Perishing legend king-263-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 263

مم . . . . ! ! ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

راگنی نے اپنے ہونٹ ویر كے ہونٹوں سے چپکا دیئے۔۔۔ پل بھر كے لیے ویر کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ مائنڈ جیسے بلینک ہو گیا اس کا ۔۔۔

راگنی اس سے مقناطیس کی طرح چمٹ چکی تھی۔ پلک جھپکتے ہی اس کے دونوں ہاتھ ویر كے سركے پیچھے كے بالوں کو بھینچ چکے تھے۔ اور اس کے رسیلے ہونٹ  ویر كے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھے۔

” اہہہہ ~ “

جیسے ہی ویر کو سچویشن سمجھ آئی، وہ ہڑبڑاكے پیچھے  ہٹا ۔

دونوں تیز سانسیں لیے اہک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

جہاں ویر کی آنکھوں میں سوال پہ سوال تھےکہ یہ سب کیا تھا ؟  تو وہیں  راگنی کی آنکھوں میں ایک نشہ تھا۔ خماری ! ! !

پر . . . آج كے لیے اتنا بہت تھا۔

راگنی :

حوف * * حوف * ویر . . . ! ! ! * حوف *
ویر

ی-ییہ سب۔۔۔۔حوف *یہ سب کیا تھا  بھابھی ؟ وائے  ڈِڈ  یو . . . ! ؟ ؟ ؟

وہ  پھر آگے بڑھی ،

راگنی :

یو  سی  دیز  لپس ؟

ویر :

حوف حوف  !! *؟ ؟ ؟

راگنی :

یوحوف * یو کین اسٹیل دیم . . . اینی ٹائم ! ! ! !

اور بس ، ویر کو اسی حالت میں چھوڑ کروہ باہر نکل گئی۔ اس کی خود کی حالت جو خراب تھی۔ بھلے ہی آج اس نے اتنے بولڈ موو کو انجام دیا ۔ پر . . . پر کرتے وقت اس کا خود کا دِل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔

اور ادھر ویر بس ہانپتے ہی رہ گیا۔ ایکدم حیران  و پریشان ! ! !

واٹ ۔۔۔ واٹ کائنڈ آف ہولی ایم آئی ایون پلینگ ؟”     (میں بھی کیسی ہولی کھیل رہا ہوں؟)

۔

۔
کچھ اسی طرح سے اس کی آج کی یہ ہولی گزری تھی۔

کار میں وہ اِس وقت سہانا كے ساتھ بیٹھا ہوا تھا باقی سبھی گھر كے اندر تھے۔

سہانا نے ایک کاغذ کا پیکٹ اسے تھمایا ہوا تھا۔

ویر :

واٹس دس ؟

سہانا :

کچھ ایسا جس کی تلاش میں تم تھے۔ اٹس امپورٹنٹ۔۔۔ اوپن اٹ۔ یو  وِل نو واٹ اٹ اِز۔( یہ ضروری ہے۔ اسے کھولیں۔ آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کیا ہے۔)

ویر نے جیسے ہی اسے کھولا اور دیکھا۔ تو اس کی آنکھیں حیرانی اور خوشی كے مارے  پھیلتی چلی گئی۔

۔

۔
اس سال ہولی کا تہوار ختم ہو گیا تھا۔ اور آج تک ویر نے اپنی پوری زندگی میں اس قسم کی ہولی نہیں کھیلی تھی۔ یہ ہولی اسے عمر بھر یاد رہے گی۔ اس ہولی میں جہاں مزہ تھا وہیں اس کے ساتھ عذاب بھی تھا۔

جب اتنی ساری لڑکیاں اس کے ساتھ  میں آجائیں تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کا  ویر کو پہلے ہی اندازہ ہو چکا تھا۔ خاص طور پرجب ماہرہ اور سونیا جیسی لڑکیاں ساتھ میں ہو۔ وہ دونوں تو جگہ کو میدان جنگ میں بَدَل دیتی تھی۔

افراتفری ! ! ! ہر جگہ افراتفری  ہی پھیل جاتی تھی پھر تو۔۔۔

کل اس کے گھر شمائل بھی آیا تھا ہولی كے لیے ۔۔۔وہ بےچارہ  یہ سوچ كے آیا تھا کہ ویر کی کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے تو وہ اس کا موڈ ٹھیک کرنے كے لیے۔۔۔ اپنی پہچان کی ہائی کلاس لیڈیز كے بیچ اسے ہولی کھیلوانے لے جائیگا ۔اسی بہانے ویر کا موڈ بھی ٹھیک ہوجائیگا ۔۔۔ ایک دوست ہونے كے فرض نبھا رہا تھا وہ۔۔۔

پر جیسے ہی وہ ویر كے گھر پہنچا تو ، اس کے چہرے سے اس کا رنگ اُڑ چکا تھا۔ ویر كے دائیں بائیں پریاں ہی پریاں تھیں۔ یہ سب کیا چل رہا تھا بہن چود ؟ یہ ویر كے پاس تو گرل فرینڈ ہی نہیں تھی۔ یہ اتنی ساری لڑکیاں ایکدم سے کہاں سے ٹپک گئی ؟

