Smuggler –255–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 255

اس طرف سے چلتے ہیں۔” میں نے کار کو ریورس گیئر میں لیتے ہوئے جواب دیا۔ ” میری چھٹی حس کسی خطرے کا احساس دلا رہی ہے۔ نجانے یہ خیال بار بار کیوں آرہا ہے کہ ہمارا پیچھا ہو رہا ہے اور پیچھا کرنے والے ہمارے قریب پہنچ رہے ہیں ۔”

” پہلے تو میلوں دور تک کوئی گاڑی نہیں ہے۔ دیوی نے پیچھے مڑکر دیکھتے ہوئے کہا۔ ” اگر کوئی گاڑی ہوتی تو اس کے ہیڈ لیمپس کی روشنی ضرور آتی”

“میری چھٹی حس بھی غلط نہیں ہوسکتی۔ میں نے کہا اور کار کو کافی پیچھے لے جا کر بورڈ کے قریب اسی راستے پر موڑ لیا جو ٹیلوں میں بل کھاتا ہوا اندر کی طرف چلا گیا تھا۔ یہ ریت کے ٹیلے نہیں تھے۔ سرخ بھر بھری مٹی تھی، ہم پیچھے جو پہاڑیاں چھوڑ کر آئے تھے وہ بھی سرخ تھیں ۔ ٹیلوں کے درمیان بل کھاتا ہوا راستہ کچا تھا۔  کار کی رفتار بھی زیادہ تیز نہیں ہوسکتی تھی۔

سڑک کے موڑ پر لگے ہوئے بورڈ پر سنگرام کا فاصلہ بارہ کلومیٹر لکھا ہوا تھا لیکن میرے خیال میں یہ فاصلہ بیس کلومیٹر سے کم نہیں تھا۔

ٹیلوں کے اختتام پر نشیبی علاقہ تھا جہاں کچھ دور ایک بستی کی روشنیاں نظر آرہی تھیں۔

ٹیلوں سے نکلتے ہی تاڑ اور ناریل کے درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ جھیل کے کنارے پر آباد سنگرام نگر نامی وہ بستی خاصی بڑی تھی اور میرے اندازے کے مطابق اس کی آبادی پانچ ہزار کے لگ بھگ ضرور رہی ہوگی۔ یہاں بجلی نہیں تھی۔ بازار میں مناسب فاصلوں پر لکڑی کے لیمپ پوسٹ لگے ہوئے تھے جن پر کیروسین کے لیمپ جل رہے تھے۔ دکانوں وغیرہ میں بھی پیٹرومکس اور کیروسین کے لیمپ روشن تھے۔

اس بستی کا ایک ہی بازار تھا جہاں خاصی رونق تھی۔ لوگ حیرت سے ہماری کار کو دیکھ رہے تھے۔ میں نے ایک جگہ کار روک لی۔ قریب کھڑے ہوئے ایک آدمی کو اشارہ کر کے اپنی طرف بلایا۔

“یہاں کوئی اچھا  ریسٹورنٹ ہے۔ میرا مطلب ہے ہوٹل ۔ ” میں نے پوچھا۔

جھیل پر چلے جاؤ بھایا۔ اس شخص نے مارواڑی زبان میں جواب دیا۔ ادھر کو مڑ جاؤ ،  سیدھا جھیل پر پہنچ جاؤ گے ۔

میں نے آگے جا کر کار جھیل کی طرف جانے والے راستے پر موڑ لی۔ جھیل کے کنارے پر ناریل کے درختوں کی بہتات تھی۔ یہاں بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر تین چار ریسٹورنٹ تھے۔ میرے خیال میں اس طرف ٹورسٹ وغیرہ آتے ہوں گے جن کے لئے یہ ریسٹورنٹ بنائے گئے تھے۔

میں نے ایک جگہ گاڑی روک لی اور ہم دونوں نیچے اتر کر ایک ریسٹورنٹ کی طرف چلنے لگے جہاں سامنے گھاس پر چند میزیں اور کرسیاں لگی ہوئی تھیں کچھ لوگ بیٹھے بھی ہوئے تھے یہ غالبا بستی ہی کے لوگ تھے جو شام کی تفریح کے لئے اس طرف آگئے تھے۔ تین چار جگہوں پر لکڑی کی بلیوں پر پیٹر و مکس ٹنگے ہوئے تھے جن کی روشنی آس پاس کے ماحول کو اجاگر کرنے کے لئے کافی تھی۔

لوگ ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں اور دیوی لان کے کونے کی ایک میز پر بیٹھ گئے۔ اس کے چند سیکنڈ بعد ہی دھوتی اور کرتے میں ملبوس ایک ویٹر ہمارے پاس آگیا اور کندھے پر پڑی ہوئی میلی سی صافی سے میز صاف کرنے لگا۔

