Lust and thirst-10-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 10

اس کا مین دروازہ تو بھینسوں کے باڑے کی طرف کھلتا تھا، لیکن اس کمرے میں ایک اور دروازہ تھا جو بند رہتا تھا اور پائل کے کمرے میں کھلتا تھا۔ کبھی کبھار جب بارش ہو رہی ہوتی تھی تو چاول یا اناج کچھ بھی لینا ہوتا تھا تو پائل کے کمرے کے اندر جو دروازہ تھا، اسی سے اسٹور روم میں جاتے تھے۔ ورنہ وہ اکثر بند پڑا رہتا تھا۔ 

کلونت سنگھ اور اس کا بھائی روز صبح اٹھ کر بھینسوں کا دودھ دوہتے اور انہیں چارہ ڈالتے تھے۔ کبھی کبھار دونوں بھائی کچھ بھینسیں بیچنے کے لیے لے جاتے اور منافع میں بیچ کر سستی بھینسیں خرید لاتے۔ یہی ان کی آمدنی کا ذریعہ تھا۔ 

ساحل کمرے سے نکل کر اوپر چھت پر آ گیا اور پتنگ اڑانے لگا۔ پائل اور نیہا نیچے ہی کام کر رہی تھیں۔ پتنگ اڑاتے ہوئے اچانک ساحل پیچھے کی دیوار پر پہنچ گیا۔ اچانک اس کا دھیان نیچے گیا۔ یہاں ایک بھینسا کھل گیا تھا اور وہ بھینس کے اوپر چڑھ کر اسے چودنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بھینس نے ابھی دو مہینے پہلے بچھڑے کو جنم دیا تھا، اس لیے وہ ملن کے لیے تیار نہیں تھی۔ جب بھی بھینسا اوپر چڑھتا، بھینس ٹھٹک کر ادھر ادھر ہو جاتی۔ 

ساحل یہ سب بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ تبھی اس کی چچی پائل پیچھے آ گئی۔ شاید بھینس کی آواز سن کر آئی تھی۔ پائل نے ہاتھ میں لاٹھی اٹھائی اور بھینس پر چڑھے ہوئے بھینسے پر برسا دی۔ بھینسا ڈرتا ہوا نیچے آ گیا۔

پائل “دیکھ کِنی آگ لگی ہے پھدی دی! ہلے ہنی تاں نوے ددھ ہوئے ہے!”

پائل پنجابی میں بول رہی تھی کہ اسے پھدی لینے کی کیسی آگ لگی ہے، ابھی تو بچھڑے کو جنم دے کر  نئے دودھ سے ہوئی ہے۔ 

پائل نے بھینسے کی رسی پکڑی اور اسے بھینس سے دور باندھ دیا۔ پھر اپنا پسینہ پونچھتے ہوئے باہر آئی تو اچانک اس کی نظر اوپر کھڑے ساحل پر چلی گئی۔

پائل دل ہی دل میں بولی: “ہائے ربا، کہیں اس نے سن تو نہیں لیا؟”

پھر پائل نے اس کی طرف عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا تو ساحل جھینپ کر پیچھے ہو گیا۔ 

اگلے دن جب ساحل اسکول میں تھا تو ہاف ٹائم میں گیتا اس کے پاس آئی۔ دونوں کلاس میں پچھلے ڈیسک پر بیٹھ کر لنچ کرنے لگے۔

گیتا: “ساحل، تم نے کسی سے کچھ کہا تو نہیں؟”

گیتا نے دھیرے سے پھسپھساتے ہوئے کہا۔ ساحل نے نہ میں سر ہلا دیا۔ 

گیتا: “اچھا، بتا، آج گھر آئے گا نا تو؟”

ساحل: “وہ، ماں نے منع کیا ہے۔ کہتی ہے دھوپ میں بخار ہو جائے گا۔”

گیتا: (تھوڑا سا اداس ہوتے ہوئے) “چل، ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔ پر جب بھی موقع ملے گا، میں تمہیں اپنا دودھ چسواؤں گی۔”

ساحل: “ٹھیک ہے۔”

گیتا: “اچھا، تجھے کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے کہہ دینا۔ میں تجھے خرید دوں گی۔”

ساحل دل میں سوچنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کل چچی مجھ پر مہربان تھی اور آج گیتا موسی۔ اسکول چھٹی ہونے کے بعد ساحل گھر آ گیا۔ کھانا کھا کر وہ سیدھا اپنی چچی پائل کے کمرے میں چلا گیا۔ پائل وہاں بستر پر کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے آگے ونش کو لٹایا ہوا تھا اور اسے دودھ پلا رہی تھی۔ ساحل بار بار پائل چچی کے چھاتیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے اس طرح دیکھنے کے انداز کو سمجھتے ہوئے پائل بھی ہلکے ہلکے مسکرا رہی تھی۔ 

پائل: “آج نہیں گیا گیتا کے پاس پڑھنے؟”

ساحل: “نہیں۔”

پائل: “کیوں، کیا ہوا؟”

ساحل: “ماں کہتی ہے باہر بہت دھوپ ہے، اس لیے نہیں گیا۔”

پائل: “اچھا، ٹھیک ہے۔ لیٹ جا، بیٹھے بیٹھے تھک جائے گا۔”

