Shemale Hunter -31- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 31

سارے کام ختم کر کے وہ کمرے میں آئی ۔اور سوچنے لگی  کہ اب ایوناش سے اچھے سے بات کرے گی، پھر زُبینہ سے بات کر کے اُسے  بھی سمجھائے گی۔ اسی وش (خواہش) سے وہ ایوناش کو کال ملا دیتی ہے۔ ایوناش کال پک کرتا ہے۔ 

ریا: ہیلو۔ 

ایوناش: ہیلو ڈارلنگ۔ آج جلدی فون کر لیا؟ 

ریا: بس میرا دل آپ سے بات کرنے کا کر  رہا تھا ۔ 

ایوناش: اچھا جی۔ 

ریا: کہاں ہو ابھی؟ 

ایوناش: آفس میں ہوں۔ 

ریا: اچھا، کل رات کیسی رہی پارٹی؟ 

ایوناش: ٹھیک تھی۔ بس ڈنر کیا، تھوڑا ڈرنک کیا، پھر واپس گھر آگیا۔ 

ریا: تم نے ڈرنک کیا؟۔۔ تم تو پہلےڈرنک  نہیں کرتے تھے ۔ 

ایوناش:یہاں کا کلچر ہے بیبی۔ ان لوگوں میں جاؤ، تو یہ  سب پیتے ہیں۔تو پینی پڑتی ہے  اور نہ پیو تو عجیب لگتا ہے۔ اوپر سے وہ مشیل فورس کرنے لگی۔ 

ریا: یہ مشیل کون ہے؟ 

ایوناش: بتایا تو تھا کل رات، کلائنٹ ہے۔ 

ریا: وہ کیوں تمہیں فورس کر رہی تھی؟۔۔تم  منع کر دیتے۔ 

ایوناش: ایسے ناراض تھوڑی کر سکتے ہیں کلائنٹ کو۔ 

ریا: کیوں، اتنی اہم ہے کیا وہ؟ 

ایوناش: تم نہیں سمجھو گی۔ 

ریا: ارے کیوں؟ ایسے کوئی تھوڑی فورس کر سکتا ہے۔ ہم بھی باہر جاتے تھے، مجھے بھی کتنے لوگوں نے فورس کیا، لیکن میں نے تو کبھی ڈرنک نہیں کی۔ تم چاہتے تو منع کر سکتے تھے۔ تمہارا بھی دل کر رہا  ہوگا، اسی لیے تم نے ڈرنک کرلی۔ 

ایوناش: یار، یہ ہماری جاب کے لیے بھی اہم ہے، ایسے باہر جانا، سوشلائز ہونا۔ 

ریا: جاب اور ڈرنک کا کیا رلیشن؟ 

ایوناش: (تھوڑا غصے میں) یار، دیکھو، تمہیں نہیں آئیڈیا کچھ کہ کیسے کلائنٹس کو ہینڈل کرنا ہے۔ اسی لیے مجھے مت سکھاؤ۔ 

ریا: تم غصہ کیوں ہو رہے ہو؟ 

ایوناش: کیونکہ تم اب ایریٹیٹ (چڑھا) کر رہی ہو۔ مجھے اپنا کام اچھے سے آتا ہے۔ تم مجھے سکھا رہی ہو۔ تم نے خود کبھی جاب کی نہیں۔ 

ریا کو یہ بات بہت بری لگی اُس کی ۔۔ ایوناش نے آج پہلی بار اسے جاب کے حوالے سے  طعنہ مارا تھا۔ یہ اسے تھوڑا انسلٹنگ (توہین آمیز) لگا۔ 

ریا: تم ایسے کیوں کہہ رہے ہو؟ میں تم سے نارمل بات کر رہی ہوں۔ 

ایوناش: ہم بعد میں بات کرتے ہیں۔ مشیل آ گئی ہے۔ ایک میٹنگ ہے۔ بائی۔ 

ایوناش یہ کہہ کر جلدی سے  کال کاٹ  دیتا ہے۔ ریا کو اب بہت  ہی زیادہ دُکھ ہورہا تھا اور بہت بُرا بھی لگ رہا تھا۔ کل کی بات چیت  کے بعد تو کم از کم  اس نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔ کل ایوناش اتنے وعدے کر رہا تھا کہ وقت دے گا، دھیان رکھے گا۔ اور آج پھر سے وہی۔ نہ آج صبح بات کی اور نہ ہی ابھی اچھے سے بات کی۔ 

کیا زُبینہ جی کل سہی بول رہی تھیں؟ کیا ایوناش کل مجھے ایمووشنل بلیک میل کرنے کا بس ڈرامہ کر رہا تھا، جس سے میں اس کے پیچھے پڑی رہوں اور وہ وہاں مزے کرے؟ کیا ایوناش بھی باقیوں کی طرح ہے؟۔۔ اور میں نے ایوناش کے چکر میں زُبینہ جی کو بھی ہرٹ کیا۔ اب وہ بھی مجھ سے اچھے سے بات نہیں کر رہی۔ مجھ  سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔

اتنا سوچتے ہی وہ رونے لگی ۔۔ لیکن اُس کے دل و دماغ میں  ایسے ملے جلے خیالات کے بعد وہ دل  میں سوچتی ہے 

یہی ایوناش چاہتا ہوگا کہ میں ایسے ہی روتی رہوں اور وہ مزے کرے۔ مجھے وارن (تنبیہ) بھی کیا تھا زُبینہ جی نے، مگر میں نے ان کی نہیں سنی۔ اب آگے سے ایسا نہیں ہوگا۔ میں اب وہی کروں گی جو میرا دل کہتا ہے۔ 

