کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔
نوٹ : ـــــــــ یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ کہانی بھی آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 16
آ میرا بیٹا ۔۔۔۔۔ بیٹھ جا آج بہت خوبصورت لگ رہا ہے ۔۔۔ہائےے ۔۔۔ نظر نہ لگے میرے شہزادے کو۔۔۔۔ ماں نےفوراً اُٹھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر میری بلائیں لی۔ اور کاجل کا ٹیکہ میرے کے کان کے پیچے لگایا۔اور گلے لگا کر بٹھایا۔۔۔
فریال بھی وہاں سب کے ساتھ بیٹھی ہوئے تھی وکی کو دیکھ کر اُس کے دل میں بھی اتھل پتھل سی ہوئی ۔۔۔۔۔ اور اس کو وکی کے ساتھ بیتائی ہوئی رات یاد آگئی ۔۔۔۔۔ اُس کا بھی دل کیا کہ وکی کو گلے لگا کر بھینچ لے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن سب کے سامنے وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اس نے خود پر بڑی مشکل سے کنٹرول کیا کیونکہ اُس کا شوہر بھی وہاں اُس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
اب کیسی ہے طبیعت ہے وکی ۔۔۔۔۔۔ چاچی نے مجھ سے طبیعت کا پوچھا
میں بلکل ٹھیک ہوں چاچی اب ۔۔۔۔۔ میں نے مڑکر چاچی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ میری نظریں چاچی سے ملی تو میری بھی دھڑکن تیز ہوگئی ۔۔۔
کیونکہ فریال بھی بہت بن ٹھن کر آئی تھی لال سوٹ میں وہ خود بھی بہت مست نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔ وکی کو اُس کی آنکھوں میں اپنے لیئے پیار کا سمندر کروٹیں لیتا محسوس ہوا۔ اس نے شرما کر سرجھکا لیا ۔۔۔۔ اُدھر فریال نے بھی رُخ موڑ لیا
اتنے میں ثمرین بھی آگئی اور ثمرین کو دیکھ کر سب کی نظریں اُس پر جم گئی ۔۔۔ لگتا تھا آج فیشن اور خوبصورتی کا مقابلہ چل رہا ہے۔۔۔۔
ثمرین نے بلیو کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا ۔۔۔جس میں وہ کسی پرستان سے آئی شہزادی لگ رہی تھی۔
اس کی خوبصورتی دیکھ کر میرے چہرے پر خود با خود مسکراہٹ آگئی جس کو اس نے بھی دیکھ لیا تھا ۔
جس سے اس کے چہرے پر چمک آگئی تھی ۔۔اسے بہت خوشی ہو رہی تھی۔کے وکی اس کو توجہ دے رہا ہے۔۔
چاچی کی نظر ہم دونوں پر تھی ۔۔۔ ہم دونوں کا انداز دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی ۔۔ انہوں نے کھانستے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس کروایا تو ہم دنوں ہی ہڑبڑا کر نظریں چرانے لگے ۔۔ ہم دونوں کو شرم آرہی تھی ۔۔ ثمرین نظریں جھکائے جلدی سے اگے آ کر ناشتے کے لیے بیٹھی تو فریال چاچی نے سب کے لیے ناشتہ لگایا اور سب ناشتہ کرنے لگے۔۔
ناشتہ کرنے کے دوران بڑے چاچو نے مجھے الگ سے کچھ رقم پکڑا دی تھی ۔۔ تاکہ میرے علاج میں کوئی کمی نہ ائے ۔۔کیونکہ ان کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ میں اج ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کروانے کے لیے جا رہا ہوں ۔۔۔
اس کے بعد جب میں چاچی اور ثمرین کے ساتھ گھر سے جانے لگا تو امی نے بھی کچھ پیسے میرے ہاتھ میں پکڑا دیے خرچے کے لئے ۔۔۔میں انہیں منع کر رہا تھا کہ میرے پاس پہلے ہی بہت پیسے ہیں تو وہ اگے سے ڈانٹتے ہوئے بولی۔:اب توں اتنا بڑا تو نہیں ہو گیا کہ ہمیں سکھائے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔ جب میں یہ دے رہی ہوں تو ارام سے پکڑ کر جيب میں ڈال ۔۔
ان کی بات سن کر میں نے گردن جھکا کر وہ پیسے جیب میں ڈال لئے تھے ۔۔گھر سے نکلنے کے بعد ہم نے ایک اٹو رکشہ کرایا اور ماہم کے گھر کی طرف جانے کے لیے رکشے میں سوار ہو گئے ۔۔
ماہم کے گھر پہنچ کر ثمرین نے بیل دی تو ایسا لگا کہ ماہم دروازے کے پاس ہی کھڑی انتظار کر رہی تھی۔۔۔ کیونکہ جیسے ہی ثمرین نے بیل بجائی اس کے چند لمحوں بعد ہی دیر ماہم نے دروازہ کھول دیا تھا ۔۔
