Perishing legend king-266-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 266

ہو ! ؟ ؟  واٹ  د  فک ؟ تم نے ہی تو . . . ’

پری:

آہ ! دیٹ  مائٹ  بی  مائی آدر پرسنیلیٹی ماسٹر۔

واٹ د . . . ! ؟

 
پری:

اینی ویز ! ! ! میں آپ کو سمجھاتی ہوں100 اسٹیٹس تک کہ لیمِٹ یہ بتاتی  ہے کہ ایک ایوریج شخصی اپنے آپ کو بہتر بناتے ہوئے صرف اِس پوائنٹ تک ہی پہنچ سکتا ہے۔ اس کے آگے نہیں جاسکتا۔ 

’ 
اگر ایسا ہے ۔۔۔ دین جینیس لوگ . . . ’

پری:

یس ! ! یو آر کریکٹ ماسٹر ! جینیس پیپل كے اسٹیٹس ایباؤ 100 رہتے ہیں۔ فار اگزامپل، آپ نے ابھی تک ماہرہ كے  اسٹیٹس  چیک نہیں کیے۔ رائٹ ؟


’ 
ن-نو آئی  ڈڈ ڈنٹ . . . ’


پری:

کبھی کرےگا۔ آئی کین ایشور یو کہ اس کا انٹیلیجنس ایباؤ 100 ہی ہوگا۔ آ سائن آف آ  جینیس۔


آئی سی ! ہمم ! سو تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ میں فرسٹ لیمِٹ ریچ کر چکا ہوں اور اب میں اِس لیمِٹ کو کراس بھی کر سکتا ہوں’ 
پری:

ایگزیٹلی  ماسٹر ! ! !


اینڈ لیٹ می گیس۔۔۔ یہ اتنی آسانی تو ہونے سے رہا  رائٹ ؟ سو ٹیل می  ! کیا کچھ کرنا ہو گا مجھے اِس لیمِٹ کو کراس کرنے كے لیے ؟

پری:

ہو ~ ماسٹر ! یو آر گیٹنگ شارپ ڈے بی  ڈے۔۔۔ ایز  ایکسپیکڈ فرام  یو  ماسٹر !


ٹیل  می  پری . . . ’ !

 
پری:

ہممم ~ بات سمپل ہے  ماسٹر۔۔۔اگراسٹیٹ  کی لیمِٹ کو کراس کرنا ہے تو . . .


تو . . . ! ؟


پری:

تو پوائنٹس اسپینڈ کرنے ہونگے۔


بس ! ؟


پری:

بات اتنی ہی نہیں ہے ماسٹر۔۔ اٹس . . .

ہممم ؟ کہو میں سن  رہا  ہوں

 
پری:

اوکے ~ سو . . . ایسا ہے کہ . . . ہر ایک اسٹیٹ کی آپ کو لیمِٹ کراس کرنی ہوگی۔ ایسا اسلئے کیوں کہ ، آپ سسٹم کو بتا رہے ہیں کہ اب آپ ایک اوسط شخص کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت سے آگے جانا چاہتے ہیں۔

آئی سی . . . ! سو ! ؟

 
پری:

سو۔۔۔اسے کرنے كے لیے۔۔۔جس  اسسٹیٹس میں آپ کو آگے بڑھنا ہے۔ ان کی لمیٹس کراس کرنی ہونگی۔ اینڈ ٹو  ڈو  دیٹ ، یو ’ ول ہیو ٹو پے آ پرائس۔ فار اگزامپل ، اگر آپ اسٹرینتھ اسٹیٹ کی لیمِٹ کراس کرنا چاہتے ہو تو آپ کو ایک اماؤنٹ پے کرنا ہو گا۔ تب جاکے وہ 100 کی لیمِٹ ایکسٹنڈ ہوگی۔ اور پھر آپ اپنی اسٹرینتھ 100 كے آگے بڑھا پاؤگے۔دین ، یو ’ وِل بی لونگ اِن ٹو دجینیس کیٹیگری۔


سمجھ گیا . تو ؟ کیا ہے اماؤنٹ ؟


پری:

اٹس . . .


اب بتا بھی دو پری ! ’


پری:

اٹس 2000 پوائنٹس فار آ سنگل اسٹیٹ۔

’ 
ہوہہہ؟  کیا کہا ؟

 
پری:

اٹس ۔۔۔ اٹس 2000 پوائنٹس ماسٹر۔فار آ سنگل اسٹیٹ۔


’ 
فکککککک ! یہ سسٹم مجھے لوٹنے كے لیے بنا ہے کیا ؟ 2000 پوائنٹس ؟ ایسے میں میرے 5 اسٹیٹس ہے۔ تو ہر ایک کی لیمِٹ کراس کرنے میں۔۔۔ فککککککک ! ! ! 10000،  پوائنٹس لگیں گے  ’


پری:

اینڈ دِس اِز   ناٹ  دی  اینڈ ۔۔۔ ابھی تک آپ کے 2 پوائنٹس 1 پوائنٹ كے برابر ہوتے تھے۔ پر اب ایسا نہیں ہوگا۔


نن-نہیں . . . مذاق مت کرنا  اوکے ! ؟

پری:

آئی  ایم سوری  ماسٹر ! بٹ دس اِز  ہاؤ  اٹ اِز۔ اب سے آپ کے 10 پوائنٹس ایک پوائنٹ كے برابر ہونگے۔ ان آدر ورڈز، اگر اسٹرینتھ اسٹیٹ کو 100 سے 101 پر لانا ہے تو آپ کو 10 پوائنٹس ایڈ کرنے ہونگے۔


’ 
فککککککک دس سسٹم ! ! ! ! ڈامنننن یو

۔

۔

۔
 4  ڈیز  لیٹر . . .

