Talash E Zeest-24-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 24

رینو: ہاں راجہ، صبح دیکھی جائے گی۔ اب مجھے یہی پہننے پڑیں گے۔ ٹھنڈ کچھ زیادہ ہی لگ رہی ہے۔ 

راجہ: ہاں، مجھے بھی لگ رہی ہے۔ رات زیادہ ہو گئی ہے۔ اور ویسے بھی اس ٹائم نہانے سے ٹھنڈ تو لگے گی ہی۔ 

رینو: (ٹھنڈ سے کانپتی ہوئی) ہمممممم۔۔ 

میں نے رینو کو کھڑا کیا اور اس کے بوبز والے کپڑے کو چھوڑ کر باقی کے کپڑے پہنا دیے۔ 

رینو: راجہ، اب کچھ سکون ہے۔ ورنہ پہلے تو جیسے کلفی سی جمتی ہوئی محسوس ہونے لگی تھی۔ 

راجہ: چلو، اب تو ٹھیک ہے نا؟ 

کپڑے رینو کے بدن پر آئے تو رینو کو کچھ سکون محسوس ہوا۔ جب تک ہوا ہمارے بدن کو نہ سکھا دے، ہم لیٹ بھی نہیں سکتے تھے۔ یہاں ریت تھی اور پھر نہانے سے ریت کچھ زیادہ ہی بے چین کرتی۔ 

میں نے رینو کو اپنے گلے لگایا۔ میرا لنڈ ابھی بھی کھڑا ہی تھا، جو میرے گلے لگاتے ہی پھر سے رینو کی چوت میں گھسنے لگا۔ ہم اسی طرح کھڑے رہے۔ 

اب میں بھی نیند کے نشے میں جھولنے لگا تھا، بہت زیادہ اسٹیمینا میں نے دکھا دیا تھا۔ کہاں میں شام کو ہی سونے والا تھا، اور کہاں اب رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا۔ میری آنکھوں میں نیند اترنے لگی تھی۔ اور ویسے بھی صبح جلدی اٹھنا تھا۔ 

راجہ: رینو، اب سونا بھی چاہیے ہمیں۔ 

رینو: ہممممم۔۔ 

راجہ: رینو، تمہیں نیند آ رہی ہے نا؟ 

رینو: ہممممم۔۔ 

راجہ: رینو، کیا ہوا، ایسی ہمممم کیوں کر رہی ہو؟ جواب دو نا۔ 

رینو: ہممممم۔۔ 

میں رینو کی بار بار ہمممم کی وجہ سے رینو کو خود سے الگ کیا تو میری ہی طرح سے رینو بھی نیند کے نشے میں ڈوبنے لگی تھی۔ 

ابھی کچھ اور ویٹ کرنا تھا۔ ابھی بھی ہم کچھ کچھ گیلے تھے۔ ایک دوسرے کے جسم کی گرمی کی وجہ سے سردی کچھ کم لگ رہی تھی۔ 

رینو میرے گلے لگی ہی سو گئی۔ جب مجھے لگا کہ اب جا کے سو جانا چاہیے تو میں نے رینو کو اپنی گود میں اٹھایا اور سنجے اور ظہیر کے پاس جا کر پہلے خود لیٹا اور پھر رینو کو بھی خود کے اوپر ہی سلا لیا۔ لیٹتے ہی فوراً نیند بھی آ گئی۔ 

٭٭٭٭٭

 صبح دھوپ کے لگنے سے میری آنکھ کھلی تو رینو میرے اوپر ہی سو رہی تھی۔ میں نے نظر گھما کر دیکھا تو سنجے اور ظہیر دونوں ہی سوئے ہوئے تھے۔   میں نے رینو کو خود سے الگ کیا اور ساتھ میں ہی لٹا دیا۔ رینو سوئی  ہوئی تھی۔ 

مجھے سنجے اور ظہیر دونوں کو ہی پہلے دیکھنا تھا۔ رات سنجے کچھ بہتر تھا، لیکن ابھی اس کا کندھا صحیح نہیں تھا۔ بس رات کو برداشت کرتے ہوئے میرے ساتھ باتیں کرنے لگا تھا، ورنہ اسے درد بہت تھا۔ اور ظہیر کا پتا نہیں کیا ہوا رات بھر میں۔ میں پہلے ظہیر کے پاس گیا۔ 

اب سورج نکل آیا تھا، تو ظہیر کے زخم صحیح سے دکھ سکتے تھے۔ ظہیر ننگا ہی تھا۔ میں نے ظہیر کو دیکھا تو اب مجھے صحیح سے سب دکھ رہا تھا۔ میرا دل ہولنے لگا تھا ظہیر کی حالت دیکھ کر۔ ظہیر کا چہرہ زیادہ اچھا نہیں تھا۔ ناریل کے پانی سے کچھ انرجی تو اسے مل گئی تھی، لیکن سوجن نے جو اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ دلدل کے پانی اور پھر دھوپ لگنے سے ظہیر کا پورا فیس ابھی بھی سوجا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں انفیکشن اور سوجن کی وجہ سے بند ہو چکی تھیں۔  اب ظہیر کے لیے آنکھیں کھولنا ممکن نہیں رہا تھا۔   میں نے ظہیر کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا۔ اس نے کوئی موومنٹ نہیں کی تو میں نے پھر سے اور بھی زور سے ہلایا تو ظہیر تھوڑا سا ہلا۔ 

