Shemale Hunter -41- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 41

 اسے نیچےاپنی ٹانگوں میں پھر سے  گیلا گیلا محسوس ہونے لگا۔ پر اب اس کا بس زبینہ کی منی سونگنے  سے دل  نہیں بھر رہا تھا۔ اسے کچھ اور کرنا تھا اپنی ایکسائٹمنٹ  کے لیئے ۔ 

پتا نہیں کیا آیا ریا کے دماغ میں، وہ اپنی زبان باہر نکال کر ہلکے سے اپنے دوپٹے کو لِک کرتی ہے۔ اور پھر فوراً ہی وہ  دوپٹے کو اپنے منہ سے دور کر دیتی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا اس نے یہ کیوں کیا۔ اسے تو پہلے سمیل بھی اتنی عجیب لگ رہی تھی اور اب اس نے ہلکے سے لِک بھی کر لیا۔ یہ کیوں کر رہی تھی، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ 

کچھ دیر وہ دوپٹے کو ایسی ہی اپنے سے دور کر کے لیٹی رہتی ہے۔ اور دل  میں سوچتی ہے 

یہ کیا ہو رہا  ہے مجھے۔۔ ایوناش کے ساتھ تو کبھی ایسی سمیل نہیں آتی تھی۔۔ زُبینہ جی کی سپرم کی اتنی سٹرانگ اور مدہوش کرنے والی سمیل کیسے ہے؟۔۔ اور کیوں میرا دل  کر رہا  ہے،  بار بار اس سمیل کو سونگھنے کا؟ اور کیسے میں نے لِک بھی کر دیا۔۔ مگر  کچھ ٹیسٹ آیا نہیں مجھے۔ کیا سپرم ٹیسٹ لیس (بے ذائقہ) ہوتا ہے؟ دوبارہ ٹرائی کر کے دیکھتی ہوں۔ 

ریا کا دماغ اسے کہہ رہا تھا کہ یہ گندا ہے۔۔ نہیں کرنا چاہیے۔ مگر پورن موویز میں دیکھے ہوئے سین اُس کے دماغ میں چلے تو  اس کے اندر کی پیاس اُس کی سوچ پر حاوی ہوگئی ۔ وہ پھر سے دوپٹہ منہ کے پاس لاتی ہے۔ اس بار کچھ سیکنڈز کے لیے اچھے سے زبان نکال کر لِک کرتی ہے۔ 

اب اسے تھوڑا نمکین  سا ٹیسٹ آتا ہے۔۔ مگر  اسے ابھی بھی اچھے سے سمجھ نہیں آتی۔ مگر  اتنا سا چاٹنے سے ہی ریا اچھے سے گیلی ہو چکی تھی۔ اسے بہت ایکسائٹمنٹ ہو رہی تھی۔ وہ پھر دل  میں سوچتی ہے 

کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیسا ٹیسٹ ہے۔۔ تھوڑا نمکین نمکین  سا تھا۔ سپرم سوکھ چکا ہے۔۔ اچھے سے گیلا کرنا پڑے گا ٹیسٹ سمجھنے کے لیے۔ 

ریا اب تھوڑا اچھے سے ٹائم لے کر دوپٹے کو منہ میں لے کر اپنی تھوک سے گیلا  کرتی ہے۔ تو اس بار اسے تھوڑا ٹیسٹ سمجھ آتا ہے۔ ایسا ٹیسٹ اسے پہلی بار آیا تھا۔ اسے یہ برا تو نہیں لگا، پر تھوڑا الگ تھا۔ ریادو ، تین  بار ایسے ہی کرتی ہے۔تو  اب اسے منی کے  زائقے  کی عادت پڑھ جاتی ہے۔ اسے اب اچھا لگنے لگ جاتا ہے۔ ہر بار چاٹنے پر سپرم کا ٹیسٹ تو کم ہو رہا تھا، مگر اُس کی  ایکسائٹمنٹ بڑھ رہی تھی۔ 

ریا کا ابھی بھی دل  نہیں بھرا تھا۔ اس بار وہ دوپٹے کا وہ حصہ  پورا منہ میں ڈال لیتی ہے اور اچھے سے چوسنے لگ جاتی ہے۔ اب اسے اچھے سے ٹیسٹ آنے لگ جاتا ہے۔ جس سے اسے بہت مزہ آنے لگ جاتا ہے۔ اور اُس پر شہوت ایسے چھڑجاتی ہے کہ ریا کا دوسرا ہاتھ آپ ہی آپ نیچے اس کی پینٹی میں چلا جاتا ہے۔ ریا اپنی ایکسائٹمنٹ کےعروج پر تھی۔ اسے اتنی ایکسائٹمنٹ پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ اب بڑے مزے سے اپنا دوپٹہ چوس رہی تھی، جس پر زُبینہ کی منی لگی تھی۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے اپنی چوت کو مسلتے ہوئے انگلی اندر بارہ کر رہی تھی۔

ریا اس دوپٹے کو تب تک چوستی رہی جب تک سپرم کا ٹیسٹ ختم نہیں ہو گیا۔ ساتھ ہی ریا بھی فارغ ہو گئی۔ کچھ دیر وہ فارغ ہونے کے بعد ایسی ہی لیٹی رہی۔ اسے اتنا مزہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ بڑے ٹائم کے بعد آج وہ مطمئن ہوئی تھی۔ 

تھوڑی دیر میں اسے ہوش آیا۔ اسے ریئلائز ہونے لگا کہ اس نے کیا کیا۔ وہ سوچ کر شرما جاتی ہے۔ وہ دل میں سوچتی ہے 