اور وہ بھی سب ایک سے ایک سُندر ، حُسْن کی دیویاں۔۔۔اوپر سے اس کی خود کی بہن ماہرہ ؟ وہ یہاں کیا کر رہی تھی ؟

ماہرہ اور ویر کو آپس میں ہولی کھیلتے دیکھ كے ہی اس کا دماغ کام کرنا بند کر چکا تھا۔جیسے تیسے ہوش بنائے ہوئے تھا  وہ ۔

جس بہن كے ساتھ آج تک وہ خود ٹھیک سے ہولی نہیں کھیل پایا تھا وہ آج ویر كے ساتھ ہولی کھیل رہی تھی ؟  شمائل کو پل بھر كے لیے لگا تھا وہ کسی غلط گھر میں آ گیا ہے۔  ہاں یہی ہوا ہو گا ۔یا کوئی سپنا دیکھ رہا ہے ۔ پر نہیں، یہ سب تو سچ تھا۔

ماہرہ ، یہاں تک کہ۔۔۔ ماہرہ کی بچپن کی دوست سونیا ، اس کی بڑی بہن سہانا، اور نجانے کتنی لڑکیاں ،  اور بیچ میں بس ایک ویر۔شمائل اپنی قسمت کو ہی کوس سکتا تھا۔ اور ویر کی قسمت کو بھی ۔۔۔

خیر ! جو بھی تھا۔ اسی بہانے شمائل کو کل اپنی بہن  کا مسکراتا چہرہ تو دیکھنے مل گیا۔ ساتھ ہی اتنے برسوں بعد ، اس کی بہن نے خود سے پہل کر كے اس کے گالوں پر رنگ لگایا۔ اِس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہی ہوسکتی تھی اس کے لیے۔۔۔

من تو کر رہا تھا اس کا کہ۔۔۔ اسی وقت ویر کو کونے میں لے جاکے اس کی خبر لے۔ پر جب ماہرہ نے خود آکے اس کے گال پر گلال لگایا۔ تو شمائل جیسے اپنا سارا غصہ بُھول چکا تھا۔

نا صرف شمائل ، بلکہ منورتھ اور ویر کی چچی سومیترا بھی آئی تھی راگنی سے ملنے۔۔۔

بھلے ہی راگنی نے طلاق لے لیا تھا ویویک  سے۔۔۔پر منورتھ ابھی بھی اسے ہی اپنے پوتے کی  بیوی  مانتے تھے۔

سومیترا شاید شرمندگی كے چلتے ملنے آئی تھی۔۔ وہ اپنے بیٹے کی حرکت پر ابھی بھی شرمندہ تھی ۔

یہ سب تو ختم ہو چکا تھا۔ لیکن ، کل جو سہانا نے اسے دیا تھا۔۔ وہ  پیکج ۔ اس میں رکھی چیز۔ وہ تھی اصلی چیز۔۔۔

اس کا کب سے ویر کو انتظار تھا۔ کب سے اس کی تلاش تھی اسے۔۔۔

جی ہاں ! ! ویر کی اصلی ماں کی ڈیٹیلز۔
کل اس دیئے گئے پیکج میں ویر کی ماں سے جڑی کچھ ڈیٹیلز تھی۔ وہ حال ہی میں کہاں گئی ہوئی تھی ، کیا کھوج کی ، اور اب کدھر پہ ہے ؟ سب کچھ اس پیکج میں تھا ۔ ایک فائل میں۔

اصلی سرپرائز تو سہانا ہی نے دیا تھا اسے کل یہ دیکر۔۔۔ اور ویر اب ریسٹ لیس تھا۔ ایکدم بیتاب۔۔۔

کیسے نہیں ہوگا ؟ اس کی سگی ماں . . .
جن کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔ کب سے ان کی تلاش میں تھا وہ ۔ کتنے سوال تھے اس کے من میں۔

کیوں چھوڑ كے گئی وہ اسے اِس حال میں ؟

 کیوں کبھی نہیں ملنے آئی اس سے ؟

کیوں بھول گئی اس کے بارے میں؟

 کیا وہ اب بھی اسے یاد کرتی ہے ؟

یہ سارے سوالوں کا جواب اب وہ ان سے ہی جان سکتا تھا۔ ان کی اپنی زبان سے۔ اب جب اس کی ماں کا پتہ لگ چکا تھا ، تو ویر بالکل بھی نہیں رکنے والا تھا۔

اس کے پاس رکنے کا کوئی ریزن بھی نہیں تھا اروندٹاکر مر چکا تھا۔ ماہرہ فی الحال سیف تھی۔ اس کا فوڈ ٹرک کائنات دیکھ ہی رہی تھی۔ اور کالج كے ایگزامز بھی ختم ہو چکے تھے۔ کوئی بھی ریزن ایسا نہیں تھا جو ویر کو جانے سے روک سکے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page