Perishing legend king-284-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 284

ویر شمائل کو ساتھ لے کر پرنسپل کے آفس کی طرف چل دیا۔ وہ جانتا تھا کہ نندنی میڈم سے ملنا اس کے لئے صرف فیس جمع کرانے کا معاملہ نہیں تھا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی فیس خود ادا کرے گا، اور آج وہ اسے پورا کرنے جا رہا تھا۔

 

پرنسپل کے آفس کے باہر پہنچتے ہی ویر نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

 

نندنی:

آئیں۔

ویر اورشمائل اندر داخل ہوئے۔نندنی میڈم اپنی ڈیسک پر بیٹھی کچھ فائلیں دیکھ رہی تھیں۔ ویر کو دیکھتے ہی ان کے چہرے پر بناؤٹی مسکراہٹ آ گئی۔ کیونکہ ویر کے ساتھ شمائل جو تھا۔

 

نندنی:

ارے، ویر! کافی دنوں بعد؟

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

ہاں میڈم، بس کچھ مصروفیات تھیں۔

 

نندنی:

ہاں، سنا ہے تم نے کافی کچھ کیا ہے۔ خیر، بتاؤ، کیا بات ہے؟

 

ویر:

میڈم، میں اپنی چوتھے سمسٹر کی فیس جمع کرانے آیا ہوں۔

 

نندنی  (ابرو اٹھاتے ہوئے):

اوہ؟ تو تم نے واقعی اپنا وعدہ پورا کر دیا؟

 

ویر:

جی ہاں، میڈم۔ آپ نے کہا تھا کہ اپنی محنت سے کمائیں، اور میں نے وہی کیا۔

 

نندنی  (مسکراتے ہوئے):

بہت اچھے، ویر۔ تمہاری یہ بات مجھے پسند آئی۔ چلو، فیس کے کاغذات لاؤ، میں چیک کرتی ہوں۔

 

ویر نے اپنے بیگ سے کاغذات نکال کر نندنی میڈم کو دیئے۔ نندنی نے انہیں غور سے دیکھا اور پھر ایک اطمینان کے ساتھ سر ہلایا۔

 

نندنی:

سب ٹھیک ہے۔ تمہاری فیس جمع ہو جائے گی۔ لیکن ویر، ایک بات بتاؤ۔۔ تم نے یہ سب کیسے کیا؟

 

ویر (ہلکے سے مسکراتے ہوئے):

بس میڈم، کچھ محنت، کچھ قسمت، اور کچھ۔۔ لوگوں کا ساتھ۔

 

نندنی (بناؤٹی مسکان):

ہاہا، یہ بات تو سچ ہے۔ ٹھیک ہے، اب جاؤ۔ اور ہاں، اپنی پڑھائی پر بھی دھیان دینا۔

 

ویر:

جی میڈم، شکریہ۔

 

شمائل (ہلکے سے):

واہ  بھائی، تو تو پورا پروفیشنل بن گیا ہے۔

 

ویر (ہنستے ہوئے):

بس چل، اب کینٹین چلتے ہیں۔ کاویہ انتظار کر رہی ہوگی۔

 

دونوں ہنستے ہوئے آفس سے نکلے اور کینٹین کی طرف چل دیئے۔ لیکن ویر کے دل میں ایک عجیب سی اطمینان کی لہر تھی۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا۔ اب وہ اپنی شرائط پر زندگی جینے کے لئے تیار تھا۔ لیکن ابھی نندنی  میڈم کا  رسپانس  دیکھ کر وہ  تھوڑا جھجک رہا تھا۔

 

کینٹین پہنچتے ہی کاویہ، اروہی، اور منال ایک ٹیبل پر بیٹھے کچھ کھا رہے تھے۔ ویر اور شمائل کو دیکھتے ہی کاویہ نے ہاتھ ہلایا۔

 

کاویہ:

بھئیا! ادھر آؤ!

 

ویر:

کیا کھا رہی ہو سب؟

 

اروہی:

بس، سموسے اور چائے۔ تو فیس کا کیا ہوا؟

 

ویر:

ہو گیا۔ سب سیٹل۔

 

اروہی (مسکراتے ہوئے):

واہ، تو واقعی بڑا ہو گیا ہے۔

 

ویر (ہنستے ہوئے):

ہاں دیدی، اب تو تمہیں بھی بھائی سے کچھ سیکھنا پڑے گا۔

 

کاویہ:

اوہو! اب بھئیا کو گھمنڈ ہو گیا!

