Reflection–48–عکس قسط نمبر

عکس

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور بہترین کہانی ۔۔  عکس۔۔ایک ایسے لڑکے کی داستان جو اپنے والدین کی موت کے بعد اپنے چاچا چاچی  کے ظلم کا شکار ہوا اور پاگل بناکر پاگل خانے میں پہنچادیا گیا۔ جہاں سے وہ ایک ایسے بورڈنگ اسکول پہنچا  جہاں سب کچھ ہی عجیب و غریب تھا، کیونکہ یہ اسکول عام انسان نہیں چلا رہےتھے ۔ بلکہ شاید انسان ہی نہیں چلارتھے ۔چندرمکی ۔۔ایک صدیوں پرانی ہستی ۔ ۔۔جس کے پاس کچھ عجیب شکتیاں  تھی۔ انہونی، جادوئی شکتیاں ۔۔۔جو وہ  ان سے شیئر کرتی، جو اس کی مدد کرتے ۔۔۔وہ ان میں اپنی روشنی سے۔۔۔ غیرمعمولی صلاحیتیں اُجاگَر کرتی۔۔۔ جسمانی صلاحیتیں، ہزار انسانوں کےبرابر طاقتور ہونے کی ۔۔جو  وہ خاص کر لڑکوں کے  زریعےیہ طاقت حاصل کرتی ۔۔ ان لڑکوں کو پِھر دُنیا میں واپس بھیج دیا جاتا۔۔تاکہ وہ چندر مکی کی جادوئی صلاحیتوں کے ذریعے، اپنی جنسی قوتوں کا خوب استعمال کریں۔ وہ جتنے لوگوں سے ، جتنی زیادہ جسمانی تعلق رکھیں گے، ان کے اندر اتنی جنسی طاقت جمع ہوتی جائے گی ‘اور چندر مکی کو ان لڑکوں سے وہ طاقت، اس کی دی گئی روشنی کے ذریعے منتقل ہوتی رہتی ۔۔۔ اِس طرح چندر مکی کی جادوی قووتیں اور بڑھ جاتی ۔۔۔ اور پِھروہ ان قووتوں کا کچھ حصہ اپنے مددگاروں میں بانٹ دیتی ۔ اور صدیوں سے یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا آرہاہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عکس قسط نمبر - 48

اس دوران میں چوری چھپے اس کے جسم کا جائزہ بھی لیتا رہا۔ اس کا پیٹ کافی چپٹا تھا۔ جب بھی اس کی ٹی شرٹ کھنچ کر اس کے پیٹ سے لگتی، اس کا سینہ خوبصورتی سے نمایاں ہوتا۔ بہت دلکش تھی سوریا۔  اس کے پستان مس کنایہ جتنی ہی لگ رہے تھے۔ اپنی عمر سے بڑے۔ سوریا کے بارے طرح طرح خیالات دماغ میں آرہے تھے۔ اور یہاں میرا لن سخت ہوتا رانوں  کے جکڑ سے آزادی  کی کوشش کر رہا تھا۔

اس دوران اس نے مجھ سے اپنا نمبر بھی شیئر کر لیا۔ پھر لنچ کا وقت ہونے لگا تو میں نے رخصت مانگی۔ اس نے بیئر ختم کرتے ہوئے مجھے سنجیدہ انداز میں کہا،

سنو…” وہ خالی کین کو ڈسٹ بن میں پھینکتے ہوئے بولی۔

“ہم اکیلے میں اس طرح دوستوں کی طرح باتیں کر سکتے ہیں، لیکن… میں سب کے سامنے تمہارے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھ سکتی۔ میں کمزور نہیں دکھ سکتی،  خاص طور پر گلفام کی موجودگی میں۔ میری ساکھ کا سوال ہے۔ امید ہے تم سمجھ رہے ہو؟

پریشان نہ ہوں، یہ ہمارا  راز ہے۔” میں نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا۔

کتنی دوغلی تھی سوریا۔ اپنی “ساکھ” کے سامنے مجھے قربان کر رہی تھی۔ سچ مانیں تو وہ ایک دوہری زندگی جی رہی تھی۔ اور شاید اسی لیے وہ مجھے جذباتی طور پر کچھ کمزور لگ رہی تھی۔ میرا کام اب اس کا اعتماد حاصل کرنا تھا،  اور پھر اسے سب سے تنہا کرنا تھا، یہاں تک کہ وہ ہر چیز کے لیے صرف مجھ پر انحصار کرے۔ میری تابعداری کرے۔

