Passion of lust -70- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 70

اس کی چوت کا پانی لنڈ چمک رہا تھا۔ پھر وہ آرام سے لیٹ گئی اور عالیہ کے ممے کھینچنے لگی۔ عالیہ ابھی بھی گھوڑی بنی ہوئی تھی۔ میں نے عالیہ کی گانڈ پر زبان سے کافی سارا تھوک لگایا۔ یہ گانڈ بھی مارنے لائق تھی۔ میں نے عالیہ کی گانڈ پر ہاتھ رکھا اور لنڈ کی ٹوپی گانڈ پر سیٹ کی۔ عالیہ کا پتلا جسم کمال کا فگر تھا۔ اس کی گانڈ اس کی پتلی سی کمر کے حساب سے بہت بڑی تھی۔ میں نے لنڈ کو سوراخ پر رکھا اور ہلکا سا دبایا۔ گانڈ فل بند تھی۔ میں کافی دیر تک زور لگاتا رہا۔ لنڈ کبھی چوت کی طرف چلا جاتا، کبھی اوپر دراڑ میں۔ پھر میں نے لنڈ کو سوراخ پر دبایا اور اس کی گانڈ پکڑ کر پورے زور کا جھٹکا مارا۔ 

عالیہ: ہائے، میں مر گئی۔ اوئییی۔۔۔ اوئے، بڑا درد ہے۔ 

لنڈ کی ٹوپی رنگ کراس کر چکی تھی۔ بنڈ نے اتنی زور سے لنڈ کو دبایا ہوا تھا جیسے لنڈ کو کاٹ دے گی۔ میں نے لنڈ کو باہر نکال لیا۔ بڑی ٹائٹ بنڈ تھی سالی کی۔ میں نے پھر جھٹکا مارا۔ پھر ٹوپی گانڈ میں، پھر باہر، پھر گانڈ میں۔ کافی دیر تک میں اس کی گانڈ کا رنگ کھولتا رہا۔ پھر میں نے لنڈ کو گانڈ کے اندر والے رنگ میں دبایا اور پھر میں دباؤ بڑھاتا ہی گیا اور آدھے سے زیادہ لنڈ گانڈ میں چلا گیا۔ عالیہ چیخ رہی تھی۔ اس کا سانس بند ہو رہا تھا۔ عائزہ نے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹ میں لے لیے۔ میں کچھ دیر رکا رہا اور پھر لنڈ کو آگے پیچھے حرکت دینے لگا۔

 اففففففف۔۔۔ اتنی ٹائٹ گانڈ میں لنڈ گھسانے کا بہت ہی زیادہ مزا آ رہا تھا۔ میں کافی دیر آہستہ آہستہ لنڈ آگے پیچھے رگڑتا رہا۔ گانڈ کے مسلز لنڈ کو بری طرح دبا رہے تھے اور ان کے دبانے سے مجھ پر نشہ چڑھتا جا رہا تھا۔ پھر نشے میں اسے زور زور سے چودنے لگا۔ مجھے چودتے ہوئے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔ اب میں ڈسچارج ہونے والا تھا۔ میں نے گہرے گہرے جھٹکے مارے اور گانڈ کی گہرائیوں میں منی چھوڑنے لگا۔ آہہہ۔۔۔ مزا آ گیا۔ میں عالیہ کے اوپر ہی لیٹ گیا۔ عالیہ کی گانڈ میں ابھی بھی مرچیں لگ رہی تھیں۔ پھر میں اس کے اوپر سے اٹھا۔ لنڈ پچ کر کے باہر نکل آیا۔ لنڈ پر خون  لگا ہوا تھا۔

 افففففف۔۔۔ اتنی ٹائٹ گانڈ سے خون  تو نکلنا ہی تھا۔ پھر ہم کچھ دیر مستی کرتے رہے اور ایک بار پھر سے عائزہ کی چوت کی ٹھکائی کی اور کپڑے پہن کر ہوٹل سے نکل آئے۔

عائزہ اور عالیہ کی چدائی کے بعد میں کافی سیٹسفائی تھا۔ رات سے اب تک میں تین لڑکیوں کی کئی بار چدائی کر چکا تھا۔ اب کچھ تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔ میں ایک دکان پر گیا اور پورا جگ ملک شیک کا پی لیا۔ اب کافی سکون محسوس ہو رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کہاں کبھی کسی کی چوت دیکھی تک نہیں تھی اور اب چود چود کر ڈیر لگا دیا تھا۔ لیکن بہت مزا آ رہا تھا اس کام میں۔ میں کافی وقت سے ایکسرسائز نہیں کر رہا تھا۔ اب سوچ رہا تھا کہ آج سے دوبارہ ایکسرسائز شروع کرنی چاہیے۔ میرے ذہن میں بار بار عائزہ کی موٹی گانڈ آ رہی تھی۔ کمال کی رنڈی تھی سالی، اس کی گانڈ مارتے ہوئے بھی بندے کو تھکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ 

کچھ دیر بعد میں اٹھا اور بازار کی رنگینیاں دیکھنے لگا۔ شام کو گھر پہنچا۔ ثمینہ جھاڑو لگا رہی تھی اور امی کچن میں کھانا تیار کر رہی تھی۔ ثمینہ حسبِ معمول اپنے ہتھیاروں سے لیس تھی۔ 