 

سبھی ہنسنے لگے۔ منال اب بھی ویر کو چپکے چپکے دیکھ رہی تھی، لیکن اس نے کچھ کہا نہیں۔ شمائل نے کینٹین کا ماحول دیکھ کر ایک لمبی سانس لی۔

 

شمائل:

واہ، کالج کی کینٹین کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

 

ویر:

ہاں، تو اب بتا، کتنی لڑکیوں سے نمبر لینے کا پلان ہے؟

 

شمائل (ہنستے ہوئے):

ارے بھائی، بس ایک آدھ سے بات ہو جائے تو کافی ہے۔

 

سبھی پھر سے ہنسنے لگے۔ ویر کے دل میں ایک سکون تھا۔ وہ اپنی بہنوں کے ساتھ تھا، اپنے دوست کے ساتھ تھا، اور سب سے بڑھ کر، اس نے اپنی زندگی کے ایک اور امتحان کو پاس کر لیا تھا۔

پر اسے نہیں پتا تھا کہ کالج کا یہ دن اس کے لئے اور کیا سرپرائز لے کر آیا تھا۔۔

 

 

کینٹین میں ہنسی مذاق کا ماحول چل رہا تھا کہ اچانک ایک لڑکی ٹیبل کے قریب آئی۔ وہ کافی ہچکچاہٹ میں دکھائی دے رہی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ ویر کی طرف دیکھ رہی تھی۔

 

لڑکی (ہلکی سی ہمت کرتے ہوئے):

ا-ام۔۔ ویر؟

 

ویر (حیرت سے):

ہاں؟ تم۔۔؟

 

لڑکی (شرماتے ہوئے):

میں۔۔ میں پراگیہ۔ تم۔۔ تم سے کچھ بات کرنی تھی۔

 

ویر کے چہرے پر ایک لمحے کے لئے حیرت چھائی، لیکن اس نے فوراً خود کو سنبھالا۔

 

ویر:

اوہ، پراگیہ! ہاں، بتاؤ، کیا بات ہے؟

 

کاویہ اور اروہی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائیں، جیسے انہیں کچھ مذاق سمجھ آ گیا ہو۔ منال نے بھی ہلکی سی ہنسی دبا لی۔ شمائل تو بس دلچسپی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔

 

پراگیہ (نظریں جھکاتے ہوئے):

وہ۔۔ بس۔۔ تم سے ملنا چاہتی تھی۔ وہ۔۔ وہ پچھلی بار والی بات۔۔ میں۔۔ میں اس کے لئے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔

 

ویر (اسمائلز):

ارے، وہ بات تو پرانی ہو گئی۔ تم اسے بھول جاؤ۔

 

پراگیہ (سر اٹھاتے ہوئے):

ن-نہیں! میں واقعی شرمندہ ہوں۔ اور۔۔ اور تم نے جو کیا، وہ۔۔ وہ واقعی بہت بڑا تھا۔ میں نے سنا ہے، تم نے اپنی فیس خود ادا کی۔

 

ویر (ہنستے ہوئے):

واہ، یہ بات تو کالج میں پھیل گئی؟

 

پراگیہ (ہلکی سی ہنسی کے ساتھ):

ہاں۔۔ اور۔۔ اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو۔۔ کیا ہم۔۔ دوست بن سکتے ہیں؟

 

ویر کے لئے یہ ایک غیر متوقع لمحہ تھا۔ اس نے ایک لمحے کے لئے کاویہ اور اروہی کی طرف دیکھا، جو دونوں ہی اسے چھیڑنے والی مسکراہٹوں کے ساتھ دیکھ رہی تھیں۔

 

ویر:

ارے، کیوں نہیں؟ دوست بننا تو کوئی بڑی بات نہیں۔

 

پراگیہ (خوشی سے):

واقعی؟ شکریہ! تو۔۔ تو کبھی کینٹین میں مل سکتے ہیں؟

 

ویر:

ہاں، کیوں نہیں۔ جب بھی وقت ہو۔

 

پراگیہ (اسمائلز):

ٹھیک ہے! تو۔۔ میں چلتی ہوں۔ شکریہ، ویر!

وہ شرماتے ہوئے چلی گئی، اور جیسے ہی وہ گئی، کاویہ اور منال ہنسنے لگے۔

 

کاویہ:

واہ بھئیا! اب تو لڑکیاں تم سے دوستی کرنے آ رہی ہیں!

 

اروہی (چھیڑتے ہوئے):

ہاں، لگتا ہے ہمارا بھائی اب کالج کا ہیرو بن گیا ہے۔

 

شمائل (ہنستے ہوئے):

بھائی، یہ تو بس شروعات ہے۔ اب تو تیری لائن لگے گی!

