Shemale Hunter -30- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 30

رینا تھوڑی دیر آہستہ آہستہ زبینہ کے موٹے لمبے لنڈپر اوپر نیچے ہوتے ہوئے اپنی چوت میں ایڈجسٹ کرتی رہی ، اور جیسے ہی اُس کی چوت لنڈ کے حساب سے کھل گئی اور لنڈ  نے اپنی جگہ بنا لی تو رینا زبینہ کے لنڈ پر اچھلنے لگی اور زبینہ کا لنڈ رینا کی چوت میں اندر باہر ہونے لگا۔

رینا: آہہہہہہہہ۔۔بب بہت مموٹا ۔۔للل لنڈ ہے۔۔آہہہہہہہہہہ سسسی آہہہہہہہ ہائےےےےے آہہہہہہہہ

زبینہ : آہہہہہہ ۔۔تمہاری چوت ۔۔آہہہہہہہہ ۔۔ بہت ٹائٹ ہے۔۔آہہہہہہہ ۔۔ تیرے شوہر ۔۔آہہہہہہ۔۔ نے صحیح سے کھولی نہیں ۔۔آہہہہہہہ ۔۔اب میرا لنڈ ۔۔آہہہہہہ ۔۔کھولے گا۔۔آہہہہہہ

زبینہ اور رینا دونوں سسکیاں  لیتے ہوئے آہیں بھر  رہی تھیں۔

زبینہ نے تھوڑا سا اُٹھ کر رینا کے ممے منہ میں بھر لیئے اور چوسنے  کے ساتھ ساتھ مسلنے اور دبانے لگی ۔اب زبینہ ہاتھوں میں رینا کے ممے پکڑے  منہ میں  لے کر چوس رہی تھی  اور رینا  مستی سسکتے ہوئے آہیں بھرتے ہوئے زبینہ کے لنڈ پر اچھل رہی تھی۔

رینا زیادہ دیر زبینہ کے لنڈ کی سختی اور موٹائی لمبائی کے آگے نہ ٹک سکی کیونکہ زبینہ کا لنڈ اُس کی بچہ دانی تک وار کر رہاتھا ۔ جس سے تھوڑی ہی دیر بعد  رینا  جھٹکے لیتی ہوئے زبینہ کے اوپر گر کر جھڑنے لگی ۔ اور کس کر زبینہ کو اپنی باہوں میں جگڑلیا۔

زبینہ نے بھی اُس کو اپنے سینے سے لپٹا کر کس کر پکڑ لیا ۔۔ جس سے دونوں کے ممے آپس میں   ایک دوسرے سے گلے لگ  کر چپک گئے اور دونوں کو ایک دوسرے کے مموں کے  کڑک  نپلز اچھی طرح سے چھبتے ہوئے فیل ہورہے تھی۔

زبینہ رینا کو پکڑے پکڑے ہی نیچے سے ہلکے ہلکے گہرے گہرے جھٹکے مارتی ہوئی  رینا کو اچھے جھڑا رہی تھی جس سے رینا کو بھی بہت مزہ آرہا تھا اور وہ سسکتی ہی جارہی تھی۔رینا بہت زیادہ جھڑ گئی تھی اُس نے زبینہ کے لنڈ کو تو کیا اُس کے ٹٹوں کو بھی اپنے نیم گرم پانی سے پوری طرح سے  بھگودیا تھا۔

زبینہ نے بھی لنڈ کو نکالے بغیر ہی ایسے ہی ہلکے ہلکے گہرے گہرے رینا کی چوت میں لنڈ کو غوطے دیتی رہی ۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی  رینا پھر سے مستی میں آکر مچھلنے لگی ۔ تو زبینہ نے اُس کی باہوں کے نیچے ہاتھ دے کر اپنے اوپر کھینچا جس سے لنڈ پچاک کی آواز کے ساتھ اُس کی چوت سے باہر نکلا۔اور زبینہ نے رینا سے کہا۔

زبینہ: آؤ میرے منہ  پر بیٹھو۔ مجھے تمہاری چوت چاٹنی ہے۔

رینا زبینہ کے اوپر آئی اور اس کے منہ پر اپنی چوت ٹکا کر بیٹھ گئی۔زبینہ نے بھی اپنا منہ پورا کھول کر رینا کی چوت پر لگا دیا اور اس کی چوت کو چاٹنے لگی۔

زبینہ اب رینا کی چوت کو چاٹ اور چوس رہی تھی اور  اپنی لمبی زبان رینا کی  چوت میں گھسا کر گھما گھما کر  زبان سے اُس کی چوت کو کرچنے لگی جس سے رینا  کی مستی اور مزے  سے سسکیاں کمرے میں گونجنے لگی  اور وہ زبینہ کے منہ پر ہی مچھلنے لگی تھیں۔

تھوڑی دیر کی  زبر دست چوسائی اور زبان کی رگڑائی کے سے ہی ایک بار پھر سے رینا  کا جسم کانپنا شروع ہو گیا تھا۔ اور رینا  مستی سے چیختے ہوئے ایک بار پھر سے جھڑ نے لگی تھی۔

رینا زبینہ کے منہ پر ہی جھڑی تھی اور زبینہ نے رینا کی چوت کا سارا پانی چاٹ کر پی لیا۔ اور رینا زبینہ کے اوپر پڑی سسکتی رہی ۔