ساحل: “نہیں، میں اسی طرح ٹھیک ہوں۔”

پائل: “کل تو چھت پر کھڑا پیچھے کی طرف نیچے کیا دیکھ رہا تھا؟”

ساحل: (پائل کی بات سن کر یک دم گھبراتے ہوئے) “وہ، میں وہ۔۔۔”

پائل: (مسکراتے ہوئے) “وہ میں وہ میں کیا لگا رکھا ہے؟”

ساحل: “چچی، میں تو وہ پتنگ اڑا رہا تھا اوپر۔”

پائل: “پتنگ ہی اڑا رہا تھا نا؟ مگر تمہارا دھیان تو کہیں اور تھا۔ گیتا کہتی ہے تو آج کل الٹے کاموں میں زیادہ دھیان دینے لگ گیا ہے۔”

ساحل کا چہرہ چچی کی یہ بات سن کر یک دم اتر گیا۔ اس کی ایسی حالت ہو گئی تھی جیسے ابھی رونا شروع کر دے۔ پائل اس کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی۔

پائل: “اچھا، ناراض مت ہو، میں تو ویسے ہی مذاق کر رہی تھی۔”

ساحل: (بستر سے اٹھ کر باہر جاتے ہوئے) “میں نے اب نہیں بولنا آپ سے۔”

ساحل اٹھ کر باہر چلا جاتا ہے اور پائل بستر پر لیٹے ہوئے ہنسنے لگتی ہے۔ رات ہو چکی تھی۔ کلونت اور روی دونوں گھر واپس آ چکے تھے۔ رات کو نیہا کے میکے سے فون آیا کہ اس کی ماں بہت بیمار ہے۔ ماں کے بیمار ہونے کی خبر سن کر نیہا پریشان ہو گئی۔ جب اس نے یہ بات کلونت سنگھ کو بتائی تو کلونت سنگھ نے کہا کہ وہ صبح اس کا پتہ لینے کے لیے چلیں گے۔ کلونت سنگھ باہر آنگن میں آ کر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی روی کو آواز لگاتا ہے۔ روی اپنے بھائی کی آواز سن کر باہر آتا ہے۔ 

روی: “کیا ہوا بھائی صاحب؟”

کلونت: “یار، نیہا کی ماں بیمار ہے، ہسپتال میں داخل ہے۔ میں کل شہر نہیں جا پاؤں گا۔”

روی: “پر بھائیا، کل تو شہر میں بھینسوں کا بازار لگنا ہے۔”

کلونت: “ہاں، جانتا ہوں۔ تو ایسا کر، کل تو بھینسوں کو لے کر شہر چلا جا۔ میں نیہا کو ہسپتال پہنچا کر وہاں سے سیدھا تیرے پاس آ جاؤں گا۔”

روی: “ٹھیک ہے بھائیا۔ میں پائل کو بتا دیتا ہوں۔”

روی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے۔

روی: “پائل، سنو۔۔۔”

پائل: “جی؟”

روی: “کل شہر میں بھینسوں کا بازار لگنا ہے۔ اور بھابھی کی ماں کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے۔ بھائی صاحب اور بھابھی وہاں جا رہے ہیں، اور بھائیا وہاں سے سیدھا میرے پاس آئیں گے۔ تو میں پرسوں واپس آؤں گا۔ یہ کچھ پیسے رکھ لو۔”

پائل: “جی، ٹھیک ہے۔”

روی: “ہاں، اور دھیان سے سنو۔ اگر ساحل کو بھابھی گھر چھوڑ کر گئیں تو اس کا بھی خیال رکھنا۔ تمہیں تو پتا ہے نا، بھابھی اسے کتنا پیار کرتی ہیں۔”

پائل: “جی، یہ بھی کوئی کہنے والی بات ہے؟”

اس کے بعد سب سو جاتے ہیں۔ اگلی صبح روی صبح چھ بجے اٹھ کر بھینسوں کو لے کر شہر چلا جاتا ہے۔ گھر میں جتنی بھی بھینسیں دودھ دینے والی تھیں، ان سب کو وہ بیچنے کے لیے لے جاتا ہے۔ نیہا صبح ساحل کو تیار کر کے اسکول بھیجتے ہوئے کہتی ہے۔

نیہا: “بیٹا، سن، اسکول سے سیدھا گھر آ جانا۔ میں اور تمہارے پاپا تمہاری نانی سے ملنے جا رہے ہیں۔ ٹھیک ہے، اسکول سے آ کر گھر پر ہی رہنا۔ تمہاری چچی گھر پر اکیلی ہیں۔”

ساحل: “ٹھیک ہے ماں، میں اسکول سے سیدھا گھر آ جاؤں گا۔”

اس کے بعد ساحل اسکول چلا جاتا ہے۔ نیہا اور کلونت سنگھ جانے کے لیے تیار تھے۔ پائل آنگن میں آ کر انہیں باہر تک چھوڑنے گئی۔

نیہا: “پائل، ساحل کا خیال رکھنا۔ کہیں یہ نہ ہو کہ آتے ہی دھوپ میں پتنگ اڑانے کے لیے چھت پر چڑھ جائے۔ اگر تیری بات نہ مانے تو ڈانٹ دینا۔”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page