Keeper of the house-138-گھر کا رکھوالا

گھر کا رکھوالا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی نئی سلسلہ وار کہانی ۔۔گھر کا رکھوالا۔ ۔ رومانس ایکشن اور سسپنس سے بھرپور کہانی۔

گھر کا رکھوالا۔ایک ایسے نوجوان  کی کہانی ہےجس کے ماں باپ کو دھوکے سے مار دیا گیا،  اس کے پورے خاندان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور۔۔اور اُس کو مارنے کے لیئے اُسے ڈھونڈھنے لگے ۔۔ دادا جی نے اس کی انگلی پکڑی  اور اُس کو سہارا دیا ۔۔لیکن اُس کے اس کے بچپن میں ہی، اس کے اپنے خاندان کے افراد نے  ہی اس پر ظلم وستم کیا،  اور بہت رلایا۔۔۔اورچھوڑ دیا اسے ماں باپ کے  پیار کو ترسنے کےلئے۔۔

گھر کا رکھوالا  کو  جب اس کے دادا جی نے اپنے درد کو چھپا کر اسے اس لائق بنانے کےلئے کہ وہ اپنا نام واپس لے سکے اُس کو خود سے سالوں دور کر دیا ۔ لیکن وہاں بھی قدم قدم پر اُس کو نفرت اور حقارت کے ساتھ ساتھ موت کے ہرکاروں سے بھی لڑنا پڑا۔۔اور وہاں سے وہ ایک طوفان کی طرح اُبھرا ۔ جہاں اسے اِس کا پیار ملا۔۔لیکن اُس پیار نے بھی اسے اسے ٹکرا  دیا۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف   

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گھر کا رکھوالا قسط نمبر - 138

ہمارا سفر جاری تھا، ایک گاڑی میں دادا جی اور کومل تھے، جبکہ دوسری میں میں، نسرین باجی اور نسرین جلال تھے۔

ہم ہنستے کھیلتے دہلی پہنچے اور سیدھے نسرین جلال کے بنگلے پر گئے۔ سب تازہ دم ہوئے اور دادا جی کمپنی کے کام سے نکل گئے، جبکہ ہم چاروں گھر پر رک گئے۔

پھر کیا تھا؟! نسرین جلال نے میرے لیے خاص طور پر پنیر، چکن اور فش کی الگ الگ ڈشز بنوائیں، اور ہم سب نے خوب مزے سے کھانا کھایا۔بعد میں کومل نے اپنے والد کو فون کر دیا، جو شام کو اسے لینے آنے والے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭

کاشف حیات  (کومل کے والد)  کی رہائش گاہ پر ہلچل مچی ہوئی تھی۔ کیونکہ کاشف حیات نے گھر پر اطلاع دے دی تھی کہ آج ان کی لاڈلی بیٹی کومل، ان کی بہن جیسی نسرین باجی، اور کومل کا خاص دوست گھر آ رہے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، کمشنر صاحب کے سرکاری بنگلے میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔

 کومل کی والدہ جانتی تھیں کہ یہ طوفان کیا کچھ کر سکتا ہے، اسی لیے غریب نوکر بھی اوپر نیچے بھاگتے پھر رہے تھے، سب کو تیار رہنے کا حکم تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ادھر ایک اورطرف ایک بڑے سے محل نما گھر میں کچھ الگ ہی مسلہ تھا۔

پتہ نہیں کیا ہوا ہے۔ میرا تو دل گھبرا رہا ہے۔ آج اسے پندرہ دن ہو گئے، نہ یہ کھانے کو ہاتھ لگاتی ہے، نہ کہیں باہر جاتی ہے، اس کی ہنسی تو جیسے گم ہی ہو گئی ہے۔ آخر ہوا کیا ہے؟

ایک شخص دوسرے سے مخاطب تھا، اس کی آنکھوں میں پریشانی تھی۔

دوسرا آدمی۔۔۔پتہ نہیں، میں نے بات کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ کچھ بتانا ہی نہیں چاہتی۔

