Lust and thirst-14-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 14

پائل نے اپنا بائیں مما باہر نکالا، اور ایک ہاتھ ساحل کے سر کے پیچھے لے جا کر رکھا، اور دوسرے ہاتھ سے اپنے ممے کو پکڑ کر دباتے ہوئے نپل کو باہر کی طرف نکال کر نوکدار بناتے ہوئے، ساحل کے سر کو ہاتھ سے گائیڈ کرتے ہوئے، اپنے نپل کو اس کے ہونٹ پر لگانے کی کوشش کرنے لگی۔ لیکن  اس کا نپل ساحل کے گال سے رگڑ کھانے لگا۔ باقی کا بچا ہوا کام ساحل نے خود ہی کر دیا۔

ساحل نے اپنا چہرہ اٹھا کر پائل کے ممے کو اپنے منہ میں بھر لیا۔ پائل کے منہ سے سسکی نکلنے ہی والی تھی کہ اسے چارپائی پر سوئی گیتا کا خیال آ گیا۔ اس نے اپنے ہونٹوں کو اپنے دانتوں میں دباتے ہوئے اپنا منہ بند کر لیا۔ 

ساحل اپنی زبان اور اپنے تالو کے بیچ میں پائل کے موٹے اور آدھا انچ لمبے نپل کو دبا دبا کر چوسنے لگا۔ ساحل کا منہ فوراً  ہی پائل کے دودھ سے بھر گیا۔ پائل ایک دم سے چداسی ہو گئی۔ اور ساحل کو اپنے سے چپکاتے ہوئے، اپنے دونوں بازوؤں میں ساحل کو جکڑ کر اپنے سے چپکا لیا۔ پائل کا ہاتھ ساحل کے سر میں بالوں میں گھوم رہا تھا، اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر کو سہلا رہا تھا۔ 

ساحل پورے جوش کے ساتھ پائل کے دودھ کا مزہ لے  رہا تھا۔ اور پائل مستی میں ہونٹ بھنچے لمبی لمبی سانسیں لے  رہی تھی۔ ساحل کو پائل کے نپل چوستے ہوئے، تقریباً 10 منٹ ہو چکے تھے۔ پائل کی چوت پوری طرح سے بھیگ گئی تھی۔ اور اس کی چوت کا سوراخ پھیل اور سکڑ رہا تھا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ ابھی اپنی شلوار کھول کر، ساحل کو اوپر چڑھا کر چدوا لے۔ لیکن گیتا کے روم میں ہونے کی وجہ سے وہ ایسی نہیں کر پا رہی تھی۔ 

پائل دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ ساحل کے ساتھ تو اسے ایسے ہزاروں مواقع مل جائیں گے۔ اس لیے رسک لینا ٹھیک نہیں ہے۔ تبھی اچانک ونش رونے لگا۔ پائل جلدی سے ساحل سے الگ ہوئی، اور ونش کی طرف مڑ کر، دوسرا مما باہر نکال کر، ونش کو دودھ پلانے لگی۔ ونش دودھ پیتے ہوئے چپ ہو گیا۔ 

اس دوران پائل اور ساحل کو نیند آ گئی۔ 

اگلی صبح اتوار تھا، اس لیے اسکول نہیں جانا تھا۔ گیتا جس مقصد کے لیے یہاں آئی تھی، وہ پائل کی وجہ سے پورا نہیں ہو پا رہا تھا۔ گیتا بھی اداس سی ہو گئی۔ صبح 10 بجے پائل کی ماں نیلم گھر پر آ گئی۔ ساتھ میں پائل کی بھابھی پونم بھی تھی۔ 

پائل ان کے لیے چائے اور ناشتہ بناکے لے آئی اور ساتھ بیٹھ کر چائے پینے لگی۔ ساحل تو کب سے گھر سے نکل کر اپنے دوستوں کے پاس اسکول کے گراؤنڈ میں پہنچ چکا تھا۔ وہاں جا کر وہ کرکٹ کھیلنے لگا۔ 

ادھر پائل کی ماں اسے اپنے آنے کے بارے میں بتا رہی تھی۔ 

نیلم: دیکھو نا، آج کل موسم ہی کتنا خراب ہے۔ ہر کوئی بیمار پڑھا ہے۔ اس کے بابا (پونم کے والد) کی طبیعت بھی اچانک خراب ہو گئی ہے۔ اس لیے میں اس کے ساتھ جا رہی ہوں۔ سوچا ان کی بھی خبر لے لوں۔ 

پائل: اچھا، اسی لیے آپ دونوں تیار ہو کر آئے ہیں۔ 

نیلم: ہاں بیٹا۔ یہ گیتا کا یونیفارم اور بیگ بھی ساتھ لے آئی ہوں۔ کل یہاں سے ہی سیدھا اسکول چلی جائے گی۔ اب اسے گھر پر اکیلا چھوڑ کر کیسے جاتے۔ 

یہ سن کر پائل غصے سے تلملا اٹھی۔ مطلب آج بھی وہ ساحل کے ساتھ کچھ نہیں کر پائے گی۔ اور اوپر سے دیدی بھی آج واپس آ جائیں گی۔ پھر تو رات کو وہ اپنے کمرے میں ماں کے ساتھ سوئے گا۔ 

