Lust and thirst-09-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 09

گیتا: (دھیرے سے ساحل کے کان کے پاس جا کر پھسپھساتے ہوئے) “تو کسی کو نہیں بتائے گا نا؟”

ساحل نے نہ میں سر ہلا دیا

گیتا:  “دیکھ، اگر تو نے یہ بات کسی کو بتائی تو میں وہ کتاب تیری ممی کو دکھا دوں گی۔”

ساحل: “نہیں، میں کسی کو نہیں بتاتا۔ سچ میں پرومِس۔”

گیتا نے دھڑکتے دل کے ساتھ کھڑکی سےباہر نظر ماری، پھر ساحل کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھتے ہوئے اپنی قمیض پکڑ کر اوپر اٹھانا شروع کر دی۔ ساحل حیرت سے گیتا کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کی قمیض اوپر اٹھ رہی تھی اور اس کا گورا جسم ساحل کی آنکھوں کے سامنے آتا جا رہا تھا۔ اس کا وہ بھرپور گدرایا  پیٹ اور ناف دیکھتے ہی ساحل کے لن میں ہلچل ہونے لگی۔ 

ساحل کو گھورتا دیکھ کر گیتا ہلکے ہلکے مسکرا رہی تھی۔ پھر اس نے اپنی قمیض کو اپنی چھاتیوں کے اوپر تک اٹھا دیا۔ گیتا کی 38 سائز کی چھاتیاں سفید رنگ کی برا میں بہت کس کر باندھی ہوئی تھیں اور اوپر سے باہر آنے کے لیے بے تاب تھیں۔ گیتا نے ایک بار پھر باہر کی طرف دیکھا اور پھر ساحل کی طرف۔

گیتا: “تو کسی کو نہیں بتائے گا، یاد ہے نا؟”

 ساحل نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا اور اس کی برا میں قید چھاتیوں کو دیکھنے لگا۔ گیتا نے اپنی برا کے کپ کو نیچے سے ہاتھ ڈال کر اوپر اٹھا دیا۔ برا تنگ ہونے کی وجہ سے جیسے ہی اوپر ہوئی، گیتا کی بڑی بڑی چھاتیاں اچھل کر باہر آ گئیں۔ 

اس کی چھاتیوں کو لہراتے دیکھ کر ساحل کا لن بھی جھٹکے کھانے لگا۔ ساحل گیتا سے قد میں کافی چھوٹا تھا، اس لیے گیتا کے نپل بالکل اس کے ہونٹوں کے سامنے آ گئے۔ گیتا نے مسکراتے ہوئے دیکھا اور پھر ساحل کے سر کو ایک ہاتھ سے سہلاتے ہوئے اپنی طرف کھینچنے لگی۔ 

گیتا: “بتا، کیسے ہیں میرے دودھ؟”

ساحل: “اچھے ہیں۔”

گیتا: “تو بھی چوسے گا میرے دودھ؟”

ساحل کا تو کلیجہ منہ کو آ گیا۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ وہ کبھی اس کی چھاتیوں کی طرف دیکھتا تو کبھی گیتا کے چہرے کی طرف۔ گیتا ساحل کی ذہنی حالت سمجھ چکی تھی۔ اس نے ساحل کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر کر اپنی چھاتیوں کی طرف اس کے ہونٹوں کو بڑھانا شروع کر دیا۔ جیسے ہی ساحل کے ہونٹ اس کے بائیں ممے کے پاس آئے، ساحل نے اپنا منہ کھول کر اس کا نپل منہ میں بھر لیا۔

جیسے ہی گیتا کو ساحل کی گرم زبان کے لمس کا اپنے نپل پر احساس ہوا، اس نے اپنا سر پیچھے کی طرف کر لیا اور ناک سے گہری سانس اندر کھینچتے ہوئے ساحل کو اپنی چھاتیوں پر دبانے لگی۔

گیتا:  “سسس۔۔۔ امہہ۔۔۔ ساحل، زور سے چوس، آہہہہہہ۔۔۔ تجھے دودھ بہت اچھے لگتے ہیں نا؟”

ساحل کے لیے یہ پہلا تجربہ تھا۔ گیتا کو یوں مستی میں سسکیاں لیتے دیکھ کر نجانے ساحل کے دل میں کیا آیا، اس نے اور زور سے گیتا کے نپل کو چوسنا شروع کر دیا۔

گیتا:  “امممم آہہہہہہہ۔۔۔ ساحل، چوس اسے زور سے، میرے ممے چوس!”

 گیتا یک دم گرم ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اس نے ساحل کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دوسرے ممے پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھ سے ساحل کا ہاتھ دبا کر اپنے ممے دبانے لگی۔ 

ساحل نے سوچا شاید گیتا کو یہ سب اچھا لگ رہا ہے۔ اس نے اس کے بڑے بڑے مموں کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے دبانا شروع کر دیا۔

گیتا:  “ہائے سباشہ، اور زور نال پٹ ہاں، چوس میرے ممے!”

