Lust and thirst-08-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 08

پائل: “ارے گیتا، تمہیں ساحل سے کوئی کام تھا کیا؟” 

گیتا: “نہیں تو، کیوں، کیا ہوا؟” 

پائل: “ساحل کہہ رہا تھا کہ تمہیں اس سے کوئی کام ہے اور تم نے اسے یہاں بلایا تھا۔” 

ساحل یک دم گھبرا گیا۔ اس کی شکل ابھی سے رونے والی ہو گئی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اب اس کی خیر نہیں۔ 

گیتا: “ہاں دیدی، یہ جو ساحل ہے نا، یہ آج کل بہت بگڑ گیا ہے۔” 

پائل: “اچھا، کیا ہوا؟ کیا کیا ہمارے دولارے نے؟” 

گیتا: (ساحل کی طرف گھورتے ہوئے) “یہ آج کل پڑھتا کم ہے اور کھیلتا زیادہ ہے۔ اسی لیے بلایا تھا کہ میں اسے پڑھا سکوں۔” 

پائل: “اچھا، بس تنی سی بات ہے؟ تو کیا ہوا، کھیلنے کی عمر ہے۔ اب نہیں کھیلے گا تو کب کھیلے گا؟” 

گیتا: “اچھا دیدی، تم تو میری کوئی بات مانو ہی نا کرو۔” 

پائل: “لو جی، اب تم ناراض ہو جاؤ۔ اچھا، میں نہیں بولتی تمہاری باتوں میں، اسے پڑھا دیا کرو۔” 

پھر گیتا، اس کی ماں، اور پائل تینوں باتیں کرنے لگیں۔ اسی دوران پونم بھی اٹھ کر آ گئی اور سب سے گپیں لڑانے لگی۔ دوپہر کے دو بج چکے تھے۔ گیتا اور پونم نے مل کر کھانا بنایا اور سب نے کھانا کھایا۔ 

نیلم: “اچھا بیٹا، اب تم تھوڑا سا آرام کر لو اور ونش کو بھی دودھ پلا کر سلا دو۔ بیچارہ تھک گیا ہوگا۔ میں دوسرے کمرے میں جا کر آرام کرتی ہوں۔” 

اس کے بعد نیلم دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ ان کے گھر میں کل چار کمرے تھے۔ ایک میں پائل کا بھائی اور اس کی بیوی رہتے تھے، دوسرے میں اس کی ماں اور گیتا سوتی تھیں۔ ایک کمرہ خالی تھا، حالانکہ وہاں بھی بستر اور دوسرا سامان تھا۔ اور چوتھے میں وہ اناج وغیرہ رکھتے تھے۔ 

جب گیتا باہر جانے لگی تو اس نے ساحل کو آواز لگائی اور اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔

پائل کو تو نیند نے گھیر لیا تھا۔ ساحل سہما سا اٹھ کر گیتا کے پیچھے آ گیا۔ گیتا اسے خالی پڑے کمرے میں لے گئی۔ وہ کمرہ باقی تینوں کمروں سے الگ تھا اور وہاں کی کھڑکی، جو بستر کے بالکل پاس تھی، سے باقی تینوں کمروں کے دروازے نظر آتے تھے۔ گیتا اندر آتے ہی بستر پر بیٹھ گئی اور ساحل کو دیکھتے ہوئے بولی، “آ، یہاں بیٹھ، اب تیری خبر لیتی ہوں۔” ساحل گھبراتا ہوا اس کے پاس بستر پر بیٹھ گیا۔ 

گیتا: “کیوں رے، وہ کتاب تجھے کہاں سے ملی؟” 

ساحل گیتا کی بات سن کر خاموش ہو گیا۔ اس کی رونی صورت اس کی دہشت بیان کر رہی تھی۔ “سنا نہیں، میں نے کیا کہا؟ بولتا ہے یا تیری چچی کو بتاؤں؟” 

ساحل: “نہیں موسی، چچی کو کچھ نہیں بتانا۔” 

گیتا: “تو پھر بتا، وہ کتاب تجھے کہاں سے ملی؟” 

ساحل: “وہ۔۔۔ وہ میری نہیں ہے۔ وہ تو راجیش نے دی تھی۔” 

گیتا: “ہائے ہائے، پتا نہیں کیا ہوگا آج کل کے بچوں کا! زمین سے باہر نکلے نہیں اور کیا کیا کرتے ہیں! تجھے شرم نہیں آتی ایسی کتابیں دیکھتے ہوئے؟ بول، بتاؤں دیدی کو؟” 

ساحل گیتا کی بات سن کر رونے لگا اور سسکیوں کے ساتھ کہا، “نہیں موسی، ان کو نا بتانا۔ میں آگے سے پھر کبھی نہیں دیکھوں گا۔” گیتا ساحل کو روتا دیکھ کر تھوڑا نرم پڑ گئی۔ ویسے وہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ یہ بات کسی کو پتا چلے اور ساحل کے رونے کی آواز سن کر کوئی ادھر آ جائے۔ 

گیتا: “اچھا اچھا، نہیں بتاتی۔ پہلے چپ کر۔” 

ساحل اپنے آنسو پونچھتا ہوا چپ ہونے لگا۔ پتا نہیں گیتا کے دل میں کیا آیا، اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور وہ کتاب اس میں سے نکال لی۔ 

گیتا: “اچھا، اگر تو میری بات مانے گا اور سچ سچ جواب دے گا تو میں یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گی، وعدہ کرتی ہوں۔”

ساحل گیتا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہے اور پھر ہاں میں سر ہلا دیتا ہے۔ 

گیتا: “اچھا، بتا، تجھے یہ سب دیکھنا اچھا لگتا ہے کیا؟”

ساحل چپ بیٹھا رہتا ہے اور کوئی جواب نہیں دیتا۔ گیتا وہ کتاب کھول کر اس میں لگی تصاویر دیکھنے لگتی ہے۔

گیتا: “ہائے توبہ، یہ تو بالکل ننگی لیٹی ہوئی ہے!”

