Smuggler –262–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 262

 اور دیوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ دیوی تم بھی ذرا اپنے غصے پر قابو رکھو ۔ کرشمہ اس وقت ہماری قیدی ہے اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جنیوا کنونشن کے مطابق جنگی قیدیوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک غیر قانونی ہے۔ قیدی کی دیکھ بھال کرنا اور اسے اچھی حالت میں رکھنا ہمارا فرض ہے۔

“جنگی قیدی ” دیوی غرائی ۔ ” تم نہیں جانتے انہوں نے ہمارے نو جوانوں کے ساتھ کیا کیا تھا۔ ان کے سور ما  تو دندناتے ہوئے گولڈن ٹمپل میں گھس گئے تھے اور وہاں سے پکڑے جانے والے نو جوانوں کے ساتھ انہوں نے جو بہیمانہ سلوک کیا اسے دیکھ کر شیطان کا بھی سر جھک گیا تھا۔ ان لوگوں نے خالصہ تحریک کے دوران ہمارے جتنے بھی نوجوان کھڑے تھے ان میں سے اکثر کو اس طرح غائب کر دیا کہ ان کا آج تک پتہ نہیں چلا اور جن کو ان لوگوں نے چھوڑ دیا تھا وہ زندگی بھر کیلئے مفلوج ہوگئے تھے۔ کسی کی آنکھیں نکال دی گئیں کسی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں اور کسی کے بازو کاٹ دیئے گئے اور تم کہتے ہو کہ مجھے اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنا چاہئے۔ اسے تو میرا شکر گزار ہونا چاہئے کہ میں نے اسے صرف رائفل کا بٹ مارا ہے۔ اس کے گندے شریر میں گولیوں سے سوراخ نہیں کر دیئے۔”

‘تمہیں اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع ضرور ملے گا مگر کرشمہ اس وقت ہماری قیدی ہے۔“ میں نے انجن سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔ ” اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کسی مصیبت میں پھنس گئے تو یہی ہمارے کام آسکتی ہے۔ ” میں نے آخری جملے دھیمے لہجے میں کہے تھے تا کہ آواز کرشمہ کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔

کرشمہ پچھلی سیٹ پر کراہ رہی تھی۔ رائفل کے بٹ سے اسے یقینا  زور دار چوٹ لگی تھی اور ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے وہ اپنی چوٹ سہلا بھی نہیں سکتی تھی ۔

میں ایک جھٹکے سے جیپ کو حرکت میں لے آیا اور بتدریج اس کی رفتار بڑھاتا چلا گیا۔ اب سڑک کے اطراف میں خود رو جھاڑیاں نہیں تھیں۔ باقاعدہ کھیت تھے اور جابجا اونچے درخت بھی نظر آرہے تھے۔  رات کے وقت یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ ان کھیتوں میں کون سی فصلیں تھیں اور درخت کسی قسم کے تھے۔

تھوڑی ہی دیر بعد سامنے بہت دور ٹمٹماتی ہوئی سی روشنیاں دکھائی دینے لگیں۔ مجھے اندازہ لگانے میں د شواری پیش نہیں آئی کہ ہم چرم پورم  نامی قصبے کے قریب پہنچ رہے تھے۔

 وقت کا مجھے اندازہ نہیں تھا لیکن میرے خیال میں دس بجے کے لگ بھگ ہوں گے۔ میری نظریں ان روشنیوں پر تھیں جو رفتہ رفتہ واضح ہوتی جارہی تھیں۔

 “کرشمہ ” میں نے پہلے گردن گھماتے ہوئے کہا۔ “میرا خیال ہے ہم چرم پورم پہنچنے والے ہیں۔

یہ کتنا  بڑا قصبہ ہے اور یہاں پولیس کے بارے میں کیا خیال ہے۔

کرشمہ نے بھی گردن گھما کر سامنے دیکھا پھر بولی۔

اس قصبے کی آبادی آٹھ دس ہزار کے قریب ہے۔ یہاں ایک پولیس چوکی ہے۔ عملے کی تعداد چونتیس پینتیس ضرور ہوگی لیکن ان علاقوں کے پولیس والے ڈاکوؤں سے زیادہ خوفناک ہیں۔ یہاں تو دن کے وقت بس کے مسافروں کو بھی پریشان کیا جاتا ہے۔ رات کو تو سفر کرنے والوں کی جامہ تلاشی لے کر ان سے سبھی چیزیں چھین لی جاتی ہیں۔ احتجاج کرنے پر سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے لوگ رات کے وقت چھوٹے علاقوں میں سفر نہیں کرتے ۔

“تو پھر کیا خیال ہے جیپ کو کسی اور راستے پر موڑ لیں تا کہ قصبے میں داخل ہوئے بغیر باہر ہی باہرسے نکلا جائے ۔ میں نے کہا۔

