کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی نہیں لڑکیوں کو چودنے کی شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی اُس کو ایک سمارٹ مضبوط ورزشی جسم کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین لڑکی سمجھنے لگی ۔
جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔
نوٹ : ـــــــــ اس طرح کی کہانیاں آپ بیتیاں اور داستانین صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی تفریح فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے دھرایا جارہا ہے کہ یہ کہانی بھی صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔
تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
شکاری کھسرا -- 26
زبینہ اب ریشما کے اوپر لیٹ گئی اور اس کی زوردار چدائی شروع کر دی۔زبینہ نے ریشما کے نپلز کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی۔ اور ریشما نے زبینہ کے ممے پکڑ کر مسلنے شروع کر دیئے ۔اور زبینہ دھکے مار رہی تھی اور ساتھ ہی ریشما کے نپلز کو چوس رہی تھی۔
آہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہ۔۔ ریشما کی بے خود سسکیا ں اور آہیں نکل رہی تھی۔
زبینہ اب زوردار چدائی کر رہی تھی اور ریشما کی سسکیاں چیخوں میں بدل چکی تھیں۔کچھ ہی دیر میں ریشما ایک بار پھر جھڑ چکی تھی۔
اب زبینہ نے ریشما کو پھر سے گھوڑی بنا دیا اور اُس کے پیچھے آ گئی اور اس نے اپنا لنڈ ریشما کی چوت میں گھسا دیا۔
اب زبینہ زوردار دھکے لگا کر ریشما کو چودنے لگی اور ریشما سسکنے اور کرہنے لگی۔
زبینہ ریا کو یاد کرتے ہوئے اب پوری طاقت سے دھکے لگا کر ریشما کو چود رہی تھی۔
کچھ دیر کے بعد زبینہ ریشما کو اپنے اوپر لے آئی۔
زبینہ ریشما کی چوت کو چاٹنے لگی اور ریشما زبینہ کے اوپر جھک کر زبینہ کے لنڈ کو چوسنے لگی۔
اب زبینہ اور ریشما 69 پوزیشن میں تھے، ریشما زبینہ کا لنڈ چوس رہی تھی اور زبینہ ریشما کی چوت چاٹ رہی تھی۔
ریشما کی اب پھر سے زبینہ کا لنڈ چوستے ہوئے آہیں اور سسکیاں لینے لگی تھی۔ اور زبینہ اس کی چوت کو ایسے چاٹ رہی تھی۔اور بھنبوڑ رہی تھی جیسے کہ وہ ریا کے شوہر کا بدلہ ریشما کی چوت سے لے رہی ہو۔۔
تھوڑی دیر اچھی طرح سے ریشما کی چوت سے کھیلنے کے بعد زبینہ نے ریشما کو ایک بار پھر گھوڑی بنا دیا اور پیچھے سے لنڈ اس کی چوت میں لنڈ ڈال کر چدائی شروع کر دی۔
کچھ ہی دیر میں ریشما ایک بار پھر جھڑگئی اور اب وہ پوری کی پوری ڈھے چکی تھی اُس میں ابھ دم نہیں رہاتھا اتنی دم دار چُدائی کے بعد ، لیکن زبینہ کی سپیڈ اور بڑھ گئی کیونکہ اب زبینہ بھی جھڑنے والی تھی۔
زبینہ نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور ریشما کو لٹا کر اس کے منہ کے اوپر آ گئی۔ زبینہ نے اپنا سارا پانی ریشما کے منہ کے اندر نکل دیا۔آخری قطرہ تک نکلنے کے بعد زبینہ ریشما کے ساتھ ہی گرتے ہوئے ڈھے سی گئی ۔اور ریشما کو پکڑ کر اپنے ساتھ ہگ کر لیا ۔
زبینہ: کیسا لگا؟
ریشما: اتنا مزا مجھے اپنی زندگی میں کبھی نہیں آیا۔پلیز جب میں اکیلی ہوں تو آجا یا کرو۔
زبینہ: تم نے جب مجھ میسج کرکے بتا یا تھا تو تبھی تو میں آگئ کہ تم اکیلی ہو ۔۔اس لیئے تمہیں پورا مزا دینے کے لیئے پوری رات کے لیئے آگئی۔
ریشما: کیا۔۔ پوری رات کے لیئے ۔۔اُمممااااااااا۔۔
ریشما زبینہ کی بات سُن کر خوشی سے اُچھل ہی پڑی اور زبینہ کے چہرے پر چوموں کی بارش کردی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج صبح ریا تھوڑے اداس اداس موڈ سے اٹھی … رات میں جو کچھ بھی ہوا، اسے پسند نہیں آیا… مگر پھر بھی وہ اٹھی یہ سوچ کر کہ آج ایوناش سے بات کروں گی… زبینہ جی کو سمجھاؤں گی اور دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