یہ کیسے کر دیا میں نے۔۔ کیا آیا میرے دماغ میں۔۔میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایسے کسی  کا سپرم ٹیسٹ کروں گی۔ مجھے تو یہ اتنا گندا لگتا تھا۔۔ یہ کیا جادو کر دیا ہے زُبینہ جی نے۔۔ میں نے آج منی بھی ٹیسٹ  کر لی اور مجھے اچھا بھی لگا۔

وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ تبھی اس کا فون وائبریٹ ہوتا ہے۔ میسج زُبینہ کا آیا تھا۔ 

زُبینہ: پہنچ گئی 

ریا پھٹاپھٹ فون اٹھا کر ریپلائی کرتی ہے 

ریا: چلو اچھا ہے۔ کوئی پریشانی  تو نہیں ہوئی؟ 

زُبینہ: نا نا۔۔ تیرے گھر پر تو کچھ نہیں ہوا؟ 

ریا: “نا نا۔۔ سب سو رہے تھے۔ 

زُبینہ: چل ٹھیک ہے پھر تو۔۔ تو کیا کر رہی؟ 

ریا شرما جاتی ہے۔ وہ چاہ کر بھی نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ کیا کر رہی تھی۔ 

ریا: بس آپ کے میسج کا ویٹ۔ 

زُبینہ: ہائے۔۔ مس کر رہی تھی مجھے؟ 

ریا: “بہت زیادہ۔ 

زُبینہ: اچھاااااا۔۔ میں بھی مس کر رہی ہوں۔۔ بہت مزہ آیا تیرے ساتھ آج۔۔ کیا قاتل لگ رہی تھی تو۔ 

ریا: “مجھے بھی بہت مزہ آیا۔۔ آپ بھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔ 

زُبینہ آج ریا کے برتاؤ سے اچھی طرح سے  سمجھ چکی تھی کہ ریا اب اس کے کنٹرول میں ہے۔ اب وہ ایوناش کی باتوں میں نہیں آئے گی۔ اب وہ اُس کے ساتھ پوری طرح سے کھل کر باتیں کر سکتی تھی۔ 

زُبینہ: تیرے گلابی رسیلے ہونٹ بھی بہت یاد آ رہے 

ریا شرما جاتی ہے۔ 

ریا: “میں بھی آپ کے سٹرانگ ٹچ کو مس کر رہی ہوں

زُبینہ: اچھا۔۔ویسے  تیری باڈی اتنی سافٹ اور مخملی ہے کہ تجھے چھو کر مزہ آ جاتا ہے 

ریا اپنی چوت کو مسلنے اور نگلی  کرنے کے بعد اور ایکسائٹ ہو چکی تھی۔ اسے زُبینہ کی ایسی باتیں اچھی لگ رہی تھیں۔ وہ بھی پورا ساتھ دے رہی تھی۔ 

ریا: آپ کی ہی ہے باڈی اب تو۔۔ جب مرضی چھو لو۔ 

زُبینہ: تیرے ممے  اتنے موٹے اور سافٹ تھےکہ دبا کر مزہ آ گیا ۔ 

ریا: (شرمانے والا ایموجی بھیج دیتی ہے) 

زُبینہ: کاش پوری رات تو ساتھ ہی ہوتی۔ 

ریا: “میرا بھی یہی دل کررہا ہے ۔ 

زُبینہ: پرسوں کوئی بہانہ مت کرنا تو نے آنا ہے تو پوری رات کے لیے۔ 

ریا: “جی پکا۔۔ کل ہی بول دوں گی میں۔ 

زُبینہ: ہاں۔۔ اور کیا پہن کر آنا ہے وہ میں بتا دوں گی کل تجھے۔ 

ریا: جی ٹھیک ہے۔ 

زُبینہ: چل میں سوتی ہوں۔۔ڈرنگ   اور تیرے ہونٹوں کا رس پنیے کی وجہ سے ابھی تک نشے میں ہوں  اس  وجہ سے نیند آ رہی۔ کل بات کرتی ہوں۔ 

ریا: (تھوڑا شرماتے ہوئے ) جی ٹھیک ہے۔۔ کل کرتی ہوں بات۔ گڈ نائٹ (کس ایموجی) 

زُبینہ: (کس ایموجی) 

ریا اب فون سائیڈ میں رکھ دیتی ہے۔ وہ اب پرسوں کے لیے بہانے سوچنے لگتی ہے جو کل اس نے گھر پر بتانے ہیں ۔ تھوڑی دیر ایسے ہی سوچنے کے بعد اس کا دھیان پھر سے گیلے دوپٹے پر جاتا ہے۔ وہ دیکھ کر ریا مسکرانے لگتی ہے۔ وہ دل  میں سوچتی ہے 

“کیا جادو ہے زُبینہ جی کا۔۔ ان کے سوکھے ہوئے سپرم نے مجھے اتنا گیلا کر دیا جتنا ایوناش کے ساتھ سیکس میں نہیں ہوتی میں۔ کتنا بڑا لنڈ  ہے ان کا۔۔میرے تو دماغ میں امیج ہی نہیں جا رہی۔ ان کے برتھ ڈے والے دن ایسی ہاٹ اینڈ سیکسی بن کر جاؤں گی کہ مجھے دیکھتے ہی ان کا لنڈ ہارڈ ہو جائے گا ۔ پھر دوبارہ شاید موقع مل جائے مجھے ان کے بڑے لنڈ  کو پکڑنے کا۔۔ اور پھر ان کے سپرم کی سمیل بھی دوبارہ مل جائے گی۔ لاسٹ میں ٹیسٹ بھی۔۔کیا فریش سپرم کا ٹیسٹ الگ ہوتا ہوگا؟ موقع ملا تو ٹرائی کر لوں گی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page