Reflection–41–عکس قسط نمبر

عکس

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور بہترین کہانی ۔۔  عکس۔۔ایک ایسے لڑکے کی داستان جو اپنے والدین کی موت کے بعد اپنے چاچا چاچی  کے ظلم کا شکار ہوا اور پاگل بناکر پاگل خانے میں پہنچادیا گیا۔ جہاں سے وہ ایک ایسے بورڈنگ اسکول پہنچا  جہاں سب کچھ ہی عجیب و غریب تھا، کیونکہ یہ اسکول عام انسان نہیں چلا رہےتھے ۔ بلکہ شاید انسان ہی نہیں چلارتھے ۔چندرمکی ۔۔ایک صدیوں پرانی ہستی ۔ ۔۔جس کے پاس کچھ عجیب شکتیاں  تھی۔ انہونی، جادوئی شکتیاں ۔۔۔جو وہ  ان سے شیئر کرتی، جو اس کی مدد کرتے ۔۔۔وہ ان میں اپنی روشنی سے۔۔۔ غیرمعمولی صلاحیتیں اُجاگَر کرتی۔۔۔ جسمانی صلاحیتیں، ہزار انسانوں کےبرابر طاقتور ہونے کی ۔۔جو  وہ خاص کر لڑکوں کے  زریعےیہ طاقت حاصل کرتی ۔۔ ان لڑکوں کو پِھر دُنیا میں واپس بھیج دیا جاتا۔۔تاکہ وہ چندر مکی کی جادوئی صلاحیتوں کے ذریعے، اپنی جنسی قوتوں کا خوب استعمال کریں۔ وہ جتنے لوگوں سے ، جتنی زیادہ جسمانی تعلق رکھیں گے، ان کے اندر اتنی جنسی طاقت جمع ہوتی جائے گی ‘اور چندر مکی کو ان لڑکوں سے وہ طاقت، اس کی دی گئی روشنی کے ذریعے منتقل ہوتی رہتی ۔۔۔ اِس طرح چندر مکی کی جادوی قووتیں اور بڑھ جاتی ۔۔۔ اور پِھروہ ان قووتوں کا کچھ حصہ اپنے مددگاروں میں بانٹ دیتی ۔ اور صدیوں سے یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا آرہاہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عکس قسط نمبر - 41

کیا بہودگی تھی۔

یعنی میری کوئی سوچ پرائیویٹ نہ تھی یہاں؟ سب کو پتا چل رہا تھا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں۔ مجھے جھنجھلاہٹ ہوئی، لیکن پھر میں کچن کی طرف مڑ گیا۔

بعد میں پوچھتا ہوں تمہیں… ابھی فلحال میرے دماغ سے دفع ہو جاؤ۔

میں نے اپنے ذہن میں کہا۔

اوکے باس!”

جمال کی آواز آئی اور پھر اس کا احساس ختم ہوگیا۔ وہ چلا گیا تھا۔

میں کچن میں پہنچا تو ہنسیکا چچی ناشتہ پلیٹ میں ڈال رہی تھیں۔ وہ ٹیبل پر تھوڑا سا جھکی ہوئی تھیں۔ ان کے بال ایک طرف کو گرے ہوئے تھے اور ان کی قمیض کے گلے سے ان کے بڑے اور سڈول مموں کا اوپری حصہ چھلک رہا تھا۔ میری نظر ان کے مموں کی لائن میں آتی گئی… جو نیچے جاتے ہوئے گہری ہوتی جا رہی تھی۔

میرے لن میں حرکت ہوئی۔ کافی دن ہوچکے تھے مجھے اس مصیبت میں۔ میری راتیں کچھ عرصے پہلے جیسی رنگین نہیں رہی تھیں۔ اور ظاہر ہے ان راتوں میں لن ہلانے سے میری خواری پوری نہیں ہو رہی تھی۔
مجھے مس فریال کے ممے یاد آگئے اور ساتھ ہی زبان پر سسٹر شیتل کے مموں کا ذائقہ
ہنسیکا چچی کو یکدم میری موجودگی کا احساس ہوا تو انہوں نے اسی پوزیشن میں اپنی نگاہیں میری طرف کیں… کل رات والی مسکراہٹ  ان کے چہرے پر پھیل گئی۔
وہ مجھے اپنے ممے تاڑتے ہوئے دیکھ چکی تھیں۔
ارے شانی… آئی تھاٹ کہ تم نے تو ناشتہ کر لیا تھا۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ایک انچ نہ ہلیں، اسی پوزیشن میں رہیں۔

شاید ان کو میری نگاہوں کے تیر اپنے سینے کے ابھاروں پر محسوس ہوتے برے نہیں لگے تھے۔

جی۔” میں بدستور سرگوشی جیسی آواز میں بولا۔

میں نے سوچا آپ اکیلی ناشتہ کریں گی… کمپنی دینے آ گیا تھا۔ ویسے بھی… مجھے تھوڑی چائے اور پینی تھی… سر تھوڑا  درد کر رہا ہے صبح سے۔”

میری ایکٹنگ اور میرے بہانے، دونوں ہی ٹاپ کلاس تھے۔

اوہ، سو سویٹ۔ آؤ، میں چائے بناتی ہوں…”
وہ اپنی پلیٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے فریج کی طرف مڑ گئیں۔

میں چیئر کھینچ کے بیٹھ گیا۔

میری نظر ان کی بھری بھری گانڈ کی طرف تھی۔ انہوں نے چھوٹی قمیض پہنی ہوئی تھی جو ان کے کولہوں سے ذرا سے نیچے آ کر ختم ہو جاتی۔ نیچے چست سا پاجامہ تھا جس میں ان کی سڈول رانیں مجھے دعوت دے رہی تھیں۔ میرے دیکھتے دیکھتے انہوں نے فریج کھولا اور جھک گئیں۔ جیسے کچھ ڈھونڈھ رہی ہوں۔ ان کا جسم ہلا اور پیچھے سے اٹھی ہوئی ان کی گانڈ بھی۔
قمیض ہلنے سے تھوڑی سرک گئی اور ان کے تنگ پاجامے میں قید ان کی گانڈ کا کچھ حصہ دِکھنے لگا۔

میرا لن بے قابو ہو رہا تھا۔ میں کچھ دیر پہلے ہی سو کر اٹھا تھا لہذا سلیپنگ سوٹ کے ڈھیلے پاجامے میں ہی تھا… بغیر انڈر ویئر کے۔
کچھ سیکنڈز مجھے ایسے خوار کرتے ہوئے وہ اپنی گانڈ سکڑ کر کھڑی ہوگئیں۔ ان کے ہاتھ میں دودھ کا پیک تھا۔

انہوں نے فریج بند کیا اور ویسے ہی چلتی ہوئی کاؤنٹر پر آ کر چائے بنانے لگیں۔
ان کی گانڈ ایک بار پھر میرے سامنے تھی۔

اتنے خاموش کیوں ہو شانی؟

ان کی کھنکتی آواز نے سکوت توڑا۔

نتھنگ۔ بس آپ کو دیکھ رہا تھا…”

میں نے تفریح لینے کے غرض سے ہلکا سا خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔

ہنسیکا چچی ہنسی اور پیچھے مڑ کر میری طرف تیکھی نگاہوں سے دیکھتے بولیں۔

کیا دیکھ رہے تھے مجھ میں؟

بڑا ڈائریکٹ سا سوال تھا۔ کوئی اور ہوتا تو بکھلا جاتا یا پھوٹ دیتا کہ کیا دیکھ رہا تھا۔

 لیکن مجھے ہلکا نہیں آنا تھا۔ فوراً سے دوبارہ کریکٹر میں آ کر میں نے میخنی سی آواز میں جواب دیا۔

بس… یہ دیکھ رہا تھا کہ آپ لوگ کتنا خیال کرتے ہیں میرا۔ بورڈنگ سکول میں بن وقت کچھ نہیں ملتا تھا… سپیشلی میرے لیے کبھی کسی نے ایسا نہیں کیا جیسا آپ لوگ کر رہے ہیں میرے ساتھ…”

آخری جملہ بڑا ذومنی تھا۔ لیکن جس انداز سے میں نے یہ ایموشنل رنڈی رونا  رویا تھا، وہ کام کر گیا۔

ہنسیکا چچی کے چہرے پر حرامی سی مسکراہٹ کچھ سیکنڈز کے لیے سکڑ کر بڑی دل کش ہوگئی، جیسے میرا رنڈی رونا ان کے دل کو چھو گیا ہو۔

