Perishing legend king-261-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 261

ویر : آئی ’ ایم سوری ! ! ! اس دن جو بھی ہوا ۔ وہ میری غلطی تھی۔ مجھے ایسے اچانک سے نہیں پلٹنا چاہئیے تھا۔ آپ کے لیے یہ بہت امپورٹنٹ ہوگا۔ مجھ سے ناراض ہوگئی آپ۔ غصہ آیا ہوگا مجھ پہ۔۔۔ یو مائٹ ایون ہیٹ می ناؤ . . . پر . . . ٹرسٹ می ! وہ سب انجانے میں ہوا تھا مجھ سے۔۔۔

غلطی کسی کی بھی نہیں تھی۔ ویر کی تو بالکل بھی نہیں۔ آخر کِس کرنے تو اروحی خود آگے بڑھی تھی اس رات۔۔۔ ویر نے تو بس اپنا چہرہ پلٹایا تھا، وہ بھی انجانے میں۔ اس کے باوجود وہ آج اپنی غلطی مان رہا تھا۔ جو غلطی اس کی تھی ہی نہیں۔

یہ دیکھتے ہی ، اروحی کا دِل اِدھر پگھل گیا۔ جو بھی خیال پہلے آ رہے تھے ویر سے دور ہٹنے كے۔۔۔ وہ  پل بھر میں غائب ہوگئے۔

اروحی : نن-نہیں ! ! نہیں  ویر ! ! ! اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی۔

ابھی بھی وہ ، ویر کی بانہوں میں تھی۔

ویر : تو ! ؟ کیا اب آپ کی بےرخی ختم ہوئی ؟
اروحی :ایسا بالکل بھی نہیں تھا ویر ۔۔۔مم-میں تم سے بالکل بھی ناراض نہیں تھی۔ آئی واز جسٹ . . . جسٹ . . .

ویر : ! ! ؟ ؟

اروحی :بس وہ سب ڈائجسٹ کرنے كے لیے مجھے۔۔۔تھوڑا  وقت چاہیے تھا، اور سچ کہوں تو۔۔۔۔

ویر : ہممم ! ؟

اروحی : (گال لال ہوتے ہوئے)

آئی واز گلیڈ ۔۔۔۔( مجھے خوشی ہوئی…)

ویر : . . .اروحی: (گال لال ہوتے ہوئے)

 گلیڈ دیٹ . . . یو . . . یو ور مائی فرسٹ . . . ناٹ سم ون ایلس۔۔۔( تم میرے پہلے تھے… کوئی اور نہیں۔)

بادومپ *
اروحی كے بول سنتے ہی،،،،،،، ویر حیرت انگیزنظروں میں اسے دیکھتا رہ گیا۔

’ و-واااٹٹٹ  ڈِڈ  شی  سے ؟ ؟ ڈِڈ شی جسٹ!؟  ہو ؟ (اس نے کیا کہا؟؟؟ کیا اس نے بس!؟ ہہ؟’)

پری: اوہہہ ~

مگر ویر اس سے اِس بات کی تصدیق نہیں کر پایا کیوں کہ اروحی جھٹ سے اس کی بانہوں سے نکل کر بھاگ گئی۔

وہ  پلٹا اور پیچھے جاتا تبھی ،

” ماموو ~ “

’ ہوہہہہ ؟
ایک آواز نے اسے موڑنے پر مجبور کر دیا۔

ویٹآہہہہہ ؟ ؟

پری:
اُوں۔۔ لک ہوز ہیئر ؟ اور لٹل پرنسز فوفو ~ (اوہ۔۔۔ دیکھو یہاں کون ہے؟ ہماری چھوٹی شہزادی ہی ہی ~)

گیٹ كے سامنے ہی ایک ننھی سی بچی دوڑتی ہوئی آ رہی تھی۔ ہاتھوں میں اس کے اس سے بھی بَڑی پچکاری تھی۔

ویر

جججوہی ؟ ؟ ؟

جوہی

مامووو ~
اور آتے ہی اس نے پچکاری سے پُورا رنگ ویر کی اوپر انڈیل دیا۔

جوہی

یےےےے ہی ہی ~  ہیپی ہولیی ~

ویر نے ہنستے ہوئے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور اس کے ملائم سے گال چوم لیے۔

ویر :

میری جوہی یہاں ! ؟ ؟

جوہی :

مم ~ ماسی اور ممی كے ساتھ آئی۔

گیٹ پر پھرسے نظریں دوڑاتے ہوئے ویر نے دیکھا  تو شریا  اور نندنی دونوں ہی اندر آ رہی تھی۔