دوسری طرف زبینہ ریشما کی پوری رات زبردست ٹھکائی کرکے صبح صبح ہی اندھیرے میں واپس اپنے گھر آگئی اور دل ہی دل میں یہ دُعائیں کرتی رہی ۔۔ کہ کاش آج ایوناش بزی ہو اور ریا سے کوئی بات نہ کر پائے۔
ریا صبح اٹھ کر گھر کے کاموں میں لگ جاتی ہے… گھر کے سارے کام کرنے کے بعد فری ہوکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں جاتی ہے اور ایوناش کو کال لگا دیتی ہے۔
لگتا ہے کہ زبینہ کی دعا قبول ہو گئی تھی … کیونکہ آج ایوناش اپنے کلائنٹس کے ساتھ باہر ڈنر پر آیا ہوا تھا… اُس نے فون اٹھایا ۔
ریا: ہیلو ایوناش۔ کیسے ہو؟
ایوناش: میں ٹھیک ہوں بے بی… تم بتاؤ۔
ریا: یہ پیچھے اتنا لاؤڈ میوزک کیوں آ رہا ہے؟
ایوناش: وہ میں ڈنر پر آیا تھا کلائنٹس کے ساتھ۔
ریا: اچھا
تبھی ایوناش کی کلائنٹ اسے آواز دے کر بُلاتی ہیں۔
ریا: یہ کون لڑکی تھی؟
ایوناش: بےبی، کلائنٹ ہے میری… وہ بُلا رہے ہیں۔ اچھا، میں تم سے بعد میں آرام سے بات کرتا ہوں ۔۔بائے بےبی۔
ریا: سنو تو
اتنی دیر میں ایوناش نے کال کٹ کر دی، اور ریا بس اداس ہو کر فون کان سے لگائے ہی کھڑی رہی ۔
ریا کے دماغ میں اب کافی اُلٹے سیدھے خیالات آنے لگ گئے۔ اَیو ناش یہ کیسے کر سکتا ہے؟ کل اس نے اتنے وعدے کیے، اتنے اچھے سے بات کی، کہا کہ وقت دے گا۔ اور آج پھر مصروف ہے۔
اسے لگا کہ کہیں زُبینہ جی کی بات سچ تو نہیں۔ کہیں اَیوناش بھی باقی مردوں کی طرح تو نہیں۔ کہیں وہ دوسری لڑکیوں کے چکر میں تو نہیں پڑھ گیا۔ کہیں وہ مجھے ایمووشنل بلیک میل تو نہیں کر رہا۔
تبھی اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ یہ کیا سوچ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ سچ میں مصروف ہو۔ وہ الٹا سوچنا بند کرتی ہے اور اپنا فون رکھ کر نیچے چلی جاتی ہے۔
وہ بار بار فون دیکھتی رہتی ہے، کہ شاید ایوناش فارغ ہو کر کال کر دے۔ لیکن کوئی فون نہیں آتا۔ ریا اب تھوڑا فرسٹریٹ (پریشان) ہونے لگی تھی۔ وہ پھر سے ایوناش کو کال کر دیتی ہے۔ اس بار وہ فون ہی نہیں اٹھاتا۔
ریا کو بہت غصہ آتا ہے۔ اس کا اب ایوناش پر بھروسہ کم ہو رہا تھا اور زُبینہ کی باتوں پر یقین بڑھ رہا تھا۔ تبھی زُبینہ کا میسج آتا ہے
زُبینہ:ہوئی بات پھر تیرے پتی سے؟
ریا یہ میسج دیکھ کر تھوڑا اور اداس ہو جاتی ہے۔ اب وہ زُبینہ کو کیا جواب دے؟ ایک دل تو کر رہا تھا کہ سچ بتا دے کہ بات نہیں ہوئی۔ لیکن ابھی وہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتی تھی۔ وہ ایوناش کو ایک اور موقع دینا چاہتی تھی۔
ریا: ہاں جی ہو گئی بات۔
زُبینہ کو لگا کہ دعا تو قبول نہیں ہوئی، لیکن کوئی بات نہیں۔ اب آگے اسے ہی کچھ اور کرنا پڑے گا۔
زُبینہ: چل اچھی بات ہے۔ میں بھی خوش ہوں تیری خاطر۔
ریا کو برا لگا اب۔ اسے ایسے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا۔ زُبینہ جی تو بس میری خیال ہی رکھتی ہیں، اسی لیے انہوں نے یہ سب کہا، اور اب تک جو انہوں نے کہا، سچ ہی لگ رہا ہے۔
ریا: آپ بھی خوش ہیں ناں؟
زُبینہ: میرا چھوڑ۔ اچھا، شام کو جم تو آئے گی ناں؟
ریا: ہاں جی ضرور آؤں گی۔
زُبینہ: اوکے۔ پھر جم میں ملتے ہیں۔
ریا: جی۔ بائی۔
ریا کو بہت عجیب لگ رہا تھا زُبینہ سے اس طرح بے رُخی سے بات کرنا۔ اسے اب ایوناش پر پھر سے غصہ آنے لگا۔ ریا اپنے کمرے میں جاتی ہے اور تھوڑا آرام کرنے لگتی ہے۔
جیسے جیسے جم جانے کا وقت قریب آتا ہے، ریا کو تھوڑی ایکسائٹمنٹ ہونے لگتی ہے۔ اس کے دماغ میں زُبینہ کے ساتھ بتائے گئے لمحات کا فلیش بیک چل جاتا ہے—پہلا کس، ہاتھ پکڑنا، وغیرہ۔ سب کچھ دماغ میں گھومنے لگتا ہے۔
اس کے اندر کی اچھائی اب کم ہونے لگتی ہے اور شہوانی جذبات باہر آنے لگتے ہیں۔ وہ اب پوری ایکسائٹڈ تھی جم جانے کے لیے اور زُبینہ سے ملنے کے لیے۔
وہ اچھے سے تیار ہوتی ہے اور وہ اورنج والا جم ویئر پیک کر لیتی ہے جو زُبینہ کو سب سے زیادہ پسند آیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے