Raas Leela–21– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -21

میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کی ساڑھی کے اوپر سے اُس کے سینے پر رکھا اور اس کے مموں کو دبانے لگا۔ میں نے چاروں طرف دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا، لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ میں اس کے مموں سے کھیلتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ اس کے بلاؤز کے بٹن کھولنے لگا۔ میں نے سارے بٹن کھول دیے اور پھر اس کی برا کے اوپر سے اس کے مموں کو دبانے لگا۔ جس جگہ ہم بیٹھے تھے، وہ بہت ہی سنسان اور اندھیرے میں تھی، اور اس پورے علاقے میں صرف چند لوگ تھے جو کافی دور تھے، اس لیے اس وقت ہمیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ پھر جیسے جیسے اندھیرا گہرا ہونے لگا، آہستہ آہستہ پارک خالی ہونا شروع ہو گیا، لوگوں نے پارک چھوڑنا شروع کر دیا۔ 

آہستہ آہستہ میں نے اس کی برا کو بھی اوپر کرنا شروع کر دیا اور اس کے مموں کو باہر نکال کر پہلے انہیں سہلایا، پھر دبانے لگا۔ مانوی بھابھی تو تیار ہی تھی، وہ آہستہ سے “آہ آہ” کرنے لگی۔ پھر میں نے اپنے ہونٹوں سے اس کے نپلز چوسنا شروع کر دیا۔ میں نے تقریباً 15 منٹ تک مانوی بھابھی کے مموں کے ساتھ کھیلا اور پھر میرا دھیان اس کی پھدی کی طرف گیا۔ مانوی بھابھی نے اپنی برا کو نیچے کر دیا اور اپنے بلاؤز کے بٹن بند کر دیے کیونکہ کوئی بھی کبھی بھی ادھر آ سکتا تھا۔ میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کی ساڑھی میں ڈالا، پھر اس کی پینٹی کے ذریعے اس کی پھدی میں انگلی کرنے لگا۔ میں اب اس کی پھدی میں اپنی دو انگلیاں گھسا رہا تھا۔ بھابھی نے جلد ہی اپنے ہاتھوں کو میری پینٹ کے اوپر سے میرے لنڈ پر رکھ دیا۔ میرا لنڈ سخت ہو گیا تھا اور چدائی کے لیے تیار تھا۔ 

اچانک، میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا جوڑا ہماری طرف آ رہا ہے۔ ہم نے جلدی سے اپنے کپڑوں کو درست کیا اور عام انداز میں بیٹھ گئے۔

مانوی بھابھی بولی: مجھے یہ جگہ خطرناک لگتی ہے۔ ہم کسی تنہا جگہ پر کیوں نہیں چلے جائیں؟

مجھے اس پارک میں ایک خفیہ جگہ کا پتا ہے جہاں کوئی ہمیں نہیں دیکھ پائے گا ۔۔چلو اُٹھو:  میں نے جواب دیا۔ 

میں اسے اس جگہ لے گیا۔ میرے پیچھے چلتے ہوئے مانوی بھابھی اندر ہی اندر بے چین ہو رہی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ گھماؤدار پگڈنڈی پر چلتے ٹہلتے گئے اور پارک کے اندر بنی ایک چھوٹی پہاڑی پر پہنچ گئے۔ وہ راستہ گاڑیوں کے لیے ممنوع تھا۔ ہم ایک پتلے راستے سے ہوتے ہوئے وہاں پہاڑی کے اوپر پہنچ گئے۔ وہاں کا ماحول پرسکون اور تنہا تھا۔ آس پاس اندھیرا تھا، لیکن ہم ایک دوسرے کو چاندنی میں دیکھ سکتے تھے۔ 

جیسا کہ میں نے پچھلے کئی دنوں سے دیکھا تھا کہ اس وقت اس علاقے میں کوئی نہیں تھا۔ پارک کے اوپر ایک چھوٹا سا میدان تھا، کچھ بڑی چٹانیں ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔ میدان میں بلند گھاس، گھنی جھاڑیاں اور کچھ چھوٹے درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ ہمیں میدان کے ایک کنارے کے پاس ایک بنچ ملی جہاں سے نیچے سڑک کو بھی ہم دیکھ سکتے تھے۔ اگر کوئی اوپر آتا تو دور سے ہی نظر آ جاتا۔ اس وقت اس پہاڑی پر ہم دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ بنچ پر بیٹھ کر میں نے مانوی بھابھی کو اپنے پہلو میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

 میں نے کہا: یہاں کوئی ہمیں نہیں دیکھ سکتا، چلو وقت ضائع نہ کرو!

