Passion of lust -73- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 73

میں رکنا نہیں چاہتا تھا۔ میں اس گانڈ کا ابھی اور مزا لینا چاہتا تھا۔ 

میں: کچھ دیر اور میری جان۔

میں نے ایک اور رگڑا مارا۔ نشے میں زیادہ ہی بہکنے لگا۔

ثمینہ: ممم۔۔۔ بھیا۔۔۔ 

میں نے سوچا، مال تو میرے پاس ہی رہنا ہے۔ آج نہیں تو کل، گانڈ تو اس نے دینی ہے۔ پھر جلدی کیسی۔ میں اس کے اوپر سے اتر کر اس کے پاس لیٹ گیا۔ ثمینہ نے میری طرف منہ کر کے مجھے زور کی جپھی ڈالی اور میرے ہونٹوں پر کس کرتی ہوئی بولی

ثمینہ: میرا پیارا چودو بھیا۔۔۔ امم۔۔۔ بہت اچھے ہو تم۔ 

اور پھر ہم ننگے ہی جپھی ڈال کر سو گئے۔ 

صبح جب میں اٹھا تو ثمینہ کپڑے پہن رہی تھی۔ ابھی کافی اندھیرا تھا۔ ثمینہ قمیض میں اپنے مموں کو ایڈجسٹ کرتی ہوئی بولی۔

ثمینہ: اٹھ گئے بھیا؟ 

میں: ہاں، میری پیاری سیکسی بہن، ابھی آؤ نا پاس، اٹھ کیوں گئی ہو؟ 

ثمینہ نے جھکتے ہوئے میرے ہونٹوں کا چوما لیا اور بولی

ثمینہ: کافی وقت ہو گیا ہے، اب اٹھ جاؤ، امی اٹھنے والی ہیں۔ میں نیچے جا رہی ہوں۔

پھر وہ نیچے چلی گئی۔ میں چارپائی پر لیٹا رہا۔ اندھیرا آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ صبح کی کرنیں نمودار ہوئیں۔ موسم بہت پیارا تھا۔ میں ایکسرسائز کرنے لگا۔ کچھ دیر ایکسرسائز کر کے میں نیچے گیا اور نہانے لگا۔ نہا کر میں اپنے کمرے میں گیا۔ میرا اوپر والا حصہ ننگا تھا، صرف شلوار پہنی ہوئی تھی۔ ثمینہ بھی میرے پیچھے کمرے میں آگئی اور میرے سینے  پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی

ثمینہ: بڑی زبردست باڈی ہے تیری، مائی ہاٹ بوائے!

میں: ممم۔۔۔ میں ہاٹ ہوں یا تم؟ 

ثمینہ: تم زیادہ ہو، ہر وقت ہوس کا جنون سوار رہتا ہے تم پر ۔ 

میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ مارا اور کہا

میں: مجھ پر ہوس  کا جنون تو تیری یہ گانڈ چڑھاتی ہے۔ جب  مٹک مٹک کر چلتی ہو، میرا دل خراب ہوتا ہے۔ 

ثمینہ: بھیا، تم نا، ہر وقت میری گانڈ کے پیچھے ہی رہتے ہو۔ اس میں کوئی خاص مزا ہے کیا؟ 

میں: تیری گانڈ ایسی سیکسی ہے کہ بس دیکھتے ہی چودنے کو دل کر جاتا ہے۔ 

ثمینہ مجھ سے کچھ دور ہوئی اور میری طرف گانڈ کر کے کھڑی ہو گئی۔ پھر وہ آگے کو جھکی، اس نے قمیض اوپر کی اور ساتھ ہی شلوار پکڑ کر نیچے کر دی۔ اس نے میرے سامنے اپنی گانڈ ننگی کر دی تھی۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

ثمینہ نے گانڈ کو ادھر ادھر ہلایا اور پھر بولی: بھیا، میری گانڈ مارنا چاہو گے؟ 

اففففففف۔۔۔ کیا سیکسی نظارہ تھا۔ ثمینہ میری سوچ سے زیادہ ہاٹ ثابت ہو رہی تھی۔ میں گانڈ دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف لپکا، مگر ثمینہ شلوار اوپر کرتی ہوئی بھاگ چکی تھی۔ پھر وہ باہر کھڑی ہو کر مجھے انگوٹھا دکھانے لگی۔ 

میری آنکھوں میں ثمینہ کی آدھی ننگی گانڈ سمائی  ہوئی تھی۔ میرا لنڈ اس کے بارے میں سوچ سوچ کر بار بار انگڑائیاں لے رہا تھا۔ خیر، ابھی تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا۔ میں نے مشکل سے اپنے جذبات پر قابو پایا اور کپڑے تبدیل کر کے کالج کے لیے تیار ہو گیا۔ 

ناشتہ کر کے میں گھر سے نکل آیا۔ بس میں حسب معمول رش تھا۔ صبح کے لوگ بس میں سوار ہوئے اور ثوبی میری طرف آگئی۔ ہیلو ہائے کے بعد میں نے ثوبی سے کہا

میں: میری طرف گانڈ کر کے کھڑی ہو جاؤ۔ 

ثوبی: صبح صبح ہی تیرے لنڈ میں آگ لگ گئی ہے کیا؟ اس دن عائزہ کی چوت مار مار کر بھی دل  نہیں بھرا تھا کیا؟ 

میں: یار، تم بھی نا، ایک ہی بات کو لے لیتی ہو۔ یہ بس مزا ہے، زندگی انجوائے کرو۔ 

ثوبی: اچھا، اگر میں کسی اور سے انجوائے کروں تو تمہیں برا تو نہیں لگے گا؟ 

میں: ہومم۔۔۔ پتا نہیں۔

میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور خود ہی اسے پکڑ کر گھما دیا اور اس کی گانڈ میں اپنا لنڈ ٹھونس دیا۔

