھا۔ میں تو بس ہواؤں میں اُڑ رہا تھا۔ دیوی کے بال بکھر چکے تھے اور میں اس کے سر کو سہلاتا اپنی چھاتی پر دبا رہا تھا۔۔۔ دیوی نے نیچے بھی مجھے ننگا کرکے میرے پیٹ کو چومتی ہوئی نیچے بڑھنے لگی۔ میرے پیٹ میں گدگدی سی ہونے لگی۔ مگر دیوی کہاں رک رہی تھی۔ میرے  نیم تنے لن تک آتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں میں اسے پکڑ لیا اور گھٹنوں پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔ ایک پَل کو رُکی حرکتوں سے میں تھوڑا ہوش میں آیا اور آنکھیں کھول کر جب چہرہ اٹھا کر دیوی کی طرف دیکھا تو وہ دونوں ہاتھوں سے میرا لن تھامے اسے شہوت بھری نظروں سے بس دیکھے جا رہی تھی۔

“کیا ہوا۔۔۔ کیا دیکھ رہی ہیں ؟”

“دیکھ رہی ہوں کتنا پیارا ہے یہ اور آج تو اور بھی پیارا لگ رہا ہے۔ امممماہہہ” دیوی نے کہا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page