 

ویر (ہنستے ہوئے):

بس کرو یار! یہ کوئی  بڑی بات نہیں۔ چلو، آپ سب بیٹھے رہو میں واشروم ہوکر  آیا۔

 

سبھی ہنستے ہوئے کینٹین  میں گپیں لگانے میں مصروف رہے۔ ویر کے دل میں ایک عجیب سی خوشی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے اس نئے مرحلے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ لیکن اسے یہ بھی پتا تھا کہ زندگی اس کے لئے ابھی اور بہت سے چیلنجز لے کر آئے گی۔

 

ویر واش روم کے بہانے باہر نکلا، تھوڑی ہوا کھانے کے لئے اور نندنی میڈم کے بارے سوچنے لگا۔ نندنی آج ویر کے ساتھ اچھے سے پیش آئی۔اور ویرکے باہر نکلتے ہی۔۔۔  وہ پل جیسے سست پڑ گیا، جب اس کی نظریں کوریڈور سے آتے اس شخص پر پڑیں۔

 

ہلکے پیلے رنگ کی ساڑھی میں وہ آ رہی تھی۔ زلفیں ہر قدم پر لہراتی، اس کی اس ادا پر ہی نہ جانے کتنے قائل ہو جائیں۔


نہ چاہتے ہوئے بھی،  ویر جیسے اسے دیکھتے ہی کہیں کھو گیا۔

 

ممیڈم!!!” 

 

اپنی نندنی میڈم کو دیکھ کر ہر بار یہی احساس ہوتا تھا  اسے۔

 

آتے جاتے سٹوڈنٹس نندنی کو ’گڈ ڈے‘ وش کر رہے تھے اور وہ بھی مسکرا کر انہیں ’سیم ٹو یو‘ یا ’تھینک یو‘ کہہ کر  وِش کرتی جا رہی تھی۔

 

پر چلتے چلتے ہی۔۔ 

 

اس کے قدم اچانک ہی تھم گئے جب اس نے اپنے سامنے کچھ ہی دوری پر کھڑے شخص کو اکیلے دیکھا۔

 

وہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے پلکیں جھپکتے ہی کہیں رفوچکر ہو گئی۔ پریشانی اور حیرانی کے مارے اس کی بھنویں سُکڑ اٹھیں۔

 

وہ فوراً ہڑبڑاتے ہوئے پلٹی اور ہاتھوں میں لی ہوئی ایک بک اس نے اپنے سینے سے کس کے لگا لی۔ اور بس، تیز قدموں کے ساتھ وہ جہاں سے آئی تھی وہیں جانے لگی۔

 

یہ حرکت دیکھتے ہی ویر کو اپنے دل میں ایک انتہائی عجیب سی پیڑا محسوس ہوئی۔ کیا مطلب تھا اس کا؟  کیا اس کی نندنی میڈم اس قدر اس سے ناراض تھی یا غصہ تھی کہ اب اپنی راہ بھی بدلنے کو آ گئی؟ صرف اس لئے کہ ویر ان کی راہ پر کھڑا تھا؟ صرف اس لئے اپنا رخ بدل لیا؟ کیا اتنا نفرت کرتی تھی وہ اس سے جو اب بات بھی نہیں کرتی تھی؟ پھر کیبن میں شمائل کے سامنے اچھے سے کیوں پیش آئی؟

 

میں نے کیا غلط کیا میڈم!؟‘ 

 

وہ بھی رُکا نہیں۔ آگے بڑھا۔ نندنی کے پیچھے پیچھے وہ گیا۔ اس کی چال بھی تیز تھی۔

 

رُکیں!!!!” ویر نے پکارا۔ پر نندنی تیز سانسیں لیتے ہوئے اور رفتار میں چلنے لگی۔

 

میڈم!!!!” ویر کے چلانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

 

میں جانتا ہوں آپ بھاگ رہی ہیں۔۔!!!” وہ نندنی کو فالو کرتا رہا۔

 

کوریڈور کی اتنی بھیڑ میں ان پر کسی نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ اور نندنی بس بغیر کچھ سنے اپنے کیبن کی طرف بھاگنے لگی۔

 

وہ جھٹ پٹ اپنے کیبن کے اندر آئی اور ابھی دروازہ اندر سے بند کرنے ہی والی تھی کہ ویر نے آکے دروازہ پکڑ لیا۔

 

تیز تیز لمبی سانسیں لیتے ہوئے نندنی کا سینہ زوروں سے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ پسینے سے بال بھی اس کے چہرے پر چپکے ہوئے تھے۔

