Talash E Zeest-08-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 08

لیکن جنگل میں آگ جلانے کے لیے ہمارے پاس سگریٹ لائٹر نہیں تھا۔ گارڈ کے سامان میں وہ ملنا چاہیے تھا۔ اس کے بغیر تو ہمیں بڑی پریشانی ہو جائے گی۔ 

راجہ: سنجے، جس گارڈ کو ہم نے مارا تھا، کیا اس کے پاس سے سگریٹ لائٹر نہیں ملا؟ 

سنجے: ملا تھا۔ کیوں، کیا سامان میں نہیں ہے کیا؟ 

راجہ: یہاں تو نہیں ہے۔ کہیں راستے میں بھاگتے ہوئے نہ گر گیا ہو۔ 

سنجے بھی کچھ پریشان ہو گیا۔ لائٹر کی ضرورت بھی ہماری سب سے بڑی ضروریات میں سے ایک تھی۔ اس کے بغیر تو ہم کچھ بھی ڈھنگ کا نہیں کھا سکتے تھے۔ اور جنگل میں خود کو سیف رکھنے کے لیے آگ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ۔۔ اس کے آگے سوچنے کا من نہیں ہو رہا تھا۔ جنگلی جانوروں کا سوچتے ہی دل حلق میں آنے لگتا تھا۔   کچھ دیر بعد ظہیر اور رانا کچھ لکڑی لے آئے۔ 

ظہیر: راجہ، فی الحال پاس میں یہی ملی ہیں۔ دور ہم گئے نہیں۔ ابھی اس جنگل کو ہم صحیح سے نہیں جانتے نا، اس لیے۔ 

راجہ: نہیں، تم دونوں نے صحیح کیا۔ اور ابھی ہمیں بس کام ہی چلانا ہے۔ بس رات گزر جائے، تو صبح دیکھتے ہیں۔ 

پھر میں لکڑی دیکھنے لگا۔ کچھ مجھے صحیح لگی، تو میں نے وہ اٹھا کر اس کی مضبوطی چیک کی۔ مجھے لگا کہ کام بن جائے گا اس لکڑی سے، لیکن اس کو کاٹنے کا کام مشکل تھا۔ پھر میری نظر چھری پر پڑی۔ میں نے سوچا کہ چھری سے لکڑی کو کاٹتا ہوں۔ لیکن پھر یاد آیا کہ اگر چھری بھی خراب ہو گئی تو ہم کچھ اور بھی نقصان میں چلے جائیں گے۔ 

اس لیے میں نے چھری کو چھوڑ کر آگ سے لکڑی کو کاٹنے کا سوچا۔ لیکن پہلے میں نے ظہیر سے لائٹر کے بارے پوچھنے کا سوچا۔ 

راجہ: ظہیر، وہ لائٹر جو گارڈ کے پاس سے ملا تھا، وہ ہے یا راستے میں گر گیا تھا؟ 

ظہیر نے خود کو ٹٹولنا شروع کیا ۔ 

ظہیر: نہیں، میرے پاس نہیں ہے، شاید۔۔ 

ظہیر کے بولنے سے پہلے ہی رانا نے مجھے وہ گارڈ کے پاس سے ملنے والا لائٹر دے دیا۔ 

رانا: (دھیمی آواز میں) وہ مجھے ظہیر کے پاس سے گرتے ہوئے دکھا، تو میں نے اٹھا لیا۔ 

میں رانا کی اس بات سے خوش ہو گیا۔ 

راجہ: رانا، تم نے بہت ہی بہت اچھا کام کیا ہے۔ (ظہیر سے) ظہیر، تم ان لکڑیوں کو جلانے کے لیے کوئی چھوٹی لکڑی یا خشک گھاس ڈھونڈو۔ 

میری بات سن کر رانا اور ظہیر دونوں ہی اٹھ گئے۔ 

کچھ دیر بعد دونوں ہی کچھ گھاس اور چھوٹی چھوٹی خشک لکڑی لے آئے۔ میں نے دیر نہ کرتے ہوئے آگ جلائی۔ اور مطلوبہ لکڑی کے ٹکڑوں کو جتنا آگ میں جلانا تھا، اتنا آگ میں ڈال دیا۔ کچھ منٹ کے بعد میں نے وہ لکڑی کے ٹکڑے آگ سے نکال کر اپنے پاؤں کے نیچے دے کر توڑ دیے۔ اب وہ لکڑی کے ٹکڑے سنجے کے لیے کارآمد ہو گئے تھے۔ 

میں نے رانا اور ظہیر کی مدد سے سنجے کے کندھے اور بازو پر وہ لکڑی کے ٹکڑے باندھ دیے۔ رسی تو تھی ہی ہمارے پاس۔ کچھ منٹ لگے ہمیں سنجے کو ٹریٹ کرنے میں۔ لیکن ہم نے سنجے کے لیے کچھ حد تک آسانی بنا دی تھی۔ 

اس بیچ سنجے کی چیخوں نے پورے جنگل کو ہی ہلایا ہوا تھا۔ سنجے کا درد ہم تینوں ہی خود میں محسوس کر رہے تھے۔ لیکن یہاں حال دیکھنے والا کون تھا؟ ہم سب ہی یہاں مصیبت میں پھنسے ہوئے تھے۔ 

