Strenghtman -37- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 37

پھر تینوں ممبئی جانے والے جہاز میں بیٹھ گئے۔ تینوں کو جاتے ہوئے دیکھ کر نرگس بھی ایک قدم آگے بڑھ گئی۔

 شیوا کی سیٹ کچھ الگ تھی ایک طرف ونود اور دوسری طرف سنی کی  سیٹ تھی۔ شیوا کو ٹھیک سے بٹھا کر وہ اپنی سیٹ پر آ گئے۔ 

ونود: سنی، سمجھ گیا نا سب نرگس کا مطلب؟

سنی: ہاں بھائی، اب میں تیری بلڈنگ میں رہنے والا ہوں۔ 

ونود: شیوا کے لیے نرگس بالکل صحیح ہے۔ شیوا کو وہ اپنی جان سے زیادہ پسند کرنے لگی ہے۔

سنی:بھائی، مجھے بھی پیار ہو گیا ہے۔ میں بھی اب جلد شادی کرنے والا ہوں۔ 

ونود: کس کے ساتھ؟ وہ نرگس کی دوست، ہسپتال والی نا؟ 

سنی: بالکل صحیح پہچانا میرے دوست۔ اور دیکھ میرا نصیب، میں اب اس کے آس پاس ہی رہنے والا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ہمیشہ نرگس کے ساتھ ہی رہنے والی ہے اب۔ 

ونود: سنی، بس نرگس سے بچ کے رہنا۔ تجھے پتا ہے اگر اسے معلوم ہو گیا تو تیرے ساتھ میں بھی نہیں بچ پاؤں گا۔ 

سنی: بھائی، دبئی میں ہم ڈر کر رہے، اب ہم شیر بن کر رہنے والے ہیں۔ لیکن ایک بات سمجھ نہیں آئی، اس نے شیوا کو ہمارے ساتھ اکیلے کیسے جانے دیا؟ اسے تو اس کے بغیر چین نہیں آتا تھا نا۔ 

ونود: سنی، وہ اپنے دو بڑے ہوائی جہاز لے کر ہم سے پہلے پہنچنے والی ہے۔ اس کے ساتھ سب سامان، اس کے جانور، خاص گارڈز بھی ہیں۔

شیوا، ونود، اور سنی ممبئی ایئرپورٹ پر اتر کر ایک دوسرے سے جلد ملنے کا وعدہ کر کے اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گئے۔ نرگس نے شیوا کو بہت خوبصورت کپڑے خرید کر دیے تھے، ساتھ میں 5 ایپل کے نئے فون بھی دیے تھے، اور ان سب فونز میں شیوا نے ایئرپورٹ سے بستی جاتے ہوئے راستے میں ایک دکان سے سم کارڈ ڈلوا دیے تھے۔ 

جب وہ ٹیکسی لے کر شفی چاچا کے گھر کے پاس پہنچا تو سب لوگ گھر کے باہر ہی بیٹھے تھے۔ شیوا کو دیکھ کر سب کے چہروں پر خوشی چھا گئی۔ شیوا نے شفی چاچا اور جنت کے پاؤں چھو کر ان کا آشیرباد لیا، پھرچاروں  لڑکیوں سے ملا۔ اُس کے بعد سب لوگ گھر میں داخل ہو گئے۔ شیوا نے سب کو اپنے لائے ہوئے کپڑے دے دیے، وہ سب کے لیے تین تین ڈریسز لایا تھا ۔ پھرچاروں  لڑکیوں کو نئے موبائل دیے اور ایک موبائل جنت چاچی کو دیا۔ صنم نے نیا فون لینے سے منع کر دیا، اس نے کہا کہ وہ پہلا فون جو اسے دیا تھا، وہی رکھے گی۔ لیکن شیوا نہ مانا، اس نے صنم کو نیا فون لینے پر مجبور کیا اور جو فون صنم کے پاس تھا، وہ شفی چاچا کو دے دیا۔

شیوا نے سب کو بستی چھوڑ کر اس کے باس کی بلڈنگ میں کرائے پر فلیٹ لے کر رہنے کے بارے میں بھی بتایا۔ جنت اور شفی چاچا پہلے سے ہی شیوا کے احسانوں کی وجہ سے دبے ہوئے تھے۔ بچپن میں صرف اسے دو وقت کا کھانا دینے والے شفی چاچا کے خاندان کی ہر پریشانی دور کر رہا تھا وہ۔ کوئی اپنا سگا بھی اتنا نہ کرتا، جتنا اس نے اب تک کر دیا تھا۔ شیوا نے ان دونوں کوچاروں لڑکیوں کی شادی اور بہتر مستقبل کے لیے منا لیا تھا۔ رات کو وہ ان کے یہاں کھانا کھا کر اپنے گھر جا کر سو گیا۔

٭٭٭٭٭ 

نرگس شیوا سے پہلے ممبئی پہنچ چکی تھی۔ اس نے سب سے پہلے اپنے کچھ گارڈز کو شیوا کی 24 گھنٹے کی سیکیورٹی پر لگا دیا اور انہیں یہ بھی بتا دیا کہ انہیں یہ کام کرتے ہوئے شیوا کی نظر میں نہیں آنا ہے۔ 

