Smuggler –281–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 281

 ان سب کے ہاتھ میں خطر ناک قسم کی سب مشین گنیں تھیں ۔ وہ جیپ سے اتر کر سٹیشن کے مرکزی گیٹ کی طرف دوڑے تھے۔ مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ کھیل شروع ہو  چکا ہے۔

بس سے اترنے والے اور پہلے سے کھڑے ہوئے لوگ متوحش نظروں سے بلیک کیٹس کو دیکھ رہے تھے۔

“اب پھوٹ لو یہاں سے بھایا۔ کوئی گڑ بڑ ہونے والی ہے۔”  ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا۔ وہ دونوں ہمارے ساتھ بس سے اترے تھے لیکن کسی گڑبڑ کا احساس ہونے پر دوبارہ بس میں بیٹھ گئے۔ بس بھی فوراً ہی حرکت میں آگئی اور کچھ اور لوگ بھی بس کی طرف لپکے تھے۔ اس صورتحال سے مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ بلیک کیٹس نے خاصی دہشت پھیلا  رکھی تھی۔

بس جا چکی تھی۔ باقی لوگ بھی ادھر ادھر کھسک رہے تھے۔ میں نے تانگہ سٹینڈ کی طرف دیکھا۔ وہاں تین تانگے اور بگھیاں کھڑی تھیں۔ کو چوان ایک طرف بیٹھ کر بیڑیوں کے کش لگاتے ہوئےگپیں ہانک رہے تھے اور پھر ایک کو چوان  اٹھ کر اپنی بگھی میں آگیا اور گھوڑے کے آگے سے چارے کی بوری اٹھا  کراس نے بگھی میں ڈال دی تھی۔

بگھی جیسے  ہی سٹینڈ سےنکلی میں آگے بڑھ گیا۔ مجھے سامنے دیکھ کر کو چوان نے بھی روک لیا۔ میں نے دیوی کو اشارہ کیا اور آگے کی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ دیوی پیچھے بیٹھ چکی تھی۔ بگھی پھر حرکت میں آگئی۔

کو چوان کی عمر پچاس سے کچھ اوپر ہی رہی ہوگئی۔ میلی سی دھوتی اور کرتا تھا جس کے بٹن کھلےہوئے تھے۔ پیروں ۔ پیروں میں پرانی سی ہوائی چپل تھی۔ تین چار دن کا شیو بڑھا ہوا تھا ، بائیں کان میں چاندی کی بالی تھی جو کان کی لو میں پھنسی ہوئی سی تھی۔ غالبا یہ بالی بچپن میں اسے پہنائی گئی تھی۔ سر درمیان سے بالکل چکنا اور اطراف میں سفید بالوں کی جھالر تھی۔ اس کی حالت بتارہی تھی کہ اس بگھی سے اسے غالبا اتنی آمدنی کبھی نہیں ہوئی تھی کہ اپنی حالت بہتر بنا سکتا۔ اس آمدنی میں تو اس کا اپنا اور گھوڑے کا پیٹ بھی نہیں بھرتاہوگا۔ بگھی کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں تھی ۔ ہر طرف سے چوں چراہٹ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

” کہاں جاؤ گے بھایا۔ کوچوان نے پوچھا۔

” جہاں لے جاؤ تاؤ،، میں نے جواب دیا۔

جودھ پور جانے والی گڈی تین گھنٹے لیٹ آوے گی۔ ہمارے سے اتنا انتجار نہیں ہوتا اور پھر وہ لوگ آ گیو ہیں  نا۔ کالی وردی والے سالے حرامی۔۔۔  کوئی گڑ بڑ جرور ہو وے گی ۔ ،، وہ چند لمحوں کو خاموش  ہوا پھر بولا۔ ہم تو گھر جارہت ہوں۔ ،، آج تو دارو کے پیسے بھی نہیں ہوئے تم کہاں جاؤ گے؟

“جہاں لے چلو تاؤ، میں نے پھر وہی الفاظ دہرائے۔ ہم تمہیں دارد بھی لے دیں گے۔ اصل میں ہمیں بھی اس گڈی کا انتجار تھا۔ جودھ پور جانے کو تھا۔ اب نہیں جاویں گے۔ تمہارے پریوار کے کتنے لوگ ہیں تاؤ، کتنا کما لیتے ہو  روج  کا۔

“پریوار تو ان کا ہوتا ہے جن کا کوئی ہو ۔ کوچوان نے جواب دیا۔ میرے دو بیٹے تھے، دونوں مجھے چھوڑ کر بمبئی چلے گئے ہیرو بننے کیلئے ، سالے حرامی۔ اب وہاں مجدوری کرتے ہیں۔،، وہ چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بولا ” پتنی نے زندگی بھر ساتھ دیا لیکن ایک سال پہلے وہ بھی سورگ میں چلی گئی اکیلا ہوں۔ اس گھوڑے کے ساتھ ایک کھولی میں رہتا ہوں ۔ پر تم لوگ کون ہو؟ کہاں جاؤ گے؟

