Perishing legend king-298-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 298

منع تو کرنا چاہتا تھا  ویر۔ یہ صحیح وقت نہیں تھا۔ ایک دیور کا اپنی بھابھی کے ساتھ ایسے ہونا۔ پر۔۔۔راگنی اکیلی تھی۔ درد میں تھی۔ اندرونی  درد۔ جس سے ویر اچھی طرح واقف تھا۔ وہ دردِ دل۔ شاید اسے گزرے ہوئے لمحات یاد آ رہے تھے۔ اسی لیے اس نے آج رات کے لیے شراب کو اپنا ساتھی بنانا مناسب سمجھا!

ویر کچھ سوچ کر راگنی کے بغل سے لیٹ گیا۔ راگنی کروٹ لی ہوئی تھی۔ صرف اس کی پیٹھ ہی ویر کی نظروں کے سامنے تھی۔

زیرو واٹ کے بلب میں ہلکی ہلکی روشنی ہی تھی۔ اسی روشنی میں دونوں بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ اور راگنی نے پھر کہنا شروع کیا، 

راگنی:

تمہاری ٹی شرٹ کہاں ہے ویر!؟

اس نے ویسے ہی بغیر مڑے پوچھا۔

ویر:

وہ۔۔۔نندنی میم کے یہاں۔ یہ ٹی شرٹ شریا جی نے گفٹ میں دی ہے۔

راگنی:

آئی سی۔۔۔ *سسکی

ویر:

بھابھی!!! آ-آپ رو رہی ہیں۔ کیوں؟

راگنی:

کیا تم سنو گے ویر؟ جاننا چاہو گے؟

ویر:

ضرور۔۔۔! کہئے۔۔۔

*کچھ دیر بعد

راگنی:

دیکھو! میری دیوانگی بھی تو دیکھو ویر۔۔۔آہاہاہا~ *سسکی* ہاہاہا~ *سسکی

اچانک ہی روتے روتے وہ ہنسنے لگی۔ جیسے ایک بیکار کوشش کر رہی تھی، اپنے غم کو چھپانے کی۔ پر ویر کی نظروں سے کچھ نہ چھپا۔ سب بھانپ لیا اس نے۔ ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح پڑھ رہا تھا وہ راگنی کو۔

راگنی:

دل کے ارمانوں کو سمجھنے والا کوئی ہونا چاہئے ویر۔۔۔! ہے نا؟

ویر:

ہمممم۔۔۔۔

راگنی:

کیا کروں ویر!؟ کچھ بتاؤ… راتیں بے چین ہو رہی ہیں۔۔۔ *سسکی* ٹیل می!!! 

ویر:

میں۔۔۔۔

راگنی:

یو نو۔۔۔ الجھی سی رہ گئی میں!!! اپنی اس زندگی میں۔۔۔ جس کو پیار کیا۔۔۔ اس نے بس کھیل کیا۔۔۔ ہاہاہا~ *سسکی* جس کا ذکر ہوتا تھا میری زندگی میں، ہر لمحہ،بٹ۔۔۔ دیٹ باسٹرڈ نیور لَوڈ می۔ *سسکی

ویر:

آپ اب بھی ویویک بھئیا کے بارے میں سوچ رہی ہو!؟

راگنی:

نیور!!! میں اپنے بیکار میں گزر چکے وقت کے بارے میں سوچ رہی ہوں ویر۔ اس وقت کو میں نے بچا کر کسی اپنے کو پیار دیا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔۔۔ *سسکی* ہے نا؟ *سسکی

ویر:

ہممم۔۔۔

راگنی:

اور میں نے وہ وقت گنوایا نہیں ہوتا۔ میں پھر۔۔۔ اس کے ساتھ وقت گزارتی جس سے میں اصل میں پیار کرتی ہوں۔ ہے نا؟ *سسکی

ویر:

آپ۔۔۔ یو  لو سم  ون!؟؟

راگنی: (اسمائل) 

ویر:

بھابھی؟؟؟؟

راگنی (اسمائل):

