Perishing legend king-264-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 264

ہاں ، ایک میٹر تھا۔نندنی کا میٹر۔ پر ویر نے ٹھان لیا تھا ۔جب وہ واپس آئیگا تب سب سے پہلے نندنی كے میٹر کو ہی سولو ؤ کرے گا۔

اور اس نے طے کر لیا تھا کہ۔۔۔۔

وہ اپنی سگی  ماں سے ملنے جائیگا۔ آخر اس کی ایک بہن بھی تو ہے ساتھ میں ان کے ۔اس سے بھی تو ملنا ہے ویر کو۔

نجانے کیسی دکھتی ہوگی ؟

کیا نام ہو گا اس کا ؟

کیا وہ ویر کو جانتی بھی ہوگی یا نہیں ؟

کیسا ری ایکٹ کریگی وہ ؟

ویر جیسے اتنا  ڈسپیریٹ تھا ان دونوں سے ملنے كے لیے۔۔۔

اور اپنی اسی ٹرپس کو انجام دینے كے لیے وہ آج سہانا كے پاس اس کے آفس آیا ہوا تھا۔

سہانا ،  اس کے سامنے ایک بزنس آؤٹ فٹ میں بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

سہانا :

تو تم چاہتے ہو اب یہ بھی میں ہی کروں ؟

ویر

اگر میں خود کر سکتا  تو بھلا آپ کے پاس کیوں آتا ؟

سہانا :

نوپ ! آئی ’ ایم سوری ! یہ کام اتنی جلدی نہیں ہوسکتا۔ میں کوئی بوتل میں سے نکلی جن نہیں ہوں، جو تمہارا ہر کام کر دونگی۔

ویر :

بٹ اٹس ریلی  امپورٹنٹ۔۔۔

سہانا :

دیکھو ! تم جو یہ کام کہہ رہے ہو  نا ؟ نہیں ! پہلے تو یہ آئیڈیا  ہی واہیات ہے۔ کس نے دیا تمہیں یہ آئیڈیا ؟ ہاں ؟ کون بیوقوف ہے یہ ؟

پری:
ہو ؟ واٹ  ڈڈ شی سے ؟ ماسٹر ~ آئی ڈڈ نٹ ہیئر دیٹ رونگ رائٹ ؟ اس نے میرے آئیڈیا کو واہیات کہا ؟  ویئر ’ ز  مائی لینز ؟

اور ہماری پری بھڑک اٹھی۔ کیوں نا  بھڑکتی؟ سہانا نے اس کے آئیڈیا کو واہیات جو کہہ دیا تھا ۔ پر دیکھا جائے تو غلطی سہانا کی بھی نہیں تھی۔ آئیڈیا  ہی ایسا تھا۔

جب پری کو پتہ لگا کہ ویر ڈائریکٹلی اپنی سگی ماں سے ملنے جا رہا ہے تو اسے ویر کی یہ اپروچ پسند نہیں آئی۔

ویر ڈائریکٹلی جا كے اپنی ماں سے ملنے والا تھا ۔ انہیں سب کچھ بتانے والا تھا ۔ اور ان سے سب کچھ پوچھنے والا تھا ۔ اپنے سارے سوالوں كے جواب مانگنے والا تھا وہ ۔ شاید وہ اپنی ماں کی خبر پاتے ہی ، جذبات میں بہہ گیا تھا اور ان سے جلد سے جلد ملنا چاہتا تھا سب کچھ جاننے كے لیے۔۔۔

پر پری کو یہ اپروچ ذرا بھی پسند نہیں آئی۔ یہ بھی کوئی طریقہ تھا ؟ اس کے حساب سے یہ سہی ڈھنگ نہیں تھا۔ اور اسلئے اس نے یہ آئیڈیا دیا تھا ~

این آئیڈیا  ٹو  ہائیڈ یور آئیڈینٹی  وین میٹنگ وِد  یور مدر۔۔۔ ہائیڈ اٹ ایز مچ ایز یو کین(اپنی ماں سے ملتے وقت اپنی شناخت چھپانے کا ایک آئیڈیا۔ جتنا ہو سکے چھپائیں۔)

پری کا مشورہ تھا کہ ویر کو براہ راست جا کر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنی چاہیے۔ اس نے تمام نکات دیتے ہوئے ویر کو اپنی بات سمجھائی۔ ویر سمجھدار تھا تو پری کی بات سنتے ہی وہ ایگری ہوگیا۔

ذرا سوچیے کہ آپ کی ماں آپ کو بچپن میں چھوڑ كے چلی گئی۔ کبھی آپ سے ملنے نہیں آئی اور ان کے بارے میں گھر پر ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اجاگر ہو سکے اور ان کے بارے میں کچھ بتا سکے۔

اب ایسے میں آپ کو ان کی جانکاری ملتی ہے اور آپ فوراََ وہاں جاکے سب کچھ بتا دیتے ہو۔ پھر آپ ان سے اپنے سوالوں كے جواب مانگتے ہو۔

کیا وہ بتائیں گی ؟

نہیں ! ! ! ! ! ! بالکل نہیں ! ! !

