Perishing legend king-299-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 299

قائرہ:

ایسا نہیں ہے۔۔۔ تم۔۔۔

ویر:

شٹ اپ اینڈ لسن!!! جس گاڑی میں تم گھوم رہی ہو، جو پرس ہاتھ میں لے کر چلتی ہو، جس فون سے بات کرتی ہو، یہ سب کچھ، ہماری ہی   تحفہ ہے۔ اور کب سے شروع ہوا یہ سلسلہ؟ سنس دی ڈان آف سیویلیزیشن۔ جب عورتیں جاب کے بارے میں جانتی بھی نہیں تھیں۔ تب سے۔۔۔ دنیا کی کمان ہم سنبھالتے آ رہے ہیں۔ جیسا کہ آنیسہ نے کہا۔ دونوں ہی مرد اور عورتیں ضروری ہیں۔ پر اس کا مطلب یہ نہیں۔۔۔کہ تم ہم مردوں کی جذبات کو ٹھیس پہنچاؤ۔اینڈ ڈونٹ یو ایور بی لٹل اینی مین۔۔۔!!! 

ویر کی بات سن کر، قائرہ اس بار تو خاموش ہو چکی تھی۔ اس کی گردن میں درد جو بڑھ گیا تھا۔ پر وہ آج کے اس واقعے کو بھی یاد رکھنے والی تھی۔

خیر! آنیسہ کو خواتین  کی طاقت تنظیم کے دفتر میں چھوڑ  کرویر نکل گیا اپنے کام پر۔ شام کو اس نے کچھ خریداری کی۔ اور پھر چل دیا وہ نندنی کے گھر۔

وہاں پہنچتے ہی اس کا استقبال ہوا جوہی کے ذریعے۔

جو آتے ہی اس کی گود میں اچھل کر بیٹھ گئی۔ ویر آج نئی نئی چیزیں لایا ہوا تھا۔

دھرو کے لئے پیارا سا جھولا جس میں نندنی اسے سلا سکتی تھی۔ جوہی کے لئے ایک چھوٹی سائیکل۔ تو وہیں دھرو اور جوہی دونوں کے ہی لئے کچھ کپڑے۔

نندنی جو سب کچھ دیکھ رہی تھی وہ خالی ویر کی جذبات  کومحض دیکھ کر رو اٹھی۔ اتنا آج کل کون سوچتا تھا  بھلا؟

خود کو کوس رہی تھی۔ کہ ہر گزرتے دن، وہ اپنے اس اسٹوڈنٹ کی قریب ہوتی جا رہی تھی۔

50 لاکھ تو ایک بار وہ اکٹھا کر کے دے بھی دے گی اسے، پر ان چھوٹے چھوٹے کام کا کیا؟؟ وہ تو انہیں زندگی بھر بھی نہیں چکا پائے گی۔

آج شریا، جوہی اور ویر کو ساتھ میں ہنستا دیکھ کر، اس کا دل بھر آیا۔ سب کچھ پہلے کی طرح لگنے لگا اسے۔ فرق یہ تھا کہ تب اس کی گود میں دھرو نہیں تھا۔ اور اب وہ ہے۔۔۔

کاش یہ لمحہ یہیں تھم جائے۔ نندنی من میں ایک رٹ لگا رہی تھی۔

تبھی ویر اٹھ کر آیا اور اس کے بغل  میں بیٹھ گیا۔

ویر:

دھرو  سو گیا؟

نندنی:

ممم

ویر:

یہ آپ کے لئے۔۔۔

اس نے اپنے ہاتھوں سے اس بار ایک پیکٹ نندنی کو تھما دیا۔ تعجب میں نندنی نے وہ پیکٹ کھولا تو وہ بس دیکھتی ہی رہ گئی۔ کوئی ایسی بہت خاص چیز نہیں تھی اندر۔ پر سوالات کی قطار لگ چکی تھی اس کے من میں۔

نندنی:

ویر۔۔۔ یہ۔۔۔

اندر۔۔۔ ایک ساڑھی تھی۔ اور وہ بھی ایسی ویسی نہیں۔ ایک بلیک ساڑھی۔

ویر:

وہ۔۔۔میں نے کبھی آپ کو اس رنگ کی ساڑھی میں نہیں دیکھا۔ سو۔۔۔

نندنی (سر جھکاتے ہوئے):

تمہیں پتا ہے یہ ساڑھی کیوں پہنتی ہیں لڑکیاں؟

ویر:

ہہ!!؟ نو آئی ڈونٹ۔۔۔میں تو بس آپ کو اس رنگ میں دیکھنا چاہتا تھا اس لئے۔۔۔

نندنی:

تم نے سوال کا جواب دے دیا۔

ویر:

ہہ!!؟؟ اوہہ!!! اس کا مطلب۔۔ ویٹ!!! واٹ؟؟؟؟

ویر نے خود ہی جواب دے دیا تھا۔ بلیک ساڑھی اگر کوئی لڑکی پہنتی تھی تو  صرف دو ہی وجوہات سے۔ پہلا یا  تو مردوں کو لبھانے کے لئے۔ یا پھر ان کے ہی کہنے پر ان کی خواہش کے لئے۔

کالی ساڑھی میں جو بدن کا گورا رنگ نکھر کر آتا ہے، اس کے ہی تو قائل ہوتے ہیں مرد۔ ویر بھی ان میں سے ہی تھا۔

وہ بھی اس سے نہ بچ سکا۔

نندنی نے پھر بھی وہ ساڑھی اپنے ہاتھوں میں لے لی۔

نندنی (شرماتے ہوئے):

پر یہ۔۔۔۔تم نے بلاؤز بھی بنوا لیا!!!؟؟؟ ہ-ہاؤ؟؟؟ تم  کو میرا سائز کس نے دیا؟

ویر:

ہممم۔۔۔ صرف آپ کو ہی میرا سائز نہیں پتا ہے۔ آئی نو ٹو۔

نندنی (شرماتے ہوئے):

وا-واٹ؟؟؟

ویر:

آہہ!!! نہیں نہیں۔۔۔ آئی مین۔۔۔ میں نے شریا جی سے پوچھا تھا۔

نندنی:

شریا  تم۔۔۔

شریا:

ای ہی ہی ہی ہی~ اوپس!!!! مجھے میرا گفٹ مل گیا۔ ہی براٹ می اے  نائس ٹاپ۔ لوک دیدی!!! ہی ہی ہی ہی~ اب آپ کا سائز نہ بتاتی تو مجھے یہ گھوچو گفٹ بھی نہ دیتا۔

نندنی (شرماتے ہوئے):

تت-تم۔۔۔

شریا:

میں چلی میں چلی۔۔۔ دیکھو پیار کی کلی۔۔۔لالالالالا

اور وہ نندنی کو جان بوجھ کر اگنور کرکے اندر اس کی ڈانٹ سے بچنے بھاگ گئی۔

نندنی (شرماتے ہوئے):

یہ۔۔۔یہ لڑکی بھی۔۔۔

ویر:

ہاہاہا

نندنی:

تمہیں اتنا سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟  اتنا خرچہ۔۔۔ غیر ضروری۔۔۔ 

ویر:

ضرورت ہو کے صرف تبھی اپنوں کو تحفہ نہیں دیا جاتا  میم۔

نندنی:

ہاں پر۔۔۔ اتنا خرچہ۔۔۔

ویر:

آپ نے بھی تو کیا تھا  نا؟

نندنی:

ہوہہہ؟؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

جب میں آپ کے گھر تھا۔ تب میرے لئے کپڑے۔۔۔ کھانا پینا۔۔۔ نہیں کیا تھا آپ نے؟  تب آپ نے یہ سوال اپنے آپ سے کیوں نہیں پوچھا تھا؟  کہ اتنا خرچہ کیوں؟

نندنی:

کیونکہ تم میرے۔۔۔۔

وہ کہتے کہتے ہی رُک گئی۔

ویر:

ہممم؟ میں آپ کا۔۔۔ کیا؟

نندنی:

کک-کچھ نہیں…!!! 

ویر:

کہئیے!!! پلیز!!! 