اور مجھے وہ ملا بھی۔ سم ون ایلس کیم ان ٹو مائی لائف۔۔۔جس نے مجھے جینے کی ایک راہ دی۔ ہو سیوڈ  می۔۔۔ ہو لسٹینڈ ٹو می۔۔۔ ہو شوڈ  می لو۔۔۔ ہو گیو می ریسپیکٹ۔۔۔ *سسکی

اس بار اچانک ہی۔۔۔ راگنی نے کروٹ بدلی۔ویر کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر وہ دیکھنے لگی۔

ویر: !!!!!؟؟؟؟

راگنی:

اینڈ۔۔۔۔

ویر: !!؟؟

راگنی:

دٹ سم ون از۔۔۔۔

ویر …!!!  :

راگنی:

یو!!!!! اٹس یو!!!! تم۔۔۔ ویر۔۔۔

ویر بس حیرت انگیز طور پر خاموش رہا اور راگنی کو دیکھے  ہی جا رہا تھا۔ وہ حیران تھا۔

اور راگنی آہستہ آہستہ، سرکتے ہوئے،قریب آتی جا رہی تھی۔

ویر …!!!  :

راگنی:

یو کیم ان ٹو مائی لائف۔ اور میری دنیا ہی بدل گئی۔ مجھے پتا چلا۔۔۔ کہ زندگی کیا ہوتی ہے۔ پیار کیا ہوتا ہے۔

ویر: ۔۔۔؟؟؟؟؟

راگنی:

ویر!!! یو کین تھنک واٹ ایور یو وانٹ۔ تھنک آف می ایز اِف آئی ایم سٹوپیڈ۔۔۔ ہاں! بیوقوف ہی کیوں نہ سمجھو مجھے۔۔بٹ آئی ول سے اٹ ٹونائٹ۔

ویر:

بھابھی۔۔۔ آپ۔۔۔!!؟؟

راگنی اس کے ایک دم قریب آ چکی تھی۔ اس کا چہرہ ویر کے اتنی نزدیک تھا کہ دونوں ایک دوسرے کی گرم سانسیں بھی اپنے چہروں پر محسوس کر پا رہے تھے۔

اس بار جب راگنی کی آنکھوں سے آنسو کی بوند نکلی تو ویر کو اندر ہی اندر ایک عجیب سی بےچینی ہوئی۔ بھوئیں سکیڑے وہ خاموش رہا۔ انتظار کرتا رہا۔۔۔ آنے والے پل کا۔من کر رہا تھا کہ وہ پی لے ان آنسوؤں کی بوندوں کو۔ راگنی کو تو وہ پہلے ہی معاف کرچکا تھا۔ راگنی اس کی شخصیت سے بھی بڑھ کر تھی۔ اسے درد میں دیکھ کر، ویر کو پتا نہیں کیوں، پر ذرا بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ خود کے دل میں درد محسوس کر پا رہا تھا وہ۔

اور پھر راگنی نے جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے وہ الفاظ آخر کہہ ہی دئیے۔

راگنی (اسمائل):

ویر۔۔۔۔

ویر: … 

راگنی (اسمائل):

آئی لو یو!!! 

‘!!!!؟؟؟؟؟’ 

وہ آگے بڑھی۔۔۔ویر کے ہونٹوں کی طرف۔۔۔راگنی کے لب ویر کے نچلے لبوں کے بہت قریب پہنچے۔

پر جیسے ہی ان لبوں پر اس کے لب سج پاتے۔

راگنی نے اپنے ہونٹوں کا رخ بدل دیا اور اس کے لال ہونٹ ویر کے ہونٹوں کے ٹھیک بغل سے اس کی ٹھوڑی پر جا لگے۔

شاید!!!! راگنی ویر کے چہرے پر موجود تاثرات بھانپ گئی تھی!؟

راگنی:

