Perishing legend king-275-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 275

سر جارج:

تم…!!!

 

ویر:

ہہ؟؟

 

سر جارج:

بتاؤ! تم اس کے بارے میں کیا سوچتے ہو؟

 

ویر:

ویل

 

پری:

کریں ماسٹر~

 

اور

 

*ڈنگ*

 

ویر کے سامنے اس ممی کی ساری تفصیلات آگئیں۔

۔

۔

۔

دو دن گزر چکے تھے۔

 

اور ان گزرے دو  دنوں میں، ویر نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اپنی ماں سے ایک گہرا رشتہ جوڑنے میں۔

 

پر بدقسمتی سے، اسے زیادہ کامیابی نہ مل سکی۔

 

بھوانا، بات تو کھل کر کرتی تھی۔ پر جب بھی سوال اس کے ماضی سے جڑا ہوا آتا تھا تو وہ ان سوالات سے خود کو بچا لیتی تھی۔ اور بات چیت کو کہیں اور منتقل کر دیتی تھی۔

 

ان گزرے دنوں میں اروہی سے ویر کی پھر سے بات ہوئی۔ اور جو خبر  اروہی نے اسے وہاں ممبئی کی سنائی، اسے سن کر ویر کے ہوش ہی اڑ چکے تھے۔

 

ویر کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ حرامی پرانجل اتنی جلدی سب کچھ کر ڈالے گا۔

 

ویر، چاہتا تو تھا کہ اسی وقت وہ ممبئی لوٹ جائے۔ پر اس نے ایسا صرف ایک ہی وجہ سے نہیں کیا۔

 

سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ، پرانجل جو بھی کر رہا تھا،  وہ شویتا کے ساتھ کر رہا تھا۔ شویتا! یعنی کہ اس کی سوتیلی ماں۔ وہ سوتیلی ماں جس نے ویر کو کبھی ایک بیٹے کے روپ میں قبول ہی نہیں کیا تھا۔

 

وہی سوتیلی ماں جو پرانجل، ویویک کے شادی شدہ سازشوں میں شامل رہتی تھی۔ تو بھلا ویر واپس لوٹ کر کیوں جائے؟

 

جب تک کاویہ، اروہی اور اس کے دادا جی کسی ممکنہ خطرے میں نہیں تھے، ویر کا لوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

 

تو، اس نے مزید 2-3 دن رہنے کا فیصلہ کیا۔

 

پرانجل کا پتہ تو وہ لوٹ کر صاف کرنے ہی والا تھا۔ بس یہاں سے گھر پہنچتے ہی۔

 

اور آج ہی اس کا یہاں آخری دن تھا۔ اس نے ممی کی زیادہ تفصیلات سر جارج کو نہیں دی تھیں۔ ضرورت سے زیادہ اگر ویر بتانے لگتا تو لوگوں کو شک ہو سکتا تھا۔ کہ ایک بندے کو اتنا سب کچھ کیسے پتا ہے؟ اور وہ بھی اتنی جلدی جواب کیسے دے پا رہا ہے؟

 

اس لیے ویر نے مبہم جوابات دیئے۔ جس کی وجہ سے انہیں بھی یقین ہوگیا کہ ویر بھی ایک انسان ہی ہے اور ایسی بھی چیزیں ہیں جن کے بارے میں اسے کچھ نہیں پتا۔

 

ویر نے یہاں اپنی ماں اور بہن کے ساتھ کچھ بہت ہی اچھے پل گزارے۔

 

لیکن بدقسمتی سے،  اب وقت آ گیا تھا کہ یہاں سے واپس جایا جائے۔

 

پر

 

اس سے پہلے

 

ویر کو ایک کام کرنا تھا۔ وہ بھوانا کے منہ سے کچھ باتیں تو نہ نکال پایا۔ اس لیے، اب اس کے پاس آخری طریقہ یہی بچا  ہوا تھا۔

 

قاہرہ کے ایئرپورٹ میں جب ویر اپنے ملک کے لیے روانہ ہونے والا تھا۔

 

تو اسے چھوڑنے صرف بھوانا ہی آئی ہوئی تھی۔ باقی سب ابھی بھی سائٹ پر تھے۔

 

بھوانا:

کچھ دن اور رک جاتے  گانیش!؟

 

ویر:

جی نہیں! اب لوٹنا ہوگا مجھے۔

 

بھوانا:

وہ… تو وہاں ممبئی میں کون کون رہتا ہے تمہارے ساتھ!؟

 

بھوانا نے پوچھا۔ کیونکہ، ویر نے اپنے گھر سے متعلق کوئی بھی معلومات بھوانا کو نہیں بتائی تھی سوائے اس کے کہ وہ ممبئی میں رہتا تھا۔