جب دونوں اوپر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی چھت کو خالی نظروں سے گھور رہی تھی۔ اس نے ابھی تک رات کے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے، اس کا چہرہ زرد پڑا ہوا تھا، اور آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔

یہ دیکھ کر فوراً ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر آیا، معائنہ کیا اور سنجیدگی سے بولا

ڈاکٹر۔۔۔ملک  صاحب، صحت کے لحاظ سے سب کچھ ٹھیک ہے، ہر عضو بالکل صحیح کام کر رہا ہے، مگر چہرے کی رنگت اور آنکھوں کی حالت بتا رہی ہے کہ آپ کی بیٹی شدید ڈپریشن میں ہے۔ مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ کسی واقعے نے اس پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے  اس کی یہ حالت ہو رہی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں اور اسے باہر لے جائیں، تاکہ اس کی ذہنی حالت معمول پر آ سکے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

نسرین جلال کے گھر ایک فورچونر گاڑی آ کر رکی، اس میں سے کاشف حیات اُ ترے اور نسرین جلال کے گھر کے اندر آئے۔ نسرین جلال نے ان کا استقبال کیا۔

کاشف حیات ۔۔۔اوہ، پلیز کوئی تکلف  نہیں کرنا۔۔ میں یہاں  تمہارا افسر بن کر نہیں، بلکہ اپنی بیٹیوں سے ملنے آیا ہوں، اور تم بھی میری بیٹی جیسی ہو۔

پیچھے سے کومل دوڑتی ہوئی آئی، “پاپا!” کہہ کر ان کے گلے لگ گئی۔ پھر سب کا آپس میں تعارف ہوا۔

میں نے آگے بڑھ کر کاشف حیات کوآداب کہا۔۔۔سلام  انکل۔

کاشف حیات۔۔۔میرے بہادر بیٹے، دوبارہ مل کر خوشی ہوئی۔ ون مین آرمی۔۔ بریو ہارٹ

میں۔۔۔ انکل، پلیز۔۔ اتنی تعریف مت کیجیے

کاشف حیات۔۔۔ مجھے تمہارے سارے کارنامے معلوم ہیں۔۔ اس لیے میرے سامنے بنو  مت

ہم سب نے چائے پی، اور پھر کاشف حیات کے گھر روانہ ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر ہمارا شاندار استقبال ہوا، اور پرتپاک مہمان نوازی کی گئی۔

میں نے آنٹی سے خوب گپ شپ کی، مگر اچانک میری نظر دیوار پر لگی ایک تصویر پر پڑی۔ میں چونک گیا

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔۔  پہلے کیپٹن انکل، پھر شازیہ  کے والد آصف ملک ، اور اب یہ۔۔میرے دماغ میں جیسے زلزلہ آ گیا۔

میں دل ہی دل میں۔۔۔نہیں۔۔ نہیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ۔۔پھر میں نے پلیٹ کرکہا۔

میں ۔۔۔ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ اور کہاں سے ہو ؟ مجھے ابھی جواب چاہیے۔

یہ کہتے ہی میں نے میز پر رکھی چھری اٹھا لی۔

سب حیرت اور خوف سے میری طرف دیکھنے لگے

کومل۔۔۔ بھائی۔۔۔ یہ میرے پاپا ہیں

میں۔۔۔بس پانچ منٹ۔۔ بس مجھے جواب مل جائے، میں چلا جاؤں گا۔ تب تک خاموش  رہو کومل۔

کاشف حیات۔۔۔ بیٹا راحیل۔۔ اگر تم چھری رکھ کر بھی پوچھو گے تو میں تمہیں جواب دے دوں گا۔ تم مجھ پر پورا بھروسہ کر سکتے ہو۔