مجھے ابھی جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے ویر۔

کہتے ہوئے وہ پھر سے پلٹ کر لیٹ گئی۔ اور کمرے میں ایک خاموشی چھا گئی۔ کیا ہوا ابھی ابھی؟ ویر کے دل کی دھڑکن تو ٹرین کے مانند تیز تھی۔

لیکن راگنی کی اب خاموشی اسے اور بھی ستائے رہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا اسے جیسے اس نے کوئی غلطی کر دی ہو۔

اور اس بار بغیر کچھ کہے ہی، ویر اپنی طرف سے آگے بڑھا۔ راگنی کے ننگے پیٹ میں ہاتھ ڈال کر اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا اس نے۔

اور یہ رات کچھ اس طرح ہی بیت گئی۔ راگنی نے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی۔ جس کے چلتے ویر کے دماغ میں اتھل پتھل تو مچی ہی تھی پر اسے ایک جواب مل گیا تھا،  راگنی کی طرف سے۔ اب اس پر سوچ وچار ویر کو ہی کرنا تھا۔

۔

۔

اگلا  دن۔۔۔

دوپہر ~ 2:37 بجے

تم عمر میں اتنی بڑی ہو اور پھر بھی یہ تمہیں تمہارے نام سے بلا رہا ہے۔ تم میں کوئی سیلف ایسٹیم نام کی چیز ہے بھی یا نہیں!؟” 

آواز تھی قائرہ کی، جو کار میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اور اس کا تیکھا سوال تھا آنیسہ سے، جو ویر کے دائیں طرف بیٹھی ہوئی تھی۔

آنیسہ (مسکراتے ہوئے):

تو اس میں غلط کیا ہے؟ میں ان کی داسی ہوں۔ وہ میرے مالک۔ یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ مجھے نام سے ہی بلائیں گے۔ اس میں عمر سے کیا لینا دینا؟

آنیسہ نے ایک دم صاف طور پر اپنا جواب رکھ دیا۔ آج وہ یہاں اپنے مالک کے کہنے پر خواتین کی طاقت تنظیم کی ایک رکن بننے آئی ہوئی تھی۔

تو وہیں قائرہ کا اب بھی وہی برتاؤ چالو تھا۔ بلکہ اس کا رویہ اور بھی بدتر ہو چکا تھا۔ گلے میں چوکر تو پہنی ہوئی تھی وہ ویر کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ اس نے نیچے پینٹی بھی نہیں ڈالی ہوئی تھی۔ پر۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس نے ویر کو سرینڈر کر دیا تھا۔ بدلے کی آگ اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

جس دن ویر کے پاس سے اس کی وہ ریکارڈنگ گئی، اس دن کیسے وہ اپنے پنجے اس پر مارے گی، بس اسی دن کا انتظار کر رہی تھی وہ۔ اور پلاننگ بھی۔۔۔۔

قائرہ:

ہمف~ تم مردوں کو جانتی نہیں ہو۔ شاید تمہیں پتا نہیں ہے پر، جب تمہارا یہ مالک تم سے بور ہوجائے گا نا تو تمہیں دھکے مار کر تمہیں دور کر دے گا۔

آنیسہ (مسکراتے ہوئے):

ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ مجھے اس بات پر پورا وشواس ہے۔

یہ سنتے ہی، قائرہ کے چہرے پر غصہ صاف صاف جھلکنے لگا۔

قائرہ:

تو۔۔۔ تو یہ آدمی تمہارے لئے اتنا ضروری ہے!؟؟ ہاں؟

اور ایک بار پھر، آنیسہ نے بغیر ہچکچاتے ہوئے کہہ دیا، 

آنیسہ:

بلکل! مجھے مالک سے کوئی بھی جدا نہیں کر سکتا۔ بھگوان بھی نہیں۔

قائرہ  صدمے میں تھی ہی، پر اس سے بھی زیادہ ویر صدمے  میں تھا۔ نہ جانے یہ عورت اور کتنے سرپرائز دینے والی تھی اسے کہ اب سیدھا بھگوان کو ہی چیلنج دینے کی ہمت لے آئی تھی وہ۔ اور ابھی تو  پسندیدگی صرف 150 پر ہی پہنچی تھی آنیسہ کی۔ نہ جانے 200 تک کیا کیا دیکھنے کو ملنے والا تھا۔