جب نرگس کے پاس سنی اور ونود پہنچے تو وہاں ہسپتال والی لڑکی موجود تھی۔ اسے دیکھ کر سنی بہت خوش ہو گیا۔ سب سے پہلے انہوں نے ایسی جگہ پر گھر دیکھنا شروع کیا  جہاں سے شیوا  کالج اور ہوٹل دونوں جگہوں تک آسانی اور جلدی پہنچ سکے۔ 2 دن میں انہیں ایسی ہی بلڈنگ مل گئی، اور نرگس نے وہاں کے لوگوں کو ان کے گھروں کی دگنی قیمت دی۔ جو نہیں مان رہے تھے، انہیں نرگس نے پیار سے سمجھایا۔ اب نرگس کا پیار سے سمجھانا تو آپ کو پتا ہی ہے، سب مان گئے۔ پھر نرگس نے اس بلڈنگ کو اپنے حساب سے سیٹ کر دیا۔

 سب سے نیچے پارکنگ اور جم، اس کے بعد اپنے یہاں کام کرنے والے گارڈز کے فلیٹ، پھر گھر میں کام کرنے والوں کے فلیٹ، اس کے بعد ونود اور سنی کے فلیٹ، پھر شیوا اور اس کے خاندان کے لیے فلیٹ، اور سب سے اوپر نرگس خود رہنے والی تھی۔ 

ونود نے شیوا سے مل کر بتا دیا تھا کہ 15 دن میں اسے فلیٹ مل جائے گا۔ شیوا نے بھی ممبئی آنے کے بعد ہوٹل میں جا کر کام شروع کر دیا تھا۔ وہ صبح 9 بجے جا کر رات 9 بجے گھر آتا تھا۔ 10 دن تک وہ اسی روٹین  پر کام پر آتا  جاتا تھا، بعد میں اسے دوپہر 4 سے رات 12 بجے کی شفٹ  پر کام پر آنے کو کہا گیا تھا۔ شیوا کو کام پر زیادہ دیر رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس ہوٹل کے مالک کی بھتیجی نے کچھ ہوٹل میں جدید تکنیکی تبدیلیاں کرنے کو کہا تھا۔ ہوٹل میں  10 دن تک یہی چلتا  رہا تھا ، اور سب کو ان 10 دنوں میں دگنا کام کرنا پڑا تھا۔ اب کچھ دن مالک کی بھتیجی یہیں رہنے والی تھی۔ 

شیوا کے دبئی سے آنے کے دوسرے دن صنم نے شیوا سے اس کے پیار کے بارے میں پوچھا، جو وہ آنے کے بعد بتانے والا تھا۔ تب شیوا نے صنم کو دبئی میں کیا ہوا تھا، وہ وہاں کس لیے گیا تھا، یہ سب بتا دیا۔ اس نے نرگس کے بارے میں بھی سب کچھ بتایا کہ کیسے اس نے اس کی مدد کی، اس کے لیے اپنے سگے بھائی کو مار دیا، ہسپتال میں کیسے اس کا خیال رکھتی تھی۔ 

شیوا: صنم، میں نے نرگس کی آنکھوں میں اپنے  لیے بے پناہ محبت دیکھی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ مجھے اس کے پیار کے بارے میں نہیں پتا، لیکن میں اتنا بھی پاگل نہیں کہ جن آنکھوں میں میرے لیے پیار ہو، انہیں نہ پہچان سکوں۔ میں نے آج تک بچپن سے اپنے لیے نفرت اور ترس ہی دیکھا ہے، لوگوں کی آنکھوں میں اپنے  لیے پیار میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھا ہے، جیسے تمہارے ماں باپ اور تم خود بھی تو کرتی ہو۔ نرگس کے سامنے میں کچھ بھی نہیں ہوں، وہ ایک راجکماری ہے تو میں ایک بھکاری۔ میں اس بے چاری کی زندگی برباد نہیں کر سکتا۔ وہ جس عیش و آرام کی زندگی جیتی ہے، ویسی میں اسے کبھی نہیں دے پاؤں گا۔ اس کے نصیب میں کوئی راجکمار ہے، میں نہیں۔ اور بات کرتے ہیں اب تیری، تو تیرے ماں باپ نے اس وقت مجھے پالا جب میرا کوئی اپنا نہیں تھا، مجھے پیار دیا، دو وقت کا کھانا دیا، خود کبھی بھوکے رہے لیکن مجھے کبھی بھوکا نہیں رکھا۔ تم خود کئی بار بھوکی رہی، کہ  مجھے کھانا مل سکے۔ تو سوچ، کیا میں ایسے لوگوں کے ارمان توڑ کر تم سے شادی کروں گا، جو میرے لیے بھگوان سے بڑھ کر ہیں؟ نہیں صنم، میں تو بس ایک لاوارث  ہی ہوں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page