زبینہ نے  اچھی طرح سے رینا  کی چوت کو چاٹ کر صاف کرنے کے بعد رینا کو گھوڑی بنا دیا اور پیچھے سے لنڈ اس کی چوت پر رکھ کر ایک ہی جاندار جھٹکے سے پورا  ڈال دیا۔

رینا : آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ۔۔افففففففف۔۔آراااااااااااااااااام سےےےےے۔۔آہہہہہہہہہہہ

لیکن زبینہ بغیر رکھے ہی تیزی سے دھکے لگانے لگی اور رینا کی چوت  کو پھدا بناتے ہوئے اُس کی چدائی کرنے لگی۔

رینا: آہہہہ آہہہہہ آہہہہہ تم زبردست ہو آہہہہہ آہہہہہ

رینا آہیں بھرتے  ہوئے پھر سے سسکنے لگی۔

زبینہ اب اپنی رفتار بڑھاتی جا رہی تھی اور رینا کی  زوردار چدائی کر رہی تھی۔ رینا کی سسکیاں بھی زبینہ کی رفتار کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھیں۔

آہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہہ آہہہہہہہہ

دس پندرہ منٹ کی  بغیر رکھے  زور دار چُدائی اور  زوردار دھکوں کے بعد زبینہ  کو بھی فیل ہونے لگ گیا کہ ہو اب اُس کا  بھی ٹائم پورا ہوگیا ہے تو اُس کے گھسوں  میں اور زیادہ تیزی اور طاقت شامل ہوگئی ۔ اور رینا اب چیختے ہوئے سسکنے اور آہیں بھرنے لگی ۔اس  بار کی چودائی میں تو وہ کتنی بار جھڑی اُس کو خود کو پتہ نہیں چل رہاتھا ۔بس اُس کو یہ لگ رہاتھا کہ آج زبینہ نے اُس کی چوت کے راستے اُس کی جان نکال دی ہے اور اُس کا جسم سُن سا اُسے محسوس ہونے لگا تھا۔

تھوڑی دیر میں ہی زبینہ غراتے ہوئے رینا کی چوت کے اندر جھڑ گئی۔

زبینہ کا گرم لاوا اندر پڑنے سے رینا کو بھی اپنی چوت   ایک عجیب سا مزہ اور سکون محسوس ہونے لگا اور اُسے محسوس ہوا کہ اُس کی چوت کا بچا کچھا پانی بھی ایک بار پھر سے نکل  کر وہ پھر جھڑ گئی۔

جھڑنے کے بعد دونوں ہانپنے لگیں۔زبینہ نے رینا کو پیچھے سے گلے لگا لیا اور اسے چومنے لگی۔

رینا نے اپنا چہرہ پیچھے کیا اور دونوں ایک دوسرے کو کس کرنے  لگیں۔ دونوں کچھ دیر ایک دوسرے سے لپٹ کر لیٹ گئیں۔

رینا: تم واقعی میں بہت پرفیکٹ اور اچھی  ساتھی ہو۔

زبینہ: تم بھی کچھ کم نہیں ہو بہت گرم اور سیکسی ہو۔

رینا: میں نے بھی کبھی اتنی  خوبصورت عورت کو اتنے موٹے اور بڑے لنڈ کے ساتھ نہیں دیکھا۔۔۔تمہارا لنڈ بہت شاندار اورخوبصورت ہے تمہاری طرح۔

زبینہ: اب تو تم نے مجھے  اور میرے لنڈ کو دیکھ لیا۔۔ ویسے تمہاری چوت بھی کم خوبصورت اور بھوکی نہیں ہے۔ پہلی بار میں ہی میرا لنڈ تمہاری چوت نے سنبھال لیا ۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے۔

رینا:  تمہارا لنڈ بھی تو اتنا موٹا ہے ۔شروع میں تو مجھے بھی درد ہوا لیکن بعد کے مزے کا سوچ کر میں آگے بڑھتی ہی رہی ، اور اب مجھے لگتا ہے کہ ہماری دوستی آگے بھی چلتی رہے  گی۔

زبینہ: یقیناً چلے گی ۔۔ بس جب تمہارا موڈ ہو تو بتانا  ۔۔کیونکہ جب لڑکی کا خود لنڈ لینے کا موڈ ہو تو بہت مزہ آتا ہے جیسے آج آیا۔

اور دونوں ہنسنے لگی اور ہنستے ہنستے دونوں نے کپڑے پہنے اور زبینہ رینا کے یہاں سے واپس اپنے گھر چلی گئی۔

ادھر ریا کا موڈ آج بہت خراب تھا۔ وہ گھر آ کر سیدھا اپنے کمرے میں گئی۔ اسے بہت برا لگ رہا تھا۔ 

ایک تو صبح ایوناش نے بات نہیں کی، پھر ایوناش کی وجہ سے ہی زُبینہ ریا سے ناراض ہوئی ۔۔اور اُس کو چھوڑ کر اُس کمینی کے ساتھ چلی گئی اس سے بات تک نہ کی، وہ بھی اب اسے پہلے جیسی توجہ نہیں دے رہی تھی۔ اپنے دماغ میں وہ  ان سب چیزوں کے لیے ایوناش کو ہی قصوروار  ٹھرانے لگ گئی تھی۔ 

پھر تھوڑی دیر ایسے ہی سوچنے کے بعد اس نے اپنے دماغ کو سمجھایا۔کہ  وہ پھر سے ایوناش سے بات کرے گی اور مثبت ہی سوچے گی۔ دھیرے دھیرے زُبینہ کی ناراضگی بھی ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ سب سوچ کر وہ نیچے چلی گئی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page