ان کا سبھی نے استقبال کیا ۔سبھی گلے ملے ، ایک دوسرے کو رنگ لگائے ، ویر كے چہرے پر پہلے سے ہی رنگ لگا ہوا تھا۔جس وجہ  سے اس کا اپیرنس سہی سے دِکھ نا پایا ورنہ شریا اور نندنی کا بھی وہی حال ہوتا جو باقی سب کا ہوا تھا۔

شریا اور نندنی دونوں نے ہی ویر کو گلال لگاتے ہوئے وِش کیا اور ویر نے بھی۔

نندنی نے جو کرنا تھا  وہ وہی کر رہی تھی ۔ویر سے دوری بنائے رکھنا۔ اور ویر اسے بھانپ چکا تھا۔

لیکن ابھی اس نے نندنی کو اپروچ نہیں کیا ۔ ہی آل ریڈی ہیڈ سمتھنگ ان ہِز  مائنڈ۔۔    (اس کے ذہن میں پہلے ہی کچھ تھا۔)

سکریییچچچ *
سکریییچچچ *
سب کچھ تو سہی چل رہا تھا ۔یہ اچانک سے دو لگژری کارز آکے کیوں رک گئی گھر كے سامنے ؟

ویر كے من میں خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی۔

اور وہاں رکی ایک کار کا دروازہ کھلا اور کوئی باہر آیا ،

ماہرہ ! ! ! !

ایک سزلنگ ریڈ جیکٹ میں ، اندر وائٹ ٹی پہنے وہ کار سے باہر آئی۔

واٹ دَ . . . ! ؟ مس ماہرہ ؟ ؟ نو ! ویٹ ! ! ! وووائے ؟ وائے اِز شی ہیئر ؟ ؟ ؟

پر یہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔

دوسری کار کا گیٹ کُھلا اور ایک اور خوبصورت لڑکی اس میں سے باہر آئی۔

سونیا ! ! ! !

ویر کی حالت اِس وقت لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی تھی۔

’ ووواٹ اِز ہیپننگ ؟ ؟ ؟ مس سونیا بھی؟؟؟ فککککک ! ! ! ! وائے اِز شی ہیئر؟؟ وائےےے؟؟ پری ی ی ی؟؟؟  واااائےےے ؟ ؟ ؟ ؟

]۔۔۔۔۔۔ [

ہو ؟ واااٹ د فکککککک ؟ ؟ ؟ پری ! ! ! ’
پری:

بیسٹ آف لک ماسٹر۔۔۔آئی پرے فار یور سرویول۔

“سسٹم ہیز گون اِن ٹو  د سلیپ موڈ” (سسٹم سلیپ موڈ میں چلا گیا ہے۔)

’ پری ؟ ؟ ؟ ہےےے ویٹٹٹٹ!!! کم بیکک ! ! ! ! ! فککککک ! ! ! ! ! ! ’

اور ویر کا  ڈر اور بڑھ گیا جب ایک اور ڈور کھلا اور دوسرے سائڈ سے سہانا باہر نکل كے آئی۔

ایون فکنگ سہاناا ! !؟؟؟؟  فککک می!!!!

 واٹ اِزشی ایون ڈوئنگ ہیئر ؟ ؟ ؟ ؟

ادھر باہر جیسے ہی سونیا نے ماہرہ کو دیکھا تو اس کا ری ایکشن بھی ویر جیسا ہی تھا۔

سونیا

مم ماہرہ ؟؟؟ د-دیدی!!!ماہرہ ؟؟؟ ماہرہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟

سہانا :

ہاؤ وُوڈ آئی نو  سونو ؟ میں بھی تو تمہارے ساتھ ہی یہاں آئی ہو نا ؟

ماہرہ :

ہمممم ؟

ماہرہ نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا مگر پھر بِنا انہیں کوئی لفٹ دیئے وہ اندر آئی۔ اور اس کے اندر آتے ہی ،  وہاں موجود سبھی کی نگاہیں اس کے اوپر ٹک گئی۔

سب ایک دم سے شانت پڑگئے۔ بس  وُوفر (DJ)میں بج رہے گانے کی ہی آواز آرہی تھی۔

یہ تھی اس کی پریزنس۔۔۔جدھر بھی وہ جاتی تھی ، سب کا دھیان کھینچ لیتی تھی۔ اس کے سامنے موجود لوگ اس کو راستہ دینے كے لیے اپنے آپ ہٹ جاتے تھے۔

کائنات (کھسپھساتے ہوئے ) :

ہولی كے دن ، اتنے مہنگے کپڑے پہنی ہوئی ہے یہ ؟ کہیں گندے ہوگئے تو ! ؟

پریت :

تمہیں کپڑے کی پڑی ہے ؟ ان کے پاس بہت پیسہ ہے کائنات۔۔۔ اتنا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔

کائنات

پھ-پھر بھی ۔۔۔ بے چارے کپڑے ۔۔۔

ویر

مممس ماہرہ ؟
ماہرہ :

یسسسس ! آئی کیم ٹو پلے وِد  یو !

