Talash E Zeest-03-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 03

دلدل اور زہریلے کانٹے بھی تھے اس جنگل میں۔ اکثر قیدی اس دلدل اور زہریلے کانٹوں سے بچ بھی جاتے تھے، لیکن پھر بھوک اور پیاس کے مارے وہیں جنگل میں مرنے لگتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو جنگل سے بچ کر نکل بھی جاتے تھے، لیکن جیسے ہی جنگل سے باہر نکلتے، گارڈز ان کا استقبال کرنے کے لیے وہیں موجود ہوتے تھے۔ 

جنگل سے بچ نکلنے والے تو جنگل میں رہ کر ہی مرنے والے ہو چکے ہوتے تھے۔ لیکن پھر بھی گارڈز ان کو خونخوار کتوں کے آگے ڈال دیا کرتے تھے۔ یعنی آج تک یہاں سے کوئی بھی بھاگ نکلنے میں کامیاب نہیں ہو پایا تھا۔ 

اور میں سب جانتے ہوئے بھی کہ یہاں سے بھاگنا یعنی اپنی موت کو وقت سے پہلے بلانا  یعنی  پھر بھی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭

جب سے میں جوان ہوا تھا، کھل کر نہا بھی نہیں پایا تھا۔ اور پورے جسم پر جہاں جہاں بال تھے، وہ بھیانک حد تک لمبے ہو گئے تھے۔ 

سارا دن ہاتھ میں ہتھوڑا ہوتا اور اوپر سورج کی آگ برساتی دھوپ۔ ہاتھوں کو تو عادت پڑ چکی تھی ہتھوڑا چلا چلا کر، لیکن دھوپ میں کام کرنا اور پھر کبھی نہانے کو نہ ملنا۔۔ سر کے لمبے بالوں کی وجہ سے دھوپ سے بچت تو ہو جاتی تھی، لیکن چہرے پر اگ آنے والی بدہنگی داڑھی کی وجہ سے بہت الجھن ہوتی تھی۔ پسینے کی وجہ سے چپ چپاہٹ لگنے کی وجہ سے دماغ تو خراب ہونا ہی تھا۔ اور سب سے زیادہ جس بات سے پریشانی ہوتی تھی، وہ تھی بغلوں اور لنڈ کے لمبے بال۔ سالے، اب تو پیشاب کرتے وقت بھی لنڈ کو بالوں میں سے نکال کر پیشاب کرنا پڑتا تھا۔ اتنے بڑے بال ہو گئے تھے میرے لنڈ کے۔ 

جتنا وقت بیت چکا تھا، ویسے ہی حالات کا عادی تو ہونا ہی تھا۔ لیکن پسینے کی وجہ سے جو چپ چپاہٹ ہوتی، اس کی وجہ سے سارا دن ہی بے چینی میں گزرتا تھا۔ لیکن ہم کچھ کر بھی تو نہیں سکتے تھے۔ کئی بار شکایت بھی کی کہ کم سے کم ہمیں کسی حد تک تو انسان رہنے دو، لیکن ہنٹر کی مار ہی ملتی کھانے کو۔ 

شروع شروع میں سب کے ساتھ کسی حد تک کچھ بہتر برتاؤ کر لیا جاتا تھا۔ لیکن میں نے بتایا نا کہ اکثر قیدی یہاں نہیں رہنا چاہتے، تو بھاگنے کے چکر میں دوسروں کے لیے بھی ملنے والی سہولت ختم کروا بیٹھتے تھے۔ 

بھاگنے والے قیدی کبھی سمندر کے ساحل پر نہانے کے بہانے بھاگ جاتے، تو کبھی اپنے کام میں لانے کے لیے استرا چھپا لیتے تھے، جس وجہ سے اکثر یہاں جھڑپیں بھی ہو جاتی تھیں۔ 

گارڈز نے تنگ آ کر سب قیدیوں کے ساتھ سختی کرنی شروع کر دی۔ اور ہمیں انسان سمجھنا بھی چھوڑ دیا۔ 

یہاں کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ گارڈز کسی کو بھی کوئی پلاننگ کرنے کا چانس نہیں دینا چاہتے تھے۔ نہ قیدی پلان بنا کر بھاگیں اور نہ ہی مرتے جائیں۔ ویسے ہی تو وہ ہر بار قیدیوں کو مارنا شروع نہیں کر دیتے۔ بڑی محنت سے قیدیوں کو یہاں لایا جاتا تھا۔ 

لیکن میں نے پھر بھی دو لڑکوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا۔ ان کو بھی اپنے ساتھ ہی میں بھگا کر لے جانا چاہتا تھا۔ اکیلا بھاگنا رسکی تھا۔ 

اور وہ بھی میرے ساتھ ایک بار بھاگنے کا چانس ضرور لینا چاہتے تھے۔ یہاں رہ کر زندگی بھی تو کسی کام کی نہیں تھی۔ تو کوشش کرنے میں حرج ہی کیا تھا۔ ضروری تو نہیں جو بھاگنے کے چکر میں پہلے سب مارے گئے تھے، تو ہم تینوں بھی مارے جائیں۔ سب کی قسمت اپنے اپنے ساتھ ہوتی ہے۔ 