قائرہ اس بات پر ہنس پڑی۔ جیسے دکھانا چاہ رہی تھی کہ آنیسہ ایک بیوقوف انسان تھی۔

قائرہ:

آر یو این ایڈیٹ آر  واٹ؟ مردوں کو صرف سیکس کرنا آتا ہے۔ وہ بس تمہیں فک کرنا چاہتے ہیں۔ تمہارا مالک آج تمہارے ساتھ کھیلے گا،  پھر کل کو پھینک دے گا۔

آنیسہ:

بس! اب اور نہیں۔ میرے مالک کے بارے میں اب میں اور کوئی غلط بات نہیں سنوں گی۔ وہ اس قسم کے انسان نہیں ہیں۔ ایک بہت ہی ایماندار شخص ہیں وہ۔

ایماندار لفظ سنتے ہی ویر کو نہ جانے کیسے کھانسی آ گئی۔ ایماندار!؟ کیا قائرہ کو پھنسا کر چودنا ایک ایماندار شخص کی نشانی تھی؟ ہممم!!! اس خیال کو یہیں روکنا ٹھیک تھا۔ وہ تو آج بس بیچ میں بیٹھے ان دونوں کی کیٹ فائٹ دیکھ رہا تھا۔

وہیں قائرہ بھی زور زور سے ہنسنے لگی۔

قائرہ:

ہاہاہاہاہا~ یہ…!؟ یہ اور ایماندار؟ ہاہاہاہاہا

آنیسہ (مسکراتے ہوئے):

ہم~ ایماندار! میں اپنی پوری زندگی ان کی سیوا کرتی رہوں گی، انہیں چاہتی رہوں گی، اور۔۔۔۔۔۔۔۔

ویر: !!!؟؟

آنیسہ (شرماتے ہوئے):

ان کے بچے کو جنم دوں گی۔ میں نے سوچ لیا ہے۔

ویر:

آنیسہ۔۔۔!!! 

آنیسہ (مسکراتے ہوئے):

جب آپ کا من کرے  مالک۔

قائرہ:

اغغغغغہ!!! اگر میں نے ایک اور پل تمہاری باتیں سنیں،  تو مجھے الٹی ہو جائے گی۔

آنیسہ (بازو سکیڑتے ہوئے):

اتنی بھی کیا نفرت ہے تمہیں مردوں سے؟

قائرہ:

اتنی بھی کیا نفرت؟ ارے نفرت نہ کروں تو کیا کروں؟ کس کام کے ہیں یہ آدمی؟ نلے ہیں ایک دم!!! ہر کام تو ہم عورتیں کرتی ہیں۔

ویر:

ول یو ایکسپلین پلیز!؟

قائرہ:

ہمف~ ہم عورتیں مہینوں مہینوں تک پیریڈز کا شکار ہوتی ہیں۔ہم خون بہاتی ہیں، تکلیف اٹھاتی ہیں۔ 9 مہینے تک پیٹ میں بچہ لے کر کون گھومتا ہے؟ مرد؟؟؟ تھو!!! ہم عورتیں گھومتی ہیں۔جو کام مرد کرتا ہے وہ تو عورتیں بھی کر رہی ہیں۔ پر ہم عورتیں اس سے بھی کہیں زیادہ کرتی ہیں۔ تو پھر ان مردوں کے حساب سے کیوں دنیا چلے؟؟؟ انہیں کیوں فائدے ملے؟؟ کیا ہی کرتے ہیں یہ!؟؟ مین جسٹ۔۔۔ ہمف۔۔۔ وہ بس موجود ہوتے ہیں۔

ویر خاموش تھا۔ اور آنیسہ حیرانی میں قائرہ کو دیکھ رہی تھی۔

آنیسہ:

بلکل نہیں! مرد۔۔۔ کتنی خوبصورت چیز بنائی ہے قدرت نے۔ ایک عورت کو مرد کا ساتھ چاہئے ہی چاہئے ہوتا ہے۔ اور مرد بھی بغیر عورت کے نہیں رہ سکتا۔ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ مرد۔۔۔بہت ہی پیاری تخلیق ہے۔ انہیں بس پیار ہی کرنا چاہئے۔ انہیں سمجھنا چاہئے۔ کیونکہ ایک مرد۔۔۔ اپنا دکھ کبھی بھی سامنے نہیں دکھاتا۔ یہی تو فرق ہے ہم عورتوں میں اور مردوں میں۔ تم یہاں ان باتوں کو لے کر رو رہی ہو تو وہیں مرد ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے۔ وہ کسی اور پریشانی میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ اپنے گھر میں ماں باپ کی  فکر، باہر دوستوں کی  فکر۔۔۔ اپنے چھوٹوں سے لیکر بڑوں تک کی فکر۔۔۔ سب کا خیال رکھتے ہیں وہ۔ اور چہرے پر ایک  جھنجھٹ بھی آنے نہیں دیتے۔

قائرہ:

اوہ کم آن۔۔۔ شٹ اپ الریڈی!!! 

آنیسہ (ناراض ہوتے ہوئے):

کاش تم سمجھ پاتیں۔

ویر ابھی بھی خاموش تھا۔ وہ جیسے انتظار کر رہا تھا کہ کس طرح سے قائرہ کی باتوں کا جواب دیا جائے۔ آخر آج قائرہ نے پوری مرد ذات پر داغ لگایا تھا۔ جواب تو بنتا تھا۔

اور اگلے ہی پل، ویر کو اس کا جواب مل گیا۔ اس نے ایک جھٹکے میں قائرہ کو پیچھے اس کی گردن سے پکڑا تو قائرہ  چونک سی گئی، 

آہہہہننن!!!؟” 

ویر نے اس کی گردن باہر کی طرف کرتے ہوئے دکھایا اور تیز آواز میں بولا، 

ویر:

باہر دیکھو!!! اوپر۔۔۔کھمبے پر۔۔۔کون دکھ رہا ہے؟

قائرہ:

آہہنن۔۔۔ چھوڑو۔۔۔

ویر:

سے  اٹ!!!!! 

قائرہ:

آہہنن۔۔۔ایک۔۔۔ ایک آدمی۔۔۔

ویر:

کیا کر رہا ہے وہ؟

قائرہ:

بب-بجلی کی تاروں کو  ٹھیک کر رہا ہے۔

ویر:

ہممم! اگر وہ یہ کام چھوڑ دے اور نہ کرے تو کیا ہوگا؟

قائرہ:

آئی۔۔۔ آہہہنن!!!! تو۔۔۔۔ لائٹ نہیں آئے گی اس ایریا میں۔۔۔

ویر:

کون ہے وہ!!؟

قائرہ:

ہ-ہاؤ وڈ آئی نو؟؟؟ آہہہ

ویر:

مرد ہے یا عورت؟

قائرہ:

اغغغہ!!!! مم-مرد۔۔۔!!! 

ویر:

ہم!! اب ادھر دیکھو…!!! 

قائرہ:

اوچچھ!!!!! سسسس۔۔۔

ویر:

کیا دکھائی دیا؟

قائرہ:

آ،آ،آگ بجھانے والا ٹرک۔۔۔

ویر:

اگر یہ فائر فائٹرز آگ لگنے پر نہ جائیں تو کیا ہوگا؟

قائرہ:

آہہہنن چ-چھوڑو مجھے۔۔۔ آرگھھ۔۔۔

ویر:

سے!!! 

قائرہ:

اغغغغہ۔۔۔ آگ لگ جائے گی۔۔۔ آہہنن

ویر:

کون ہیں یہ!!؟

قائرہ:

م-مرد!!!! 

ویر:

ہممم!! تو کل ملاکر سب مرد ہی کر رہے ہیں۔ اب دیکھا تم نے۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page