کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔
نوٹ : ـــــــــ یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ کہانی بھی آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 24
وکی کی منی جب اندر گری تو فریال کی پھدی نے بھی دوبارہ منی چھوڑ دی۔۔
تھوڑی دیر بعد، جب وکی اور فریال دونوں جذبات کی گرم لہروں سے باہر نکلے، وکی نے فریال کے ہونٹوں پر ایک گہرا، پرجوش چمہ دیا اور آہستہ سے بیڈ سے اٹھا۔ اس کا جسم ابھی بھی فریال کے قریب ہونے کی گرمی سے سرشار تھا۔ فریال نے اپنی آنکھیں کھولیں اور وکی کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اس کی آنکھوں میں ایک سمندر بھرا ہو، جو وکی کے لیے محبت سے لبریز تھا۔
وکی نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، “چاچی، واش روم چلیں یا میں اکیلا جاؤں؟”
فریال نے اپنے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ سجائی اور کہا، “صبر کرو، میری جان۔ ہم دونوں مل کر چلتے ہیں۔”
فریال نے اپنی چوت پر ہاتھ رکھا، کیونکہ اس کا جسم ابھی بھی وکی کے ساتھ گزرے لمحوں کی رطوبت سے تر تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے ہاتھ نہ رکھا تو واش روم تک جاتے ہوئے اس کے جسم کا راز فرش پر بکھر جائے گا۔ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ وکی کی طرف بڑھایا، اور وکی کے مضبوط سہارے سے وہ بیڈ سے اٹھی۔ دونوں ایک دوسرے کے قریب، جسم سے جسم ملائے، واش روم کی طرف بڑھے۔
واش روم میں پہنچ کر فریال کموڈ پر بیٹھ گئی، جبکہ وکی اپنا لن ہاتھ میں پکڑے کھڑا رہا، جو ابھی بھی نیم کھڑا تھا اور اس کی گرمی فریال کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ فریال نے وکی کی طرف دیکھا، پھر اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے لن کو اپنی نازک انگلیوں میں لے کر آہستہ سے اپنی طرف کھینچا۔ وکی ہلکا سا ہنسا اور اس کے قریب آ گیا، اس کے جسم سے نکلتی گرمی فریال کو محسوس ہو رہی تھی۔ فریال نے شاور سے اس کے لن کو دھویا، پانی کی ٹھنڈی بوندوں کے ساتھ اسے صاف کیا، اور پھر پیار سے اسے ایک ہلکا سا بوسہ دیا۔ اس کی نظریں وکی سے مل گئیں، جو اسے مسلسل گہری محبت سے دیکھ رہا تھا۔
فریال نے شرمیلی آواز میں پوچھا، “ایسے کیا دیکھ رہے ہو، وکی؟”
وکی نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، “چاچی، بس یہ سوچ رہا ہوں کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ مجھے آپ جیسی پیاری اور دلفریب چاچی ملی۔”
فریال نے خود کو بھی صاف کیا، اپنی قمیض کو درست کیا جو ابھی بھی اس کے جسم پر تھی، جبکہ وکی کا ننگا جسم اس کی نظروں کے سامنے چمک رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں لپٹ کر کمرے میں واپس آئے۔ فریال نے اپنی شلوار اٹھائی اور اپنے کپڑوں کو سنبھالا، لیکن اس کی حرکتوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جو وکی کی نظروں سے چھپ نہ سکی۔
فریال نے ہنستے ہوئے کہا، “اب کیا دیکھ رہے ہو، وکی؟ میری طرف کیوں ٹکٹکی لگائے ہو؟”
وکی نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے کہا، “آپ اس وقت ایسی لگ رہی ہیں کہ بس دل کرتا ہے آپ کو دوبارہ اپنی باہوں میں لے لوں۔” اس نے فریال کے ہونٹوں پر ایک اور پرجوش بوسہ دیا۔ فریال نے بھی اس کا ساتھ دیا، لیکن پھر خود کو چھڑاتے ہوئے شرارتی انداز میں بولی، “بس کرو، اب میری ہمت جواب دے رہی ہے۔ میں جا رہی ہوں۔”
فریال کنڈی کھول کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی، اس کی چال میں ایک عجیب سی ادا تھی وکی پیچھے سے دیکھتا رہ گیا۔ وکی بیڈ پر لیٹ گیا، اور اس کے جسم میں ابھی بھی موجود گرمی اور تھکن نے اسے نیند کی آغوش میں لے لیا۔
شام کو ثمرین نے اسے جگایا۔ “وکی، اٹھو! کتنا سوگے؟”