ساحل اپنی کن اکھیوں سے دیکھتا ہے۔ کتاب میں ایک لڑکی بستر پر مکمل ننگی لیٹی ہوئی تھی اور ایک لڑکا اس کے ممے چوس رہا تھا۔ 

گیتا: “اچھا، اب ایک بات سچ سچ بتا، تجھے ان میں سے کون سی تصویر سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے؟”

گیتا کے اس سوال سے ساحل تھوڑا چونک جاتا ہے، لیکن کچھ بولتا نہیں۔

گیتا:”ارے بتا نا، میں کسی کو نہیں کہوں گی۔”

دراصل، وہ تصاویر دیکھتے ہوئے گیتا خود گرم ہونے لگی تھی۔ جوانی کی دہلیز پر کھڑی گیتا، جسے اوپر  والے نے بھرپور جوانی عطا کی تھی، اس کی چوت میں نمی آنے لگی اور اس کی چوت کے اندر تیز سرسراہٹ ہونے لگی۔ 

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گیتا کسی بالغ عورت کی طرح پانچ فٹ سات انچ لمبی تھی۔ اس کے ممے اس کی ہائٹ کے حساب سے 38 سائز کے ہو چکے تھے۔ بھرپورگدرائے جسم کی وجہ سے اس کے ممے ہمیشہ تنے رہتے تھے۔ اس کی رانیں خوب موٹی اور گدرائی  تھیں۔ بھرپور جسم کے ساتھ ساتھ اس کی گانڈ بھی پیچھے کی طرف نکلی ہوئی تھی۔ 

گیتا یک دم گرم ہونے لگی تھی۔ اس بات کا شاید ساحل کو پتہ نہیں تھا۔ گیتا کی گدرائی  اور موٹی رانیں اس کی رانوں سے ملی ہوئی تھیں، اور اس کی رانوں کی گرمی کی وجہ سے ساحل کے لن میں ہلچل ہونے لگی تھی۔ حالانکہ ساحل اس معاملے میں بالکل اناڑی تھا۔ 

گیتا: “بولتا کیوں نہیں؟”

ساحل: (اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے ایسے ہی بول دیتا ہے) “یہی والی۔”

گیتا: (اپنے ہونٹوں پرشہوت ناک  مسکراہٹ لاتے ہوئے) “اچھا، تجھے اس میں کیا اچھا لگتا ہے؟”

ساحل: (کن انکھوں سے اس تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے) “وہ دودھ۔۔۔”

گیتا: “اچھا بچو، کبھی دیکھے کسی کے دودھ؟”

ساحل: “نہیں۔۔۔”

گیتا: (دھیمی آواز میں) “دیکھے گا۔۔۔؟”

ساحل: (گیتا کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے) “کس کے؟”

گیتا: “پہلے تو مجھ سے وعدہ کر کہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گا۔”

ساحل: “پرومِس۔”

گیتا نے دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑکی کی طرف دیکھا، پھر کھڑکی کے پاس جا کر اسے تھوڑا سا کھولا۔ یہاں سے باقی تینوں کمروں کے دروازے صاف نظر آتے تھے۔ کھڑکی کے باہر کی طرف جالی لگی ہوئی تھی۔ اگر باہر دھوپ ہوتی تو جالی کے اندر کچھ نظر نہیں آتا تھا، چاہے کھڑکی کھلی ہو۔ یہ بات گیتا اچھی طرح جانتی تھی۔

پھر گیتا نے پورے گھر میں نظر دوڑائی۔ پورے گھر میں سکون تھا، بس ایک دو چڑیوں کی چہچہاہٹ سنائی دے رہی تھی۔ پھر اس نے ساحل کو اشارے سے پاس آنے کو کہا۔ ساحل کا دل بھی اس نئے رومانچ کی وجہ سے زوروں سے دھڑک رہا تھا۔ ساحل دھیرے دھیرے گیتا کے پاس گیا۔ ساحل کی ہائٹ محض چار فٹ گیارہ انچ کے قریب تھی، کیونکہ اس کی عمر ہی اتنی تھی۔ 

اس کے برعکس گیتا کسی بالغ عورت کی طرح پانچ فٹ سات انچ لمبی تھی۔ جیسے ہی ساحل اس کے پاس پہنچا، اس نے ساحل کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے اسے کھڑکی کی طرف کر دیا۔ اب ساحل کی پیٹھ کھڑکی کی طرف تھی اور گیتا کا چہرہ ساحل اور کھڑکی کی طرف تھا، جس سے وہ باہر بھی نظر رکھ سکتی تھی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page