عائزہ اور ثوبی یہ دیکھ کر ہنسنے لگیں۔ 

ثوبی: تیری یہی باتیں تو مجھے تم سے روٹھنے نہیں دیتیں۔

ثوبی نے گانڈ دباتے ہوئے کہا۔

میری نگاہوں میں ابھی ثمینہ کی گانڈ گھوم رہی تھی۔ میں نے زور سے ثوبی کی گانڈ میں لنڈ دبایا۔ گاڑی میں یہ کرنا خطرناک بھی ہو سکتا تھا، لیکن رش ہماری بہت مدد کرتا تھا۔ ثوبی پیچھے منہ کرتی ہوئی بولی

ثوبی: عائزہ کی گانڈ بھی زبردست ہے نا؟ 

میں: ممم۔۔۔ ہاں کافی، مگر تم سے کم۔ 

ثوبی: یار، اس کی گانڈ بھی بہت بڑی ہے۔ میں نے بھی دیکھی ہوئی ہے۔ تم نے ضرور اس کی گانڈ ماری ہو گی۔

میں: ممم۔۔۔ ہاں ماری تھی۔ 

ثوبی: سالے، چول بہت لچھا ہے تیرا لنڈ بھی۔ چلو، میرے سامنے عائزہ کا مما دباؤ۔

میں نے عائزہ کی طرف دیکھا، پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا مما اس طرح پکڑا کہ دوسروں کو لگے کہ اچانک پکڑ لیا، اور پھر ہاتھ اوپر کر دیا۔ 

عائزہ: بڑی مستی چڑھ رہی ہے، جس کی گانڈ میں اپنا سانپ ڈالا ہوا ہے، ممے بھی اسی کے دباؤ۔

اس نے ایک انداز  دل ربائی سے کہا۔

میں: یار ثوبی، عائزہ کے ممے بہت نرم ہیں۔ 

ثوبی: اچھا، تو کیا چوسنے کو دل کرتا ہے؟ 

میں: ہاں، تھوڑا تھوڑا۔

ثوبی: چلو پھر چوسو ، اور شروع ہو جاؤ۔ 

میں: ارے بابا، مروائے گی کیا؟ گاڑی میں کیسے ممے چوسوں؟ 

عائزہ بھی حیران ہو کر ہمیں دیکھ رہی تھی۔ 

ثوبی: کپڑوں کے اوپر سے ہی اس کے مموں پر کاٹو، نہیں تو میں نہیں بولتی۔

ثوبی آج پورے موڈ میں تھی۔

عائزہ: یار ثوبی، پاگل ہو گئی ہو۔ 

ثوبی: اس پہلوان کا بھی پتا چلے کہ کتنے پانی میں ہے۔ چلو عامر۔۔۔ چودو بوائے، چلو کاٹو عائزہ کے مموں پر، بلکہ عائزہ کا پورا مما منہ میں ڈالنا ہے۔

میں نے عائزہ کی طرف دیکھا۔ عائزہ بھی ممے چسوانے کے موڈ میں نظر آ رہی تھی۔

میں: کیوں عائزہ، چوس لوں تیرا مما پھر؟

عائزہ: سالے، مروائے گا۔۔۔ ویسے اکیلے میں تو تُو ممے چھوڑتا ہی نہیں، اتنی زور سے چاٹتا ہے۔ چلو، مرضی ہے، کچھ بھی کر لو۔ 

میں نے اردگرد دیکھا، کچھ لوگوں کی نگاہیں ہماری طرف بھی تھیں۔ میں انتظار کرنے لگا کہ کب بریک لگے۔ پھر وہ لمحہ آگیا۔ عائزہ ثوبی کی سائیڈ پر کھڑی تھی۔ جیسے ہی بریک لگی، میرا ہاتھ سیدھا عائزہ کے مموں کو سائیڈ سے ٹچ کرتا ہوا بغل کے نیچے سے گزر گیا اور میرا منہ اس کے مموں کے درمیان جا پھنسا۔ اوف۔۔۔ کیا مزا، کیا نرم ممے تھے عائزہ کے۔ ایک لمحے کے لیے تو میں نے منہ دبائے رکھا۔ عائزہ کے ممے برا میں کسے ہوئے تھے۔ میں نے تھوڑا سا منہ اوپر اٹھایا اور عائزہ کے مما پر کاٹ لیا۔ نرم مما پر کاٹ کر مجھ پر زیادہ ہی مستی چڑھ گئی تھی۔ 

ثوبی نے مجھے بالوں سے پکڑ کر پیچھے کیا۔ 

ثوبی: بس، اب زیادہ مزے بھی نہیں لے ۔ کھا جائے گا کیاممے، سالا بڑا چدکڑ ہے تُو بھی۔ ممے دیکھ کر تو تیری جان نکل جاتی ہے۔ چل، اب میرے ممے بھی دباؤ۔ 

کچھ لوگ ہماری حرکات پر غور کر رہے تھے، لیکن ثوبی پورے موڈ میں تھی۔ 

میں: کیا خیال ہے، آج ہوٹل چلیں؟ 

ثوبی: نہیں یار، کل چھٹی ہو رہی ہے، تو کل سب چلتے ہیں کہیں گھومنے۔ 

عائزہ: کہاں چلیں؟ 

ثوبی: دریا کے کنارے پر چلیں گے اور خوب مستی کریں گے۔ 

علیہ: اوہ ہاں، یہ اچھا آئیڈیا ہے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page