Smuggler –250–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 250

“یہ فلم ضائع کر کے تم سمجھتی ہو کہ ہم محفوظ ہوگئے ہیں ۔ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

‘اس کے چالاک ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن اس حرکت کی تو مجھے بھی توقع نہیں تھی۔’

“وہ سمجھتی ہے کہ ہمیں بلیک میل کر کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکے گی۔ دیوی  دانت کچکچاتے ہوئے بولی۔ اب تو میں اسے واقعی زندہ نہیں چھوڑوں گی۔ اسے اس طرح  سسکا سسکا کر ماروں گی۔کہ۔۔۔

“ہمیں صرف کل کا دن اور انتظار کرتا ہے ۔“ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ آج کا خاموشی میں ہی گزار دیا جائے تو بہتر ہے کل ہم یہاں سے نکل جائیں گے ۔“

دیوی دیر تک گیتا کو گالیاں بکتی رہی پھر ہم اٹھ کر کمرے میں  آگئے۔ میں گہری نظروں سے طرف دیکھنے لگا۔ مگر مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائی نہیں دے رہی تھی جہاں کیمرہ چھپا  ہونے کا شبہ ہو مگر  آخر کار ایک ایسی جگہ نظر آہی گئی۔ ایک مورتی دیوار پر ٹنگی ہوئی تھی۔ وہ مورتی حجم میں چار پانچ انچ  سے زیادہ بڑی نہیں تھی۔ پتہ نہیں وہ ہندوؤں کا کون سا دیوتا تھا۔ مورتی کا منہ کھلا ہوا تھا۔ میں نے وہ مورتی دیوار سے ہٹا دی اور پھر دیوار میں ایک گول سوراخ دیکھ کر میری آنکھوں میں چمک سی ابھر آئی۔ سوراخ میں کیمرے لینز  کا شیشہ بھی چمکتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

میں اس کمرے سے نکل کر گھومتا ہوا پچھلی طرف کی راہداری میں آگیا یہاں بھی ایک کمرے  کا دروازہ تھا جس پر تالا لگا ہوا تھا مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ وہ کیمرہ اس کمرے کی دیوار میں نصب تھا اور وہ کیمرہ یقیناً انفرا ریڈ شعاعوں کے سسٹم کے تحت کام کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نائٹ بلب کو مدھم روشنی میں بھی فلم بڑی صاف بنی تھی ۔

میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس سے تالا توڑا جاسکتا ویسے بھی تالا توڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ، جو ہونا تھا وہ تو ہو ہی چکا تھا۔ گیتا نے جو ویڈیو کیسٹ ہمارے لئے رکھا تھا وہ یقینا  ڈپلیکیٹ تھا اس کی اور یجنل تو وہ کہیں غائب کر چکی ہوگی ۔

گیتا کی واپسی چار بجے کے قریب ہوئی تھی۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی وہ ادھڑی ہوئی فلم دیکھ لی۔

مجھے یقین تھا کہ اس کا یہی حشر ہوگا ۔ وہ بکھری ہوئی فلم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ لیکن اس کی اور یجنل کاپی محفوظ ہے ۔“

“اس کا تمہیں کیا فائدہ ہوگا۔ میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اسے گھورا۔”

“ایسی چیزوں کے فائدے تو صرف میں ہی سمجھ سکتی ہوں ۔ اس کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ  آگئی۔

میں نے دیوی کی طرف دیکھا اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ میں گیتا سے مزید کوئی بات کئے بغیر دیوی کو لے کر کمرے میں آگیا۔ میں نے اس روز دیوی  کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا تھا۔ اس روز میں نے گیتا سے بھی زیادہ بات نہیں کی اور اسے یہی تاثر دیا کہ میں اس کے سامنے ہتھیار ڈال چکا ہوں۔

اس رات ہم اگر چہ محتاط ہو گئے تھے مگر میں نے وہ مورتی دیوار سے اتار کر کیل پر ایک تصویر کا فریم لگا دیا تھا۔

دیوی رات بھر بےچین رہی۔ کبھی وہ لیٹ جاتی، کبھی اٹھ کر ٹہلنے لگتی اور کبھی کرسی پر بیٹھ جاتی ۔ وہ کوئی پارسا عورت نہیں تھی، مجھ سے ملاقات سے پہلے وہ ایک طوائف کی طرح ہی زندگی گزار رہی تھی۔ اس کی زندگی میں نجانے کتنے مرد آئے تھے۔ میرے ساتھ رہتے ہوئے عرصہ ہو گیا تھا مگر کسی کے ساتھ ایک بستر پر لیٹنا الگ بات تھی اور ان مکروہ حرکات وسکنات کی فلم بنانا  دوسری بات۔ اسے اس بات کا دکھ تھا کہ یہ فلم نجانے کتنے لوگ دیکھیں گے۔

