Smuggler –269–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 269

ڈرو نہیں ، ہم محفوظ ہیں۔” میں نے اس کی   پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔ دن کا اجالا پھیل رہا ہے اور میر اخیال ہے پوری طرح روشنی پھیلتے ہی یہ بھیڑیئے یہاں سے بھاگ جائیں گے۔

اسی لمحے ایک اور بھیڑیئے نے کھڑکی پر چھلانگ لگائی۔ دیوی نے اسے دیکھ لیا اس نے چیخ کر مجھے اس طرح اپنی بانہوں کی گرفت میں لے لیا کہ مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔

ڈرو نہیں۔ بھیڑیا اندر نہیں آسکتا۔ میں ایک بار پھر اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگا۔

دیوی بدستور مجھ سے لیٹی رہی اور میں اس کی پیٹھ تھپتھپاتا رہا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، باہر دن کی روشنی اب واضح ہوتی جارہی تھی ۔ کچھ دیر بعد بھیڑیوں نے اپنی کوشش بھی ترک کر دی۔ نہ دروازے پر پنجے مارے جارہے تھے اور نہ ہی کوئی بھیٹر یا پہلے کی طرح کھڑ کی تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا وہ شاید مایوس ہو کر بیٹھ گئے تھے۔

آدھا گھنٹہ اور گزر گیا۔ میں نے دیوی کو اپنے سے الگ کیا۔ وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنا سر گھٹنوں میں دے لیا اور اٹھے  ہوئے گھٹنوں کو دونوں بانہوں کی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر دبے پاؤں چلتا ہوا کھڑکی کے قریب آگیا اور محتاط انداز میں باہر جھانکنے لگا۔ دوسرے ہی لمحے میں چونک گیا، باہر دھند پھیلی ہوئی تھی۔

دهند اس قدر دبیز تھی کہ چند گز آگے کی کوئی چیز ہی دکھائی نہیں دے رہی تھی ۔ جھیل ، پہاڑیاں اور درخت گہری دھند کی لپیٹ میں آکر نگاہوں سے اوجھل ہو چکے تھے اس دھند کی وجہ سے بھی سردی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

میں دوبارہ اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔ دیوی گھٹنوں میں سردیئے بیٹھی ہوئی کانپ رہی تھی۔ میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر سر ہولے سے اپنی طرف کھینچا تو وہ میری آغوش میں اوندھ گئی۔

تقریباً ایک گھنٹہ اور گزر گیا با ہر دن کی روشنی  آب بہت واضح ہو گئی تھی۔ دھوپ کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے دیوی کو ایک طرف ہٹایا اور اپنی جگہ سے اٹھنا ہی چاہتا تھا کہ ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی ، میرے ساتھ دیوی بھی اچھل پڑی۔ اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی۔ وہ دوبارہ مجھے سے لپٹ گئی۔ وہ فائر کی آواز تھی جو خاصی بھاری تھی۔  مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ بارہ بور کی بندوق سے فائر کیا گیا تھا۔ ایسی بندوقیں عام طور پر جانوروں کے شکار کیلئے استعمال کی جاتی ہیں یا بینکوں کے گارڈز کے پاس ایسی بندوقیں دیکھی جاتی ہیں جنہوں نے کمر پر بندھے ہوئے بیلٹ میں موٹے موٹے کارتوس سجار کھے ہوتے ہیں۔

میں نے دیوی کو ایک طرف ہٹایا اور اٹھ کرکھڑکی کے قریب پہنچ گیا، باہر اب دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ اور دھند غائب ہو چکی تھی۔ جھیل کا پانی دھوپ میں چمک رہا تھا۔ میرے خیال میں وہ کوئی شکاری تھا۔ ایسی جگہوں پر صبح کے وقت شکار آسانی سے مل جاتا ہے۔ جانور پانی پینے کیلئے آتے ہیں تو انہیں آسانی سے شکار کر لیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں جانوروں کی بہتات تھی۔ میں کھڑکی سے ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ سامنے جھیل تھی مگر زیادہ بڑی نہیں تھی۔ پیدل چلتے ہوئے دو گھنٹوں میں اس کے گرد چکر لگایا جا سکتا تھا۔ جھیل کے چاروں طرف قد آور درختوں کی بھی بہتات تھی۔ سامنے دوسرے کنارے پر بھی کچھ دیر ان ہٹس دکھائی دے رہے تھے۔ بڑی خوبصورت جھیل تھی بہترین تفریح گاہ تھی مگر مجھے حیرت تھی کہ یہ جگہ ویران کیوں تھی۔ ٹوٹے پھوٹے  ہٹس کی موجودگی سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ چند سال پہلے تک یہاں بڑی رونق ہوا کرتی ہو گی پھر کسی وجہ سے لوگوں نے اس طرف آنا چھوڑ دیا اور یہ علاقہ ویران ہو گیا۔ کھڑکی سے مجھے کوئی انسان دکھائی نہیں دیا جس نے گولی چلائی تھی۔

