کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔
نوٹ : ـــــــــ یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ کہانی بھی آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 19
ماہم۔:۔ میں ثمرین کو بتاوں ۔۔۔۔ کہ کیسےاُس کا بھائی اُس کی دوست کے خزانے کو چھیڑ رہا ہے۔
میں :بلاؤ آج وہ بھی تو دیکھے کہاں رکھتے ہیں پیسے۔
ماہم۔ :وکی تم بہت گندے ہو ۔۔۔۔۔لیکن آگر تم پیسے رکھنا چاہتے ہو تو میں تم کو منع نہیں کروں گی۔۔
میں۔ بولا : میں تو مذاق کر رہا تھا آپ سے۔۔
ماہم۔ :۔مجھے پتہ ہے تم بُرے انسان نہیں ہو
کتنی دیر لگے گی ۔۔۔۔۔۔۔یہ آواز فریال کی تھی جو کمرے میں آتے ہوئے کہ رہی تھی۔۔
میں ۔:چاچی یہ پیسے لے ہی نہیں رہی۔
فریال۔ : تو تم بھی پیسے نا دو ۔۔۔۔اچھا چھوڑو یہ بتاو کب چلیں رات ہو رہی ہے۔۔۔ باجی انتظار کر رہی ہو گی۔۔
میں :۔۔چاچی آپ اپنا ساماں اٹھاؤ ہم چلتے ہیں۔
ماہم۔۔: ایسے کیسے چلتے ہیں ۔۔۔۔میں چائے بناتی ہوں۔۔۔ آپ لوگوں کو پی کر جانا پڑے گا۔
فریال۔:اتنا تکلف کیوں کر رہی ہو ابھی تو ہم نے کھانا کھایا ہے۔
ماہم۔ : ۔اس میں تکلف کی کیابات ہے ۔۔۔۔ بلکہ مجھے خوشی ہو گی اس سب میں ۔۔۔
فریال۔:۔ اچھا بناؤ چائے ۔۔۔۔ ہم چائے پی کر جائیں گے ۔ جیسے تم کو خوشی ملے۔۔
ماہم نے چائے بنائی پھر سب نے مل کر چائے ختم کی۔ اور ہم گھر چل دیے ثمرین اپنا بیگ ماہم کے گھر ہی بھول گئی تھی ۔۔۔۔۔
میں۔بولا :میں لے کر آتا ہوں ۔۔فریال اور ثمرین رکشہ سٹینڈ پر ہی رُک گئی ۔اور میں ثمرین کا بیگ لینے ماہم کے گھر واپس آیا۔۔۔
میں نے گھر کی بیل بجائی تو بیل کے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا جیسے ماہم بیل کا انتظار کر رہی ہو۔۔
میں ۔:۔ باجی کا بیگ یہاں رہ گیا ہے اور میں لینے آیا ہوں۔۔
ماہم۔ ۔:۔میں نے ہی رکھا تھا مجھے میری فیس چاھیے تھی۔۔۔
ماہم کی بات سُن کر میں جیب سے پیسے نکالنے لگا تو ماہم بولی۔
ماہم ۔۔: نہیں یہ نہیں چاہئے
میں ۔۔: پھر اور کون سی فیس؟
ماہم ہنستے ہوئے ہونٹوں پر ہاتھ لگا کر یہ والی
میں ۔ :۔وہ تو میں دے چکا ہوں
ماہم ۔:۔۔مجھے اور چاہئے۔
میں ۔: ابھی چاچی اور باجی انتظار کر رہی ہیں ۔۔۔بعدمیں دے دونگا جتنا مرضی لے لینا۔۔
ماہم۔ : وہ تو میں لے لوں گی لیکن ابھی مجھے کچھ ایڈوانس چاہئے۔
میں ۔:۔ابھی اگر نا دوں تو۔۔۔؟
میں ابھی کہہ ہی رہا تھا ماہم نے آگے بڑھ کر میرے سرکو پکڑ کر جھکایا اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر ایک زبردست ڈیپ کس کی اور کہا۔
ماہم۔: پھر تو میں ایسے لے لوں گی ۔۔۔۔
اتنا بول کر وہ ۔ ہنسنے لگی۔۔
ان کو ہنستا ہوا دیکھ کر میں بھی ہنسنے لگا۔۔۔ اور کہا کہ” اچھی بدمعاشی ہے تمہاری۔۔
ماہم بولی :۔ اصل میں میں نے تم کو واپس بلانے کے لیئےبیگ رکھا تھا کیونکہ ۔۔۔۔ چاچی آگئی تھی اور اس کے بعد ہم کوئی بات نہیں کر سکے ۔۔۔ تو ایسا کرنا کہ جب تم فارغ ہو طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد تو پھر میرے پاس آجانا ۔۔۔۔۔ میں نے کچھ ضروری باتیں کرنی ہے تمہارے ساتھ۔۔
میں بولا : اوکے میں آجاؤں گا۔۔۔ابھی اجازت ہے کیونکہ میرا انتظار ہورہا ہے ۔۔۔
میری بات سن کر ماہم نے ہنستے ہوئے جانے کا کہا اور میں بھی ہنستا ہوا بیگ لے کر چل دیا ۔۔۔۔پھر ملنے کا کہہ کر۔
میں جیسے ہی رکشہ اسٹینڈ پر پہنچا تو چاچی نے پوچھا اتنی دیر کہاں لگا دی۔۔
میں بولا : ۔بیگ دیکھ رہا تھا یہ بھی تو رکھ کر بھول جاتی ہے کہ کہاں رکھا ہے ۔
پھر ہم سب رکشا میں بیٹھ کرگھر کو چل دئیے۔۔۔۔ گھر میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ماں مجھ سے گلے ملی ۔۔۔۔میرا ماتھا چوما پھر بڑی چاچی نے مجھ کو گلے لگا کر پیار دیا ۔۔۔۔اور دونوں نے مجھ سے طبیعت کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔ ڈاکٹر نے کیا کہاکب تک تمہارے زخم وغیرہ ٹھیک ہوجائیں گے ۔۔۔۔ دونوں کو فریال چاچی اور ثمرین نے تسلی دی ۔۔۔ کہ جلدی ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔
