Raas Leela–15– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -15

تو بھابھی بولی: لیکن ابھی بھی پیٹھ میں بہت درد ہو رہا ہے۔

 میں نے کہا: یہ گرنے کی وجہ سے ہے، اسے ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں۔ 

اس کے بعد میں نے 10 منٹ تک آئس پیک کو اس کی چکنی پیٹھ پر آہستہ سے پھیرتے ہوئے لگایا۔ برف کی وجہ سے اُس کی کمر کا وہ حصہ گیلا ہوگیا  تو پھر اس جگہ کو سکھا دیا۔ اس کے بعد میں نے بھابھی کی پیٹھ پر دواؤں کا تیل ملا درد کش  مرہم لگایا،  اور بھابھی کے کندھوں سے شروع ہو کر نیچے کولہوں تک اپنی انگلیوں سے آہستہ آہستہ مالش کرنے لگا۔ جب میری انگلیاں مانوی بھابھی کی نرم اور چکنی جلد پر پھسل رہی تھیں تو مجھے ان کے جسم میں سنسنی سی محسوس ہوئی۔ 

پھر میں نے پوچھا: اب کیسا لگ رہا ہے؟

 تو بھابھی بولی:پہلے سے درد کچھ کم ہوا ہے، مگر  ابھی بھی درد بہت ہے۔ 

میں نے اس سے کہا: اب میں آپ کی مالش کر دیتا ہوں، اس طرح  آپ کو مکمل آرام ملنے لگ جائے گا۔

 میں نے تھوڑے سخت ہاتھوں  سے دباؤ ڈالتے ہوئے اس کے ننگے کندھوں کو دبایا اور اس کی گردن کی مالش کی، جو گرنے کے بعد تناؤ میں تھی۔ میرے سخت اور کھردرے ہاتھوں کی مالش سے اُسے  راحت ملنے لگی تھی۔ 

میں نے اس کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کے کناروں پر مالش شروع کی۔ میں نے اپنی انگلیوں سے اس کے ابھرے ہوئے مموں کے کناروں کو مسلتے ہوئے مالش کی، جس سے میری ہتھیلیاں اس کی ریڑھ کے دونوں طرف دباؤ ڈال کر تناؤ کو کم کر رہی تھیں۔ 

میں آہستہ آہستہ اس کی پیٹھ کی مالش کر رہا تھا، پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، اس کی پیٹھ سے اس کے کندھوں تک میرے ہاتھ اوپر جانے لگے ۔ اس کے مموں کے بڑے اور سڈول ہونے میں کوئی شک نہیں تھا، اور مجھے اس کے ننگے ممے  دکھائی دے رہے تھے۔ مجھے اپنے سخت ہو چکے لنڈ کو قابو میں رکھنے میں دشواری ہو رہی تھی کیونکہ میں نے صرف لنگی پہنی ہوئی تھی، اور اسے چھپانا اور بھی مشکل تھا کیونکہ جب میں اسے مساج دے رہا تھا، میرا لنڈ اس کے بدن کو چھو رہا تھا۔ 

مجھے لگا کہ وہ بھی مالش کا مزا لے رہی تھی۔ اور جب میرا لنڈ اس کے بدن کو چھوا تو اس کے منہ سے ایک “آہ” نکلی، جو مجھے اور آگے بڑھنے کے لیے ترغیب دے رہی تھی۔ 

میں نے اپنے ہاتھوں کو اس کی پیٹھ کے پیچھے سے آگے مموں تک لے جانا شروع کیا۔ ایک بار جب میں اس کے مموں تک پہنچ گیا، تو میں نے اس کے مموں کے کناروں کو پہلے سے کچھ زیادہ دیر تک مالش کی۔ اس کے  مموں کے نپلز کو بیڈ کی چادر کے ساتھ  دبایا، جس سے اس کے جسم کو شہوت کی طلب  محسوس ہوئی۔  اور وہ مزید  میرے آگے بڑھنے کی توقع کر نے لگی  تھی، کیونکہ  اس کی آہوں کراہوں سے مجھے سمجھ آ رہا تھا کہ اب وہ مجھے نہیں روکے گی، اور میں اس کے نرم ننگے بدن کی خواہشوں کو سنگ اور محسوس کر کے شہوت  کے جذبات میں ڈوب رہا تھا۔ 

پھر میں نے اس کے مموں کے کناروں پر کچھ دیر مالش کی۔ اس کی کمر گوشت سے بھری ہوئی تھی، یا یوں کہیں کہ کچھ گدرائی ہوئی تھی، جیسے جنوبی ہندوستانی فلموں کی ہیروئنیں ہوتی ہیں، لیکن اسے موٹی نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ شاید شمالی ہندوستانی اسے کچھ موٹی سمجھیں، لیکن اس کی عمر اور دو بچوں کی ماں ہونے کے ناطے، میں اسے گدرائی ہوئی سیکسی بھابھی ہی کہوں گا۔ 

