Lust and thirst-03-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 03

انسپکٹر: “ٹھیک ہے مکیش جی، آپ دونوں ہمارے ساتھ چل کر کچھ رسمی کارروائیاں پوری کر لیں۔ اس کے بعد آپ اس بچے کو گھر لے جا سکتے ہیں۔” 

مکیش: “ٹھیک ہے انسپکٹر، چلیں۔” 

اس کے بعد مکیش انسپکٹر کے ساتھ پولیس اسٹیشن گیا اور ضروری کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ساحل کو گود لے لیا۔ شیلا تو خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھی۔ وہ برسوں سے اولاد کے لیے ترس رہی تھی اور آج ساحل کی صورت میں اسے ایک بیٹا مل گیا تھا۔ 

مکیش آج ساحل کو ہسپتال سے گھر لانے والا تھا۔ شیلا جیسے بادلوں میں اڑ رہی تھی۔ اس نے اپنے کئی رشتہ داروں اور دوستوں کو یہ خوشخبری سنا دی اور ساحل کے گھر آنے کی خوشی میں ایک بڑی پارٹی رکھی۔ 

شیلا نے پارٹی میں اپنے دونوں بھائیوں کو بلایا۔ اس کا بڑا بھائی کلونت سنگھ اس سے دو سال بڑا تھا۔ کلونت کی بیوی کا نام نیہا تھا، جو تقریباً تیس سال کی تھی۔ ان کی شادی کو دس سال ہو چکے تھے۔ شادی کے ایک سال بعد ہی ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا تھا، لیکن تین سال بعد ایک حادثے میں اس کی موت ہو گئی۔ اس کے بعد نیہا دوبارہ ماں نہ بن سکی۔ کلونت کا چھوٹا بھائی روی اس کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ روی کی شادی تین سال پہلے ہوئی تھی اور شادی کے ایک سال بعد ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ روی کی بیوی پائل بہت تیز طرار عورت تھی۔ 

کلونت کی ماں بھی ان کے ساتھ رہتی تھی، جو اب کافی بوڑھی ہو چکی تھی۔ جب کلونت کے بیٹے کی موت ہوئی تھی، تو اس نے اپنی ماں سے یہ بات چھپائی تھی، کیونکہ وہ اپنے پوتے سے بہت پیار کرتی تھی۔ کلونت جانتا تھا کہ اگر اس کی ماں کو یہ خبر پتا چلی تو وہ شاید اسی وقت دم توڑ دیں گی، کیونکہ انہیں پہلے ہی دو بار دل کا دورہ پڑ چکا تھا۔ اس لیے انہوں نے ماں کو یہ بتایا کہ ان کا بیٹا اپنی بوا (شیلا) کے پاس شہر میں پڑھائی کر رہا ہے۔ 

شیلا ساحل کے گھر آنے پر بہت خوش تھی۔ اس نے اس موقع پر بڑی دھوم دھام سے پارٹی کا اہتمام کیا۔ کلونت اپنی ماں کو ساتھ نہیں لایا تھا، کیونکہ شیلا اور مکیش اس جھوٹ سے واقف تھے جو کلونت نے اپنی ماں سے کہا تھا۔ ساحل کے گھر آنے کی خوشی میں پارٹی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ اس دن کے بعد شیلا اور مکیش کی زندگی ہی بدل گئی۔ 

مکیش صبح اپنے کام کے لیے گھر سے نکل جاتا اور رات کو واپس آتا۔ لیکن شیلا ایک لمحے کے لیے بھی ساحل کو اپنی آنکھوں سے دور نہ ہونے دیتی۔ اس کا بچپنا   اور سادگی دیکھ کر وہ خوش ہوتی رہتی۔ جلد ہی ساحل کا داخلہ اسکول میں کرا دیا گیا۔ گھر پر اس کے لیے پرائیویٹ ٹیوشنز کا بندوبست بھی کیا گیا تاکہ وہ جلد اپنی عمر کے بچوں کی کلاس میں پہنچ سکے۔ ساحل نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا اور ایک سال میں ہی وہ اپنی عمر کے بچوں کی کلاس میں پہنچ گیا۔ 

ساحل کی زندگی بھی جیسے بدل گئی تھی۔ ہر طرح کی سہولت، پیسہ، اور کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ محلے میں اس کے کئی دوست بن گئے، جن کے ساتھ وہ شام کو کرکٹ کھیلتا۔ ساحل اب آٹھویں جماعت میں پہنچ گیا تھا۔ وہ روز اسکول سے آتا اور اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے لگ جاتا۔ 

ساحل جن دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا، ان میں سے کچھ اس سے دو تین سال بڑے تھے۔ شیلا کا گھر بہت بڑا تھا اور گھر کے پچھلے حصے میں کافی خالی جگہ تھی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس عمر میں بچوں میں بہت تجسس ہوتا ہے، ویسا ہی ساحل میں بھی تھا۔ ایک دن جب ساحل اور اس کے دوست کرکٹ کھیلتے کھیلتے تھک گئے تو سب بیٹھ کر آرام کرنے لگے۔ ان میں سے ایک لڑکا وجے تھا، جو اکثر گالیاں نکال کر باتیں کرتا تھا۔ 

وجے: “اوئے، تیری بہن دی۔۔۔ کل میں نے کہا تھا کہ میرے لیے وہ میتھس کی کتاب لے آ، تو لے کر نہیں آیا!” 