میں دیوی کے قریب آگیا،  اور اس سے مشورہ کرنے لگا کہ ہمیں اس وقت باہر نکلنا چاہئے یا نہیں ۔ ہو سکتا ہے وہ شکاری اکیلا ہو یا ان کی تعداد زیادہ ہو۔ وہ ہمارے لئے خطر ناک بھی ہو سکتے تھے اور مددگار بھی۔

آخر کار میں نے باہر نکلنے کا فیصلہ کر لیا۔ بھیڑیوں کی موجودگی کا اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یہ مخلوق عام طور پر رات کے وقت شکار کی تلاش میں باہر نکلتی ہے اور دن کے وقت اپنے بھٹ میں دبکی رہتی ہے اور گولی چلنے کے بعد تو کسی بھیڑیے کا آس پاس موجود ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دروازہ کھولنے سے پہلے میں نے احتیاطاً جھری میں سے باہر جھانک کر دیکھا۔ تقریباً ڈیڑھ سو گز دور جھیل کے کنارے کوئی جانور ٹہلتا ہوا دکھائی دیا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ میں نے چمڑے کافیتہ کیل سے کھینچ کر دروازہ کھول دیا۔ چمکیلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ دھند کا اب نام و نشان تک نہیں تھا۔ چمکتی ہوئی سنہری دھوپ بڑی بھلی لگ رہی تھی۔ میں دیوی کو بھی بازو سے پکڑ کر باہر لے آیا اور ہٹ کی دیوار کے ساتھ دھوپ میں بٹھا کر خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں بھی رات بھر سردی میں ٹھٹھرتا رہا تھا۔ اس وقت دھوپ میں زیادہ حدت نہیں تھی لیکن ٹھٹھرے ہوئے بدن کو بہت اچھی لگ رہی تھی اور میں جانتا تھا کہ سورج جیسے جیسے اوپر ہوتا جائے گا دھوپ میں تپش بڑھتی جائے گی اور اس وقت بدن کو بھلی لگنے والی یہ دھوپ جھلسانے لگے گی۔

دیوی اب کپکپا نہیں رہی تھی۔ میں اسے وہیں چھوڑ کر کاٹیج کے دوسری طرف آگیا اور اس کے ساتھ ہی مجھے چونک جانا پڑا۔ تقریباً سو گز کے فاصلے پر درختوں کے نیچے بغیر چھت کی ایک سفید ماروتی جیپ کھڑی تھی اور اس سے تقریباً ڈیڑھ سو گز آگے جھیل کے کنارے کے قریب ایک آدمی کسی چیز پر جھکا ہوا تھا اور جب وہ سیدھا ہوا تو میرے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ آگئی۔

وہ کالا ہرن تھا جسے اس نے شکار کیا تھا۔ کالا ہرن  اس علاقے میں نایاب تھا اور اس کے شکار پرسخت پابندی تھی۔ خلاف ورزی کرنے والے کو بھاری جرمانے کے علاوہ چھ مہینے قید کی سزا بھی دی جاتی تھی۔ وہ شخص یقینا یہ سب کچھ جانتا ہو گا اور مجھے حیرت تھی کہ اس کے باوجود اس نے کالے ہرن کا شکار کیوں کیا تھا۔

اس شخص کی عمر پینتیس اور چالیس کے درمیان رہی ہو گی۔ صحت مند اور قدرے دراز قامت تھا۔ اس نے سفید ٹی شرٹ اور خاکی پتلون پہن رکھی تھی۔ ایک ہاتھ میں ڈبل بیرل بندوق تھی، دوسرے ہاتھ سے اس نے ہرن کی ٹانگ پکڑ رکھی تھی اور اسے گھسیٹتا ہوا جیپ کی طرف لانے لگا۔

میں کاٹیج کی آڑ میں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ اس شخص نے مردہ ہرن کو اٹھا کر جیپ کے پچھلے حصے میں ڈال دیا۔ چند لمحے وہاں کھڑا رہا، جھیل کے کنارے پر پہنچ کر دائیں طرف چلتا رہا وہ تقریبا دو سو گز دور نکل چکا تھا اگر چہ وہ ہمارے سامنے سے گزرا تھا لیکن اس نے ہماری طرف نہیں دیکھا تھا۔ میں نے دیوی کو وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا جیپ کی طرف چلنے لگا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page