ایک کا نام سنجے تھا اور دوسرے کا نام ظہیر تھا۔ سنجے کو یہاں آئے 4 سال ہو گئے تھے، تو ظہیر کو 3 سال ہو گئے تھے۔ اور وہ دونوں ہی بزدل نہیں تھے۔ وہ بھی میری ہی طرح کسی کو ڈھونڈ رہے تھے اپنے ساتھ ملانے کے لیے۔ اور پھر دونوں کو مجھ سے بہتر کون مل سکتا تھا۔ اس سے پہلے بھی بھاگنے والوں نے مجھے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تھی، لیکن میں نے کسی کا ساتھ نہیں دیا تھا، کیونکہ مجھے ان سب میں وہ نہیں دکھا جو مجھے سنجے اور ظہیر میں دکھنے کو ملا۔ 

ظہیر ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا تھا، تو سنجے ایک رئیس باپ کا بیٹا تھا۔ بس ایک رات گھر لیٹ ہونے کی وجہ سے دھر لیا گیا۔ سنسان روڈ پر سنجے کی گاڑی خراب ہو گئی تھی، اور پھر اسے وہی لوگ مل گئے جن لوگوں نے مجھے اغوا کیا تھا۔ 

دونوں ہی جیدار تھے۔ مرنے سے ڈرنے والے نہیں تھے۔ دونوں ہی اچھی صحت کے مالک تھے اور یہاں رہ کر ساری زندگی نہیں گزارنا چاہتے تھے۔ اگر کچھ گارڈز کو مارنا بھی پڑے تو پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ 

ایک دن میں نے ان دونوں کی پلاننگ سن لی تھی، تو سنجے مجھ سے بولا

سنجے: راجہ، تم نے سب سن ہی لیا ہوگا کہ ہم یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ راجہ، تم ہی ہمیں ایک ایسے انسان لگتے ہو جس کے ساتھ مل کر ہم یہاں سے بھاگ سکتے ہیں۔ 

ظہیر: ہاں راجہ، ہم جانتے ہیں کہ تم یہاں کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہو۔ تم بھی یہاں سے بھاگنا چاہتے ہو اور تم نے ضرور کوئی اچھی پلاننگ بھی سوچ رکھی ہوگی۔ 

میں ہنستے ہوئے : تم دونوں نے صحیح اندازہ لگایا ہے۔ میں بھی یہاں سے بھاگنا چاہتا ہوں، لیکن بے وقوف قیدیوں کی طرح نہیں کہ بھاگنے کے چکر میں مارا جاؤں۔ کچھ دن یا مہینے  اور سہی، لیکن سوچ سمجھ کر ہی بھاگوں گا۔ 

سنجے: راجہ، ہمیں مت بھول جانا۔ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے جانا۔ یار، پتا نہیں میرے گھر والوں کا کیا ہوا ہوگا۔ میری جدائی کو کیسے سہن کر پا رہے ہوں گے۔ 

ظہیر نے اچانک سے سنجے کا منہ بند کر دیا، کیونکہ گارڈز آ رہے تھے۔ تو ہم تینوں جلدی سے الگ ہو گئے۔ 

اس بات کو بھی آج 2 مہینے ہو چکے تھے۔ اور وقت ملتے ہی ہم تینوں آگے کی پلاننگ کرنے لگ جاتے تھے۔ 

میں سب حالات پر نظر رکھ رہا تھا۔ جنگل کے راستے جانا ہے یا پھر سمندر کے راستے دوسرے جزیرے پر۔ جزیرے کے دوسری طرف بستی کے علاوہ اور بھی کوئی جزیرہ ہے یا نہیں، یہ میں نہیں جانتا تھا۔ بستی کا بھی بس پتا اس لیے چل گیا تھا کہ جو قیدی جنگل سے گزر کر اس بستی کی طرف پہنچتے تھے، تو باتیں پھیل جایا کرتی تھیں۔ رسک دونوں طرف سے ہی تھا۔ اب میں تیر کر تو دوسرے جزیرے پر جا نہیں سکتا تھا۔ تو اب جنگل کے علاوہ کوئی چانس نہیں تھا۔

میں نے کئی بار کوشش کی تھی کہ کسی طرح سے کسی جہاز یا بوٹ میں چھپ جاؤں۔ لیکن ہر کچھ دیر بعد کی گنتی کی وجہ سے میں یہ چانس نہیں لے پایا تھا۔ ورنہ میں تو کب کا یہاں سے بھاگ چکا ہوتا۔ میں نے کہا کہ میں بے وقوف بن کر یہاں سے نہیں بھاگ سکتا تھا۔ جان کو خطرہ ہو بھی تو چانس لیا جا سکتا ہے۔ لیکن جان بوجھ کر پھنس جانا مجھے گوارا نہیں تھا۔ جنگل کے بارے سنا تھا کہ بہت ہی خطرناک ہے، لیکن  یہاں پر بھی چانس تو لیا ہی جا سکتا تھا۔ اب یہاں سے بھاگنا ہے تو پھر سوچنا کم اور کرنا زیادہ تھا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page