 

دونوں بس ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے۔

 

اور ویر نندنی کے ہاتھ سے دروازے کو چھڑا کر اندر آ گیا۔ اور اندر سے ہی اس نے پھر دروازہ بند کر دیا۔

 

اب بھی نندنی خاموش تھی۔ وہ پلٹ کے کھڑی ہو گئی۔ جیسے مانو کہنا چاہ رہی ہو کہ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔ چلے جاؤ یہاں سے۔

 

اس کی مخملی دودھ جیسی گوری پیٹھ بلاؤز میں قید ویر کے سامنے تھی۔

 

ویر:

کیوں کر رہی ہو آپ یہ سب؟ کب تک چلتا رہے گا ایسا میڈم؟

 

پر نندنی اب بھی کچھ نہ بولی۔ اپنی سانسیں درست کرنے میں لگی ہوئی تھی۔

 

ویر:

میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں میڈم!!! جواب دیجئے!!! آپ یہ سب کیوں کر رہی ہیں؟ کیا آپ مجھ سے اتنی نفرت کرتی ہیں؟

 

نندنی:

گو۔۔ 

 

ویر: !!؟؟

 

نندنی:

گو  ایوے۔۔ 

 

اس نے ایک لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا۔

 

ویر:

یہی ہے آپ کا جواب؟؟

 

نندنی:

م-مجھے کام ہے ویر۔ مجھے اب کام کرنا ہے۔ پھر کبھی ملنا۔۔ ج-جاؤ  اب۔

 

ویر:

اسٹاف روم کی طرف جاتے ہوئے اچانک ہی آپ کو کام یاد آ گیا؟  مجھے دیکھتے ہی آپ کے چہرے سے مسکان اچانک ہی غائب ہو گئی!؟ میرے فالو کرتے ہی آپ اپنے کیبن کے اندر جانے لگی؟ اور اب کام کا بہانہ کر کے مجھے بھگانا چاہ رہی ہو؟ کیا آپ کو میں اتنا بیوقوف لگتا ہوں میڈم!؟ اگر مجھ سے ناراضگی ہی تھی  تو اب کچھ پل پہلے کیوں اچھے سے مِلی؟ یا وہ شمائل کے سامنےدکھاوا  تھا صرف؟

 

نندنی: ۔۔ 

 

ویر:

کہہ کیوں نہیں دیتی آپ اپنے من کی بات۔ کیا چاہتی ہیں آپ؟

 

نندنی (تیور چڑھاتے ہوئے):

م-مجھے نہیں پتا۔

 

ویر:

پر مجھے پتا ہے۔

 

ویر کا جواب سن کر، نندنی حیرت میں مڑ کے اسے دیکھنے لگی۔ آہستہ آہستہ ویر بھی اس کے قریب آیا۔ نندنی اس کے آتے ہی پیچھے کو جانے لگی جب تک کہ وہ خود اپنی ٹیبل سے نہ بھڑ گئی۔ مجبوراً اسے وہیں رکنا پڑا جب تک کہ ویر اس کے ایک دم قریب آکے کھڑا نہ ہو گیا۔

 

اپنا چہرہ اوپر کرکے وہ ویر کو دیکھ رہی تھی۔ اور ویر اسے۔

 

ویر:

آپ مجھے پسند کرتی ہیں!!! 

 

ایک اور جھٹکا۔۔ 

 

نندنی (جھپٹتے ہوئے):

واٹٹٹ؟؟

 

ویر:

آپ مجھے پسند کرتی ہیں۔ ٹھیک ہے؟

 

نندنی (غصے میں):

واٹ نان سینس؟؟؟ تمہیں پتا بھی ہے ویر تم کیا بول رہے ہو؟؟

 

ویر:

ہاں! میں سب جانتا ہوں! آپ مجھے پسند کرتی ہیں۔ یہ سچ ہے!!! 

 

نندنی:

ت-تم!!! (چہرہ لال ہوتے ہوئے)!!! ت-تم۔۔ پاگل ہو ویر۔۔ 

 

ویر:

میں بس سچ بتا رہا ہوں۔

 

نندنی (اپنی انگوٹھی دکھاتے ہوئے): میں ایک شادی شدہ عورت ہوں ویر!!! تمہاری یہ جرات کیسے ہوئی۔۔!؟

 

نندنی اپنی انگوٹھی دکھاتے ہوئے جب بولی تو ویر نے زور سے اس کا ہاتھ تھام لیا، 

 

آہہ۔۔” 

 

اس کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ نندنی کی ہلکی درد بھری کراہ  منہ سے نکل گئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page