یہ سوچ کر اور فیصلہ کرکے وہ جلدی سے اُٹھ کر  وہ واش روم گئی  اور اچھے سے فریش ہو کر  باہر آئی ۔ باہر آ کر وہ بیڈ پر لیٹ جاتی ہے اور بیڈ کے سائیڈ پر پڑی ایوناش کی تصویر کو دیکھ کر کہتی ہے 

مسٹر ایوناش، مجھے پتا چل گیا کہ تم بھی باقی مردوں کی طرح ہو، سیلفش ہو۔ تمہیں بس اپنی فکر ہے، اپنی بیوی کی نہیں۔ مگر  اب مجھے بھی کوئی مل گئی ہے،  جسے میری فکر ہے، میری کیئر کرتی ہے۔ اور میں نے بس تمہاری وجہ سے انہیں ہرٹ کیا اور اپنے سے دور کیا۔ مگر اب نہیں۔ اب میں ان کا ساتھ دوں گی، اُس کے رنگ میں پوری طرح رنگ جاؤں گی میں جان گئی ہوں کہ وہ لیسبین ہے ، اور میں نہیں ہوں لیکن اب میں اُس کے ساتھ لیسبین ہی بن جاؤں گی، جو وہ کہے گی اُس کی بات مانوں گی اور  انہیں منا لوں گی۔ تم بیٹھو اپنی مشیل کے پاس۔ ہہ 

ایسا کہہ کر ریا اب زُبینہ کے بارے میں سوچنے لگتی ہے۔ وہ اپنے کیے پر پچھتا رہی تھی ،لیکن  اسے امید تھی ہے کہ وہ زُبینہ کو منا لے گی۔ اسی لیے وہ فون نکال کر زُبینہ کو میسج کر دیتی ہے 

ریا: ہیلو زُبینہ جی۔ 

تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی کوئی میسج نہیں آتا تو  ریا تھوڑا گھبرا جاتی ہے۔ کیا زُبینہ اتنی ناراض ہو گئیں؟ کیا اب وہ مجھ سے بات بھی نہیں کریں گی؟ 

اسے بہت دکھ ہو رہا تھا۔ کہاں کچھ دن پہلے وہ اتنی خوش تھی، اسے لگ رہا تھا کہ اس کی لائف میں سب کچھ ہے اب۔ اور کہاں آج اسے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی بھی نہیں اس کے پاس، اور وہ بہت اکیلی ہے۔ ریا ان سب خیالات میں کھوئی ہوئی رو رہی تھی کہ تبھی اس کا فون وائبریٹ کرنے لگا۔ 

وہ چیک کرتی ہے تو زُبینہ کا میسج تھا 

زُبینہ:  ہیلو۔ 

یہ دیکھ کر ریا کو تھوڑا چین آتا ہے۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی ہے اور ریپلائی کرتی ہے 

ریا: کہاں تھیں آپ؟ کب سے میں نے میسج کیا ہوا ہے۔ 

زُبینہ: باہر گئی  تھی تھوڑا کام تھا۔ لیکن تم کیوں ویٹ کر رہی تھی؟ تیرا پتی کہاں ہے؟ 

ریا کو زبینہ کی بات بہت بری طرح چھب گئی کہ وہ اُس پر تنز کر رہی ہے ۔ اور تھوڑا ایمبرس (شرمندگی) بھی فیل ہوئی ۔ 

ریا: ان کی میٹنگ ہے کوئی۔ 

زُبینہ:چل کوئی بات نہیں، میٹنگ کے بعد فارغ ہو کر بات کر لینا۔ 

ریا: آپ ایسے کیوں بول رہی ہیں؟ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ 

زُبینہ: میں تو وہی کہہ رہی ہوں جو کل تو مجھے اپنے ایوناش کے بارے میں سمجھا رہی تھی۔ کتنا کیئرنگ ہے، کتنا الگ ہے، وقت دے گا۔ 

ریا: میں سمجھ گئی۔ مگر  آپ ایسا مت بولو پلیز۔ 

زُبینہ: تو کیا بولوں؟ ۔۔میری تو سنی ہے نہیں تونے۔ 

ریا: زُبینہ جی پلیز۔۔ پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں، اوپر سے آپ بھی ایسے بیہیو (برتاؤ) کر رہی ہیں۔ جم میں بھی آپ نے آج بڑا بے رُخا سا بیہیو کیا۔ 

زُبینہ سمجھ چکی تھی کہ ایوناش نے کچھ تو چوتیاپا کیا ہے جس سے ریا اتنی ہرٹ ہوئی ہے۔ اور اس کا جو آئیڈیا تھا جم میں ریا کو اٹینشن نہ دینے کا اور اسے تھوڑا جلانے کا، اس میں بھی سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ رینا  نے خود ہی اُسے آفر کردی اور جب وہ اُس کے ساتھ جارہی تھی تو اُس نے ریا کو اندیکھا کردیا تھا لیکن ہو سمجھ گئی تھی کہ ریا اُس کا انتظار کررہی ہے ، لیکن رینا کے ساتھ ہونے کی وجہ سے وہ آگے بڑھ کر بات نہ کرسکی اور اسطرح اُس کا  وہ آئیڈیا بھی سُپر ہٹ کام کرگیا تھا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page