انہی سوچوں میں گم، میں نے سوریا کو الوداع کہا اور سیڑھیوں سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

باقی لنچ اور ڈنر تک سب کچھ معمول کے مطابق رہا۔ میں نے برتن دھو کر سائیڈ پر رکھے اور اپنے کمرے میں جا کر گھس گیا۔  

بیڈ پر لیٹے ہوئے سوریا کے نشیب و فراز کے بارے میں سوچتا ہوا میرا ہاتھ لن سہلا رہا تھا۔  لن میں منی منہ تک آچکی تھی جیسے۔ ایسا جلن محسوس ہورہا تھا۔ اور لن سہلاتے سہلاتے میرا دماغ  پیچھے چلاگیا بورڈنگ سکول۔۔۔ جہاں میں نے ڈر کے ساتھ کچھ رنگین دن، رات بھی گزارے تھے۔

سسٹر شیتل کی نشیلی آنکھیں  مجھے دیکھ رہی تھی اور وہ ایک دلفریب سمائل کے ساتھ میرے سَر پہ ہاتھ پھیر رہی تھی۔

وہ آہستہ سے مجھ پہ جھکی  اور میرے ہونٹوں کا ایک بوسہ لیتے ہوئے اپنا  بڑے ممے کےنپل میرے منہ سے لگا گئی۔ اس کا یوں بوسہ دینا مجھے بڑا اچھا لگا تھا۔
کچھ دیر میں ایسے ہی اس کے ممے چوستا رہا اور پِھر اچانک اس نے مجھے خود سے الگ کر دیا ۔ اس نے اپنے لہلاتے کھلے بال یکجا کرکے ایک بار پِھر جوڑے میں قید کیے۔۔۔ اس کا پُراسرار حُسْن اِس وقت مجھے پاگل  کر رہا تھا۔  وہ پِھر میرے پجامے پہ جھکی اور اس نے ایک جھٹکے سے اسے اُتار  دیا۔

میرا چھوٹا سا لن پھڑپھڑاتا  ہوا ننگا ہو گیا۔

سسٹر شیتل نے سمائل دی اور اپنا چہرہ میرے لن کے پاس لے گئی۔اس نے اپنےمنہ میں کچھ تھوک جمع کیا اور میرے لن پہ لگا دیا۔  اس کا تھوک لگنا تھا کہ جیسے میرے لن پہ جلن سی ہوئی۔
میں ایک دم سے پیچھے ہوا تو اس نے مجھے کس کر ٹانگوں سے پکڑ لیا۔

میں منمناتا رہا اور وہ میرے لن پہ اپنا گرم تھوک ڈالتی رہی ۔ اور پِھر اس نے ایک جھٹکے سے میرا لن اپنے منہ میں اُتار لیا۔  ایک دم سے ساری جلن ختم ہوگئی۔

سسٹر شیتل میرے  مرجھائے   ہوئے لن کوچوسنا شروع  ہوگئی۔  اُس ٹائم میں پہلی  بار ایک عورت سے چوپا  لگوا  رہا تھا اور وہ بھی ایسی عورت جو شاید کچھ اور ہی   بَلاتھی۔ لیکن میرے ذہن میں مجھے ایسا لگ رہا تھا  جیسے میں یہ سب کرتا رہا ہوں۔
کچھ سیکنڈز میں ہی میں سخت ہونا شروع ہو گیا۔ سسٹر شیتل بہت تحمل سے میرا لن چُوسے جا رہی تھی ۔ جیسے اس کی زندگی میں اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہو۔
مجھے اتنا مزہ آرہا تھا کہ میری سانس چڑھنا شروع ہوگئی۔ سیکس کے معاملے میں ، میں اپنی عمر کے باقی لڑکوں کے برعکس بہت کم تجسس رکھتا تھا اُس وقت۔

میری زندگی کے حالات اُس وقت مجھے ایسی چیزوں  کے بارے میں سوچنے کی اجازت  نہ  دیتے  تھے ۔ لیکن  پھر بھی جب سے سسٹرشیتل نے میرے ساتھ یہ کھیل کھیلنا شروع کیا تھا ،  تب سے میرے اندر نئے جذبات ابھر رہے تھے۔ 