چلو… کوئی نہیں” اگلے ہی لمحے وہ خود کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ اسی مسکراہٹ سے بولیں۔ “آج سے آپ میرے لیے سپیشل ہو… اوکے شانی؟

ایک بہن مجھے طعنے دے دے کر مارنا چاہ رہی تھی اور دوسری مجھے خوار کر کر کے۔ کیا ٹائٹ سچویشن تھی۔ میں نے بھی جواب میں ایک ہولناک سی مسکراہٹ دیتے ہوئے کہا۔

تھینک یو… ہنسیکا چچی۔

اچھا یہ چچی وچی چھوڑو… ہنسیکا کہا کرو بس۔ چچی سے لگتا ہے جیسے میں کوئی پچاس سال کی عورت ہوں۔

وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں۔

بتاؤ، کیا میں پچاس سال کی لگتی ہوں؟” انہوں نے ایک بار پھر مجھے گھورتے ہوئے سوال کیا۔

بلکل بھی نہیں۔ ہنسیکا چچ… آئی مِین ہنسیکا، آپ ینگ لگتی ہیں بہت۔

میں نے جواب میں تھوڑی تعریف کی۔

اچھا؟ ینگ لگتی ہوں میں۔”ان کی مسکراہٹ واپس آگئی۔

وہ چائے میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگیں۔
ویسے تم نے بتایا تھا کہ تم بورڈنگ سکول میں روز ایکسرسائز کیا کرتے تھے؟

جی۔ روز صبح۔

میں نے کپ لیتے ہوئے جواب دیا۔

وہ ناشتہ کے لیے بیٹھتے ہوئے بولیں۔

تو کیا اب نہیں کرتے تم؟

نہیں… کرتا ہوں بلکل کرتا ہوں۔ اوپر روم میں۔

میں نے ایک چسکی لیتے ہوئے کہا۔

ارے یہ روم میں کرنے کی کیا ضرورت۔ آئی تھنک تمہیں ہمارا یوگا سینٹر جوائن کر لینا چاہیے۔ کون سے تم سے پیسے مانگیں گے ہم…؟” وہ ہنسی اور ناشتہ کرنے لگیں۔

وہاں اور لوگ بھی آتے ہیں؟” میں نے سوال کیا۔

ہمم… سوریا کے… گلفام کے… اور میرے کچھ جاننے والے ہیں بس وہی آتے ہیں… زیادہ لوگ ہم رکھنا بھی نہیں چاہتے…” وہ بولیں۔

اوہ اوکے… کب ہوتا ہے شروع اپنا ٹریننگ سینٹر؟” میں نے پوچھا۔

ہمم… یہی… کوئی… صبح گیارہ بجے تک… بٹ اونلی… آن ویک اینڈز…”
ہنسیکا چچی نے کھاتے ہوئے جواب دیا۔

اوکے میں ضرور آؤں گا…”میں بولا،

اور پھر ہم اسی پر کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔

کل ملا کر کوئی آٹھ لوگ تھے جو آتے تھے۔ چھ خواتین اور دو مرد۔ فی بندہ بارہ پندرہ ہزار روپے دیتے تھے۔

مہینے کے آٹھ دنوں میں لاکھ روپے بنا رہے تھے یہ لوگ۔ کیا اندھی مچی تھی۔

جب تک ان کا ناشتہ ختم نہ ہوا اور میری چائے، ہم باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد انہوں نے پلیٹس کچن کے سنک میں رکھتے ہوئے کہا۔

آج کام والا چھٹی پر ہے… شاید برتن خود دھونے پڑیں…”

اتنا کہہ کر انہوں نے مجھے تیکھی نگاہوں سے دیکھا۔
آپ کو ہیلپ کی ضرورت ہے؟میں نے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں۔

اگر تم مائنڈ نہ کرو… میں صبح سے نکلی ہوئی ہوں اور کچھ دیر لیٹ کر آرام کرنا چاہتی ہوں… کیا تم میرے لیے برتن دھو دو گے؟” وہ سیکسی انداز سے بولیں جیسے مجھے الو بنا کر اپنا کام نکلوانا چاہتی ہوں۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page