Keeper of the house-133-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 133

نسرین جلال ۔۔۔ (حیران و پریشان ہو کر)  بیکاز۔۔ یو آر مائن۔۔ میں تمہاری فکر کرتی ہوں کیونکہ مجھے تم پسند ہو۔

آخر کار اُس نے مجھے جتا دیا کہ وہ مجھے اپنا سمجھتی ہے ۔ لیکن میں اُس کو کچھ نہ کہہ سکا جواب بس میں نے اُسے کس کر گلے لگا لیا ۔ اور اپنا چہرہ چھپا لیا اُس کی پیٹھ پیچھے کہ وہ میرے چہرے سے کچھ اخذنہ کرسکے

اور میں نے  اسے گلے لگائے ہوئے ہی کہا۔۔۔ میں بھی تمہیں بہت پسند کرتا ہوں۔۔مجھے آپ سے بہتر دوست کبھی نہیں ملے گی، جو اتنی کیئر کرے۔۔ آپ ہمیشہ میرا ساتھ دینا۔

میں بس اتنا ہی کہہ سکا۔اس سے زیادہ مجھ میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔

نسرین جلال۔۔۔(دل میں سوچتے ہوئے)  میں تو پوری زندگی کنیز بن کر، تمہاری محبت بن کر تمہاری کیئر کرنا چاہتی ہوں۔۔ بس ایک بار ہاں بول کر دیکھو، تمہاری زندگی میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دوں گی۔

پھر ہم دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی، کیونکہ ہم دونوں کے دل میں ایک تڑپ تھی، جو الگ الگ تھی، مگر دونوں کا دل بےانتہا تڑپ رہا تھا۔

تبھی نسرین باجی اندر داخل ہوئی۔ ہم دونوں کو اس حال میں دیکھ کر

نسرین باجی ۔۔۔ آہمم، آہمم۔۔ کیا چل رہا ہے؟ اور راحیل، تم بغیر شرٹ کے گلے لگے بیٹھے ہو؟ تھوڑی تو شرم کرو۔۔ اگر پسند ہے تو۔۔۔

میں ۔۔۔باااااااااجییییییی ۔۔۔ اور شرما کر اپنی ٹی شرٹ اور جینز اٹھا کر واش روم میں بھاگ گیا

نسرین جلال ۔۔۔ تم سدھرنے والی نہیں نا

نسرین باجی ۔۔۔ واہ! کیا لو مومنٹ تھا۔۔ اور اوئے ہوئے، چہرے کی چمک ہی الگ ہے آج۔۔ لگتا ہے بھائی نے کچھ خاص کر دیا ہے۔

نسرین جلال ۔۔۔ شٹ اپ۔۔ابھی کالج لائف میں آئی ہے اورابھی سے  بگڑ گئی ہے

تبھی ایک اور آواز آئی

کومل ۔۔۔ کون بگڑ گئی ہے؟

نسرین جلال اور نسرین باجی۔۔۔ تم بگڑ گئی ہو

کومل ۔۔۔ ہاہاہا۔۔ میں؟ میں تو سیدھی سادی بچی ہوں، معصوم سی، بھولی بھالی  سی۔۔ (پھر اپنی پلکیں جھپکانے لگی)

نسرین باجی ۔۔۔ مجھے پتہ ہے تُو کتنی معصوم ہے۔۔ تیری ساری حرکتیں معلوم ہیں جو تُو کرتی رہتی ہے۔۔  اور سب تو چھوڑ،  تو جھوٹ بولنا بھی سیکھ گئی ہے۔۔ ٹھہر، میں بتاتی ہوں تجھے۔

٭٭٭٭٭٭

ادھر ایس پی آفس میں رانی شگفتہ کے آفس کا ٹیلیفون مسلسل بج رہا تھا، اور یہی حال کمشنر کے آفس کا بھی تھا۔ کسی پولیس والے نے کل رات ہی ایم ایل اے تک خبر پہنچا دی تھی، اور سبھی شدید دباؤ میں تھے۔ رانی شگفتہ سر پکڑ کر بیٹھی تھی، کیونکہ ایک تو اوپر سے اتنا دباؤ، اور پھر اسپیشل آفیسر، وہ بھی وفاقی۔۔ سب کی حالت خراب تھی کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اوپر سے یہ کیس وہ خود سنبھالنے والی تھی، تو سب کو خوف تھا کہ اب کیا ہوگا۔۔ کیونکہ شروعات سے لے کر اب تک جتنے  کیس اس نے حل کیئے تھے ، تو  نسرین جلال کی کامیابیاں پورے ملک  کے پولیس ڈپارٹمنٹ میں مشہور تھیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کچھ دیر بعد ہم سب ناشتہ کر رہے تھے۔ آج سب دیر سے اٹھے تھے، آٹھ بج چکے تھے، مگر داداجی نے مہمانوں کی وجہ سے کسی کو کچھ نہیں کہا۔

داداجی۔۔۔ تو، ایس پی صاحبہ

نسرین جلال ۔۔۔ داداجی، آپ مجھے بیٹی کہہ لیں، یا ڈانٹ کر جو بھی کہنا چاہیں کہہ لیں، مگر یہ ایس پی یا ایس پی صاحبہ نہیں

داداجی ۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹی۔۔ تو راحیل تمہیں بلتستان میں ملا، اور تب سے تم اس کے ساتھ جُڑ گئی؟

نسرین جلال ۔۔۔ جی داداجی۔۔ ملاقات بری تھی، مگر غلط فہمیاں دور ہوتے ہی ہم دوست بن گئے۔ راحیل ایک بےحد سمجھدار اور دوسروں کی عزت کرنے والا انسان ہے۔

