Passion of lust -67- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 67

ثمینہ: (ہنستے ہوئے) مجھے پتا ہے آپ کا کیا موڈ ہے۔ اب مہینہ بھر میں نے پاس نہیں آنا دینا۔ ابھی تک مجھے درد ہو رہا ہے۔ 

میں: کہاں ہو رہا ہے؟ 

ثمینہ: وہیں۔ 

ثمینہ رات کو مستی میں تھی تو ہر بات بے شرمی سے بول رہی تھی۔ اب میں اس کی ہچکچاہٹ سمجھ گیا۔ 

میں: وہیں کہاں؟ 

ثمینہ: جہاں تو نے لنڈ ڈالا تھا۔

یہ کہہ کر وہ باہر جانے لگی۔

میں نے پیچھے سے آواز دی: ثمینہ

ثمینہ: کیا ہے؟ 

میں اٹھ کر اس کے پاس گیا اور اسے کس کے جپھی ڈال دی۔ ساتھ ہی ایک مما ہاتھ میں پکڑ کر دبا دیا۔ اس نے اب برا پہنی ہوئی تھی۔ 

میں: یہ برا کیوں پہنی تم نے؟ 

ثمینہ: تو کیا ننگی گھومتی رہوں گھر؟ رات کو دیکھ تو لیا تھا سب۔ چلو چھوڑو اب۔ 

میں نے مما چھوڑ کر دونوں ہاتھ اس کے ہپس پر رکھے اور اپنے ساتھ دباتے ہوئے کہا

میں: میں تو ہر وقت تمہیں ننگی دیکھنا چاہتا ہوں۔ 

ثمینہ: توبہ بھیا، اب بس بھی کرو۔ 

پھر وہ مجھ سے چھڑا کر باہر نکلنے لگی۔ میں نے پھر اسے پیچھے سے دبوچ لیا۔ میرا لنڈ سیدھا اس کی گانڈ کی دراڑ میں گیا۔ میرے ہاتھ اس کے پیٹ پر تھے۔ میں نے اوپر کر کے اس کے ممے پکڑ لیے۔ 

میں: ثمینہ، کیا چیز ہو تم۔ اتنی گرم، تجھے دیکھتے ہی میرا لنڈ کھڑا ہو جاتا ہے۔ 

ثمینہ نے ہاتھ پیچھے کر کے میرا لنڈ پکڑ لیا اور بولی

ثمینہ: بھیا، آپ کا یہ ڈنڈا تو ہر وقت میری گانڈ کے پیچھے ہی پڑا رہتا ہے۔ اب سنبھال کے رکھو۔ پہلے ہی رات کو میری چوت پھاڑی ہے اس نے۔ اب مجھے چھوڑو۔ 

میں نے اس کی گردن پر کس کیا اور پھر وہ باہر چلی گئی۔ میں لنڈ کو سنبھالتا ہوا واش روم کی طرف چلا گیا۔ میرا آج موڈ نہیں تھا کالج جانے کا، مگر کل بھی چھٹی کی تھی۔ نہا کر باہر آیا اور کپڑے پہننے لگا۔ تبھی ثمینہ آگئی۔ 

وہ سیدھی میری طرف آئی۔ 

ثمینہ: بھیا، ناشتہ لے آؤں؟ 

میں: میں تو آج ناشتے میں دودھ پیوں گا۔ 

ثمینہ: (آنکھیں نکالتے ہوئے) نا نا نا، اب کوئی نہیں۔ 

میں: میں تو دودھ ہی پیوں گا۔ چلو نکالو باہر۔ 

میں نے آگے ہو کر اس کے ممے پکڑ لیے اور منہ اس کے نرم مموں میں دبا لیا۔ افففففففففف۔۔۔ کتنا مزا آ رہا تھا۔ 

ثمینہ: ممم۔۔۔ بھیا، تم بھی نہ۔ آہہہ۔۔۔ چھوڑو۔ 

پھر میں نے اس کے گریبان سے برا میں ہاتھ ڈال کر اس کا مما پکڑ لیا اور ممے کو برا سے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگا، مگر مما باہر نہیں آ رہا تھا۔ 

ثمینہ: بھیا، یہ ٹائٹ ہے، اس طرح نہیں نکلے گا باہر۔ 

میں: نکالو نہ، مجھے تمہارا نپل چوسنا ہے۔ 

ثمینہ: ابھی کیسے نکالوں یار، پوری قمیض اتارنی پڑے گی۔ چلو واپس آ کر چوس لینا، تب امی سوئی ہو گی۔ 

مگر میں نہ مانا۔ میں نے نیچے سے اس کی قمیض اوپر اٹھائی اور مموں تک لے گیا۔ پھر قمیض اور برا دونوں پکڑ کر اوپر کیے۔ ہلکی چرررررر کی آواز آئی، قمیض ایک سائیڈ سے پھٹ گئی تھی۔ پھر اس کے دونوں سڈول ممے میرے سامنے تھے۔ میں بھوکے بھیڑیے کی طرح ان پر ٹوٹ پڑا اور چپا چپ نپل چوسنے لگا۔ ثمینہ بھی مست ہو گئی۔ 

ثمینہ: آہہہ۔۔۔ سییی۔۔۔ بھیا، بڑے گندے ہو تم۔ روز میرے ممے چوستے ہو، پھر بھی تمہارا دل نہیں بھرتا۔ ممم۔۔۔ آہہہ۔۔۔ زور سے چوسو۔ آہہہ۔۔۔ اور زور سے۔ 