سیم: “یار، کیا کروں، کل بھول گیا۔” 

وجے: “بھول گیا لوڑے ؟ ۔۔ کل ضرور تو مٹھ  مار رہا ہوگا، اسی لیے بھول گیا!” 

ساحل نے یہ الفاظ پہلی بار سنے، کیونکہ یہ لڑکے اس کے اسکول کے نہیں تھے۔ “وجے، یہ ” لوڑا” اور “پھدی” کیا ہوتا ہے؟” 

وجے: (ہنستے ہوئے) “کیا، نواب صاحب! تمہیں پھدی اور لن کا بھی پتا نہیں؟” 

ساحل: “نہیں، مجھے نہیں پتا۔” 

وجے: “دیکھنا چاہتا ہے کیا ہوتا ہے؟” 

ساحل: “ہاں، دکھاؤ۔” 

وجے نے ساحل اور سیم کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا، پھر اردگرد دیکھ کر اپنی پینٹ کی زپ کھولی اور اپنا چھ انچ لمبا لن باہر نکال کر ساحل کو دکھاتے ہوئے بولا، “یہ دیکھ، اسے لن کہتے ہیں۔”

 ساحل حیرت بھری نظروں سے کبھی سیم کی طرف دیکھتا اور کبھی وجے کے لن کی طرف۔ 

وجے: “کیا ہوا؟ تیرے پاس بھی تو لن ہے۔ اور عورتوں کے یہاں سوراخ ہوتا ہے، جسے چوت یا پھدی کہتے ہیں۔ تو نے کبھی کسی کی چوت دیکھی؟” 

ساحل: “نہیں، لیکن ایک بات پوچھوں؟” 

وجے: (اپنا لن پینٹ میں واپس کرتے ہوئے) “ہاں، بول۔” 

ساحل: “تمہاری یہ “نونو” اتنی بڑی کیوں ہے؟” 

وجے: (ہنستے ہوئے) “کیا کیا بولا تو نے؟ نونو؟ ابے بچے، مردوں کا لن ہوتا ہے۔ تیرے پاس کیا نونو لگی ہے؟ ذرا دکھا اپنی نونو۔” 

ساحل: “نہیں، مجھے شرم آتی ہے۔” 

وجے: “یار، کیا بچوں جیسی باتیں کرتا ہے؟ دکھا نا!” 

ساحل نے شرماتے ہوئے اپنی پینٹ کی زپ کھولی اور اپنی تین انچ کی سکڑی  ہوئی نونو نکال کر بولا، “یہ دیکھو میرا لن۔”

 وجے اور سیم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور زور زور سے ہنسنے لگے۔ 

وجے: (ہنستے ہوئے) “ارے للو لال، یہ لن نہیں، یہ تو “نونو” ہے، ہا ہا ہا!” 

دونوں کو ہنستے اور اپنا مذاق اڑاتے دیکھ کر ساحل کھڑا ہوا اور گھر کے اندر چلا گیا۔ وجے اور سیم اسے پیچھے سے آوازیں دیتے رہے، لیکن ساحل ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکا۔ وہ دونوں بھی اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ ساحل منہ لٹکائے اپنے کمرے میں آ گیا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ شیلا اس کے کمرے میں آئی۔ 

شیلا: “ساحل، اٹھو، تیار ہو جاؤ۔ آج ہمیں پارٹی میں جانا ہے۔” 

ساحل: “نہیں ماں، مجھے کہیں نہیں جانا۔” 

شیلا: “ارے، کیا ہوا؟ اتنا غصہ کیوں ہو؟” 

ساحل: “کچھ نہیں، مجھے کہیں نہیں جانا۔”

شیلا: “ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ غصہ کیوں ہو رہا ہے؟ میں نرملا کو کہتی ہوں، وہ تمہارے لیے کھانا بنا دے گی۔ ہم شام تک گھر آ جائیں گے۔” 

اس کے بعد شیلا نیچے آ گئی۔ کچھ دن پہلے ہی انہوں نے گھر میں ایک نئی نوکرانی رکھی تھی، نرملا، جو بیوہ تھی۔ اس کا ایک بیٹا تھا جو بارہ سال کا تھا۔ شیلا نے نرملا سے ساحل کے لیے کھانا بنانے کو کہا اور ہدایت دی کہ جب تک وہ واپس نہ آئیں، وہ ساحل کے ساتھ ہی رہے۔ اس کے بعد شیلا اور مکیش پارٹی کے لیے نکل گئے۔ 

نرملا نے کھانا تیار کیا اور ساحل کے کمرے میں گئی۔ ساحل ابھی بھی بستر پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ لٹکا ہوا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page