داداجی  غور سے دیکھ کر۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔ تم کچھ دیر بعد ہم سے ہمارے کمرے میں اکیلے ملو، تم سے ضروری بات کرنی ہے۔

نسرین جلال ۔۔۔ داداجی، ہم دوپہر کو بات کریں گے۔ ابھی پولیس کمشنر آفس جانا ہے۔ ذرا دیکھوں، آپ کی طرف  دیکھنے اور راحیل کو ہتھکڑی لگانے کی ہمت بھی اُس کو کیسے ہوئی؟

داداجی ۔۔۔ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، ہم نے رات کو ہی فون کر دیا تھا

نسرین جلال ۔۔۔ داداجی، آپ مجھے اپنی پوتی مانتے ہیں، تو آپ کے فون سے  تو اس کی نوکری چلی جائے گی۔ وہ ایماندار آفیسر ہے، مگر کچھ باتیں اسے سمجھانی ہیں۔ شاید اسے وڈیرہ شاکر کی سچائی کا علم نہ ہو، کیونکہ مجھے پتہ ہے راحیل کبھی بےوجہ اتنی مارپیٹ نہیں کرتا۔

داداجی ۔۔۔ ٹھیک ہے، ہم دونوں ساتھ چلیں گے، اور باقی سب یہی رہیں گے، تاکہ راستے میں ہم آرام سے بات کر سکیں

نسرین باجی، راحیل کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے۔۔۔تو اب جناب یہاں سے بھی جانے والے ہیں۔

میں (راحیل)، باجی  کو گلے لگاتے ہوئے۔۔۔ باجی ، آپ طعنے مت مارو، میری کچھ ذمہ داریاں ہیں، اس لیے میں وہاں  نہیں آ سکتا پڑھنے۔ آپ کو پتا ہے نا۔۔  لیکن ہاں، جانے سے پہلے اس چپکلی کے گھر جانا ہے سامان لینے، تو ضرور چلیں گے، تاکہ آپ بھی ان سے مل لو۔

نسرین باجی۔۔۔ سب سمجھتی ہوں تجھے میں۔۔ اگر ایسی بات ہے تو اس بندریا کو کیوں چپکائے رکھتا ہے؟

کومل ۔۔۔ باجی ۔۔ آپ نے مجھے بندریا کہا؟ میں آپ کا خون پی جاؤں گی

دونوں کے درمیان مذاق چلتا رہا، اور بھائی بہن کی نوک جھونک اور مستی بھی۔۔میں  بھی کئی دنوں بعد بہت خوش تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

انسپکٹر شاہد ۔۔۔دیکھ راکا، تیری دشمنی مجھ سے ہے، میرے خاندان کو مت گھسیٹ۔۔ میں نے بہت کوشش کی، لیکن تیرے بھائی کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ بس اتنا پتا لگا ہے کہ وہ ہائی وے کی طرف آیا تھا، لیکن کہاں گیا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔

راکا (ہنستے ہوئے) ۔۔۔ ہاہاہا۔۔  میرے بھائی کو تو میں ڈھونڈ لوں گا، میں بس ان کروڑوں کے ڈرگز اور ہتھیاروں کی بات کر رہا ہوں جو تُو نے غائب کر کے رکھے ہیں۔ اور انہیں پولیس میں جمع نہیں کرایا۔۔تجھے پتا نہیں یہ کس کا مال تھا، سمجھا؟

انسپکٹر شاہد ۔۔۔ میں نے نہیں پکڑا تھا انہیں! اور میں کیسے چھپا سکتا ہوں؟

راکا۔۔۔میں نے تجھے پہلے ہی بہت وقت  دے دیاہے ، اب صرف تیرے پاس دس دن ہیں۔۔ پہلے بھی وارننگ دی تھی، اب کی بار اگر اپنی فیملی کو شہر سے باہر بھیجا تو جان سے مار دوں گا۔۔ اور اگر تُو نے میرا مال مجھے نہیں دیا، تو تیری بیوی اور بیٹی اس دنیا کے کسی قحبہ خانے میں ملیں گی، سمجھا؟ ۔۔اور تُو چاہ کر بھی انہیں ڈھونڈ نہیں پائے گا۔

اتنا کہہ کر راکا چلا گیا، مگر انسپکٹر شاہد کیا کر سکتا تھا؟ اس نے ڈرگز اور ہتھیار سب جلا دیے تھے، اور ناکارہ ہتھیاروں کو دفن کر دیا تھا۔ آج وہ خود کو بہت بےبس محسوس کر رہا تھا۔۔ مگر اسے اوپر والے پر یقین تھا کہ وہ ضرور کوئی راستہ نکالے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭

اسی وقت، کمشنر آفس کے باہرنیلی بتی والی گاڑی سے داداجی اور نسرین جلال نیچے اترے، تو باہر سب پولیس والے سیلوٹ کرنے لگے۔ پورا محکمہ کھڑا تھا۔ جب دونوں اندر پہنچے، تو کمشنر اور ایم ایل اے نے ان کا استقبال کیا، اور رانی شگفتہ نے سیلوٹ مارا۔

نسرین جلال ۔۔۔ رپورٹ

پھر رانی شگفتہ نے رپورٹ دی۔۔تھوڑی دیر رپورٹ کو پڑھنے کے بعد

نسرین جلال: مس رانی شگفتہ، تو گواہ کہاں ہے؟ اور شکایت کی رپورٹ کہاں ہے؟ یہاں یہ سب غائب کیوں ہے؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page