ہم بھی تمہاری طرح دُکھی ہیں تاؤ۔،، میں نے کہا۔ ہم نے اپنی پسند کی شادی کی ہے۔ میرے پتا نے ہمیں گھر سے نکال دیا۔ ہم جودھ پور ماما کے پاس جا رہے تھے مگر گڈی لیٹ ہوگئی اور کالی وردی والے بھی آگئے۔ ہم نے سوچا یہ ہمیں بھی ستاویں گے اس لئے ٹیشن سے واپس آگئے ، اب سوچوں ہوں ۔  رات کہاں گزاریں گے۔

“جی چھوٹا کیوں کرتے ہو۔ کوچوان نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

میں جو ہوں تمہارا تاؤ۔  مجھے یاد آ گیا کہ جب میں نے تمہاری چاچی سے اپنی مرضی سے بیا کیا تھا تو میرے پتا نے بھی ہمیں گھر سے نکال دیا تھا۔ ہم جے پور میں تھے، دھکے کھاتے ہوئے یہاں آئے اور میں نے بگھی چلانی شروع کر دی۔ بڑی بھاگوان تھی تمہاری چاچی ۔

میں دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ اس نے بھی مجھ سے ایک رشتہ جوڑ لیا تھا اور ہمارا کام بن گیا تھا۔

بڑی مہربانی ہے تاؤ۔ میں تمہارا  سکریہ۔

“ارے تاؤ بھی کہتے ہو اور سکر یہ بھی ادا کرتے ہو۔ ،، اس نے میری بات کاٹ دی۔

میں تمہارا بھتیجا ہوا نا تاؤ۔ تو یوں کروں، میں نے جیب سے سو روپے کا ایک نوٹ نکال کر اس کی مٹھی میں دبا دیا۔ راستے میں اپنے لئے دارو لے لینا۔ انکار مت کرنا  یہ روپے رکھ لو۔

تاؤ نے سو کا نوٹ مٹھی میں دبا لیا اور پھر ایک شراب خانے کے سامنے بگھی روک کر دوڑتا ہوا شراب خانے میں گھس گیا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دیسی شراب کی بوتل تھی اور سو کے نوٹ میں سے بچے ہوئے پیسے کُرتے کی اندر کی جیب میں ڈال رہا تھا۔

بگھی ایک بار پھر چل پڑی۔ گھوڑا مریل سا تھا اور بمشکل بگھی کو کھینچ رہا تھا۔ سڑکوں پر پولیس کی سرگرمی بڑھ رہی تھی۔ کہیں کہیں بلیک کیٹس کی گاڑیاں بھی دوڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ میرے دل کو دھڑکا سا لگا ہوا تھا۔ خدشہ تھا کہ کسی جگہ ہماری بگھی کو نہ روک لیا جائے ۔

بگھی مختلف سڑکوں پر ہوتی ہوئی ایک کچی آبادی کی طرف نکل آئی۔ آبادی کے باہر ایک مندر بھی تھا۔ بگھی اس مندر کے قریب سے ہوتی ہوئی پچھلی طرف چلی گئی۔ کچی آبادی کے آوارہ کتوں نے کچھ دور تک بگھی کا پیچھا کیا تھا مگر تاؤ کی گالیاں سن کر واپس چلے گئے تھے۔

آبادی سے تقریباً پانچ سو گز دور دو تین شکستہ سی عمارتیں تھیں جن کے اطراف میں درخت بھی نظر آرہے تھے۔ تاؤ نے ایک ٹوٹی ہوئی دیوار سے اندر لے جا کر بگھی روک لی۔ یہاں لید کی بو صاف محسوس  ہورہی تھی۔

تاؤ کے ساتھ ہی ہم بھی بگھی سے  اتر آئے۔ وہ ہمیں لے کر ایک اور  دیوار کے پیچھے مڑ گیا۔

اس طرف لمبا چوڑا صحن تھا جس کے وسط میں گنجان شاخوں والا ایک درخت بھی نظر آ رہا تھا۔ ایک طرف برامدہ تھا اور دو کمرے تھے۔ یہاں اندھیرا اتنا تھا کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ دیوی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ تاؤ نے جیب سے چابیوں کا گچھا نکال کر ایک کمرے کا تالا کھولا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔ چند سیکنڈ بعد ہی دیا سلائی روشن ہوئی اور اس کے تھوڑی دیر بعد کمرے میں کیروسین لیمپ کی زور دار روشنی پھیل گئی، ہم بھی کمرے میں آگئے۔

“لو بھایا۔ تم لوگ یہاں بیٹھ جاؤ۔ میں گھوڑے کو کھول کر اسے چارا  ڈال دوں۔ ”  تاؤ کہتا ہوا باہر چلا گیا۔

میں اس کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ خاصا بڑا کمرہ تھا۔ ایک طرف جھلنگا سی چار پائی پڑی تھی جس پر بہت میلا سا بستر بچھا ہوا تھا۔ دوسری طرف دیوار کے ساتھ کھجور کے پتوں کی چٹائی بچھی ہوئی تھی جس پر چائے کا مگا ، ایک تھالی اور کچھ اور چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page