A Dance of Sparks–172–رقصِ آتش قسط نمبر

رقصِ آتش

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

رقصِ آتش۔۔ ظلم و ستم کےشعلوں میں جلنے والے ایک معصوم لڑکے کی داستانِ حیات
وہ اپنے ماں باپ کے پُرتشددقتل کا عینی شاہد تھا۔ اس کے سینے میں ایک طوفان مقید تھا ۔ بے رحم و سفاک قاتل اُسے بھی صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔ وہ اپنے دشمنوں کو جانتا تھا لیکن اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس کو ایک پناہ گاہ کی تلاش تھی ۔ جہاں وہ ان درندوں سے محفوظ رہ کر خود کو اتنا توانا اور طاقتوربناسکے کہ وہ اس کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں، پھر قسمت سے وہ ایک ایسی جگہ  پہنچ گیا  جہاں زندگی کی رنگینیاں اپنے عروج پر تھی۔  تھائی لینڈ جہاں کی رنگینیوں اور نائٹ لائف کے چرچے پوری دنیا میں دھوم مچاتے ہیں ۔وہاں زندگی کے رنگوں کے ساتھ اُس کی زندگی ایک نئے سانچے میں ڈھل گئی اور وہ اپنے دشمنوں کے لیئے قہر کی علامت بن گیا۔ اور لڑکیوں کے دل کی دھڑکن بن کے اُبھرا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رقصِ آتش قسط نمبر- 172

“ہم گیارہ بجے تک ہوٹل کے کمرے میں رہے۔ اس دوران میں شانگ بار بار کسی کو فون کرتا رہا پھر ایک آدمی ہمیں لینے کے لیے پہنچ گیا۔ بعد میں اس کا نام ٹائیگر معلوم ہوا۔ شانگ نے مجھے بتایا تھا کہ ہم نائٹ کلب کے مالک سے ملنے جارہے ہیں۔ وہ مجھے اس بنگلے میں لے آیا۔ شانگ نے مجھے پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ اگر میں نے کلب کے مالک کو خوش کر دیا تو مجھے کل ہی سے پروگرام ملنا شروع ہو جائیں گے۔”

” لیکن اس بنگلے میں پہنچ کر ان کی باتوں سے انکشاف ہوا کہ شانگ ہیروئن کی اسمگلنگ کے کسی ریکٹ کا ایجنٹ ہے اور وہ شخص بھی اسی بزنس سے تعلق رکھتا ہے۔ مجھے بہر حال اس کی پروا نہیں تھی۔ نائٹ کلبوں کی آڑ میں ایسے بزنس تو ہوتے ہی ہیں۔ مجھے تو اپنے کام سے کام تھا۔ میں تو بنکاک کے سب سے بڑے نائٹ کلب میں ڈانس کرنا چاہتی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ صرف ایک رات پروگرام پیش کرکے میں اسٹار بن جاؤں گی۔ ٹائیگر کے بارے میں بھی مجھے بتا دیا گیا تھا کہ وہ بنکاک کی زیر زمین دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے۔ تمام چھوٹے بڑے نائٹ کلب اس کے کنٹرول میں ہیں۔ مجھے اس کو بھی خوش رکھنا پڑے گا۔ اس بنگلے میں بیٹھے ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ تم لوگوں کی مداخلت سے وہاں خونی کھیل شروع ہو گیا۔ مجھے بالکل معلوم نہیں کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ میں تو ایک معمولی سی رقاصہ ہوں۔ میرا ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ اب مجھے یہ بھی یقین ہو گیا ہے کہ شانگ مجھے دھوکے سے یہاں لایا تھا۔ بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی تھی اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔”

 “تمہارا نام کیا ہے اور چیانگ رائے میں کون سے نائٹ کلب میں تھیں؟” میں نے پوچھا۔

” میرا نام نویتا ہے اور میں وہاں کنٹری کلب میں تھی۔ ” اس نے جواب دیا ۔

میں نے پرساد کو اشارہ کیا کہ وہ ٹیلی فون پر معلوم کرے کہ رائل  ہوٹل میں شائنگ کے نام سے کوئی کمرا بک ہوا تھا یا ہیں۔ پر ساد اٹھ کر دو سرے کمرے میں چلا گیا جہاں ٹیلی فون رکھا ہوا تھا۔ اس کی واپسی تقریباً دس منٹ بعد ہوئی تھی۔

“اس ہوٹل میں مسٹر اور مسز شانگ کے نام سے ڈبل بیڈ لگزری روم بک ہے۔ وہاں سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ یہ دونوں گیارہ بچ کے لگ بھگ باہر گئے تھے۔ ابھی تک واپس نہیں آئے۔ رساد نے بتایا۔

” اس حد تک تو تمہارا بیان درست ہے۔” میں نے نویتا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔”  کل دن میں ہم چیانگ رائے سے بھی اس کی تصدیق کرلیں گے۔

مجھے کنٹری کلب کا فون نمبر معلوم ہے۔ ابھی تصدیق کرلو۔ نویتا جلدی سے بولی۔

میں نے پرساد کی طرف دیکھا۔ وہ دوسرے کمرے سے فون اٹھالایا اور اس کا پلگ دیوار کے ساکٹ میں لگا دیا۔ میں نے نویتا سے پوچھ کر چیانگ رائے میں کنٹری کلب کا نمبر ملایا۔ اس سے پہلے مجھے ایریا کوڈ زیرو فائیو تھری ملانا پڑا تھا۔ کنٹری کلب میں رات دو بجے تک پروگرام چلتا تھا اور ابھی دو نہیں بجے تھے۔ میری کال جلد ہی ریسیو کرلی گئی۔ جب میں نے نویتا کے بارے میں دریافت کیا تو دوسری طرف سے کہا گیا۔

