Smuggler –256–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 256

ٹیلوں کے بیچ راستہ بل کھاتا ہوا جا رہا تھا۔ جو بالکل تنگ تھے جس کی وجہ سے رفتار بھی نہیں بڑھائی جاسکتی تھی۔ چند موڑ کاٹنے کے بعد سامنے والی چٹان پر کچھ او پر روشنی پڑتے دیکھ کر میں چونک گیا۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ گاڑی انہی لوگوں کی تھی۔ کوئی موڑ گھومتے ہوئے اس کے ہیڈ لیمپس کی روشنی سامنے والی چٹان پر پڑی تھی۔ اس گاڑی کو اپنے تعاقب میں دیکھ کر یہ بات بھی میری سمجھ میں آئی تھی کہ جودھ پور سے ہمارے تعاقب میں ایک گاڑی نہیں ،  دو یا ممکن ہے تین گاڑیاں آئی ہوں۔ وہ لوگ راستے میں پڑنے والی بستیوں سے ہمارے بارے میں پوچھتے آئے ہوں گے اور یہ بستی چونکہ مین روڈ سے بہت ہٹ کر تھی اس لئے ایک گاڑی اس طرف آگئی تھی اور باقی گاڑیاں سیدھی مین روڈ پر نکل گئی تھیں اور عین ممکن ہے جب ہم چرم پورم نامی گاؤں سے دوبارہ مین روڈ پر پہنچیں تو وہاں بھی کوئی گاڑی ہماری منتظر ہو۔

دیوی نے پستول ہاتھ میں لے لیا تھا۔ میں نے بھی کھڑکیوں کے شیشے گرادیئے تا کہ ضرورت کے وقت فائر کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے بھی اپنا پستول جیب سے نکال کر گود میں رکھ لیا تھا۔ یہ دونوں پستول ماؤنٹ آبو سے ہمارے پاس تھے۔ ہم چار دن گیتا کے ہاں رہے تھے مگر اسے اپنے پاس پستول کی موجودگی کی ہوا تک نہیں لگنے دی تھی۔ میں گیتا کو بہت چالاک سمجھتا تھا۔ بعض معاملات میں تو اس نے واقعی بہت چالاکی کا ثبوت دیا تھا۔ مثلاً یہ کہ اس نے ہماری اصلیت معلوم کرلی تھی مگر ایک معاملہ میں وہ دنیا کی سب سے بڑی احمق ثابت ہوئی تھی۔ ہمارے بارے میں سب کچھ جاننے کے باوجود اس نے ہمیں اپنے قابو میں رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا تھا۔ حالانکہ میں نے دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ہمارے ساتھ دھوکا کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس کے باوجود اس نے ہماری نگرانی کے لئے مزید آدمیوں کا انتظام نہیں کیا تھا صرف ابھی دو آدمیوں پر بھروسہ کیا تھا جو بڑی آسانی سے دیوی  کا شکار ہوگئے تھے۔ اس حوالے سے ایک بات میری سمجھ میں آتی تھی۔ وہ یہ کہ دیوی  کو دیکھ کر وہ سب کچھ بھول گئی تھی اور اس نے میری بات کا یقین کر لیا تھا کہ میں دیوی کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور اگر میں واقعی اس کی بات مان لیتا تو وہ یقیناً مجھے اس طرح بحفاظت شہر سے نکال دیتی کہ کسی کو پتا بھی نہ چلتا۔

پہاڑیوں میں یہ تنگ سا راستہ مزید دشوار اور تنگ ہوتا جارہا تھا۔ سامنے سے اگر کوئی چھوٹی کار بھی آجائے تو اسے کر اس کرنے کے لئے جگہ نہ ملتی اور میں سوچ رہا تھا کہ کہیں میں غلط راستے پر تو نہیں آ گیا۔ لیکن دوسری گاڑی بھی ہمارے پیچھے ہی آئی تھی۔

مجھے یہ بھی اندیشہ تھا کہ کسی موقع پر گاڑی جواب نہ دے جائے۔ مرسڈیز کار ایسے پہاڑی راستوں پر چلنے کے لئے نہیں بنائی گئی تھی۔

ایک اور موڑ گھومتے ہی مجھے کار روک لینی پڑی۔ سامنے ایک عمودی چٹان تھی اور آگے جانے کا  راستہ بند تھا۔ البتہ دائیں طرف ایک تنگ سا  راستہ تھا۔ میں نے کار کو کسی قدر ریورس میں لیا اور پھر گیئر بدل کر اسے اسی تنگ سے راستے پر موڑ دیا۔ کچھ دور تک تو یہ راستہ خاصا تنگ رہا پھر بتدریج کشادہ ہوتا چلا گیا۔ دو تین موڑ کاٹنے کے بعد ہم ایک بھر پھر نشیب کی طرف جانے لگے۔ ایک موڑ گھومتے ہوئے جھیل کے دوسرے کنارے پر بستی کی روشنیاں بھی دکھائی دی تھیں مگر میں نے زیادہ توجہ نہیں دی تھی۔ اور پھر ایک موڑ گھومتے ہی مجھے کار کا بریک پیڈل دبا دینا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی میرا دل اچھل کرحلق میں آ گیا۔