 

ممبئی کا لفظ سنتے ہی تب بھوانا کا ردعمل دیکھنے لائق تھا۔ لیکن، یہاں جب اس کی ماں اس سے اپنے ماضی کو چھپا کر راز رکھنا چاہتی تھی تو ویر نے بھی وہی کیا پھر۔ راز ہی سہی۔ اس نے آگے کچھ نہیں بتایا۔

 

پر اب صحیح موقع تھا۔ کچھ ایسی تفصیلات چھوڑنے کا جس سے بھوانا  ہل کر رہ جائے۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

گھر!؟ ہاہا~ مجھے تو گھر سے ہی نکال دیا گیا تھا۔

 

بھوانا:

!!!؟؟؟

 

اور بھوانا کو یہ سن کر تھوڑا سا جھٹکا سا لگا۔

گانیش کی بات کا مطلب کیا تھا؟

 

بھوانا:

ککیا مطلب؟

 

ویر:

مطلب یہ کہ مس گیتا۔۔۔میں۔۔۔ مجھے میرے گھر والوں نے اپنے گھر سے نکال دیا ہے۔

 

بھوانا:

ک-کیا!!؟؟؟

 

وہ آنکھیں پھاڑے ویر کو دیکھتی رہی۔

 

ویر:

جی ہاں!

 

بھوانا:

پپ-پر کیوں؟؟

 

ویر:

ہاہاہا~ ویل! ان باتوں کا راز تب ہی پتا لگے گا جب آپ اپنی کچھ باتیں بتائیں گی۔ دوست ہونے کے باوجود آپ نے مجھ سے اب تک کچھ بھی شیئر نہیں کیا۔ تو بدلے میں آپ مجھ سے کیسے توقع کر سکتی ہیں کہ میں اپنے بارے میں سب کچھ آپ کو یوں ہی بتا دوں گا؟ ہمم؟

 

بھوانا:

میں… میں

 

اور بھوانا کی نظریں شرمندگی کے مارے نیچے جھک گئیں۔

 

بھوانا (نظریں ہٹاتے ہوئے):

م-میں مجبور ہوں۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

اور میں بھی… ویسے بھی! چلتا ہوں… پھر ملیں گے۔۔۔

 

بھوانا:

آہ! وہ

 

ویر:

ہممم؟

 

بھوانا:

م-میں… میرا مطلب… ہم دوبارہ رابطے میں کیسے آ سکتے ہیں؟

 

ویر اپنی  ماں کو دیکھ کر مسکرایا اور اس نے اپنی جیب سے کوئی پرانی رسید نکالی اور اس پر اپنا نمبر لکھ کر دے دیا۔

 

ویر:

یہ میرا  نمبر ہے!!!

 

بھوانا:

شکریہ~ امید ہے ہم پھر کہیں مل پائیں گے۔ تمہاری نظر بہت گہری ہے۔ کبھی ہندوستان میں جب ایکسپلوریشن پر جاؤں گی تو ہم وہاں جا سکتے ہیں۔ کیسا ہے؟

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

یقیناً! ٹھیک ہے! اب مجھے جانا چاہیے!

 

بھوانا (سر ہلاتی ہوئی):

ہ-ہاں!!!

 

پری:

آخری چال کا وقت ماسٹر~

 

ہاں!!! اب جاتے ہیں…!’

 

ویر پھر اپنا سامان اٹھانے کے لیے نیچے جھکا۔ وہ جیسے ہی نیچے کو  ہوا

 

اوہ  فک!!! اٹک گیا  کیا؟

 

پری:

ارے جھکیں نہ ماسٹر!!! اچھے سے۔ باہر آئے گا۔ اور جھکیں، تھوڑا ہلائیں ڈلائیں۔ یہ نکل آئے گا!!!

 

کیا؟؟ پری!؟  الفاظ  ٹھیک رکھو  اپنے۔

 

پری:

آہ!!! ت-تم… تم بہت گندے ہو ماسٹر! تم کیا سوچ رہے تھے…!؟

 

اور اگلے ہی پل

 

ویر کی شرٹ سے اندر سے اس کا  لاکٹ۔۔۔

 

جھکنے کی وجہ سے باہر آ نکلا۔

 

بھوانا جو اب تک اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں اچانک سے ہی اس لاکٹ پر پڑیں۔ پہلے تو اسے کچھ بھی مختلف نہیں لگا۔ وہ کچھ دیر اور دیکھتی رہی۔۔۔

 

اور کچھ لمحے بعد ہی، اس کا جیسے دماغ ہی گھوم گیا۔

 

اندر من میں جیسے ایک دھماکہ ہوا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت وہ کچھ دیر کے لیے کھو چکی تھی۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی اس لاکٹ پر ٹکی ہوئی تھیں۔