نندنی: … 

ویر:

پلیز؟

نندنی:

کیونکہ۔۔۔ کیونکہ میں نے تمہیں اپنا اس پریوار کا ایک حصہ ہی مانا ہے۔ اپنی ذمہ داری۔ اس وقت تم اکیلے تھے۔ اور مدد کرنا میرا فرض تھا۔

ویر:

تو میرا آپ سے سوال ہے۔

نندنی: ؟

ویر:

اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا۔۔۔یا آنے والے وقت میں کلاس کا کوئی اور لڑکا میری جیسی حالت میں پھنس جائے اور آپ اتفاق سے اس سے مل جاؤ۔ تو کیا آپ پھر سے وہی کرو گی؟ جو آپ نے میرے ساتھ کیا تھا؟ یا اس وقت میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا آپ نے اسے بھی میری ہی طرح اپنے گھر میں پناہ دی ہوتی؟

نندنی:

آئی۔۔۔آف کورس۔۔۔ آئی۔۔مِین۔۔۔ وہ۔۔ 

اور اس کے منہ سے جواب ہی نہ نکل سکا۔ کیسے نکلتا؟؟ کیونکہ اس نے یہ کبھی کسی اور کے لئے کیا ہی نہیں ہوتا۔ ویر کے ساتھ کالج میں،  اسے ڈانٹ ڈانٹ کر، اسے سمجھا سمجھا کر ایک خاص رشتہ بن گیا تھا نندنی کا۔

تو وہ کسی دوسرے لڑکے کے لیے یہ سب کیسے کر سکتی تھی؟

صرف اور صرف ویر کے لئے ہی اس نے یہ کیا تھا۔ صرف ویر۔

نندنی کو خاموش دیکھ کر، ویر کو اپنا جواب مل گیا۔ اور وہ مسکرا دیا۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

سو اٹ واز اونلی می۔۔۔ رائٹ؟

نندنی (سر جھکاتے ہوئے): … 

ویر:

اب بتائیے۔۔۔ کیا آپ یہ ساڑھی پہنیں گی؟

نندنی:

یہ۔۔۔پر یہ۔۔۔ بلاؤز۔۔۔اٹس سِلیو لیس۔ یہ بہت ہی۔۔۔۔ سچ سچ بتاؤ۔ تم مجھے اس میں کیوں دیکھنا چاہتے ہو؟

ویر:

آہہ! وہ… آہاہا~ آپ کو بس بلیک کلر میں نہیں دیکھا۔ اس لئے۔۔۔

اس کے جواب پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے، نندنی نے اگلے ہی لمحے اس کا کان پکڑ کر کھینچ دیا۔

ویر:

آاوچچھ!!!! میم۔۔۔

نندنی:

اپنی میم کو اس روپ میں دیکھنا چاہتے ہو ہاں؟ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں؟

ویر:

مم-میں نے بتایا تو۔ آہہ! میم سوری! کان چھوڑیے  نا۔۔۔

ویر بھی ایک نادان اسٹوڈنٹ بنتے ہوئے ایکٹنگ کرنے لگا۔ ماحول بالکل پہلے کی طرح ہی ہو چکا تھا۔ جیسے نندنی اس کے کان پکڑ کر اسے ڈانٹ لگاتی تھی۔ آج ان یادوں کو یاد کر کے نندنی کی رلائی چھوٹ پڑی۔ وہ سب سے قیمتی پل تھے اس کے  زندگی میں اب تک کے۔

اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی نکالی۔ وہی انگوٹھی جسے وہ جان بوجھ کر پہن کر ویر سے خود کو دور کرنا چاہ رہی تھی۔ شادی کی وہی انگوٹھی۔

اس نے انگوٹھی نکالی اور ویر کے ہاتھ میں تھما دی۔

ویر: ؟؟؟

نندنی:

تھرو  اٹ!!! 