سامنے ایک جیپ کھڑی تھی جس کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔ جیپ کے آس پاس کسی کی موجودگی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

میں نے دیوی کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور آنکھوں میں وحشت سی بھر گئی تھی۔ میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ جیپ اس طرح کھڑی تھی کہ راستہ بالکل بند ہو گیا تھا۔ پچھلا موڑ تنگ ہونے کی وجہ سے کار کو ریورس میں بھی نہیں لیا جا سکتا تھا۔ اور پھر اس لمحہ ویرانے میں ایک آواز گونجتی ہوئی سنائی دی۔

مااانے ! تم لوگ ہماری رائفلوں کی زد پر ہو۔ کار کے ہیڈ لیمپس جلتے رہنے دو اور نیچے اتر کر سامنے روشنی میں آجاؤ، کوئی گڑ بڑ  کی تو بھون دیئے جاؤ تھے۔” مجھے سینے میں دل ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا۔

وہ کرشمہ کی آواز تھی!

اس وقت مجھے اپنا دل کنپٹیوں میں دھڑکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ دماغ میں دھماکے سے ہور ہے تھے۔ کرشمہ کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ کرشمہ کا اتنی جلدی ہمارے تعاقب میں یہاں تک پہنچ جانا حیرت انگیز تھا اور پھر جس طرح اس نے مجھے گھیرا تھا وہ اس سے زیادہ انوکھی بات تھی۔ میں جھیل کنارے ریسٹورنٹ کے اس ویٹر کے بارے میں سوچنے لگا جس نے ہمیں پہاڑیوں کی طرف یہ راستہ بتایا تھا۔ میرا خیال تھا جب ہم ٹیلوں کی طرف گاڑی کے ہیڈ لیمپس کی روشنیاں دیکھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے اور جس طرح ہم نے ویٹر سے کسی اور راستے کے بارے میں دریافت کیا تھا تو اسے ہم پر شبہ ہو گیا ہوگا۔ وہ سمجھ گیا ہوگا کہ ہم کوئی جرم کر کے بھاگے ہیں اور غالباً پولیس ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ اس نے جان بوجھ کر پہاڑیوں میں وہ راستہ بتا دیا تھا جو گھوم کر دوبارہ اس طرف آنکلتا تھا۔ اس کا خیال ہوگا کہ اگر ہم واقعی کوئی جرم کرکے بھاگے ہوئے ہیں اور پولیس نے ہمیں ان پہاڑیوں میں گھیر کر پکڑ لیا تو ا سے بھی انعام میں تھوڑی بہت رقم مل جائے گی لیکن میں اس طرح آسانی سے گرفت میں آنے والا تو نہیں تھا۔

 کار کے ہیڈلیمپس جل رہے تھے اور میں سامنے کھڑی ہوئی جیپ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کرشمہ اور اس کے ساتھی یقینا تاریکی میں چھپے ہوں گے۔  وہ جیپ جس جگہ کھڑی تھی وہاں ایک اور راستہ سا تھا۔ ایک راستہ تو جھیل کی طرف سے آ رہا تھا  دوسرا سیدھا آگے نکل گیا تھا اور ہم اس راستے سے گزر کر پہاڑیوں میں گھومتے گھماتے یہاں تک پہنچے تھے۔ تیسرا  راستہ جیپ کے پچھلی طرف تھا وہ راستہ قدرے کشادہ تھا اور پہاڑیوں میں اندر کی طرف چلا گیا تھا۔

میں نے گردن گھما کر پیچھے کی طرف دیکھا جس جگہ ہماری کار رکی تھی۔ وہ تنگ سی جگہ تھی البتہ تقریبا دس گز پیچھے کی جگہ اپنی کشادہ تھی کہ وہاں سے کار کو گھمایا جا سکتا تھا۔ میرے ذہن میں ایک اور خیال آرہا تھا اس میں اگر چہ خطرہ بہت زیادہ تھا لیکن آدھا فیصد امکان اس بات کا بھی تھا کہ اگر میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا تو بچ نکلنے کی تھوڑی بہت امید پیدا ہو سکتی تھی۔

میں نے پسنجرز سیٹ پر بیٹھی ہوئی دیوی کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ دھواں ہو رہا تھا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page