کیوں پریشان ہورہی ہو۔“ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔ اگر ہمیں یہاں رہنا ہوتا  تو پریشانی کی بات ہوتی۔ ہمیں تو یہاں رہنا ہی نہیں ۔ یہ فلم کسی سینما یا ڈش پر بھی چلا دی جائے تو ہماری صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ ہمیں یہاں کوئی نہیں جانتا ہے اور ویسے بھی ہم یہاں نہیں ہوں گے۔“

“ٹھیک کہتے ہو ۔ ہمیں کوئی نہیں جانتا۔ ہم یہاں نہیں ہوں گے مگر ذلت کا احساس مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ “ دیوی نے کہا۔

ہم کوشش کریں گے کہ جانے سے پہلے وہ اوریجنل فلم بھی تلاش کر کے ضائع کر دی جائے ۔“ میں نے کہا۔

مگر ہم یہاں سے نکلیں گے کیسے؟“ وہ بولی۔

یہ تم مجھ پر چھوڑ دو ۔ میں نے کہا۔ ”بس تم یہ بات ذہن میں رکھ لو کہ کل شام تک ہم یہاں سے بہت دور جا چکے ہوں گے۔“

کچھ دیر تک خاموش رہی اور پھر میں اسے سمجھانے لگا کہ میرا منصوبہ کیا ہے اور اس پر کس طرح عمل کیا جائے گا۔

“کیا میں پھر۔۔۔۔

مجبوری ہے۔ میں نے اسے کچھ کہنے کا موقع نہیں دیا۔ بس یوں سمجھ لو کہ اس کے بعد ہماری ساری کٹھنائیاں دور ہو جائیں گی۔“

“ٹھیک ہے۔ دیوی گہرا سانس لیتے ہوئے بولی۔ ” کیا تم سمجھتے ہو کہ کل ہمیں موقع مل جائے گا۔

“ ہاں۔ امید تو ہے۔“ میں نے سر ہلا دیا۔

اور پھر دوسرے دن ہمیں وہ موقع مل ہی گیا۔ ناشتے کے بعد گیتا باہر چلی گئی۔ اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ دو پہر کے کھانے تک واپس آئے گی۔

دوسر المبا تر نگا ملازم فرنیچر کی ڈسٹنگ وغیرہ کر رہا تھا۔ دیوی لاؤنج ہی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ میں اٹھ کر باہر آ گیا ۔ چند منٹ تک ادھر ادھر گھومتا رہا پھر درخت کے نیچے گھاس پر لیٹ گیا۔

تقریباً بیس منٹ بعد برآمدے سے دیوی کی آواز سنائی دی  وہ مجھے پکار رہی تھی۔ میں نے اپنی جگہ سے حرکت کئے بغیر اس طرف دیکھا اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ دیوی اپنا کام کر چکی تھی اس وقت اس کے جسم پر لباس بھی ایسا تھا کہ اسے دیکھ کر سینے اور لن میں ہلچل سی مچلنے لگی تھی۔ میں نے دوبارہ اس کی آواز سنی مگر اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی۔ تقریباً دو منٹ بعد میں نے اپنے قریب گارڈ کی آواز سن کر آنکھیں کھول دیں اور گارڈ کی طرف دیکھنے لگا۔

“کیا ہے؟“ میں نے خوابیدہ سے لہجے میں پوچھا۔

آپ کو شریمتی جی بلا رہی ہیں ۔ گارڈ نے کہا۔

مجھے بڑے زور کی نیند آرہی ہے یار۔ اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا۔ اسے کسی چیز کی ضرورت ہوگی جاؤ تم جا کر پوچھ لو۔ میں نے دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔

گارڈ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا۔ پھر اس نے دیوی کی طرف دیکھا اور نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا برآمدے کی طرف چلنے لگا۔ میں نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا دیوی گارڈ سے کچھ کہہ رہی تھی۔ اور پھر گارڈ اس کے ساتھ اندر چلا گیا اور اس کے ٹھیک تین منٹ بعد میں نے اندر سے فائر کی دبی دبی سی آواز سنی۔ وہ آواز ایسی ہی تھی جیسے کوئی پھس پھسا پٹاخہ چلایا گیا ہو۔ میں اٹھ کر تیزی سے برآمدے کی طرف دوڑا۔ دیوی گیتا  والے کمرے میں تھی اس کے لباس کا اوپر کا حصہ غائب تھا۔ دائیں ہاتھ میں پستول تھا۔ گارڈ بیڈ پر پڑا تھا اور ٹھیک دل کے مقام پر سینے سے بہنے والا خون چادر پر پھیل رہا تھا۔ دیوی نے پستول اس کے سینے پر رکھ کر گولی چلائی تھی اس لئے فائر کی آواز زیادہ نہیں ابھری تھی۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page