ویر:

واٹٹٹ؟؟

نندنی:

اسے پھینک دو۔۔۔

ویر:

اے!؟  نو میم!!! آئی نو۔۔۔آپ اسے پہننا نہیں چاہتی پر یہ۔۔۔اٹس گولڈ  یو  نو۔۔۔

نندنی:

تکلیف دینے والا سونا بھی۔۔۔ کوئی سونا نہیں ہوتا ویر۔۔۔ میرے لئے یہ سونا۔۔۔کسی کچرے سے بھی کم ہے۔ اسے پھینک دو۔

ویر: ( آہ بھرتے ہوئے)

الرائٹ!!! 

اور ویر نے بالکونی میں ہی جاتے ہوئے اس انگوٹھی کو کس کر تھاما  اور۔۔۔

راجت کی پہنائی گئی شادی کی انگوٹھی۔ٹائم ٹو گو…!!!’

*ووووووششش

اور اس نے پوری طاقت کے ساتھ اسے پھینک دیا۔

جب وہ لوٹ کر آیا تو نندنی کے ہونٹوں پر ہلکی سی ایک مسکراہٹ تھی۔ جیسے ایک چین کی سانس لی تھی اس نے۔

*ڈنگ

نندنی کی پسندیدگی: 71

ہہ!!!؟’ 

۔

۔

ممبئی۔۔۔۔

xxxxxxxسوسائٹی۔۔۔

فلیٹ نمبر 17۔۔۔۔

ایک ویل فرنشڈ فلیٹ میں اس وقت ایک لگژری صوفے پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔

*رنگ* *رنگ

سامنے کانچ کی ٹیبل پر رکھا اس کا فون بجا تو اس نے وہ فون اٹھایا۔

لڑکا:

ہیلو؟

دوسری طرف سے ایک آدمی نے جواب دیا۔

آدمی:

ہیلو!!! میرے پیسے پورے نہیں ملے ہیں۔

لڑکا:

جانتا ہوں وکیل صاحب جانتا ہوں۔ ہاہاہا~ پر کیا کروں؟ تھوڑا  وقت دیجیئے۔ پیسے مل جائیں گے۔ سالا جس کے لئے کیس لڑا تھا، وہی ہاتھ سے نکل گئی۔ تو  وقت تو لگے گا ہی نا؟

آدمی:

کیا مطلب؟

لڑکا:

کیس کس کے لئے لڑا تھا؟

آدمی:

ہوٹل پانے کے۔۔۔۔ اوہہ!!! 

لڑکا:

ہممم! ہوٹل میرے انڈر نہیں ہے۔ چھین لی گئی مجھ سے۔

جی ہاں! یہ لڑکا کوئی اور نہیں پرانجل ہی تھا۔ اور جس سے بات کر رہا فون پر وہ آدمی کوئی اور نہیں۔۔۔ راجت تھا!!! 

رجت:

تو دوسرا کیس کر دو۔۔۔

پرانجل:

ہاہاہا~ نہیں نہیں وکیل صاحب۔ میں پھنس چکا ہوں۔ گھر سے نکال دیا گیا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔ پیسے آپ کے بھیجوا دوں گا۔ جتنے بھی بچے ہوئے ہیں۔

رجت:

ہممم! پیسوں کی ضرورت ہے مجھےم تو جلد ہی بھیجوا دینا۔

پرانجل:

بلکل! پر آپ اتنے ٹینشن میں کیوں لگ رہے ہو؟ اتنے بڑے وکیل ہوکے، اتنا پیسے ہونے کے باوجود آپ مجھ سے وہ بچی ہوئی معمولی رقم مانگ رہے ہو؟ وہ بھی اتنی جلدی میں؟ ہاہا

رجت:

کبھی کبھی انسان اپنا ہی کیس ہار جاتا ہے۔ جیسے تم  ہار گئے۔

پرانجل:

ہہ!!؟ جہاں تک میں جانتا ہوں۔۔۔آپ کا اپنی  بیوی کے ساتھ کچھ  مسلہ تھا  نا؟

رجت:

پرسنل لائف کے علاوہ کچھ ہو تو ہم بات کریں!!؟

پرانجل:

ہاہاہاہا~ کیا وکیل صاحب؟ اوروں کی پرسنل لائف کی وجہ سے ہی تو آپ کا دھندا چلتا ہے۔ تو اگر آپ ذرا سی پرسنل لائف اپنے کلائنٹ کے ساتھ شیئر کر دیں گے تو اس میں برا کیا ہے؟