” وہ آج بنکاک جا چکی ہے۔ میں نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ سپر اسٹار بننا چاہتی ہے۔ اب ہمارے کلب سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہا۔”

” نویتا تم سے بات کرنا چاہتی ہے۔” میں نے کہتے ہوئے ریسیور نویتا کے ہاتھ میں دے دیا۔

وہ تقریباً دو منٹ تک رو رو کر فون پر بات کرتی رہی پھر میں نے اس سے ریسیور لے لیا

“کیا تم اس آواز کو پہچانتے ہو؟”

“ہاں۔ یہ نویتا ہے لیکن اگر یہ بنکاک میں کسی مصیبت میں پھنس گئی ہے تو ہم اس کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔ ہمارا اب اس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔”

 میں نے فون بند کر دیا۔ نویتا کے بیان کی تصدیق ہو گئی تھی۔ اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ محض دولت اور شہرت کے لالچ میں شانگ کے ورغلانے پر اس کے ساتھ چلی آئی تھی اور شانگ اس سے کوئی اور کام لیتا چاہتا تھا لیکن پہلی ہی رات گڑ بڑ ہو گئی۔

“اب صورت حال یہ ہے۔” میں نے نویتا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “تم ایک قتل کی چشم دید گواہ ہو۔ پولیس کو بھی تمہاری ضرورت ہے اور پولیس سے زیادہ رانا اور شانگ کو تمہاری ضرورت ہوگی۔ وہ کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ تم پولیس تک پہنچ سکو۔ وہ تمہیں دیکھتے ہی گولیوں سے بھون ڈالیں گے۔ اب تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم پولیس کی پناہ میں چلی جاؤ۔ ان حالات میں پولیس ہی تمہیں تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔

“میں انہیں سمجھ گئی ہوں۔ وہ درندے ہیں۔ مجھے مار ڈالیں گے۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

مجھے اس کی حالت پر ترس آرہا تھا۔ مجھے اس نے بتایا تھا کہ وہ بنکاک میں پہلی دفعہ آئی ہے۔ یہاں اس کا کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے۔

” ٹھیک ہے۔ ہم صبح تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ ” میں یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا۔

 میں اور پرساد تہ خانے میں آگئے۔ ٹائیگر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ ہاتھ پشت پر بندھے ہونے کی وجہ سے اسے شایداس طرح بیٹھنے میں بھی تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔

“ہاں تو مسٹر ٹائیگر ۔ ” میں اس کے قریب پہنچ کر بولا “کیا تم ہمارے کچھ سوالوں کا جواب دینا پسند کرو گے؟ “

اور ٹائیگر نے جس طرح جواب دیا وہ ہمارے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ کسی طاقت ور اسپر جنگ کی طرح اپنی جگہ سے اچھلا۔ اس کا گھونسا میرے جبڑے پر اور پیر کی زور دار ٹھوکر پر ساد کی پنڈلی پر لگی تھی۔ ہم دونوں کراہ اٹھے۔ ٹائیگر نے اٹھ کر دروازے کی طرف چھلانگ لگا دی تھی لیکن اسے دروازے تک پہنچنے کا موقع نہیں مل سکا۔ میں نے اور پرساد نے بیک وقت اس پر چھلانگ لگائی۔

میری سمجھ میں نہیں آسکا تھا کہ ٹائیگر نے پشت پر بندھے ہوئے ہاتھ کس طرح کھول لیے تھے،  لیکن اب بہر حال وہ میرے اور پر ساد کے بیچ میں فٹ بال بن گیا تھا۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جو ہمارے گھونسوں اور ٹھوکروں سے محفوظ رہا ہو۔ اس کی ناک منہ اور کان سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ پر ساد نے تو ہاتھ روک لیا تھا لیکن میرے جنون میں کمی نہیں آئی۔ بنکاک کی زیر زمین دنیا کا شہنشاہ جس کے نام سے ہی لوگ کانپتے تھے، مکمل طور پر بے بس تھا اور میرے رحم و کرم پر تھا۔ ہم دونوں زمین پر گرے ہوئے تھے۔ میں نے اپنا بازو اس کی گردن پر لپیٹ رکھا تھا۔ وہ ہاتھ پیر پٹخ رہا تھا۔ اس وقت مجھے پکولا کے الفاظ یاد آرہے تھے۔ سانپ اپنے اندر مخفی چی کی قوت سے کام لے کر موٹے تازے پہلوان کی ٹانگ کی ہڈی بھی تو ڑ دیتا ہے۔ میں نے اپنا بازو سانپ ہی کی طرح ٹائیگر کی گردن پر لپیٹ رکھا تھا اور میرے جسم کی تمام تر قوت اس بازو میں سمٹ آئی تھی اور پھر میں نے ایک زور دار جھٹکا دیا ۔ کڑک ” کی آواز ابھری اور گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ٹائیگر بری طرح مچل رہا تھا لیکن میں نے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کا جسم بے حس و حرکت نہیں ہو گیا۔ اور جب ہم لاش کو گھسیٹتے ہوئے تہ خانے سے باہر لے کر آئے تھے تو نویتا ایک بار پھر خوف کی شدت سے تھر تھر کانپنے  لگی۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page