ویر :

ہیں ؟ پپ-پلے واٹ ؟

ماہرہ :

دس . . . ہولی ! ! ! واٹ ایلس ؟

ویر :

ہولی ؟ ؟ ؟ میرے ساتھ ؟

ماہرہ :

آف کورس ~

ان کی بات ہو رہی تھی تبھی پیچھے سے سونیا بھی آ گئی۔

سونیا

ویییرر ! ! !

ویر :

مس سونیا ! ؟ ؟ آ-آاپ بھی ؟

سونیا :

آہ ! وی . . . وی کیم ٹو سیلیبریٹ وِد یو۔ کوئی پریشانی تو نہیں ہے نا ؟

ویر :

نو ! اٹس۔۔۔اٹس آل رائٹ !

سونیا  (اسمائیلز ) :

تھینک یو~

پر سونیا اور ویر کی ہو رہی باتیں شاید کسی کو پسند نا آئی۔۔۔ ماہرہ آگے بڑھی ، اس نے اپنی مٹھی میں ہری رنگ کا گلال لیا اور ویر كے پاس آکے اس نے پورے ایک گال پر اپنی مٹھی رکھ كے کھول دی۔

آدھا  گلال تو لگا ، پر آدھا گر گیا۔ پہلی بار وہ کسی کو لگا رہی تھی۔اتنے سالوں بَعْد۔ اس بیچاری سے جیسا بنا ،  ویسا اس نے کر دیا۔

اور وہ کھڑی ہوگئی۔ ویٹ کر رہی تھی جیسے۔۔۔
آں ! رائٹ ! ” ویر کو دھیان آیا۔

اس نے بدلے میں ماہرہ كے گورے گورے نازک سے گالوں پر رنگ لگایا ۔ کیا ہی سوفٹ احساس تھا  اس کی ۔

ویر

آا-ااپ ان کپڑوں میں ہولی کھیلوگی ؟

ماہرہ :

ہممم ؟  ڈو  دے  لک بیڈ ؟

وہ گھومتے ہوئے اپنی ڈریس دکھانے لگی۔ اسے لگا تھا کہ فیسٹیول ہے ۔ تو اچھے کپڑے پہن كے جایا جاتا ہے۔ جو کہ سچ تھا۔ پر ہولی كے لیے نہیں۔۔۔

بےچاری۔۔۔۔
آئی فِیل سو بیڈ فار ہر۔۔۔ شی کیم ہیئر جسٹ ٹو پلے  وِد  می (‘مجھے اس کے لیے بہت برا لگتا ہے۔ وہ یہاں صرف میرے ساتھ کھیلنے آئی تھی۔’)

 ویر من میں سوچ کراسے دیکھتے ہوئے  بولا ،
ویر ( اسمائیلز ) :

دے آر فائن۔ آپ جیکٹ اُتار دو اپنی ۔

ماہرہ :

اوکے !
سونیا

ماہرہ ~ تم یہاں ؟

ماہرہ :

ہممم ؟  یسسس ! ! ہی  اِنوائیڈڈ  می۔ (اس نے مجھے دعوت دی۔)

دافققققق ؟ ؟ ؟ ؟

سونیا

وویررر ؟ تتتم نے ماہرہ کو انوائٹ بھیجا اور مجھے نہیں ؟

ویر

واااٹٹٹٹ؟ ؟ نو وےےےےے ! !

سونیا :

تم تو کہتے تھے . . . مس سونیا ! یو آر ایز ایکول ایز مس ماہرہ فار می۔۔۔ تت-تو کیا یہی تھی تمہاری ایکویلیٹی ؟( آپ نے تو کہا تھا، مس سونیا! آپ میرے لیے مس ماہرہ  کے برابر ہیں۔ تت-تو کیا یہ آپ کی  یہی برابری تھی؟)

ماہرہ :

ہممم ؟

ویر

ن-نوو وےے ! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں نے کسی کو انوائٹ نہیں بھیجا ہے۔ میں نے تو۔۔۔۔

سونیا :

میں نے تم پر پُورا یقین کیا ویر اور تم نے ایسا کیا؟

’ فکککک ! ایٹ لیسٹ لسن ٹو می ! ! ! ! ’

سونیا :

تم سے یہ امید نہیں تھی ویر۔۔۔ بس ایک انوائٹ ہی تو بھیجنا تھا۔ تم نے۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page