راجت: (آہ بھرتے ہوئے)

ہممم!!! میں اپنا وارث اپنی  بیوی کے ہاتھوں کھوچکا ہوں۔ میرا بیٹا اس کے پاس چلا گیا ہے۔ پیسے مجھے اس لئے چاہئے کیونکہ بغیر پیسوں کے آج کل کچھ نہیں ہوتا۔

پرانجل:

سہی بات! ویسے کیا نام ہے آپ کی بیوی کا؟

راجت:

نندنی!!!! 

پرانجل:

ہہ!!!!؟؟؟  کیا نام بتایا آپ نے؟؟؟

رجت:

نندنی!!! 

پرانجل:

نندنی۔۔۔ وہ جو xxxxxxx کالج میں ہے؟؟؟

رجت:

تمہیں کیسے پتا؟

اور اگلے ہی پل۔۔۔ پرانجل زور زور سے ہنسنے لگا۔

رجت:

تم ہنس کیوں رہے ہو؟ اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟

پرانجل:

ہاہاہاہاہا~ ناؤ آئی کیم ٹو نو۔۔۔ اس حساب سے آپ اور میں۔۔۔ ایک ہی شخص سے دھول کھائے بیٹھے ہیں۔

رجت:

ہوہ؟؟

پرانجل:

وہ کہتے ہیں نا۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔ اور اس وقت۔۔۔آپ کا اور میرا دشمن ایک ہی ہے۔

رجت:

واٹٹ؟؟

 

پرانجل (مسکراتے ہوئے):

ساری باتیں یہاں نہیں بتاؤں گا۔ میں ایڈریس میسیج کرتا ہوں آپ کو۔ ادھر آئیے۔ آپ کے پیسے بھی دے دوں گا اور بات بھی بتاؤں گا۔ الرائٹ؟

رجت:

ہہ!! لیکن۔۔۔

*کال اینڈز

پرانجل فون کٹ کر کے وہیں صوفے پر سر ٹکائے بیٹھ گیا۔  ہنستے ہوئے۔۔۔۔

اس کے سامنے ایک آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اٹھا  اور باہر جانے لگا۔

آدمی:

میں جا رہا ہوں۔ اور اب کوئی پھسنے والے کام نہیں کرنا۔

پرانجل:

ہاں ہاں!!!! اب سنبھل کر ہی قدم رکھنا ہوگا۔ یہ بات جان گیا ہوں میں۔

آدمی:

کچھ ضرورت ہو تو بتا دینا۔ اگر تم نے میری باتیں سنی ہوتیں تو یہ سب ہوتا ہی نہیں۔ اپنی اپنی من کی جو کرنی تھی۔ کام ایسے نہیں کیا جاتا۔۔۔

پرانجل:

ییاہ!!! آئی  نو…!!! 

آدمی:

اب جب تک میں نہ کہوں۔۔۔کوئی بھی بےفالتو حرکت نہیں کرو گے تم۔

پرانجل:

ہممم!!! 

آدمی:

چلتا ہوں۔۔۔

اور وہ آدمی دروازہ کھول کر وہاں سے نکل گیا۔ پرانجل صرف اسے دیکھتا  رہا۔

اسی کی وجہ سے تو وہ یہاں عیش و آرام سے جی رہا تھا۔ کوئی دقت نہیں تھی اسے۔

کوئی اور نہیں تھا  وہ۔۔۔

وہ شخص تھا۔۔۔

کرونیش!!!.
۔

۔

اغغغووو~~ ابھی تک مجھے کسی نے وش کیوں نہیں کیا!؟؟؟ آئی ہیٹ اٹ سووو مچھھھ~”

آواز تھی کاویہ کی، جو صبح اٹھ کر بہت ہی خراب موڈ میں تھی۔ آج اس کا جنم دن تھا۔ کل سے ہی وہ اپنے برتھ ڈے کو لے کر اتنی ایکسائٹڈ تھی پر صبح اٹھی تو کیا دیکھتی ہے؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page