  میں خود کو قدرے کنفِڈیٹ اور  نادار محسوس کرنے لگا تھا۔ میرے اندر کا  خوف ایک نیا  روپ دھار رہا تھا۔  مجھے لگنے لگا تھا کہ جیسے میں نہ جانتے ہوئے بھی بہت کچھ جانتا ہوں۔ ماضی، حال،  مستقبل۔ سب ایک ساتھ دیکھ رہا تھا۔

لن کو تیزی سے سہلاتے ہوئے ایک فلم سی میرے ذہن میں چلنے لگی۔

اور اُدھر سسٹر شیتل اپنی  زبان میرے لن کے ٹوپے پہ پھیر رہی تھی جیسےآئس کریم کھا  رہی  ہو۔  یقیناً  یہ ایک عجیب احساس مل  رہا  تھا۔ اورمیں مزے میں  ڈوبا  زور  زور سے سانس لے رہا تھا۔ اتنی دیر میں اس کا ایک ہاتھ میرے ٹٹوں کو ٹٹولنے لگا۔   مجھے گدگدی سی ہوئی لیکن میں سیدھا پڑا رہا۔میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا جو  اِس مزے میں خلل آئے۔سسٹر شیتل نےکچھ دیر ایسا کرنے کے بعد ایک بار پِھرمیرا لن  منہ میں بھر لیا اور زور زورسے نیچے سے لیکر ٹوپے تک چوسنے لگی۔ اس طرح چوسنے سے میرے لن میں عجیب قسم کی گدگدی ہورہی تھی۔ میرا لن شاید اتنا سخت پہلےکبھی  نہ ہوا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی پھٹ جائیگا۔

میری آہیں نکلنے لگیں اور سسٹر شیتل نے اور زور زور سے میرا  چوپا  لگانا شروع کر دیا۔
میرا لن اس کے منہ میں جا کر بڑے سے بڑا ہوتا جا رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے میری رگوں میں دوڑتا  سارا  خون  میرے لن کی جانب جمع ہو رہا ہو۔ میں نے بےاختیار اپنے ہاتھ سسٹر شیتل کے سَر پہ رکھے اور اس کا منہ شدت سے چودنے لگا۔ اپنا  لن میں اس کے حلق میں اُتار رہا تھا۔۔۔ کمرے میں گھٹ گھٹ آوازیں پھیلنے لگیں تھیں، جو سسٹر شیتل کے منہ سے نکل رہی تھیں۔ میری گرفت اس کے سر  پہ سخت ہوتی  گئی، میں اس کے بال اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر اس کا منہ چود رہا تھا۔  میرے  بدن میں تھرتھراہت  ہونا شروع ہوئی۔ سسٹر شیتل نے میرے لن پہ اپنے ہونٹوں کا  گھیرا  اور تنگ کر لیا۔ اور کچھ ہی سیکنڈز میں میرے لن نےسسٹر شیتل کے منہ میں  پیشاب جیسے کچھ  اگلنا شروع کر دیا۔

  میں سسکیاں لیتا  ہوا سسٹر شیتل کے منہ میں پہلی بار  اس طرح  فارغ  ہوتا رہا ۔  کچھ لمحے اسی طرح لن پچکاریاں  مارتے   ہوئے  شانت  ہوا   اور سکون کی ایک  لہر میرے جسم میں دوڑنے لگی۔ سسٹر شیتل نے تھوڑی دیر اپنے ہونٹ میرے لن کے ٹوپے پہ جوڑے رکھے اور میرا  سارا  پانی اپنے حلق میں اتارتی رہی۔ لن مکمل شانت ہونے کے بعد سسٹر شیتل نے اپنا سَر اٹھایا  اور مجھ سے  الگ  ہوگئی۔

میں پسینے میں شرابورہو چکا تھا لیکن پِھر بھی اتنا سکون میں تھا۔ کہ بتا نہیں سکتا۔

منی دماغ سے اتر کر میں نڈھال سا لیٹا واپس اپنی دنیا میں لوٹا۔ تو سارا منی میرے کپڑے اور بیڈ شِٹ گندہ کر چکی تھی۔ یہ دیکھ کر میں جلدی اٹھا اور واشروم میں گھس گیا۔

صفائی اور کپڑے چینج کرنے بعد میں نے بیڈ شِٹ بھی تبدیل کر دی اور پھر سے لیٹ گیا۔

لیٹنے کے بعداب جمال سے باتیں ہوتی رہیں، آگے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرتا رہا،  اور پھر بالآخر سو گیا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page