 گیتا نے اپنی مدہوش ہو چکی آنکھوں کو بڑی مشکل سے کھولا اور اپنے ممے کو کھینچتے ہوئے اس کے منہ سے باہر نکالتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھر کر اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔ 

گیتا پاگلوں کی طرح ساحل کے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ لیکن ساحل کو کس کہاں کرنا آتا تھا؟ جب اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو گیتا نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے الگ کرتے ہوئے کہا،

گیتا:  “کیا ہوا، کس نہیں کرنا آتا کیا؟”

ساحل گیتا کے مموں کو دیکھ رہا تھا، جو اس کی تیز سانسیں لینے کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ گیتا نے ایک ہلکی سی چپت اس کے گال پر لگاتے ہوئے کہا۔

گیتا:  “میں کیا پوچھ رہی ہوں؟”

ساحل: “نہیں آتا۔۔۔”

گیتا: “چل، کوئی بات نہیں، پھر کبھی تجھے سکھا دوں گی۔”

یہ کہہ کر اس نے ایک بار پھر اپنے ہونٹ ساحل کے ہونٹوں سے لگا دیے اور اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ ساحل کو یہ تھوڑا سا عجیب لگ رہا تھا، لیکن اس نے بھی گیتا کی نقل کرتے ہوئے اس کے نیچے والے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ گیتا کے منہ سے گھٹی ہوئی آہہہہہہہہ نکل گئی اور وہ ساحل سے یک دم چپک گئی۔ 

گیتا نے پھر سے اپنے ہونٹ الگ کرتے ہوئے اپنے دوسرے ممے کا نپل اس کے ہونٹوں کے پاس لا دیا۔ ساحل کو اب کچھ بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اس کے دوسرے ممے کے نپل کو منہ میں بھر لیا اور زور زور سے بچے کی طرح چوسنے لگا۔ گیتا نے فوراً ہی ساحل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی دوسری چھاتی پر رکھتے ہوئے کہا۔

گیتا: (مدہوشی بھری آواز میں) “ساحل، میرے مموں کو دبا، زور زور سے دبا دے”

ساحل تو جیسے کسی روبوٹ کی طرح گیتا کے ہر حکم پر حرکت کر رہا تھا۔ آج تک جن چیزوں کے بارے میں اس نے صرف سنا تھا، آج وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کر بھی رہا تھا۔ گیتا کی سسکیاں ساحل کے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

گیتا:   “امہہ۔۔۔ ساحل، اور زور سے چوس۔۔۔ آہہہ۔۔۔ سییییی۔۔۔ امہہ۔۔۔ بہت اچھا چوس رہا ہے”

تبھی سامنے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ دونوں یک دم سہم گئے۔ ساحل گیتا سے الگ ہو گیا اور گیتا جلدی جلدی اپنی برا کو ٹھیک کر کے قمیض کو درست کرنے لگی۔ پھر وہ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی ۔ باہر اس کی بھابھی پونم باتھ روم کی طرف جا رہی تھی۔ 

گیتا: “چل، اب آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ پر دھیان رہے، یہ کسی کو نہیں بتانا۔ پھر کبھی جب موقع ملے گا، ہم پھر سے کریں گے۔”

ساحل: “جی موسی۔۔۔”

پھر ساحل اور گیتا بستر پر بیٹھ جاتے ہیں۔ گیتا وہ کتاب اپنے بیگ میں چھپا لیتی ہے۔

گیتا:  “اگر تجھے نیند آ رہی ہے تو سو جا۔”

گیتا ساحل کو دیکھتے ہوئے کہتی ہے۔ ساحل وہیں بستر پر بیٹھے بیٹھے سو جاتا ہے۔ شام کے چھ بجے پائل آ کر ساحل کو جگاتی ہے اور پھر دونوں گھر جانے کے لیے نکل جاتے ہیں۔ ساحل آج کچھ زیادہ ہی خوش تھا۔

٭٭٭٭٭٭

کلونت سنگھ کا گھر کافی بڑا تھا۔ پیچھے کی طرف چار کمرے تھے۔ چاروں کمروں کے آگے برآمدہ تھا۔ برآمدے کے آگے ایک طرف باورچی خانہ تھا اور دوسری طرف اوپر جانے کے لیے سیڑھیاں تھیں۔ سیڑھیوں کے ساتھ ہی ایک پتلی سی گلی نکلتی تھی، جو گھر کے پچھلے حصے کی طرف جاتی تھی، جہاں بھینسیں باندھی جاتی تھیں۔ اس کے پیچھے دو بڑے بڑے ہال نما کمرے تھے۔ ایک میں بھینسیں باندھی جاتی تھیں اور دوسرے میں بھینسوں کا چارہ وغیرہ ہوتا تھا۔ پائل کے کمرے کے بالکل پیچھے ایک چھوٹا سا اسٹور روم تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page