ماہم نے بھی بلیو جینز اور بلو شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔ اج وہ بھی اس ڈرس میں کمال کی لگ رہی تھی۔۔ ماہم کے 36 کے ممے شارٹ کے باہر جھانک رہے تھے۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں زبردستی قید کر رکھا ہو جبکہ وہ ازادی چاہتے ہوں اس قید سے ۔۔۔ میری نظر مسسل وہاں ٹھری ہوئی تھیں اور ان حسن کے پیڑوں کا دیدار کر رہی تھیں۔۔۔
وہیں ماہم بھی نوٹ کر رہی تھی کہ وکی کی نظروں کو ۔۔۔لیکن ماہم کے لیے یہ عجیب بات نہیں تھی اور نہ ہی اس نے وکی کا اس طرح دیکھنے کا برا منایا ۔۔بلکہ اس کی خود کی حالت وکی کو دیکھ کر بری ہو گئی تھی ۔۔اس کے دل کی حالت زیر و زبر ہو گئی تھی ۔۔ اسے وہ وقت یاد اگیا تھا۔۔۔جب اس نے فریال چاچی کے ساتھ مل کر وکی کی شلوار اتاری تھی اور اسے دوسری شلوار پہنائی تھی۔۔۔
فریال کی نظریں بھی دونوں پر تھی ۔۔ انہوں نے گلا گھنگھار کر ہم دنوں کو اپنی اور ثمرین ا کی موجودگی کا احساس دلایا تو ہم دونوں نے ارد گرد دیکھتے ہوئے شرم سے سر جھکا لیا۔۔
ثمرین۔: اب یہاں ہی کھڑے رکھنا ہے یا اندر بھی انے دو گی۔۔۔
ثمرین کی بات سن کر وہ شرمندہ ہوتے ہوۓ ہم سے بولی : اوہ سوری اؤ اندر ا جاؤ چاچی اپ بھی اندر آئیں ۔۔
ثمرین اندر داخل ہوتے ساتھ ہی بولی یار تم اب کسی تکلف میں نہیں پڑ جانا۔۔۔۔ ہم ابھی ناشتہ کر کے ائے ہیں
ماہم بولی۔: اچھا ٹھیک ہے پر چائے تو پینی پڑے گی۔۔
فریال چاچی۔: نہیں ماہم ہم ابھی پی کر ائے ہیں ۔۔ویسے بھی یہ ہمارا اپنا گھر ہے ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو ہم خود سے کہہ دیں گے۔۔
ماہم بولی۔: بالکل انٹی یہ اپ کا اپنا گھر ہے۔۔۔اس لئے کوئی بھی تکلف مت کرنا بے ججھک بتا دینا اگر کسی چیز کا دل ہو ۔۔
اتنا بول کر ماہم مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی: تمہاری طبیعت اب کیسی ہے درد سے ارام ایا یا نہیں ؟
اس کی بات سن کر میں مسکراتے ہوۓ بولا۔:میں اب بالکل ٹھیک ہوں
ماہم بولی:۔ اس چڑیل نے تمہاری خدمت کی یا ایسے ہی چھوڑ دیا گھر جا کر ۔۔۔بھول تو نہیں گئی تھی ۔۔
چاچی بولی۔:اپ کو بڑی فکر ہو رہی ہے ڈاکٹر صاحبہ ۔۔
ماہم بولی۔۔۔ فکر کیوں نہ ہو جب ہمارا مریض اتنا ہینڈسم ہو ۔۔
ماہم کی بات سن کر سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔۔
پھر ماہم ایک دفعہ پھر سے مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی: اؤ پہلے پٹی تبدیل کر دیتی ہوں تمہاری ۔۔
اس کے بعد ماہم نے میری پٹی تبدیل کی۔۔۔ میرا زخم اب پہلے سے کافی بہتر تھا ۔۔ایک تو ماہم کی دی ہوئی دوائیوں کا اثر تھا دوسرا سب کی دعائیں تھیں۔۔
ایک بجے کے قریب تک وہ تینوں وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔۔ مجھے تو نیند نے ا گھیرا تھا جس کی وجہ سے میں تو وہیں پر ہی بیڈ پر لیٹتے ساتھ ہی سو گیا تھا ۔۔ ایک بجے کے قریب مجھے ماہم نے اٹھایا تو میں فریش ہو کر باہر آگیا جہاں ماہم نے کھانا تیار کر لیا تھا ۔۔ ہم سب نے مل کر کھانا کھایا پھر چاچی نے ماہم کو سائیڈ پر لے جا کر کچھ پیسے پکڑانے لگی تو ماہم بولی:: انٹی اپ یہ کیا کر رہی ہیں کیا میں کوئی غیر ہوں یا اپ مجھے اپنا نہیں سمجھتی۔۔۔ ثمرین میری بہت اچھی دوست ہے۔۔ میں یہ پیسے ہرگز نہیں لے سکتی۔۔۔
کیوں نہیں لے سکتی تم یہ پیسے یہ اواز ثمرین کی تھی تمہیں پیسے تو لینے پڑیں گے نہیں تو ہم یہاں پھر کبھی نہیں ائیں گے۔۔
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
-
The essence of relationships –25– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –24– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –23– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –22– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –21– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –20– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 13, 2025