 بھابھی نے چاروں طرف دیکھا اور پھر مجھے کس کرنے  لگی۔ میں نے اس کا ہاتھ اپنے لنڈ پر رکھ دیا۔ میرا لنڈ  اب تک مکمل طور پر کھڑا تھا، لیکن جیسے ہی اس نے چھوا، میرا لنڈ اور زیادہ  سخت ہوگیا،  اور پھولنے لگ گیا۔ پھر میں نے اس کے بڑے مموں کو پکڑ لیا۔ میں انہیں چھونے کے لیے بے تاب تھا۔ مانوی بھابھی نے میری بیلٹ کھول دی، میری پتلون اتار دی اور میرے لنڈ کو میرے انڈرویئر کے اوپر سے ہی چاٹنے لگی۔ 

مانوی بھابھی نے پوچھا: کیا ہم جھاڑیوں کے پیچھے جا سکتے ہیں۔

 میں بھی جلدی سے تیار ہو گیا اور ہم ایک جگہ جھاڑیوں  کے بیچ میں چلے گئے جہاں کوئی آسانی سے ہمیں نہیں دیکھ سکتا تھا کہ اندر کوئی ہے یا نہیں۔ 

وہاں مانوی بھابھی نے میرا انڈرویئر نیچے کیا، لنڈ کو باہر نکالا اور اسے زور سے چوسنا شروع کر دیا، لیکن میرا لنڈ بہت بڑا تھا اور اس کے پورے منہ میں بڑی مشکل سے جا رہا تھا۔ مانوی بھابھی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا وہ میرے ٹٹوں  کو چاٹ سکتی ہے۔ میں نے اپنی پینٹ اور انڈرویئر اتار دیا اور اس نے میرے موٹے موٹے انڈوں کو چوسنا چاٹنا شروع کردیا، جس سے وہ چکنے ہو گئے۔ 

میں نے اس کی ساڑھی، بلاؤز اور برا اتار دی۔ وہ صرف اپنے پیٹی کوٹ میں رہ گئی تھی اور اس کے سخت بڑے بڑے ممے  میرے سامنے تنے ہوئے تھے۔ پھر میں نے اس کا انڈرویئر بھی اتار دیا۔ میری اوپری باڈی پر شرٹ کو چھوڑ کر میں کمر کے نیچے بالکل ننگا تھا۔ میرا10 انچ لمبا موٹا لنڈ چاندنی میں چمک رہا تھا اور سائز میں پہلے سے بھی بڑا دکھائی دے رہا تھا۔ 

میں نے اس کی ساڑھی کو پھیلا دیا اور بھابھی ساڑھی کے اوپر زمین پر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو میرے سامنے کر دیا۔ میں نے اس کی پھدی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، اس کی ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور پاؤں اٹھا کر اپنے  کندھوں پر رکھ دیے۔ میں نے لنڈ کو پھدی کے ہونٹوں  پر ٹکایا اور اسے زور سے دھکا دیا۔ 

مانوی بھابھی نے دھیمی آواز میں چیخ کر کہا: آآآآآآہہ، مجھے درد ہو رہا ہے۔ جب تک تم اسے تھوک سے چکنا نہیں کرو گے، تمہارا یہ بہت بڑا لنڈ میری پھدی کے اندر ایک انچ بھی نہیں گھسے گا۔ 

میں نے مسئلہ سمجھا اور کھڑا ہو گیا۔ 

مانوی بھابھی، آپ اسے چوس لیں اور اسے اپنی تھوک  سے چکنا کر دیں:  میں نے کہا۔ 

مانوی بھابھی نے فوراً اُٹھ کر میرے لن کو  چوسنا شروع کر دیا اور میرے لنڈ پر تھوک  کی زیادہ سے زیادہ مقدار پھیلا دی۔ جب اُس کا تھوک  زمین پر ٹپکنے لگا تو میں نے اسے لیٹنے کا اشارہ کیا۔ جیسے ہی وہ لیٹی، ایک تیز جھٹکے کے ساتھ میں نے اس کی پھدی میں لنڈ گھسا دیا۔ 

پچھ، آہہ۔۔۔ جیسے بوتل کھلنے کی آواز ہوتی ہے، ویسی ایک آواز سنائی دی اور میرا بہت بڑا لنڈ مانوی بھابھی کی پھدی میں سماء گیا۔ 

وہ بھی لنڈ کے اُس کی پھدی میں گھستے ہی پرسکون  ہو گئی اور میں نے آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کیے، لیکن جیسے جیسے میں نے اُس کی پھدی کی گہرائی میں اور زیادہ لنڈ کو گھسانے لگا، تواُسے بھی در د ہونے لگا، لیکن وہ کچھ کہہ نہیں رہی تھی بس ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔ میری رفتار بلٹ ٹرین کی طرح بڑھ گئی اور اُس کا  درد بھی آہستہ آہستہ جیسے جیسے لنڈ اُس کی پھدی میں ایڈجسٹ ہورہا تھا کم ہونے لگا ۔ اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ مزے لے کر سسکنے اور  کراہنے لگی۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page