کوئی نا کوئی بڑا ریزن ضرور تھا جو ویر کی ماں اس سے اب تک چھپا رہی تھی۔ تبھی تو وہ اسے چھوڑ كے گئی تھی۔ اور اب تک ملنے بھی نہ آئی ۔

پری نے یہی سمجھایا تھا ۔  کہ اپنی  ماں سے ملو ، پر انہیں یہ نہ بتاؤ  کہ۔۔۔تم کون ہو۔ ایسے میں وہ اسے ایک اسٹرینجر كے روپ میں  دیکھیں گی۔ 

ان سے ملنے كے بعد ان سے دوستی کرو اور ان سے جانو کہ کیا کچھ ہوا تھا ان کے پاسٹ میں۔۔۔ویر کی ماں ویر کو یہ سب نہیں بتائیں گی،  مگر کسی اور سے تو شیئر کر ہی سکتی تھی ! ؟ اور یہی پہ پری کا پلان کام آنے والا تھا۔
ویر کا ٹاسک تھا ~ ایک اسٹرینجر بن كے ان سے ملنا ،  انہیں جاننا  اور ان سے جتنا  ہوسکے، ان کے ماضی کی باتیں اجاگر  کروانا۔ 

مگر ویر اور پری دونوں ہی ایک بات نہیں جانتے تھے۔ جس بھاوانا/گیتا نے آج تک اپنی بیٹی تک کو سچ نہیں بتایا ، وہ ایک اسٹرینجر كے ساتھ اپنی باتیں کیسے شیئر کر سکتی تھی ؟
یہاں پر ویر اور پری دونوں ہی اندھیرے میں تھے۔ اور وہ صرف ابھی ایک ہی پریشانی پر فوکسڈ تھے۔

وہ پریشانی تھی کہ۔۔۔۔

اگر ویر  ان سے وہاں ملنے جائیگا ۔ تو کیسے ملے گا ؟

کیونکہ ، بھاوانا  اس وقت اپنے دہلی کے گھر میں نہیں تھیں۔ وہ پہلے ہی اپنی دوسری پوسٹنگ سائٹ کے لیے روانہ ہو چکی تھی۔ اور وہ بھی بیرون ملک۔

یہاں تک کہ اگر ویر اس سے ایک اسٹرینجر/اجنبی کے طور پر بھی ملتا ہے، تب بھی اس کے پاس اپنی ماں کے پاس جانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ہونا چاہیے۔

ایسے میں بس ایک ہی  حل تھا۔

فیکنگ یورسیلف ایز آ  ینگ ارچیولوجیست (جعلی طور پر اپنے آپ کو ایک نوجوان ماہر آثار قدیمہ بنانا۔) 

اب چونکہ بھاوانا  ہندوستان کی ماہر آثار قدیمہ تھیں۔ ویر کے پاس ہندوستانی حکومت کی طرف سے ایک ID/شناختی ہونا ضروری تھا۔ ایک لیگل/ قانونی ID جو اسے آثار قدیمہ کے مقامات پر تحقیق اور تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اور کون کر سکتا تھا  یہ ؟

ون  اینڈ آنلی ،  سہانا!

لیکن اس بار ویر کو سہانا کی طرف سے مایوس کن جواب ملا۔

سہانا  (آہ بھرتے ہوئے ) :

لسن ! سب سے پہلی بات کہ۔۔۔یہ الیگل ہے اگر غلطی سے بھی کسی نے آئی ڈی پہچان لی یا تم سے ڈیٹیلز مانگ لی تو تم کیا کروگے ؟

وہ واپس کرینگے سب کچھ ۔۔۔اور پھر بات مجھ پہ آئیگی۔ میں میٹر سنبھال لونگی پر مجھے فری کا ہیڈک/دردِ سر نہیں چاہیے۔

ویر : . . .

سہانا :

اور ویسے بھی یہ کس ٹائپ کا آئیڈیا ہے تمہارا؟ کہ اپنی ہی ماں کو یہ نہیں بتاؤگے کہ تم ان کے بیٹے ہو،واٹ د فک ؟ تو میں نے ڈیٹیلز ہی کیوں دی تمہیں ؟ جاؤ نا اب ! آسک آل واٹ یو وانٹ۔۔ بِرنگ ہر بیک ہیئر۔۔۔( جو چاہو پوچھ لو۔ اسے یہاں واپس لاؤ)۔ یہ فضول ہنگامہ کیوں کر رہے ہو؟

ویر :

شی از ہِیڈینگ سمتھنگ۔ سمتھنگ بِگ (وہ  کچھ چھپا رہی ہے۔ کچھ بڑا۔)

سہانا :

ہو ؟

ویر ( گھورتے   ہوئے) :

میں انہیں ڈائریکٹلی یہ نہیں بتا سکتا۔ آدر وائز، شی وانٹ  ٹیل می۔ اسلئے۔۔۔ آئی مسٹ ہائیڈ  مائی ائیڈینٹیٹی۔ ایز مچ ایز آئی کین۔(میں اسے براہ راست نہیں بتا سکتا۔ ورنہ وہ مجھے نہیں بتائے گی۔ اس لیے،  مجھے اپنی شناخت چھپانا چاہیے۔ جتنا میں کر سکتا ہوں۔)

سہانا ( آہ بھرتے ہوئے ) :

سوری ، بٹ میں یہ نہیں کر سکتی۔ اٹس ٹو رِسکی۔۔۔ 

ویر :

ویل ! آئی انڈر اسٹینڈ ! آل رائٹ ! تھینکس!
اور ویر بنا کچھ آگے بولے ، وہاں سے مُڑا اور جانے لگا۔ ایسا پہلی بار تھا ، کہ ویر نے سہانا سے ضد نہیں کی۔ ایک بار کا جواب سنتے ہی وہ جانے لگا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page