ویر اِس وقت جلدبازی میں اپنا ضروری سامان اٹھا اٹھا كے ایک  بیگ میں ڈال رہا تھا۔


اور اس کے ٹھیک پیچھے کھڑی راگنی اسے حیرانی میں دیکھے جا رہی تھی۔


یہ اچانک ویر کو کیا ہو گیا تھا ؟ اپنا بیگ کیوں پیک کرنے لگا ؟ کہا جا رہا تھا وہ اِس وقت ؟

راگنی:

ووییرر ! ؟ ؟ کہاں جا رہے ہو ؟ یہ بیگ کیوں پیک کر رہے ہو ؟


ویر :

ابھی سوال مت پوچھئے بھابھی ! بہت اَرْجَنْٹ ہے۔ مجھے نکلنا  ہو گا۔


راگنی :

واٹ ! ؟ ؟  بٹ۔۔۔۔

 
ویر تبھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور راگنی كے سامنے آیا۔ راگنی کی آنکھیں اس کے چہرے کو ہی دیکھ رہی تھی۔


ویر :

مجھے میری اصلی ماں کا پتہ لگ چکا ہے بھابھی۔


اور یہ سنتے ہی راگنی سناٹے میں رہ گئی۔ ویر کی ماں ! ؟ ؟ ؟ سگی ماں ؟ ؟ ؟


راگنی

کککیاااا ! ؟ ؟ ت-تمہاری ماں ؟ ویٹ یو مین. . . ؟


ویر :

جی ہاں بھابھی ! میری ریئل موم ۔۔۔ سگی ماں۔۔۔

راگنی :

واٹ ؟ کہاں سے ؟ کیسے ؟ ؟ ؟ کہا ں ہے وہ؟؟؟

وہ بے حد خوش تھی۔ حیران بھی اور تھوڑی سکتے سے بھری ہوئی بھی۔


ویر :

میں سب بعد میں بتاؤنگا ۔ فی الحال مجھے جلد سے جلد نکلنا  ہو گا  بھابھی۔


راگنی

ا-ارے ایسے کیسے ؟ ؟ ایسے اچانک ؟ کہاں جارہے ہو ؟ کہاں پہ ہے تمہاری مما؟ ممیں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔ تم اکیلے کہاں گھومتے رہوگے ؟ تمہارا دھیان کون رکھے گا ؟ ہاں ؟ ویٹ ! ! ! میں آتی ہوں۔


کہتے ہوئے وہ جلدی میں مڑ كے جانے كے لیے ہوئی۔ پر اس کے موڑتے ہی ویر نے اس کی کومل کالائی تھام لی۔ اور راگنی وہیں جم كے رہ گئی۔


ویر :

بھابھی ! پلیز ! ابھی مجھے جانے دیجیئے۔ میں فارن جا رہا ہوں۔


فارن لفظ سنتے ہی راگنی پلٹ كے ویر کو  حیرانی میں دیکھنے لگی۔


ویر نے اس کی یہ حالت دیکھ  کر اس کے کاندھے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور اس کی طرف جھکتے ہوئے بولا ،


ویر :

آئی نو آپ کے من میں ڈھیر سارے سوال ہیں۔ پر ابھی میں ان سب کے جواب نہیں دے سکتا۔ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ مجھے کہیں سے انفارمیشن ملی ہے کہ میری ماں ،،،،اصلی  ماں۔۔۔ وہ ایجپٹ میں ہے اِس وقت۔ ایک ارچیولوجیسٹ ہے وہ۔


راگنی

ا-یجیپٹ ؟ ارچیولوجیسٹ ؟

ویر ( اسمائیلز ) :

جی ! ایک بار ان سے مل لوں۔ پھر واپس آکے آپ کو سب کچھ  بتاؤنگا  میں۔


راگنی :

ارے پر ۔۔۔ ویزا کا کیا ؟ ٹریول میں تو لگے گا  نا ؟ اور پاسپورٹ تمہارا ؟ سب رکھا ہے نا ؟ اور کھانے كے لیے میں نے تو کچھ بنایا ہی نہیں۔۔۔  اور تمہارا بیگ ریڈی ہو گیا ؟


ویر :

ہاہاہا ~ چل بھابھی ! ! ! چل ! ! ! ساری چیزوں کا انتظام ہو چکا ہے۔ اتنے دنوں سے یہی تو کر رہا تھا ۔


راگنی :

اور تم نے ایک بار بھی مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا ؟


ویر اس کی بات پر کچھ نہ بولا ۔ وہ راگنی کو شیشے كے سامنے لے گیا۔ اور اس کے پیچھے جا كے کھڑا ہو گیا۔


دونوں ہی راگنی اور ویر اِس  وقت آئینے میں ایک دوسرے کو نہار رہے تھے۔


ویر :

کلوز یور آئیز ! ! !


راگنی

ہوہہہہ ؟ ؟


ویر :

اپنی آنکھیں بند کرئیے بھابھی ! !


ویر كے کہنے پر راگنی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

 
اور تبھی کچھ پل بعد۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page