میں ممے چوسنے میں مگن تھا۔ ہم دونوں مستی کے سمندر میں ڈوبتے جا رہے تھے۔ اس کےدلکش ممے بہت ہی اعلیٰ تھے۔ میں شاید اور بھی ٹائم لگا دیتا کہ کچن سے امی کی آواز آئی اور ثمینہ نے جلدی سے میرے منہ سے ممے کھینچے اور برا اور قمیض نیچے کرنے لگی۔ 

ثمینہ: بھیا، آپ بھی نہ، بہت چھول ہو۔ میرا نیا سوٹ خراب کر دیا۔ 

پھر وہ گانڈ مٹکاتی کچن کی طرف چلی گئی۔ میں نے بھی تیار ہو کر ناشتہ کیا اور باہر نکل آیا۔ گاڑی آئی اور ہم سٹی جانے لگے۔ پھر ثوبی کا اسٹاپ آیا۔ آج ثوبی سوار نہیں ہوئی، عایزہ  اور عالیہ تھیں بس۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور تیزی سے میری طرف آئیں۔ راستے میں ایک بندے نے میرے دیکھتے دیکھتے ہی عائزہ کا مما بہانے سے دبا دیا۔ میرے چہرے پر ہنسی پھیل گئی۔ ایسی چیزیں یہاں عام ہوتی تھیں۔ پھر اس نے عائزہ کے پیچھے گھسا مارنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ سالا، کچھ دیر نرم گانڈ اور مموں کا مزا لے ہی گیا تھا۔ عائزہ نے غصے سے اسے مڑ کر دیکھا اور میرے پاس آ کر مجھ سے چمٹ گئی۔ اس نے آتے ہی اپنے نرم ہیوی ممے میرے سینے میں دبا دیے۔ 

عائزہ: کہا غائب تھے سیان؟ 

میں: کچھ نہیں یار، آپی کے ہاں گیا تھا۔ اور ثوبی کدھر ہے؟ 

عائزہ: اس کمینی کی بڑی یاد آتی ہے؟ ہم پر تو دھیان ہی نہیں۔ چدائی کر کے نکل لیے سالے۔ میری گانڈ میں ابھی بھی درد ہوتا ہے۔ اتنا موٹا ڈنڈا تھا تیرا۔ 

اس کی بات سن کر عالیہ ہنس پڑی۔ 

میں: عالیہ کو بھی پتا ہے؟ 

عالیہ: ہاں جناب، اب تو ان کے ساتھ ہی مستی کرتے ہو۔ چلو کوئی نہیں، تمہاری اوپننگ تو میں نے ہی کی تھی۔ 

میں اور عائزہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے۔ 

عائزہ: بڑی آگ ہے اس سالی کی چوت میں۔ روز تیرا لنڈ یاد کر کے آہیں بھرتی ہے۔ 

میں تو پہلے ہی گرم تھا۔ ان کی باتیں سن کر اور بھی گرم ہونے لگا۔ عائزہ نے ہاتھ نیچے کر کے میرا لنڈ پکڑ لیا۔ 

عائزہ: عامر، سالے، تیرا لنڈ تو ہر وقت ٹائٹ رہتا ہے۔ کیا کھلاتا ہے؟ 

میں: تیری چوت کی خوشبو سونگھ کر ٹائٹ ہوا۔ 

وہ گاؤن کے اوپر سے ہی چوت پر لنڈ دبانے لگی۔ رش زیادہ ہونے سے کسی کو پتا نہیں تھا کہ عائزہ کیا کر رہی ہے۔ 

عالیہ: اکیلے اکیلے ہی مزے کر رہے ہو۔ 

وہ بھی ایک سائیڈ سے میرے ساتھ جڑ گئی۔ میں نے اس کی بغل میں ہاتھ ڈال کر اس کا مما بھی پکڑ لیا۔ عائزہ کا مما موٹا اور نرم تھا، جب کہ عالیہ کا مما نرم اور ایوریج سائز کا تھا، مگر اس میں تناؤ زیادہ تھا۔ میرے تو واویلا نکلے۔ دو دو جوانیوں کو بس میں لوٹ رہا تھا۔ عائزہ میرے لنڈ کو بری طرح چوت پر رگڑ رہی تھی۔ عالیہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور نیچے لے جا کر چوت کے سامنے چھوڑ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ چوت پر ٹچ چاہتی ہے۔ میں اس کی چوت پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ 

میں: عالیہ، تیری چوت بہت گرم ہے۔ 

عائزہ: یہ تو سالی چلتے پھرتے لنڈ مانگتی ہے۔ 

عالیہ: خود کون سا بیٹھ کر مانگتی ہو گشتیے؟ ہر ٹائم تو بھی لنڈکو  ترستی ہے۔ 

عائزہ: کتنی بار چوت مروائی ہے تو نے عامر سے؟ (عائزہ نے عالیہ سے پوچھا) 

عالیہ: کئی بار۔ اس کا لنڈ تو رہتا ہی میری چوت میں ہے۔ کیوں عامر، مزا آتا تھا نہ میری چوت بجانے کا؟ 

میں ہنسنے لگا۔ 

میں: ہاں ہاں، چلو آج پھر راؤنڈ ہو جائے، کیا خیال ہے؟ 

عائزہ: (سوچتے ہوئے) ممم۔۔۔ ہاں چلو، دیکھتے ہیں آج۔ 

عالیہ: یہ نہ بھی آئے، میں آؤں گی۔ بہت دن ہو گئے تیرے لوڑے کے مزے لیے۔ کہیں بھول تو نہیں گیا میری چوت کو؟ 

میں: نہیں، بھول کیسے سکتا ہوں میری جان۔

میں نے زور سے اس کی چوت میں انگلی دیتے ہوئے کہا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page