 

ویر سامان لے کر اٹھا اور اس نے اپنی ماں کو دیکھا۔ دیکھا کہ پل بھر میں اس کی ماں کا چہرہ کیسے حیرانی کے مارے بدل گیا۔

 

پر اب یہاں رکنے کا وقت نہیں تھا۔ جلد سے جلد یہاں سے نکلنا تھا۔ بھوانا کی کوئی بھی بات سنے بغیر ہی۔

 

وہ مڑا اور جانے لگا۔ بھوانا  ابھی بھی سکتے میں وہیں کھڑی ہوکے ویر کی پیٹھ کو دیکھ رہی تھی۔ جیسے جیسے وہ دور جاتا جا رہا تھا بھوانا کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔

 

وہ اتنی صدمے میں تھی کہ اس کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا اور نہ ہی وہ کوئی حرکت کر پائی۔

 

بس… ویر کو جاتا ہوا دیکھتی رہی۔ جب تک کہ وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔

 

اور پھر اسے ہوش آیا۔ سانسں تیز لیتے ہوئے وہ ہانپ کر آگے بڑھی پر ایک قدم آگے رکھتے ہی اس کے پاؤں وہیں کمزور پڑ گئے اور جواب دے گئے۔

 

ہاہہہ!!!”

 

پاؤں میں کپکپاہٹ ہوئی اور ہانپتے ہوئے وہ وہیں گر پڑی۔

 

ن-نہیں!!!!!! ی-یہ کیسے…!؟؟؟؟

 

اسے گرتا ہوا دیکھتے ہی،  وہاں موجود سیکیورٹی اس کے پاس آئی۔

 

سیکیورٹی!!!! ہاں!!! میڈم کیا آپ ٹھیک ہیں؟؟

 

ایک نوجوان اس کے قریب آیا اور اسے اٹھوا کر سیکیورٹی کے پاس لے گیا۔

 

بھوانا  وہیں کچھ دیر بیٹھی رہی۔ وہ کسی بھی بات کا کوئی جواب ہی نہیں دے رہی تھی۔ جس کی وجہ سے سیکیورٹی نے اسے اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔

 

وہ تو جیسے الگ ہی دنیا میں جا چکی تھی۔

 

ن-نہیں!!! وہ… وہ لاکٹ…!!!! و-وہ تو وہی لاکٹ ہے… ہ-ہاں!!! میں غلط نہیں ہوسکتی۔ و-وہ تو وہی تھا۔ پپ ،پر… اس وکرم کے پاس وہ لاکٹ کیسے آیا!؟  ہہ؟

 

لاکٹ تو وہی تھا جو بھوانا نے اپنے بیٹے کو پہنایا تھا۔ 20 سال پہلے۔ اور اس وقت وہ اپنے آپ میں جھگڑ رہی تھی کہ وہ لاکٹ اس  گانیش کے پاس کیسے آیا۔ اور اگلے ہی پل

 

ایک بہت ہی حیرت انگیز امکان اس کے دماغ سے ہوکے گزرا۔ جس کی وجہ سے وہ وہیں جم کر رہ گئی۔

 

ن-نہیں!!! ت-تو جو… گانیش میرے ساتھ اتنے دن رہا، مجھ سے باتیں کی… و،وہ… کہیں وہ… وہ میرا اپنا… ن،نہیں!!!!’

 

سوچتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

 

اور اس کی آنکھوں سے آنسوں جھر جھر کر کے بہنے لگے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا کھلا منہ ڈھکتے ہوئے سسکتے ہوئے رونے لگی۔

 

جس بیٹے سے وہ اتنے سالوں سے دور تھی۔ وہ یہاں اتنے دنوں تک اس کے پاس تھا؟؟؟ اس کے اتنے قریب؟؟ اور اسے پتا تک نہ چلا؟؟؟

 

گلانی، دکھ، درد، پیڑا، مایوسی، بے چینی، سب کچھ بھوانا اس وقت ایک ہی ساتھ محسوس کر رہی تھی۔

 

ایک بار وہ اپنے گلے تک سے نہ لگا پائی اسے۔ اپنے کلیجے کو۔ کیسا محسوس ہوتا ہے ایک ماں کو جب اس کا اپنا لال سالوں سے بچھڑنے کے بعد اس کے اتنے پاس ہو اور وہ ایک بار بھی اسے اپنے سینے سے نہ لگا پائے!؟

 

بھوانا ابھی اسی پیڑا سے گزر رہی تھی۔


ابھی بھی یہ صرف ایک امکان ہی تھا۔ اس کا مطلب ابھی 100% یہ نہیں تھا کہ گانیش ہی اس کا بیٹا تھا۔ امکانات 50-50% تھے۔