راجہ: ظہیر، کیا تم مجھے سن رہے ہو؟ 

میں کچھ زور سے بولا۔ میری آواز سن کر ظہیر کے بدن میں کچھ اور بھی ہلچل ہوئی۔ 

راجہ: ظہیر، میں نے پوچھا ہے، تم مجھے سن اور سمجھ پا رہے ہو یا نہیں؟ 

ظہیر نے کوشش کی۔ اپنے ہاتھ ہلائے۔ ظہیر دیکھنے اور بولنے سے محروم ہو چکا تھا۔ میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ رینو بھی اٹھ چکی تھی اور ظہیر کی حالت وہ بھی دیکھنے میں لگی ہوئی تھی۔ رینو کے چہرے پر بھی وہی درد تھا جو میرے چہرے پر تھا۔ رینو بھاگ کر میرے پاس آئی اور میرے گلے لگ گئی۔ 

رینو: راجہ، ظہیر کے لیے کچھ کرو، ورنہ وہ کہیں۔۔ 

میں نے رینو کو خود سے الگ کیا اور۔۔ 

راجہ: نہیں رینو، ایسی بات مت کرو۔ میں ظہیر کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ ظہیر کو زندہ رہنا ہے۔ مجھے کچھ بھی کرنا پڑے، میں کروں گا۔ 

رینو: (میرا ہاتھ پکڑ کر) راجہ، ہم ظہیر کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ 

راجہ: مجھے نہیں پتا رینو، میں کیا کروں گا۔ بس میں ظہیر کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ ظہیر سے ملے کچھ ہی مہینے ہوئے ہیں، لیکن ظہیر میرے لیے بھائی سے کم نہیں ہے۔ رینو، میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ ظہیر کی بے بسی، ظہیر کی چیخیں میرے اندر کیسے آگ لگائے ہوئے ہیں؟ جب۔۔ جب ظہیر دلدل میں تھا، تو اپنی ماں، اپنے پاپا، اپنی چھوٹی بہن کے لیے بہت چیخا تھا۔ مجھ سے نہیں برداشت ہو رہا رینو، میں ظہیر کے لیے کچھ بھی کروں گا۔ کیا کروں گا، میں نہیں جانتا۔ لیکن میں اسی طرح ظہیر کو مرنے نہیں دے سکتا۔ 

رینو میری باتیں سن کر میرے گلے لگ گئی اور رونے لگی۔ 

سنجے: راجہ۔۔ 

میں نے رینو کو الگ کیا اور سنجے کو دیکھا۔ ظہیر کو دیکھنے کے بعد ظہیر کے درد میں ڈوب کر میں نے سنجے کو نہیں دیکھا تھا۔ وہ بھی تو ایک کندھے سے بیکاب ہوا پڑا تھا۔ میں اور رینو سنجے کے پاس گئے۔ 

راجہ: (سنجے کا ایک ہاتھ پکڑ کر) سنجے، رات کیسے گزری؟ 

سنجے: راجہ، میرا کندھا۔۔ رات بھوک کے مٹ جانے کی وجہ سے کچھ بہتر تو لگا تھا۔ لیکن پھر نیند آئی تو اب جب آنکھ کھلی تو پتا چلا کہ کندھا اب پہلے سے بھی زیادہ خراب ہے۔ 

راجہ: سنجے، اپنی قمیض اتارو۔ مجھے اپنا کندھا دکھاؤ۔ 

سنجے: راجہ، خود ہی کرو۔ ایک ہاتھ سے مجھ سے نہیں ہوگا۔ 

میں نے سنجے کو اٹھنے میں ہیلپ کی۔ رات ٹھنڈ اور کندھے کے درد کی وجہ سے سنجے کا جسم اکڑا ہوا تھا۔ سنجے بیٹھا تو اسے اپنے کندھے میں درد اور بھی زیادہ محسوس ہونے لگا۔ اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ 

سنجے: راجہ، مجھے نہیں لگتا کہ میں اپنی قمیض اتار پاؤں گا۔ میرا ہاتھ اوپر نہیں ہوگا۔ 

راجہ: رینو، چاقو کہاں ہے؟ 

چاقو پاس میں ہی پڑا تھا۔ وہ رینو نے اٹھا کے مجھے دیا۔ 

میں اور ظہیر ننگے تھے۔ اب سنجے کی بھی قمیض پھٹنے والی تھی۔ ہمیں کپڑوں کی ضرورت تھی، لیکن ایک ایک کر کے ہمارے کپڑے کم ہوتے جا رہے تھے۔ میں نے چاقو سے سنجے کی قمیض پھاڑ دی۔ سنجے کے کندھے کو دیکھنے سے پہلے ہی میں سمجھ گیا تھا کہ سنجے کے کندھے کی کیا حالت ہو سکتی ہے۔ سنجے کا کندھا سوجا ہوا تھا۔ کل کچھ راحت تھی سنجے کو رسی اور لکڑی کی وجہ سے۔ لیکن اب وہ بھی نہیں تھی۔ رسی کی وجہ سے وہ لکڑی بھی نہیں رہی۔ اب اس آئی لینڈ پر سنجے کے لیے کوئی اور جگاڑ لگا پانا میری سمجھ سے باہر تھا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page