پھر ثمرین مجھے لے کر میرے کمرے میں چلی گئی اور باقی سب وہیں بیٹھ گے۔
باجی مجھے کمرے میں لے کر آئی اور بولی:۔شکریہ تم نے میری دوست کی بھی مدد کی۔۔
میں بولا : ۔ ایسی کوئی بات نہیں باجی اُس کی مدد تو انجانے میں ہوگئی ۔۔۔ لیکن اگر مجھے پتہ ہوتا تو بھی کرتا ۔
ثمرین کو باجی لفظ پہلی بار بُرا لگا کیوں کہ اب وہ وکی کو بھائی سے زیادہ ماننے لگی تھی۔۔۔۔
وکی کے لیے اس کے جذبات پہلے ہی سے تھے۔۔ لیکن ابھی اُن میں شدت کچھ اور زیادہ ہوگئی تھی ۔۔۔ جس کی وجہ سے اُس کو اب وکی کا باجی کہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
ثمرین۔: وکی ایک بات کہوں مانوں گےمیری بات ۔۔۔۔۔؟
میں بولا : جی باجی آپ کو اجازات لینے کی کیا ضروت ہے۔جو کہنا ہے کہہ دیا کریں۔
ثمرین۔ :۔میں تمہیں نام سی بلاتی ہوں۔۔۔ تو تم بھی مجھے میرے نام سے بلایا کرو ناں۔
میں بولا :میں کیسے کہہ سکتا ہوں آپ بڑی ہیں مجھ سے اور اگر کسی نے سن لیا تو میری عزت افزائی کردی جائے گی۔۔
ثمرین۔: اچھا تم ایسا کرنا جب ہم دونوں اکیلے ہوں تب تم مجھے ثمرین کہا کرو۔۔۔۔۔ اور جب گھر والے پاس ہوں تو مجھے باجی کہہ دیا کرو۔۔۔۔۔ کیا خیال ہے۔۔۔۔
وکی: ٹھیک ہے، باجی ۔
ثمرین: ارے، پھر سے باجی؟ ابھی تو ہم اکیلے ہیں نا۔ میرے نام سے پکارو!
وکی: اوکے، ثمرین۔ باجی
ثمرین: واہ، پھر سے؟
وکی: اچھا بابا، مذاق کر رہا تھا۔ اب نہیں کہتا۔
وکی اور ثمرین ابھی ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے تھے کہ اتنے میں فریال کمرے میں داخل ہوگئی۔
فریال : اوئے، تم دونوں کیا کر رہے ہو؟
ثمرین: کچھ نہیں چاچی، میں تو وکی کا شکریہ ادا کر رہی تھی کہ اس نے میری سہیلی کی بہت مدد کی۔
فریال: ہاں ہاں، ایسا ہی ہوتا ہے شکریہ ادا کرنا! ہاہاہا۔
ثمرین (شرما کر): چاچی، آپ غلط سمجھ رہی ہیں!
فریال: ارے، میں تو مذاق کر رہی ہوں۔ مجھے پتا ہے میری بیٹی ایسی ویسی کوئی حرکت نہیں کر سکتی۔ اور اگر وکی کے ساتھ کچھ کر بھی لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ (شرارتی انداز میں وکی کی طرف دیکھتے ہوئے)
وکی کے جسم میں چھوٹی سی سنسنی سی دوڑ گئی۔
ثمرین: چاچی، آپ پھر شروع ہوگئیں!
فریال: تو اس میں کیا غلط ہے؟ وکی ہے ہی اتنا اچھا کہ نیت تو پھسل ہی جاتی ہے۔ (دل میں بولی: اور لن اتنا بڑا ہے کہ پھدی پھٹ جاتی ہے !
ثمرین: چاچی، کیا سوچنے لگ گئیں؟
فریال: کچھ نہیں، بس ویسے ہی۔
وکی: آپ دونوں تو آپس میں ہی لگ پڑیں، ہم بھی تو ہیں یہاں! (مستی بھرے انداز میں)
فریال: ثمرین، دیکھو یہ کتنا بولنے لگا ہے!
ثمرین: ہاہاہا، ہاں چاچی، اس کا کچھ کرنا پڑے گا۔
فریال: تو کر دو نا، کس انتظار میں ہو؟ (وکی کی طرف شرارتی انداز میں دیکھتے ہوئے)
ثمرین: کیا کروں چاچی؟
فریال: میرا مطلب ہے اس کے کان کھینچو، اس کی پھینٹی لگاؤ، اسے سبق سکھاؤ!
وکی: اب میں نے کیا کیا ہے؟
فریال: زیادہ ہوشیار نہ بنو، مجھے سب پتہ ہے تمہارا!
وکی یکدم چپ ہو گیا۔ اسے ڈر لگنے لگا کہ کہیں چاچی نے اسے ماہم کے ساتھ دیکھ تو نہیں لیا؟ کہیں وہ اس بات پر ناراض تو نہیں؟ اسے پتا تھا کہ عورتوں کو ایک دوسری عورت سے حسد ہوتا ہے، اور اگر چاچی کو واقعی کچھ پتا چل گیا تو سب کچھ برباد ہو سکتا ہے۔ اس کی عزت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
-
The essence of relationships –25– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –24– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –23– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –22– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –21– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –20– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 13, 2025