ابھی تو صرف سنجے کی یہ حالت ہوئی تھی۔ آنے والا وقت ہم میں سے کس کی موت پہلے لاتا ہے، یہ بھی ہم سب سوچ رہے تھے۔ اور یہ ہونا ناممکن نہیں تھا۔   سنجے کا درد اب بہت کم ہو گیا تھا۔ 

کھانے کے لیے کچھ تھا نہیں۔ اور پینے کے لیے جنگل کے اندر پانی ڈھونڈنے کی ابھی ہم میں ہمت نہیں تھی۔ کل صبح ہی سب دیکھا جا سکتا تھا۔ 

جہاں ہم موجود تھے، وہ جنگل کے اندر کا ہی ایک حصہ تھا۔ اور یہاں شام ہونے سے پہلے ہی گھنے درختوں کی وجہ سے اندھیرا ہونے لگا تھا۔ لیکن ہم مجبور تھے۔ اور جنگل کے باہر ہم جا نہیں سکتے تھے۔ 

ہم کسی درخت پر چڑھتے ہوئے بھی ڈر رہے تھے۔ پتا نہیں کس پیڑ کے اوپر جاتے ہی کوئی نئی مصیبت نہ ہمیں مل جائے۔ اور نیچے رہ کر سو بھی نہیں سکتے تھے۔ سوتے ہوئے کوئی جنگلی جانور ہمیں اپنے پیٹ میں اتار لیتا۔ تھکن سے آنے والی نیند میں تو پتا بھی نہیں چلنا تھا۔ ہمارے لیے نیچے بھی موت تھی تو اوپر درختوں پر بھی موت تھی۔   پر درخت پر چڑھنے کا چانس لیا جا سکتا تھا۔ 

اس سے پہلے کہ اندھیرا اور بھی بڑھ جائے، ہم نے اپنے لیے اپنے حساب سے ایک درخت کا انتخاب کیا اور اوپر والے کو یاد کرتے ہوئے اوپر چڑھ گئے۔ اس درخت کی شاخیں کافی موٹی تھیں۔ اور ہم اس کے اوپر لیٹ کر سو بھی سکتے تھے۔    وہ الگ بات ہے کہ نیند کی حالت میں کہیں ہم میں سے کوئی نیچے نہ گر جائے۔ 

درخت پر چڑھنے کا ہمارا فیصلہ جلد ہی صحیح ثابت ہو گیا۔ کیونکہ کچھ ہی دیر میں جنگلی جانوروں کی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔ شاید وہ پورے جنگل سے اپنا پیٹ بھر کر اب گھر کو لوٹ رہے تھے۔ اور ہم دعا کر رہے تھے کہ کوئی درندہ نہ ہماری طرف آ جائے۔ 

ہمیں اپنے نیچے سے کبھی کبھی کسی جانور کے گزرنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں آس پاس ہی کسی درندے کا گھر نہ ہو۔ اور نہ ہی کوئی ہمارے والے درخت کے پاس رکے۔ 

ہمارے لیے آج کی رات بہت ہی بھاری تھی۔ 

درخت کی موٹی موٹی شاخوں پر لیٹے ہوئے ہم سب ہی ڈرے ہوئے تھے۔ کہیں کوئی درندہ نہ اوپر آ جائے، یا کہیں کوئی کیڑا نہ کاٹ لے۔ ہم میں سے کوئی نیچے نہ گر جائے۔ کوئی سانپ بھی آ سکتا تھا، کوئی بچھو بھی۔ کوئی زہریلی مکھی بھی ہو سکتی تھی۔ کسی بھی جان دار کا زہر کہیں ہمارے جسم میں نہ شامل ہو جائے اور ہم صبح ہونے سے پہلے ہی مارے جائیں۔ 

ایسی ہی حالت اور سوچ میں ہم سب تھے۔ اور اوپر سے بھوکے پیاسے بھی تھے۔ لیکن اس حالت میں بھوک پیاس کی طرف کس کا دھیان جاتا؟ سنجے تک اپنے درد کو بھولا ہوا تھا۔ 

ہمیں آس پاس کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور ابھی رات شروع ہوئی تھی۔ نہ جانے اس لمبی اور موت کی ہر پل آہٹ سنائی دینے والی رات کا اختتام کب ہوگا۔ ہوگا بھی یا نہیں؟ یا ہماری زندگی کی یہ آخری رات تھی؟ 

جگر بھی تھا ہم میں اور ہمت بھی تھی۔ لیکن یہاں جگر اور ہمت کا کام ہی نہیں تھا۔ یہاں صرف قسمت کا کام تھا۔ اگر اوپر والے نے ہماری قسمت اچھی لکھی ہوئی ہے تو ہم یہیں رات بھر زندہ رہیں گے۔ اگر قدرت نے ہماری زندگی کے ساتھ کوئی لوچا ہونا لکھا ہوا ہے تو پھر اسی بھیانک جنگل میں ہم مارے جائیں گے اور پھر باقی مارے گئے قیدیوں کی ہی طرح ہمارے بھی ڈھانچے یہیں اسی جنگل میں پڑے ملیں گے کسی اور بھاگے ہوئے قیدی کو۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page