پائل: (تھوڑا سا اداس ہوتے ہوئے) ٹھیک ہے ماں، یہ بھی تو آپ کا ہی گھر ہے۔ گیتا ایک دن اور یہاں رہ لے گی تو کچھ کم نہیں ہو جائے گا ہمارے گھر۔ 

نیلم: اچھا بیٹا، اب ہم چلتے ہیں۔ ویسے ساحل کہاں ہے، نظر نہیں آ رہا؟ 

پائل: دوستوں کے ساتھ کھیلنے گیا ہے۔ اسکول کے گراؤنڈ میں ہوگا۔ 

نیلم: ہاں، جب وہاں سے آ رہے تھے، تو بچوں نے وہاں خوب شور مچایا ہوا تھا۔ وہی ہوں گے۔ 

 

اس کے بعد نیلم اور پونم چلے گئے۔ پائل بے دلی سے گھر کے کاموں میں لگ گئی۔ گیتا بھی پونم کے ساتھ ہاتھ بٹانے لگی۔ دوپہر کو ساحل گھر آ گیا۔ سب نے مل کر دوپہر کا کھانا کھایا، اور پھر پائل کے روم میں آرام کرنے لگے۔ ابھی پائل سوئی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ پائل اٹھ کر نیہا کے روم میں جانے لگی، کیونکہ فون نیہا اور کلونت سنگھ کے روم میں تھا۔ 

پائل جب وہاں جا کر فون اٹھاتی ہے تو دوسری طرف سے نیہا کی آواز آتی ہے۔ 

پائل: ہاں، کیسی ہو دیدی؟ 

نیہا: میں ٹھیک ہوں، سنا گھر سب ٹھیک ہے نا؟ 

پائل: ہاں دیدی، سب ٹھیک ہے۔ اب بابا کیسے ہیں آپ کے؟ 

نیہا: پہلے سے اب ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ اچھا سن، ساحل نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا؟ 

پائل: ارے نہیں دیدی، بالکل بھی تنگ نہیں کیا۔ ابھی بھی سو رہا ہے۔ 

نیہا: اچھا ٹھیک ہے۔ سن، میں آج بھی نہیں آ پاؤں گی۔ 

پائل: کوئی بات نہیں دیدی، آپ جب مرضی ہو آنا۔ 

نیہا: اچھا، ساحل اپنا اور ونش کا خیال رکھنا۔ میں کل تک آ جاؤں گی۔ 

پائل: ٹھیک ہے دیدی۔ 

اس کے بعد پائل فون رکھ کر اپنے روم میں آ جاتی ہے۔ ساحل تو سو چکا تھا، پر گیتا ابھی جاگ رہی تھی۔ 

گیتا: کس کا فون تھا دیدی؟ 

پائل: وہ دیدی کا فون تھا۔ 

گیتا: اچھا، اب ان کے بابا کیسے ہیں؟ 

پائل: دیدی کہہ رہی تھیں کہ پہلے سے بہتر ہیں۔ 

گیتا: ماسی کب آ رہی ہیں؟ 

پائل: کل تک آ جائیں گی۔ 

پھر اس کے بعد پائل اور گیتا بھی سو جاتے ہیں۔ اور شام کو پائل 5 بجے اٹھ کر سب کو جگاتی ہے۔ گیتا اور ساحل باری باری منہ ہاتھ دھو کر آنگن میں چارپائی بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ گیتا ونش کو اپنی گود میں لے کر بیٹھی تھی۔ تبھی باہر سے دروازے پر دستک کی آواز آتی ہے۔ 

پائل باہر جا کر گیٹ کھولتی ہے، تو سامنے گیتا کی سہیلی سمران، جو ان کے گاؤں کی تھی اور گیتا کی کلاس میٹ تھی، کھڑی تھی۔ اس نے پائل کو بھابھی کہہ کر نمستے کیا۔ 

سمران: دیدی، گیتا یہاں آئی ہوئی ہے؟ 

پائل: ہاں، اندر آؤ۔ 

سمران پائل کے ساتھ اندر آ جاتی ہے اور گیتا کو دیکھتے ہوئے بولتی ہے، “کمینی، کل سے یہاں ہے اور مجھ سے ملنے بھی نہیں آئی۔” 

گیتا: اوہ سوری یار، ٹائم ہی نہیں ملا۔ 

سمران: اچھا، اتنا بزی ہو گئی تو دیدی کے گھر آ کر۔ کیوں بھابھی، ہماری سہیلی سے کتنا کام کرواتی ہو؟ 

پائل اس پر کچھ نہیں کہتی اور کچن میں جا کر کام کرنے لگتی ہے۔ سمران گیتا کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ جاتی ہے۔ 

سمران: یار، تو ایک بار تو ملنے آ سکتی تھی نا۔ 

گیتا: یار کیا کہوں، یہ جو ہمارا ونش ہے نا، اسے ایک بار گود میں اٹھا لو تو نیچے اتارنے کا دل نہیں کرتا۔ جاپانی گڈا ہے ہمارا ونش۔ دیکھ نا، کیسی چھوٹی چھوٹی آنکھیں ہیں اس کی۔ 

سمران: ہاں، بہت سُندر ہے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page