کافی ملے گی؟“ میں نے پوچھا۔

جرور ملے گی ، بلیک یا  ملک والی؟  ویٹر بولا۔

مِلک والی۔ میں نے جواب دیا۔ تقریبا پندرہ منٹ بعد ہماری میز پر کافی سرو کر دی گئی ۔ خوش ذائقہ کافی تھی۔ ہم ہلکی ہلکی چسکیاں لیتے ہوئے اس جھیل اور بستی کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ فضا میں مچھلیوں کی بورچی بسی تھی ۔ مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ اس بستی کے لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری تھا۔ وہ اس جھیل سے مچھلیاں پکڑ کر جودھ پوریا نا گور جیسے شہروں میں لے جاتے ہوں گے۔

 کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے میری نظریں اس ٹیلوں کی طر ف اٹھ گئیں جس طرف سے ہم آئے تھے۔ وہ ٹیلے بلندی پر تھے اور وہاں کسی گاڑی کے ہیڈ لیمپس کی روشنیاں چمکتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔

وہ  روشنیاں کبھی سامنے آجاتیں اور کبھی کسی ٹیلے کی آڑ میں چھپ جاتیں۔ ان روشنیوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس گاڑی کی رفتار خاصی تیز تھی۔

“دیوی” ۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے مدہم لہجے میں کہا۔ اس گاڑی کی رفتار دیکھ کر مجھے کچھ شبہ ہورہا ہے۔

” تو پھر نکل چلو یہاں ہے ۔ دیوی نے جواب دیا۔

میں نے ویٹر کو بلا کربل کی رقم ادا کر دی اور پانچ روپے کا نوٹ بخشش کے طور پر بھی دے دیا۔ ناگور جانے کے لئے ایک راستہ تو وہ ہے ۔ میں نے ویٹر کو متوجہ کر کے ٹیلوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ” کوئی دوسرا  راستہ بھی ہے؟”

“ادھر جھیل کے ساتھ ساتھ چلے جاؤ گے تو تیس کوس آگے چرم پورم ہے۔ اس گاؤں سے آگے ایک بہت بڑی تری مورتی بنی ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی وہ راستہ مین روڈ سے جاملتا ہے۔

ٹھیک ہے ، دھنے باد۔ ” میں نے فورا ہی کرسی چھوڑ دی۔

دیوی بھی ایک جھٹکے سے اٹھ گئی اور ہم دونوں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کار کے قریب آگئے۔ دیوی نے پسنجر سیٹ پر بیٹھتے ہی ساڑھی میں چھپا ہوا پستول نکال کر گود میں رکھ دیا۔ میں نے انجن اسٹارٹ کر کے کار ایک زور دار جھٹکے سے آگے بڑھادی۔

لوگوں نے ہمیں یہاں آتے ہوئے بھی دیکھا تھا اور جاتے ہوئے بھی دیکھ رہے تھے۔ اگر ٹیلوں کیطرف سے آنے والی اس گاڑی میں ہمارے مخالفین ہی تھے تو وہ قصبے میں داخل ہوتے ہی ہمارے بارے  میں ضرور پوچھیں گے اور پھر جھیل تک پہنچنے میں انہیں زیادہ دیر نہیں لگے گی اور میں چاہتا تھا کہ اس دوران  اپنے اور ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ فاصلہ حائل کرلوں۔

میں نے  کار کو ویٹر کے بتائے ہوئے راستے پر ڈال دیا۔ جھیل کے کنارے کے ساتھ ساتھ یہ راستہ بھی کچا تھا۔ کار کی تیز رفتاری کی وجہ سے سرخ مٹی  اُڑ  رہی تھی۔ میں نے ڈیش بورڈ پر لگا ہوا ایک بٹن دبا کر دونوں طرف کے شیشے چڑھا دیئے اور اے سی آن کر دیا۔

دیوی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی۔ وہ گاڑی ابھی جھیل کی طرف نظر نہیں آئی تھی۔ میں کار کی رفتار بڑھاتا چلا گیا ۔ یہ راستہ جھیل کے ساتھ ساتھ تقریباً نصف میل تک چلا گیا تھا اور اس سے آگے جھیل سے بتدریج دور بنتا ہوا ٹیلوں میں داخل ہو گیا تھا۔ شروع میں تو یہ چھوٹے چھوٹے  ٹیلے تھے لیکن آگے جا کر انہوں نے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی صورت اختیار کرلی تھی جن پر جھاڑیاں اور پودے وغیرہ تو تھے مگر کوئی درخت نہیں آ رہا تھا۔

وہ گاڑی اس ریسٹورنٹ کے قریب رکی ہے جہاں سے ہم اٹھ کر آئے ہیں۔“ دیوی نے پیچھے دیکھتے ہوئے بتایا۔

میں نے کار کی رفتار کچھ اور بڑھا دی۔ اگر یہ ہمارے مخالفین کی گاڑی تھی تو وہ لوگ ہمارے پیچھے آنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ گاڑی سے اتر کر انہیں جیسے ہی پتا چلے گا کہ ہم لوگ یہاں سے نکل گئے ہیں فوراً  ہی ہمارے پیچھے لگ جائیں گے۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page