میں نے گہری سانس لی، چھری ایک طرف رکھ دی، اور سنجیدگی سے کہا۔

میں نے پوچھا۔۔۔ آپ کون ہیں اور کہاں سے ہیں؟۔  میں نے اپنی جان سے بڑھ کر آپ کی بیٹی کو مانا ہے، اس لیے امید کرتا ہوں کہ آپ سچ بولیں گے۔

کاشف حیات۔۔۔ میرا نام کاشف حیات راٹھور ہے، اور میں سندھ سے ہوں۔

میں نے دیوار پر لگی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ اس تصویر میں یہ سب کون ہیں؟

کاشف حیات۔۔۔ یہ میرے بھائی جیسے دوست ہیں۔

میں نے پہلی قطار میں کھڑے چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر کے لوگوں کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ یہ کون ہیں؟

کاشف حیات۔۔۔ یہ میرے لیئے میرے والد سے بڑھ کر تھے ، اور وہ دونوں  شخص میرے بھائیوں جیسے تھے۔ رانا عقیل اور علی۔۔ جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے جانے کا غم مجھے آج بھی ہے۔

 وہ کچھ لمحے رکے، پھر بولے۔۔۔لیکن تم انہیں کیسے جانتے ہو؟

میں ان کے قریب جا کر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ میرے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، کوئی جذبات نہیں، جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں کھو چکا تھا۔ اتنے سارے اتفاقات۔۔ میری پوری زندگی جیسے گول گول گھومنے لگی تھی۔

کاشف حیات۔۔۔ راحیل، تم انہیں کیسے جانتے ہو؟ بتاؤ مجھے

میں خاموش رہا۔

کاشف حیات (زور سے) ۔۔۔ میں نے تمہارے سوال کا جواب دیا، اب تمہیں بھی جواب دینا ہوگا

تبھی پیچھے سے ایک نرم مگر ٹہری ہوئی  آواز آئی۔۔۔کیوں کہ یہ بدنصیب انہی کا بیٹا ہے۔۔یعنی رانا مشتاق  کا پوتا اور رانا عقیل کا بیٹا۔

یہ آواز نسرین جلال کی تھی، جو خاموشی سے سب دیکھ اور سن رہی تھی۔

کاشف حیات کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھر آئے۔ وہ فوراً کھڑے ہوئے، میرے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور مجھے گلے لگا لیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، خوشی کے آنسو۔

بہت ساری باتیں کی اُس نے  مگر میرے ذہن میں ایک ہی سوال تھا۔

میں۔۔۔ مجھے پاپا اور آپ کی ملاقات کے بارے میں جاننا ہے۔۔ کہ آپ کیسے ملے، کیا ہوا، پھر آگے کیا ہوا؟ مجھے سب کچھ جاننا ہے

کاشف حیات کچھ بولنے ہی والے تھے کہ آنٹی نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ جان لینا، مگر پہلے کچھ کھا تو لو۔۔ دیکھو، یہ سب پہلی بار آئے ہیں، اور تم نے انہیں سوالوں میں الجھا دیا۔

کاشف حیات۔۔۔ہاں بیٹا، آؤ پہلے کھانا کھاتے ہیں، پھر جو پوچھنا ہے، پوچھ لینا۔۔ ورنہ تم مجھے گھر سے نکلوا دو گے

ہم سب کھانے کی میز پر بیٹھ گئے، لیکن میری نظریں بار بار کومل  کے چہرے پر جا رہی تھیں۔ وہ خاموش تھی، اور مجھے اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ کیوں اداس ہے۔ قصور میرا تھا، مجھے نارمل رہنا چاہیے تھا۔ لیکن کیا کروں، میں سیکھ رہا ہوں۔ جب تک مکمل بھروسہ نہ ہو، میں سب کو شک کی نظر سے دیکھتا ہوں۔۔ یہی مجھے سکھایا گیا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 گھر کا رکھوالا کی اگلی قسط بہت جلد

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page