میں نے اس کی کمر میں جو اضافی چربی جمع ہو گئی تھی، اسے اکٹھا کر کے ناپا اور بولا: بھابھی، آپ کچھ موٹی ہو گئی ہیں، اور آج اس کا فائدہ ہی ہوا ہے۔ اسی اضافی چربی کی وجہ سے آپ کو آج زیادہ  چوٹ نہیں لگی۔ 

بھابھی بولی: کیا کاکا، مجھے چوٹ لگی ہے اور آپ مجھے چھیڑ رہے ہو؟

 میں نے کہا: نہیں بھابھی، میں آپ کو سچ بول رہا ہوں۔

 اور ساتھ ساتھ اس کی پیٹھ کی مالش کرتے ہوئے میرے ہاتھ کمر سے بہت نیچے اس کے چوتڑوں  کے اوپری حصے تک جا رہے تھے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوتڑوں کی اوپری دراڑ کو محسوس کیا اور اس کی بھی مالش کرتا رہا۔ 

جب  جب میں نے اس کے بازوؤں، کندھوں، اور مموں کی مالش کی، تو وہ مچل اٹھتی۔ پھر میں نے اپنا ا ہاتھ اس کی بغلوں میں سے گزار کر سیدھا اس کے مموں  پر پہنچا  دیا۔ وہ مچلنے اور پڑکنے لگی، جس کی وجہ سے میری انگلیاں اس کے نپلز تک پہنچ گئیں اور مجھے اس کے نپلز صاف طور پر  محسوس ہونے لگے ۔ میں نے بہت آہستہ سے اس کے نپلز کو انجان بنتے ہوئے  مالش کرتے ٹٹولنا شروع کیا۔ میں اس کے مموں اور نپلز کی ایک جھلک پانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب میں اس کے نپلز کے ساتھ کھیل رہا تھا، تو میں نے محسوس کیا کہ وہ  میرے ہاتھ لگنے ، چھیڑنے اور مالش کی وجہ سے ایک دم کڑک انگوروں  کی طرح سخت ہو گئے تھے۔ وہ ناسمجھ  نہیں تھی، اور وہ بہت اچھی طرح سے جانتی تھی کہ میرے ہاتھ کہاں چل رہے ہیں، اس لیے میں گھبرایا نہیں اور اپنے ہاتھوں کو اس کے مموں اور چوتڑوں  پر اسی طرح چلنے دیا جیسے کہ میں اسے بہت توجہ  سے  صرف مالش کررہا ہوں، جب تک کہ اس نے مجھے مالش کرنے سے نہ روکا۔ 

وہ یہ بھی جانتی تھی کہ میں اس کے مموں اور چوتڑوں  کی مالش اس کی پیٹھ سے زیادہ کر رہا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ اب میرا لنڈ اندر لینے کے لیے تیار تھی، لیکن مجھے اپنی چال بہت احتیاط سے چلنی تھی، اس لیے میں نے اس کی پیٹھ، چوتڑوں، اور اس کے مموں کی مالش جاری رکھی۔ 

اسی طرح مالش کرتے ہوئے میں نے اپنے ہاتھوں کو اس کے چوتڑوں کے بالکل اوپر لے گیا۔ میں نے پھر ویسے ہی جیسے پہلے کیا تھا، اسی کو دہراتے ہوئے ہاتھ چلاتے ہوئے اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر لے گیا، جیسا کہ میں نے پہلے اس کی پتلی گردن سے شروع کر کے چوتڑوں تک اور چوتڑوں سے گردن تک کیا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ اس کے چوتڑوں کے اوپر اس کی گانڈ  کے دراڑتک لے گیا۔

اس بار جب میں اس کے چوتڑوں تک پہنچا تو میں نے چوتڑوں کی مالش شروع کر دی۔ بھابھی کو میری مالش سے آرام ملا اور وہ تھوڑی ریلیکس ہو گئی۔ تو میں نے چوتڑوں کے درمیان کی دراڑ میں اپنی ایک انگلی سرکا دی۔

 “آہ!!” کی کراہ کے ساتھ اس نے میری انگلی کا استقبال کیا، لیکن میں نے اپنی انگلی اس کی گانڈ یا چوت میں نہیں ڈالی، بس چھو کر چھیڑا تھا۔ 

اس نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور اپنے پیروں کو تھوڑا سا کھول کر مجھے آگے بڑھنے کا کھلا دعوت نامہ اور اجازت دی۔ میں نے اس کے چوتڑوں کی مالش جاری رکھی۔ مسلسل میری انگلیوں کا اس کے بدن پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page