 

ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ گانیش کو وہ لاکٹ کہیں سے مل گیا ہو؟ ہو سکتا ہے اس کے بیٹے کے گلے سے وہ لاکٹ گم ہو گیا ہو اور گانیش کو مل گیا ہو!؟ یہ بھی ایک امکان تھا۔

 

ہو نہ ہو، پر بھوانا کے من میں جیسے ایک نئی امنگ جاگ چکی تھی۔ پتا  لگانے کی

 

کہ وہ لاکٹ پہننے والا شخص… کیا!؟

 

کیا اس کا اپنا… وہی خون تھا؟ اس کا اپنا بچہ؟ اس کا اپنا لال؟

 

اور ایک خیال اور آیا  اس کے من میں،

 

مطلب یہ کہ مس گیتا… میں… مجھے میرے گھر والوں نے اپنے گھر سے نکال دیا ہے۔

 

اس کے من میں ویر کی آواز گونجی۔

 

مممیرا بچہ!؟ ااااسے گھر سے باہر نکال دیا ہے؟؟  ن-نہیں! پہلے مجھے… پہلے مجھے یہ پتا کرنا ہوگا کہ وہ میرا ہی بیٹا ہے یا نہیں!؟ پ،پر اگر وہ میرا ہی بیٹا نکلا… ت،تو…!!!!’

 

اور ایک بار پھر،  ویر کے ساتھ گزرے ہوئے دن، گزارے گئے لمحات، وہ سارے پل اس کے دماغ میں منڈلانے لگے۔ ان کی پہلی ملاقات۔

 

اور اس کے دل پر پھر ایک پہاڑ سا ٹوٹ پڑا۔

 

آنکھیں پھر بھیگ چلیں۔ اندر ہی اندر گلانی اسے کچوٹنے لگی۔

 

اتنا قریب رہ کر بھی… وہ ایک بار بھی

 

ایک بار بھی اپنے کلیجے کو پہچان نہ پائی۔ کاش اسے پہلے ہی وہ  لاکٹ دکھ جاتا۔ بہانے سے ہی سہی

 

پر کم سے کم… کم سے کم اپنے بچے کو بس ایک بار سینے سے لگا کر اسے اچھے سے محسوس تو کر سکتی تھی۔ لیکن اب تو ویر جا چکا تھا۔

 

نہیں~~~ ہاں!!! میں… میں پتا کروں گی!!! میرے پاس یہ ہے ابھی!!! میں پتا کروں گی!!!!’

 

اس نے اپنے ہاتھوں میں اس سکوڑی ہوئی رسید کو دیکھا جس میں ویر کا نمبر تھا۔ اور فوراً ہی اس نے وہ نمبر سیو کر لیا۔

 

اور سیو میں نام رکھ دیا ~ گانیش!!!!

۔

۔

۔

ممبئی

 

ویر واپس اپنے شہر میں آ چکا تھا۔

 

اور دروازے پر آتے ہی

 

ویریریریریر!!!!!”

 

راگنی بھاگتے ہوئے آئی اور اس کی بانہوں میں سما گئی۔ اس کے ابھرے ہوئےپستان اس کی چھاتی میں سمانے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ ویر کو وہ پستانوں کے نوک صاف صاف محسوس ہوگئے۔

 

یہ کیا…!؟

 

پری:

ایسا لگتا ہے اس نے آپ کو بہت یاد کیا۔ ہاہا~

 

پری کی بات سچ تھی۔ ایسا ایک دن بھی نہیں گزرا تھا جس دن راگنی نے اسے کال نہ کیا ہو۔ ہر ایک دن وہ اسے فون لگا کر کافی دیر تک بات کرتی تھی۔

 

پیچھے کھڑی آنیسہ اور باقی سبھی اس منظر کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔

 

ویر:

امم… اہم… بھ-بھابھی؟

 

راگنی:

میں نے تمہیں بہت یاد کیا~

 

ویر:

م-میں بس کچھ ہی دنوں کے لیے تو گیا تھا۔ بھ-بھابھی!!! سب دیکھ رہے ہیں!!!

 

راگنی:

تو کیا؟ کیا تمہیں پسند نہیں ویر؟ کیا تمہیں اچھا نہیں لگا میرا یوں تمہیں گلے لگانا؟

 

ویر:

آہ! نہیں! بات وہ نہیں ہے… لیجیے!!!

 

کہتے ہوئے ویر نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور راگنی کو پھر سے اپنے سینے سے چپکا لیا۔ اس بار ویر اس کی ننگی کمر پر ہاتھ رکھ کر دباؤ بنانے میں پیچھے نہیں ہٹا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page