” بیکار ہے۔” کرشمہ نے جواب دیا۔ جیپ کے ہیڈ لیمپس کی روشنیاں دیکھ لی گئی ہوں گی۔ یہ سڑک سیدھی قصبے کے مین بازار میں جاتی ہے جہاں ہوٹل وغیرہ دیر تک کھلے رہتے ہیں۔ لوگ کسی ایک جگہ جمع  ہونا شروع ہو گئے ہوں گے تاکہ اس خطر ناک علاقے میں رات کو سفر کرنے والوں کو دیکھ لیں۔ اگر جیب کسی اور راستے سے نکالنے کی کوشش کی گئی تو پولیس کو شبہ ہو جائے گا اور ہمیں گھیرنے کی کوشش کی جائے گی۔

“یہ بھی تو پولیس کی جیب ہے کیا اس کے باوجود ہمیں کوئی خطرہ ہو سکتا ہے۔” میں نے کہا۔

“تم پر شبہ ہوسکتا ہے جیپ چھینی بھی جاسکتی ہے۔ کرشمہ نے جواب دیا۔

“یہاں بجلی تو نظر آرہی ہے، ٹیلی فون کی لائن بھی ہوگی ۔” میں نے پوچھا۔

“بجلی کیلئے قصبے کا اپنا چھوٹا سا پاور ہاؤس ہے البتہ ٹیلی فون کی لائن نہیں ہے مگر پولیس چوکی میں اندر ضرور ہو گا۔ کرشمہ نے کہا۔

“اوہہہ”۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ نجانے میرے ذہن میں یہ خیال کیوں آیا تھا کہ ممکن ہے ٹیلی فون اور وائرلیس کے ذریعے اس علاقے کے پولیس سٹیشنوں کو ہمارے بارے میں اطلاع دی  جاچکی ہو۔

میری ایک بات مانو گے۔ ” کرشمہ نے کہا۔

کیا؟” میں نے پوچھا۔

میرے ہاتھ پیر کھول دو اور مجھے سٹیئر نگ کے سامنے بیٹھنے دو۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہیں

بحفاظت اس قصبے سے نکال لے جاؤں گی۔ کرشمہ نے کہا۔

“نہیں۔  یہ نہیں ہو سکتا ۔ ” مجھ سے پہلے دیوی چیخ اٹھی۔

“تم چپ رہو۔ میں نے تم سے بات نہیں کی ۔ ” کرشمہ اس سے بھی زیادہ زور سے چیخنی۔ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئی ۔

“میری تمہاری دشمنی ضرور ہے لیکن بعض اوقات تمہاری باتیں مجھے کچھ اور سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور اسی لئے اس وقت بھی میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔”

“اس وقت تم ہمارے رحم و کرم پر ہو لیکن بعد میں ہم تمہارے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ اس مرتبہ بھی دیوی ہی بولی تھی۔ “

“تمہارے رحم و کرم پر ہونے کے باوجود میں اس قصبے میں داخل ہوتے ہی تم لوگوں کیلئے مصیبت بن سکتی ہوں۔ کرشمہ نے کہا۔ ” میں چیخ چیخ کر لوگوں کو بتا دوں گی کہ تم لوگ کون ہو۔ تم عقل کی اندھی ضرور ہو مگر لوگ اندھے نہیں ہیں وہ جب مجھے اس طرح بندھے ہوئے دیکھیں گے تو انہیں یقینا شبہ ہوگا اور پولیس کے بارے میں تو میں تمہیں بتا ہی چکی ہوں۔”

ٹھیک ہے۔ میں نے جیپ روک لی۔ اس مرتبہ میں نے دیوی کو بولنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ میں گن لے کر تمہارے ساتھ بیٹھوں گا کرشمہ ۔ اگر تم نے کوئی گڑ بڑ کی تو اپنی اور دیوی کی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر تمہیں گولی مار دوں گا ۔

” تم یقیناً ایسا کر سکتے ہو لیکن مجھے جیون سے بہت پریم ہے۔“ کرشمہ نے جواب دیا۔ ” میں ایسی بے بسی کی موت نہیں مرنا چاہتی۔ میں ابھی زندہ  رہنا چاہتی ہوں۔”

میں نے جیپ کے پچھلے حصے میں آکر کرشمہ کی رسیاں کھول دیں۔ وہ کلائیاں سہلانے لگی اور پھر اس کا ایک ہاتھ اپنے شانے پر بھی پہنچ گیا جہاں رائفل کے بٹ سے چوٹ لگی تھی۔ اس دوران دیوی بھی آگے والی سیٹ سے اٹھ کر پیچھے آگئی تھی۔ ان پہاڑیوں سے جب ہم روانہ ہوئے تھے تو دیوی نے اپنی ساڑھی اٹھا کر دھوتی کی طرح لپیٹ لی تھی۔ اس وقت بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اس نے ساڑھی کو اس طرح لپیٹ لیا کہ ٹانگیں ننگی نہ ہوں۔ میں اس سے رائفل لے کر آگے والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ کرشمہ نے سٹیئر نگ سنبھال لیا تھا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page