وکی نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ ثمرین اس کے اوپر جھکی ہوئی ہے، اس کی آنکھوں میں شرارت اور چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ۔ وکی نے انگڑائی لی اور اچانک ثمرین کو اپنی طرف کھینچ کر اس کے ہونٹوں پر ایک گرم بوسہ جڑ دیا۔ ثمرین ایک لمحے کے لیے چونک گئی، لیکن پھر اس نے بھی اس کا ساتھ دیا۔ کچھ دیر بعد خود کو چھڑاتے ہوئے وہ شرماتے ہوئے بولی، “اوہو، یہ کیا؟ اٹھو اور فریش ہو جاؤ! پتہ نہیں تمہیں کیا ہو گیا ہے۔” وہ شرم سے سرخ ہوتی ہوئی نیچے چلی گئی۔
وکی نہا دھو کر فریش ہوا اور نیچے آیا۔ کھانے کی میز پر وہ فریال اور ثمرین کے بیچ بیٹھ گیا، جیسے دو خوبصورت پھولوں کے بیچ پھنس گیا ہو۔ کھانا کھاتے ہوئے فریال نے اپنا بایاں ہاتھ آہستہ سے وکی کی ران پر رکھ دیا، اس کی انگلیاں ہلکے ہلکے اس کی جلد کو چھوتی ہوئی ایسی حرکت کر رہی تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وکی کے جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی۔
ثمرین نے اس کا ردعمل دیکھا اور سمجھا کہ وکی اس کے ساتھ شرارت کے موڈ میں ہے۔ اس نے بھی اپنا بایاں ہاتھ ٹیبل کے نیچے کیا اور وکی کی دوسری ران پر رکھ دیا، اس کی انگلیاں ہلکے ہلکے اسے سہلانے لگیں۔ وہ اپنا پورا ہاتھ اس لیے نہ رکھ سکی کہ سامنے بیٹھی عذرا کو شک ہو سکتا تھا۔
وکی کے لیے یہ لمحہ عجیب تھا۔ اس کا نوالہ منہ میں پھنس گیا، نہ نگلا جا رہا تھا نہ تھوکا جا رہا تھا۔ اس کا چہرہ پسینے سے چمکنے لگا۔ عذرا نے یہ دیکھ کر پوچھا، “وکی، کیا ہوا؟ تمہارے چہرے پر اتنا پسینہ کیوں؟ طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
وکی نے مشکل سے نوالہ نگلا اور کہا، “کچھ نہیں بڑی ماں، بس مرچی لگ گئی تھی۔” اس نے ثمرین کی طرف شرارتی نظروں سے دیکھا۔
ثمرین نے شرم سے سر جھکا لیا۔ فریال نے ہنستے ہوئے کہا، “ہاں، مرچی اچھی طرح پسی نہیں تھی۔ اسے ڈنڈے سے کوٹنا پڑے گا، پھر تنگ نہیں کرے گی۔”
ثمرین کا چہرہ اور سرخ ہو گیا۔ اس نے وکی کو پانی کا گلاس دیا اور اس کے کان میں آہستہ سے بولی، “تم کو تو میں کمرے میں دیکھ لوں گی۔”
کھانے کے بعد وکی چھت پر چہل قدمی کرنے چلا گیا۔ فریال، وکی کی ماں اور بڑی اماں کچن کی صفائی میں مصروف ہو گئیں۔ نواز گاؤں کسی کام سے گیا تھا، اور منصور ابھی تک دکان سے نہیں لوٹا تھا۔
—
دوسری طرف، دانیال اور اس کے دوستوں کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی تھی۔ وہ کئی دن سے ہسپتال میں تھے، لیکن کنول ایک بار بھی ان سے ملنے نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کنول ان کے ساتھ اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ مجبوری کے تحت تھی۔
جب کنول نے کالج جوائن کیا تھا، اس کا محلے کا ایک لڑکا عامر اس کے ساتھ تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے گہری محبت کرتے تھے اور شادی کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن دانیال اور اس کے دوستوں نے کنول کی خوبصورتی اور دلکش فگر دیکھ کر اسے اپنے جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس کا لمبا قد، تراشیدہ جسم، اور چلتی ہوئی ادائیں ہر کسی کے ہوش اڑا دیتی تھیں۔ دانیال اور اس کے دوستوں نے عامر سے دوستی کی اور اسے اپنے غیر اخلاقی پروگراموں میں شامل کر لیا۔ عامر ان کے جال میں پھنس گیا اور ان کے کہنے پر کئی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات بنائے۔
دانیال نے عامر کو اپنے فلیٹ کی چابی دی، جہاں اس نے خفیہ کیمرے لگا رکھے تھے۔ جب عامر کنول کو وہاں لے جاتا، ان کی ویڈیوز ریکارڈ ہو جاتیں۔
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
-
The essence of relationships –25– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –24– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –23– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –22– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –21– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –20– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 13, 2025