ثمینہ: بھیا، آج اتنی لیٹ؟ 

میں: ہاں، کچھ کام تھا یار۔ 

ثمینہ: کیا کام پڑ گیا میرے بھیا کو؟ 

میں: ایویں بس۔

میں نے کچن کی طرف دیکھا اور اس کے گال پر چٹکی کاٹ کر اندر چلا گیا۔ اندر جا کر میں کپڑے چینج کرنے لگا۔ جیسے ہی میں نے قمیض اتاری، پیچھے سے کسی نے مجھے جپھی ڈال دی۔ اففففففف۔۔۔ نرم گداز جسم۔ یہ ثمینہ تھی۔ 

ثمینہ: بھیا، اب تو دل نہیں لگتا تمہارے بغیر گھر میں۔

وہ میری کمر پر ممے دباتی ہوئی بولی۔

اس کا اس طرح پیچھے سے جپھی ڈالنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ میں نے پیچھے کو گردن گھمائی اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا۔ امم۔۔۔ کافی لمبا چوما لینے کے بعد ثمینہ نے ہونٹ پیچھے کیے اور بولی

ثمینہ: میری یاد نہیں آئی جو اتنا لیٹ آئے ہو؟

ساتھ ہی اس کا ہاتھ رینگتا ہوا میرے لنڈ پر چلا گیا۔

ثمینہ:  ابھی تو بڑے سکون سے سو رہا ہے تمہارا یہ سانپ، رات کو تو بڑا اکڑ رہا تھا۔ 

ثمینہ کے لنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے لنڈ ٹائٹ ہونے لگا۔ 

میں: کیا بات ہے ، بڑی بے چین ہو رہی ہو۔ چوت مروانے کو دل کر رہا ہے کیا؟ 

ثمینہ: ہومم۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ مم۔۔۔ پتا نہیں۔ 

میں سوچنے لگا، سالی کیسے ترس رہی ہے، لنڈ کو آتے ہی پکڑ لیا ہے۔ میں نے اس کی طرف گھومتے ہوئے اسے زور سے جپھی ڈال دی اور کہا

میں: اچھا، تو نہیں کر رہا۔

ساتھ ہی اسے گانڈ کے نیچے ہاتھ ڈال کر اٹھا کر دیوار سے لگا لیا اور اس کا نیچے والا رسیلا ہونٹ منہ میں لے کر چوسنے لگا۔

بہت ہاٹ اور سیکسی ہونٹ تھے ثمینہ کے۔ میرا لنڈ اب پوری طرح کھڑا ہو چکا تھا۔ ثمینہ تو جیسے ابھی چوت مروانے کے موڈ میں تھی، مگر میں آج اس کی چوت نہیں مارنا چاہتا تھا۔ اتنی چوتیں تو مار چکا تھا۔ ثمینہ کا نرم گداز جسم مجھے پگھلانے لگا۔ میں مدہوش ہونے لگا۔ پھر ثمینہ کو کچھ خیال آیا اور اس نے مجھے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔ 

میں: کیا ہوا؟ 

ثمینہ: امی نہ آ جائے۔

یہ کہتی ہوئی وہ باہر چلی گئی۔

میں کپڑے چینج کر کے لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد ثمینہ پھر اندر آئی۔ 

ثمینہ: بھیا، کھانا کھا لو۔

اور وہ یہ بول کر جانے لگی۔

میں: بات تو سنو میری بندو۔ 

ثمینہ: فرمایں۔ 

میں نے اسے پکڑ کر اپنے اوپر گرا لیا اور اس کے ممے دبانے لگا۔ پھر ایک زور کا چوما لیتے ہوئے میں کھڑا ہوا اور ہم باہر آگئے۔ میرے تو اب مزے ہو گئے تھے۔ باہر بھی چوت اور گھر میں بھی چوت، مزے سے بھرپور جوانیاں ۔اور میری ہوس کا جنون۔ 

پھر ہم کھانا کھانے لگے۔ کھانے کے دوران کبھی میرا گھٹنا اس کی نرم ران میں ٹچ ہوتا تو کبھی ثمینہ روٹی اٹھانے کے بہانے اپنا مما مجھ سے رگڑ دیتی۔ بہت مزا آ رہا تھا۔ کھانا کھا کر میں اپنے روم میں آ کر لیٹ گیا۔ ثمینہ کا رنگین سراپا میری آنکھوں میں گوم رہا تھا۔ اسے سوچتے سوچتے میں سو گیا۔ شام کو میں اٹھا۔ 

باہر آیا تو امی اور ثمینہ بیٹھ کر باتیں کر رہی تھیں۔ میں بھی بیٹھ گیا۔ 

ثمینہ: امی، بھیا کی شادی نہ کر دیں۔ بہت اداس رہتے ہیں۔ 

امی: (مسکراتے ہوئے) میرا بیٹا جوان ہو گیا ہے اب۔ 

ثمینہ: امی، جوان کیا، بہت جوان ہو گیا۔ 

میں: نہیں امی، ثمینہ کے ہاتھ پیلے کر دیں۔ دیکھو تو کتنی بڑی ہو گئی ہے۔

میں نے اس کے اکڑے ہوئے مموں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

میں نے ابھی ثمینہ کے مموں کو دیکھا تھا۔ ثمینہ نہائی ہوئی تھی اور کافی فریش نظر آ رہی تھی۔ اس نے باریک سا نیلا سوٹ پہنا ہوا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page